-
خدا کی بادشاہت کے بارے میں یسوع مسیح کی تعلیماتخدا کا کلام—تمام انسانوں کے لئے ایک اہم پیغام
-
-
باب ۱۷
خدا کی بادشاہت کے بارے میں یسوع مسیح کی تعلیمات
خلاصہ: یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو بہت سی باتوں کی تعلیم دی۔ اُس کی تعلیمات کا مرکزی موضوع خدا کی بادشاہت تھا۔
یسوع مسیح کس مقصد کے لئے زمین پر آیا؟ اُس نے کہا: ”مجھے . . . خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سنانا ضرور ہے کیونکہ مَیں اِسی لئے بھیجا گیا ہوں۔“ (لوقا ۴:۴۳) یسوع مسیح نے خدا کی بادشاہت کے سلسلے میں بہت سی اہم باتوں کی تعلیم دی۔ آئیں اِن میں سے چار باتوں پر غور کریں۔
۱. خدا کی بادشاہت کا مقررہ بادشاہ یسوع مسیح ہے۔ یسوع نے اِس بات کا اقرار کِیا کہ وہ مسیح ہے۔ (یوحنا ۴:۲۵، ۲۶) اُس نے یہ بھی ظاہر کِیا کہ وہ خود وہی بادشاہ ہے جسے دانیایل نبی نے رویا میں دیکھا تھا۔ یسوع مسیح نے اپنے رسولوں کو بتایا کہ ایک دن وہ ”اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا“ اور اُس کے رسول بھی تختوں پر بیٹھ کر اُس کے ساتھ حکمرانی کریں گے۔ (متی ۱۹:۲۸) یسوع مسیح نے اپنے ساتھ حکمرانی کرنے والوں کو ”چھوٹے گلّے“ کا لقب دیا جبکہ اُس نے اپنے باقی پیروکاروں کو’اَور بھی بھیڑوں‘ کا لقب دیا۔—لوقا ۱۲:۳۲؛ یوحنا ۱۰:۱۶۔
۲. خدا کی بادشاہت سب کے ساتھ انصاف سے پیش آئے گی۔ تاریخ کی سب سے بڑی ناانصافی یہ تھی کہ شیطان نے باغِعدن میں یہوواہ خدا پر الزام لگائے تھے۔ یسوع مسیح نے ظاہر کِیا کہ خدا کی بادشاہت اِن الزامات کو جھوٹا ثابت کرے گی اور یہوواہ خدا کے نام کو پاک ٹھہرائے گی۔ (متی ۶:۹، ۱۰) جب یسوع مسیح زمین پر تھا تو وہ سب کے ساتھ انصاف سے پیش آیا۔ اُس نے تعصّب کئے بغیر سب کو تعلیم دی، چاہے وہ مرد ہوں یا عورت، امیر ہوں یا غریب۔ حالانکہ یسوع مسیح کو خاص طور پر بنیاسرائیل کو تعلیم دینے کے لئے بھیجا گیا تھا پھر بھی اُس نے سامریوں اور غیریہودیوں کی بھی مدد کی۔ اُس زمانے کے مذہبی رہنماؤں کے برعکس یسوع مسیح نے کسی کی طرفداری نہیں کی۔
۳. خدا کی بادشاہت اِس دُنیا کے سیاسی معاملوں میں دخلاندازی نہیں کرتی۔ جب یسوع مسیح زمین پر تھا تو اُس کے وطن پر ایک غیرملکی طاقت حکمرانی کر رہی تھی۔ لوگ اِس حکومت کی گرفت سے آزاد ہونا چاہتے تھے۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ یسوع مسیح سیاست میں حصہ لے کر اُنہیں آزادی دلائے۔ لیکن یسوع مسیح نے صاف انکار کر دیا۔ (یوحنا ۶:۱۴، ۱۵) اُس نے ایک سیاستدان سے کہا: ”میری بادشاہی اِس دُنیا کی نہیں۔“ (یوحنا ۱۸:۳۶) اِس کے علاوہ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں سے کہا: ”تُم دُنیا کے نہیں۔“ (یوحنا ۱۵:۱۹) یہاں تک کہ جب اُس کے پیروکاروں نے اُس کی جان بچانے کے لئے تلوار کھینچی تو یسوع مسیح نے اُنہیں ہتھیار استعمال کرنے سے منع کر دیا۔—متی ۲۶:۵۱، ۵۲۔
