سبق نمبر 53
یہویدع کی دلیری
اِیزِبل کی ایک بیٹی تھی جس کا نام عتلیاہ تھا۔ وہ بھی اپنی ماں کی طرح بہت بُری تھی۔ عتلیاہ کی شادی یہوداہ کے بادشاہ سے ہوئی تھی۔ جب عتلیاہ کا شوہر مر گیا تو اُس کے بیٹے نے حکمرانی شروع کر دی۔ لیکن جب اُس کا بیٹا مر گیا تو عتلیاہ خود یہوداہ کی ملکہ بن گئی۔ پھر اُس نے پوری شاہی نسل کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ ایسا کرنے کے لیے اُس نے ہر اُس شخص کو مروا دیا جو اُس کی جگہ حکمرانی کر سکتا تھا۔ اُس نے تو اپنے پوتوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ سب لوگ اُس سے ڈرتے تھے۔
کاہنِاعظم یہویدع اور اُن کی بیوی یہوسبعت کو پتہ تھا کہ عتلیاہ جو کر رہی ہے، وہ غلط ہے۔ اُنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر عتلیاہ کے ایک پوتے کو ہیکل میں اپنے پاس چھپا لیا اور وہیں اُس کی پرورش کی۔ اُس بچے کا نام یہوآس تھا۔
جب یہوآس سات سال کے ہوئے تو یہویدع نے محافظوں کے سربراہوں اور لاویوں کو جمع کِیا اور اُن سے کہا: ”ہیکل کے دروازوں کی نگرانی کریں اور کسی کو بھی اندر نہ آنے دیں۔“ پھر یہویدع نے یہوآس کو یہوداہ کا بادشاہ بنایا اور اُن کے سر پر تاج پہنایا۔ یہوداہ کے لوگ اُونچی آواز میں کہنے لگے: ”بادشاہ زندہباد!“
جب ملکہ عتلیاہ نے لوگوں کی آوازیں سنی تو وہ بھاگ کر ہیکل گئی۔ جب اُس نے نئے بادشاہ کو دیکھا تو اُس نے کہا: ”یہ سازش ہے!سازش!“ محافظوں کے سربراہ اِس بُری ملکہ کو پکڑ کر وہاں سے لے گئے اور اُسے مار ڈالا۔ لیکن اِس ملکہ نے پوری قوم پر جو بُرا اثر ڈالا تھا، اُس کا کیا ہوا؟
یہویدع نے لوگوں کی مدد کی کہ وہ یہوواہ سے یہ وعدہ کریں کہ وہ صرف اُسی کی عبادت کریں گے۔ یہویدع کے کہنے پر لوگوں نے بعل دیوتا کا مندر توڑ دیا اور بُتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اُنہوں نے ہیکل میں کاہنوں اور لاویوں کو مقرر کِیا تاکہ لوگ پھر سے وہاں عبادت کر سکیں۔ اُنہوں نے محافظوں کو ہیکل کے دروازے پر کھڑا کِیا تاکہ کوئی ناپاک شخص اندر نہ آ سکے۔ پھر یہویدع اور محافظوں کے سربراہ یہوآس کو محل میں لے گئے اور اُنہیں تخت پر بٹھایا۔ یہوداہ کے لوگوں نے خوشی منائی۔ ایک لمبے عرصے بعد لوگ بُری ملکہ عتلیاہ اور بعل کی پرستش سے آزاد ہو گئے تھے۔ اب وہ کُھل کر یہوواہ کی عبادت کر سکتے تھے۔ کیا آپ نے دیکھا کہ یہویدع کی دلیری سے کتنے زیادہ لوگوں کو فائدہ ہوا؟
”اُن لوگوں سے نہ ڈریں جو جسم کو تو مار سکتے ہیں لیکن جان کو تباہ نہیں کر سکتے بلکہ اُس سے ڈریں جو جسم اور جان دونوں کو ہنوم کی وادی میں ڈال کر تباہ کر سکتا ہے۔“—متی 10:28