مسئلہ
ہمارے تحفظ اور سلامتی کو درپیش خطرات
”آج کی نسل نے ٹیکنالوجی، سائنس اور معاشیات کے میدان میں پہلے سے کہیں زیادہ ترقی کر لی ہے . . . لیکن غالباً اِسی نسل نے دُنیا کو [سیاسی، معاشی اور ماحولیاتی] تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کِیا ہے۔“—عالمی اِقتصادی فورم، گلوبل رسکس رپورٹ برائے 2018ء۔
بہت سے ماہرین ہمارے اور اِس دُنیا کے مستقبل کو لے کر اِتنے فکرمند کیوں ہیں؟ آئیں، کچھ ایسے خطروں پر غور کریں جن کا ہمیں سامنا ہے۔
اِنٹرنیٹ کے ذریعے جرائم: ایک اخبار میں بتایا گیا کہ ”دن بہ دن اِنٹرنیٹ سے جُڑے خطرات میں اِضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والوں، دوسروں کو ڈرانے دھمکانے اور اُن کا مذاق اُڑانے والوں اور دوسروں کی معلومات ہیک کرنے والوں کے لیے ایک جنت ہے۔“ اِس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ”دوسروں کی شناخت کی چوری دُنیا کے بڑھتے ہوئے جرائم میں سے ایک ہے۔ . . . اِنٹرنیٹ کے ذریعے اِنسانوں کا ایک خطرناک رُجحان بھی سامنے آتا ہے یعنی دوسروں پر ظلم اور تشدد کرنے کا رُجحان۔“—اخبار ”دی آسٹریلین۔“
امیری اور غریبی کا بڑھتا ہوا فرق: برطانیہ کے ایک اِدارے کی حالیہ عالمی رپورٹ کے مطابق جتنی دولت دُنیا کی آدھی آبادی کے پاس ہے، اُتنی دُنیا کے آٹھ امیرترین اشخاص کے پاس ہے۔ اِس اِدارے نے یہ بھی کہا کہ ”بدلتے ہوئے معاشی حالات کی وجہ سے امیر امیرتر ہوتے جا رہے ہیں اور غریب غریبتر۔“ کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ امیری اور غریبی کے بڑھتے ہوئے فرق کی وجہ سے معاشرے میں بدامنی پیدا ہو سکتی ہے۔
جنگیں اور اذیت: اقوامِمتحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی 2018ء کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ”اِس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اِتنے زیادہ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑے۔“ 6 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اپنے علاقے سے ہجرت کرنی پڑی اور اِن میں سے زیادہتر کو جنگوں یا اذیت کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا۔ اِس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ”ہر دو سیکنڈ میں تقریباً ایک شخص کو زبردستی اپنے گھر سے بےگھر کر دیا جاتا ہے۔“
ماحولیاتی آلودگی: ”گلوبل رسکس رپورٹ برائے 2018ء“ میں بتایا گیا کہ ”جانوروں اور پودوں کی بہت سی اقسام بڑی تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہیں اور ہوا اور سمندر کی آلودگی اِنسانی صحت کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔“ اِس کے علاوہ کچھ ملکوں میں کیڑے مکوڑوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ چونکہ کیڑے مکوڑے پودوں کی افزائش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اِس لیے سائنسدان اِس بات سے آگاہ کر رہے ہیں کہ ”ہمارا ماحول بالکل تباہ ہو سکتا ہے۔“ سمندر میں موجود مونگے کی چٹانیں بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ دُنیا بھر سے تقریباً آدھی مونگے کی چٹانیں پچھلے 30 سال میں ختم ہو چُکی ہیں۔
کیا ہم اِس دُنیا کو محفوظ اور پُرامن بنانے کے لیے ضروری تبدیلیاں کر سکتے ہیں؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تعلیم کے ذریعے کسی حد تک ایسا کِیا جا سکتا ہے۔ لیکن کس قسم کی تعلیم کے ذریعے؟ اِن سوالوں کا جواب اگلے مضامین میں دیا جائے گا۔