”وہ مُنادی کرتا اور خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سناتا ہوا شہر شہر اور گاؤں گاؤں پھرنے لگا۔“—لوقا ۸:۱۔
۴. مسیح کو اپنی رعایا سے محبت ہے۔ یسوع مسیح نے وعدہ کِیا کہ وہ لوگوں کا بوجھ ہلکا کرے گا اور اُن کو آرام دلائے گا۔ (متی ۱۱:۲۸-۳۰) اُس نے اِس وعدے کو پورا بھی کِیا۔ اُس نے لوگوں کو ایسی تعلیمات دیں جن کی بِنا پر وہ پریشانی سے نپٹ سکتے تھے، دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات بڑھا سکتے تھے، دولت کا لالچ کرنے سے بچ سکتے تھے اور حقیقی خوشی حاصل کر سکتے تھے۔ (متی ۵-۷ باب) چونکہ یسوع مسیح سب کے ساتھ محبت سے پیش آتا اِس لئے ہر طرح کے لوگ اُس کے پاس آتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یسوع مسیح اُن کے ساتھ نرمی اور احترام سے پیش آئے گا۔ واقعی، یسوع مسیح نے ثابت کِیا کہ وہ سب سے بہترین حکمران ہے!
لوگوں کو تعلیم دینے کے علاوہ یسوع مسیح نے بہت سے معجزے بھی دکھائے۔ اِن کے ذریعے اُس نے ظاہر کِیا کہ خدا کی بادشاہت مستقبل میں کیا انجام دے گی۔ اگلے باب میں ہم یسوع مسیح کے چند معجزوں پر غور کریں گے۔
—اِن باتوں کا ذکر متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی کتابوں میں ہوا ہے۔
-
-
یسوع مسیح کے معجزےخدا کا کلام—تمام انسانوں کے لئے ایک اہم پیغام
-
-
باب ۱۸
یسوع مسیح کے معجزے
خلاصہ: یسوع مسیح نے معجزے دکھا کر یہ ظاہر کِیا کہ وہ بادشاہ کے طور پر کیا کچھ انجام دے گا۔
جب یسوع مسیح زمین پر تھا تو خدا نے اُسے ایسے کام کرنے کی قوت دی جو عام انسان نہیں کر سکتے ہیں۔ یسوع مسیح نے بہت سے عینی شاہدین کے سامنے معجزے دکھائے۔ اِن معجزوں سے یسوع مسیح نے دکھایا کہ وہ ایسی رُکاوٹوں کو عبور کرنے اور ایسے مسئلوں کو حل کرنے کے قابل ہے جن کے سامنے انسان بےبس ہیں۔ آئیں اِس سلسلے میں کچھ مثالوں پر غور کریں۔
یسوع مسیح نے خوراک مہیا کی۔ یسوع مسیح نے اپنے سب سے پہلے معجزے میں پانی کو عمدہ مے میں تبدیل کر دیا۔ اِس کے علاوہ اُس نے دو موقعوں پر تھوڑی سی روٹیاں اور مچھلیاں لے کر ہزاروں لوگوں کو کھانا کھلایا۔ اِن دونوں موقعوں پر یسوع مسیح نے اتنا زیادہ کھانا مہیا کِیا کہ جب سب پیٹ بھر کر کھا چکے تھے تب بھی بہت سا کھانا باقی بچ گیا۔
یسوع مسیح نے بیماروں کو شفا بخشی۔ اُس نے ”لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دُور“ کِیا۔ (متی ۴:۲۳) اندھے، بہرے، اپاہج اور معذور لوگوں کے علاوہ یسوع مسیح نے اُن لوگوں کو بھی شفا دی جو کوڑھ اور مرگی جیسی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ واقعی، یسوع مسیح لوگوں کو ہر طرح کی بیماری اور معذوری سے شفا دلانے کی قابلیت رکھتا ہے۔
