سبق نمبر 88
یسوع کی گِرفتاری
یسوع اور اُن کے رسول وادیِقِدرون سے ہوتے ہوئے کوہِزیتون تک گئے۔ آدھی رات گزر چُکی تھی اور آسمان پر پورا چاند تھا۔ جب وہ باغِگتسمنی پہنچے تو یسوع نے اُن سے کہا: ”آپ یہیں رُکیں اور چوکس رہیں۔“ پھر یسوع اپنے تین رسولوں کو ساتھ لے کر گئے۔ یسوع تھوڑا دُور جا کر گُھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ وہ بہت پریشان تھے۔ اِس لیے اُنہوں نے یہوواہ سے یہ دُعا کی: ”تیری مرضی پوری ہو۔“ پھر یہوواہ نے یسوع کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اپنے ایک فرشتے کو بھیجا۔ جب یسوع واپس اپنے رسولوں کے پاس گئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ تینوں سو رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”اُٹھیں! یہ سونے کا وقت نہیں ہے! دیکھیں وہ وقت آ گیا ہے کہ مجھے میرے دُشمنوں کے حوالے کِیا جائے۔“
کچھ ہی وقت بعد یہوداہ ایک بڑی بِھیڑ کے ساتھ وہاں پہنچ گیا جس کے ہاتھ میں تلواریں اور لاٹھیاں تھیں۔ اُسے پتہ تھا کہ یسوع کہاں ملیں گے کیونکہ وہ سب اکثر اِس باغ میں آیا کرتے تھے۔ یہوداہ نے فوجیوں سے کہا تھا کہ وہ یسوع کو پہچاننے میں اُن کی مدد کرے گا۔ وہ سیدھا یسوع کے پاس گیا اور اُن سے کہا: ”سلام ربّی۔“ اور پھر اُس نے اُنہیں چُوما۔ یسوع نے کہا: ”یہوداہ! کیا تُم مجھے چُوم کر پکڑوانے آئے ہو؟“
یسوع آگے بڑھے اور اُنہوں نے بِھیڑ سے پوچھا: ”آپ کسے ڈھونڈ رہے ہیں؟“ اُنہوں نے کہا: ”یسوع ناصری کو۔“ یسوع نے جواب دیا: ”وہ مَیں ہی ہوں۔“ پھر وہ آدمی پیچھے ہٹ گئے اور زمین پر گِر گئے۔ یسوع نے پھر بِھیڑ سے پوچھا: ”آپ کسے ڈھونڈ رہے ہیں؟“ اُنہوں نے کہا: ”یسوع ناصری کو۔“ یسوع نے کہا: ”مَیں نے آپ کو بتایا ہے کہ وہ مَیں ہوں۔ میرے شاگردوں کو جانے دیں۔“
جب پطرس سمجھ گئے کہ کیا ہو رہا ہے تو اُنہوں نے اپنی تلوار نکالی اور کاہنِاعظم کے غلام ملخُس کا کان اُڑا دیا۔ لیکن یسوع نے اُس کے کان کو چُھوا اور اُسے ٹھیک کر دیا۔ پھر یسوع نے پطرس سے کہا: ”اپنی تلوار میان میں رکھیں۔ اگر آپ تلوار سے لڑیں گے تو آپ تلوار سے مارے جائیں گے۔“ فوجیوں نے یسوع کو پکڑ لیا اور اُن کے ہاتھ باندھ دیے اور یسوع کے رسول وہاں سے بھاگ گئے۔ پھر بِھیڑ یسوع کو اعلیٰ کاہن حناہ کے پاس لے گئی۔ حناہ نے یسوع سے پوچھگچھ کی اور اُنہیں کاہنِاعظم کائفا کے گھر بھیج دیا۔ لیکن رسولوں کے ساتھ کیا ہوا؟
”دُنیا میں آپ کو مصیبتیں اُٹھانی پڑیں گی لیکن حوصلہ رکھیں، مَیں دُنیا پر غالب آ گیا ہوں۔“—یوحنا 16:33