یسوع مسیح آبوہوا پر اختیار رکھتا تھا۔ ایک بار جب یسوع مسیح اور اُس کے شاگرد کشتی میں سوار گلیل کی جھیل کو پار کر رہے تھے تو تیز آندھی چلنے لگی۔ شاگرد بہت ہی خوفزدہ ہو گئے۔ لیکن یسوع مسیح نے آندھی سے کہا: ”ساکت ہو! تھم جا!“ اور آندھی تھم گئی۔ (مرقس ۴:۳۷-۳۹) ایک اَور موقعے پر یسوع مسیح شدید آندھی کے دوران جھیل کے پانی پر چلنے لگا۔—متی ۱۴:۲۴-۳۳۔
یسوع مسیح بدروحوں پر اختیار رکھتا تھا۔ پاک صحیفوں میں بدروحوں سے مُراد وہ بُرے فرشتے ہیں جنہوں نے خدا کے خلاف بغاوت کی۔ بدروحیں انسانوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔ بہت سے لوگ اِن کی گِرفت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یسوع مسیح نے بہت سے موقعوں پر بدروحوں کو لوگوں سے نکلنے کا حکم دیا اور وہ لوگوں سے نکل آئیں۔ یسوع مسیح کو بدروحوں سے ہرگز خوف نہ تھا بلکہ بدروحیں اُس سے خوف رکھتی تھیں اور اُس کے اختیار کو مانتی تھیں۔
یسوع مسیح کو موت پر اختیار تھا۔ پاک صحیفوں میں موت کو ”آخری دشمن“ کہا گیا ہے کیونکہ انسان اِس سے بچ نہیں سکتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۲۶) لیکن یسوع مسیح نے مُردوں کو زندہ کِیا۔ ایک موقعے پر اُس نے ایک بیوہ کے جوان بیٹے کو زندہ کر دیا اور دوسرے موقعے پر اُس نے کسی کی اکلوتی بیٹی کو زندہ کر دیا۔ یسوع مسیح کا سب سے حیرتانگیز معجزہ یہ تھا کہ اُس نے اپنے دوست لعزر کو زندہ کِیا جو چار دن سے مُردہ تھا۔ چونکہ یسوع مسیح نے ایک بڑی بِھیڑ کے سامنے یہ معجزہ دکھایا اِس لئے اُس کے دُشمنوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ وہ ایسے معجزے کرنے کے قابل ہے۔—یوحنا ۱۱:۳۸-۴۸؛ ۱۲:۹-۱۱۔
البتہ یسوع مسیح نے معجزوں کے ذریعے جن لوگوں کی مدد کی، آخرکار وہ سب مر گئے۔ تو پھر اُس کے معجزوں سے کیا حاصل ہوا؟ اِن معجزوں کے ذریعے یسوع مسیح نے یہ ثابت کر دیا کہ مسیح کی حکمرانی کے بارے میں تمام پیشینگوئیاں پوری ہوں گی۔ خدا کا مقررہ بادشاہ لوگوں کو خوراک مہیا کرنے اور بیماروں کو شفا بخشنے کے قابل ہے۔ اِس کے علاوہ وہ آبوہوا، بدروحوں اور موت پر اختیار بھی رکھتا ہے۔ خدا ہی نے اُسے یہ سب کچھ انجام دینے کی قوت عطا کی ہے۔
—اِن واقعات کا ذکر متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی کتابوں میں ہوا ہے۔
-
-
ہمارے زمانے کے لئے یسوع مسیح کی پیشینگوئیاںخدا کا کلام—تمام انسانوں کے لئے ایک اہم پیغام
-
-
باب ۱۹
ہمارے زمانے کے لئے یسوع مسیح کی پیشینگوئیاں
خلاصہ: یسوع مسیح نے ایسے واقعات کے بارے میں بتایا جن سے ہم جان سکتے ہیں کہ اُس نے بادشاہ کے طور پر حکمرانی کرنا شروع کر دی ہے اور دُنیا کا خاتمہ نزدیک ہے۔
ایک موقعے پر یسوع مسیح اپنے چار شاگردوں کے ساتھ زیتون کے پہاڑ پر تھا۔ وہ شہر یروشلیم اور ہیکل کا دلکش نظارہ دیکھ رہے تھے۔ یسوع مسیح نے اُنہیں ابھیابھی بتایا تھا کہ ہیکل کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اِس سے کچھ عرصہ پہلے اُس نے اُنہیں ”دُنیا کے آخر“ ہونے کے بارے میں بتایا تھا۔ (متی ۱۳:۴۰، ۴۹) اب شاگرد اِن باتوں کی تفصیل جاننا چاہتے تھے۔ اِس لئے اُنہوں نے یسوع مسیح سے پوچھا: ”تیرے آنے اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“—متی ۲۴:۳۔
اِس سوال کے جواب میں یسوع مسیح نے شاگردوں کو بتایا کہ یروشلیم کے تباہ ہونے سے پہلے اُس شہر کے گِردونواح میں کونسے واقعات دیکھنے میں آئیں گے۔ یسوع مسیح کی اِس پیشینگوئی کے مطابق کچھ ایسے ہی واقعات ہمارے زمانے میں بھی دُنیابھر میں دیکھنے میں آئیں گے۔ اُس نے کہا کہ دُنیا کے حالات اور دُنیا میں ہونے والے واقعات سے ظاہر ہوگا کہ اُس نے آسمان پر بادشاہ کے طور پر حکمرانی شروع کر دی ہے۔ جب یہ واقعات دیکھنے میں آئیں گے تو خدا کے خادم جان جائیں گے کہ دُنیا کا مذہبی، سیاسی اور معاشرتی نظام ختم ہونے والا ہے اور خدا زمین پر ایک نیا نظام قائم کرنے والا ہے۔ تب خدا کی بادشاہت بُرے لوگوں کو ہلاک کر کے دُنیا پر امن لائے گی۔
یسوع مسیح نے کہا کہ جب وہ آسمان پر اپنی حکمرانی شروع کرے گا تو دُنیابھر میں جنگیں ہوں گی، قحط پڑیں گے، شدید زلزلے آئیں گے، وبائیں پھیلیں گی اور جرموتشدد میں اضافہ ہوگا۔ اِس کے علاوہ اُس کے سچے پیروکار خدا کی بادشاہت کی خوشخبری پوری دُنیا میں سنائیں گے۔ آخرکار ایک ایسی ”بڑی مصیبت“ ہوگی جو کبھی پہلے دیکھنے میں نہیں آئی۔—متی ۲۴:۲۱۔
یسوع مسیح کے پیروکار کیسے جان سکتے ہیں کہ بڑی مصیبت نزدیک ہے؟ یسوع مسیح نے کہا: ”انجیر کے درخت سے ایک تمثیل سیکھو۔“ (متی ۲۴:۳۲) جب انجیر کے درخت کی ڈالیوں پر پتے نکل آتے ہیں تو لوگ جان جاتے ہیں کہ گرمی کا موسم نزدیک ہے۔ اِسی طرح جب وہ تمام واقعات پیش آتے ہیں جن کا یسوع مسیح نے ذکر کِیا تو ہم جان لیتے ہیں کہ دُنیا کا خاتمہ نزدیک ہے۔ البتہ یہوواہ خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ بڑی مصیبت کس دن شروع ہوگی۔ اِس لئے یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو یوں تاکید کی: ”جاگتے اور دُعا کرتے رہو کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ وہ وقت کب آئے گا۔“—مرقس ۱۳:۳۳۔
—اِن باتوں کا ذکر متی ۲۴ اور ۲۵ باب، مرقس ۱۳ باب اور لوقا ۲۱ باب میں ہوا ہے
a یسوع مسیح کی اِن پیشینگوئیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے صفحہ ۸۶-۹۵ کو دیکھیں۔ آپ اِس کتاب کو یہوواہ کے گواہوں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
-