آپبیتی
تقریباً 70 سال سے کیوبا میں یہوواہ کی خدمت
مَیں 1947ء میں کیوبا کے ایک خوبصورت جزیرے میں پیدا ہوا۔ یہ جزیرہ ایسی جگہ پر ہے جہاں بحیرۂکیریبیئن اور بحرِاوقیانوس آپس میں ملتے ہیں۔ میرے بعد میری دو چھوٹی بہنیں پیدا ہوئیں۔ ہم اپنے امی ابو کے ساتھ ایسمریلڈا نام کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ اُس چھوٹے سے گاؤں میں ہم بہت ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔ ہمارے کئی رشتےدار ہمارے قریب ہی رہتے تھے جیسے کہ میری پھپھیاں، چاچو اور دادا دادی وغیرہ۔ ہمارے پاس اِتنے پیسے اور کھانے پینے کی چیزیں تھیں کہ ہمارا اچھے سے گزارہ ہو رہا تھا۔
جب مَیں تقریباً پانچ سال کا تھا تو میرے امی ابو والٹن جونز نام کے بھائی سے بائبل کورس کرنے لگے۔ بھائی والٹن بہت ہی جوش سے مُنادی کرتے تھے اور وہ تقریباً دس گھنٹے پیدل چل کر ہمارے گاؤں تک آتے تھے۔ جب بھی وہ ہمارے گاؤں آتے تھے تو میرے خاندان کے بہت سے لوگ میرے دادا دادی کے گھر جمع ہو جاتے تھے اور گھنٹوں تک بھائی والٹن سے بائبل سے باتچیت کرتے تھے۔ میرے امی ابو کے ساتھ ساتھ میرے ایک چاچو اور پھوپھو بھی بائبل کی سچائیوں سے محبت کرنے لگے اور جلد ہی اُن سب نے یہوواہ کے گواہ کے طور پر بپتسمہ لے لیا۔ میرے چاچو کا نام پیڈرو تھا اور پھوپھو کا نام ایلا۔ پھوپھو ایلا تقریباً 100 سال کی ہیں لیکن وہ ابھی بھی بڑی لگن سے ایک پہلکار کے طور پر کیوبا میں خدمت کر رہی ہیں۔
اُس زمانے میں یہوواہ کے گواہ آزادی سے کیوبا میں یہوواہ کی عبادت کر سکتے تھے۔ کیوبا میں رہنے والے لوگ یہوواہ کے گواہوں کو بہت اچھی طرح سے جانتے تھے کیونکہ ہم گھر گھر مُنادی کرتے تھے اور ہمارے پاس ہمیشہ لوگوں کو دینے کے لیے ہماری تنظیم کی بہت سی کتابیں ہوتی تھیں۔ اِس کے علاوہ ہم بہت زیادہ پیدل سفر بھی کِیا کرتے تھے۔ میرے ذہن میں آج بھی اپنے بچپن کی وہ یادیں تازہ ہیں جب کیوبا میں مُنادی کرنے کے لیے ”اچھا وقت“ چل رہا تھا۔ لیکن ’بُرا وقت‘ بھی آنے والا تھا۔—2-تیم 4:2۔
کیوبا میں بُرا وقت
جب مَیں تقریباً پانچ سال کا تھا تو میرے ابو اور چاچو اِجتماع میں جانے کے لیے ہمارے جزیرے کے ایک اَور علاقے میں گئے۔ وہاں رہتے ہوئے اُنہیں آلودہ پانی پینے کی وجہ سے ٹائیفائیڈ ہو گیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب وہ دونوں واپس گھر آئے تھے تو میرے چاچو کے سر کے بال بالکل جھڑ گئے تھے لیکن شکر ہے کہ وہ بچ گئے۔ مگر ابو نہیں بچ پائے۔ اُس وقت وہ صرف 32 سال کے تھے۔
ابو کے فوت ہونے کے بعد امی نے فیصلہ کِیا کہ وہ ہمیں لے کر اپنے بھائی کے گھر شفٹ ہو جائیں گی جو لومبیلو نام کے گاؤں میں رہتے تھے۔ تو اب ہمیں اپنے رشتےداروں اور دادا دادی سے دُور چلے جانا تھا جن سے ہم بہت پیار کرتے تھے۔ لیکن ماموں کے گھر شفٹ ہو جانے کے بعد بھی امی، مَیں اور میری بہنیں یہوواہ کی خدمت کرتے رہے۔
مَیں نے 26 اگست 1957ء میں ایک جھیل میں بپتسمہ لیا۔ اُس وقت مَیں دس سال کا تھا۔ میرے تو وہموگمان میں بھی نہیں تھا کہ دو سال کے اندر اندر کیوبا میں یہوواہ کے گواہوں کے حالات اِتنے بدل جائیں گے۔ 1959ء میں حکومت بدل گئی اور اِس کی جگہ ایک کمیونسٹ حکومت آ گئی۔
یہ نئی حکومت اپنی فوج کو مضبوط کرنا چاہتی تھی اِس لیے وہ فوج میں بھرتی ہونے پر بہت زور دیتی تھی۔ اِس بات کا یہوواہ کے گواہوں کی زندگی پر بہت بُرا اثر پڑا کیونکہ وہ فوج میں بھرتی نہیں ہوتے تھے اور سیاسی معاملوں میں کسی کی بھی طرفداری نہیں کرتے تھے۔ تو اب ہم پہلے کی طرح کُھل کر مُنادی اور عبادت کرنے کے لیے جمع نہیں ہو سکتے تھے۔ ایک وقت آیا کہ حکومت نے ہمارے مُنادی اور عبادت کرنے پر پابندی لگا دی اور ہمارے سینکڑوں بہن بھائیوں کو جیل میں ڈال دیا۔ اِن میں سے کچھ بہن بھائیوں کو تو سپاہیوں نے لگاتار مارا پیٹا اور اُنہیں ٹھیک سے کھانا تک نہیں دیا۔ کبھی کبھار سپاہی اُنہیں ایسا کھانا دیتے تھے جس میں خون شامل ہوتا تھا جسے کھانے سے بائبل میں منع کِیا گیا ہے۔
حالانکہ ہمارے عبادت کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی لیکن ہم پھر بھی یہوواہ کی عبادت کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہوتے رہتے تھے۔ (عبر 10:25) ہم تو پورے ملک میں فرق فرق جگہوں یا فارم پر اپنے اِجتماع بھی کرتے تھے۔ ایک دفعہ ہم نے ایک بھائی کی اِجازت سے اُس کی بھیڑوں کے باڑے میں اِجتماع کِیا۔ ہم اِجتماع سے پہلے اِسے صاف نہیں کر سکے تھے، یہاں تک کہ اِس میں سے بھیڑوں کو بھی نہیں نکال سکے تھے۔ تو یہوواہ کی بھیڑوں نے اصلی بھیڑوں کے ساتھ مل کر اِجتماع کِیا!—میک 2:12۔
ہم اپنے اُن بھائیوں کے بہت شکرگزار ہیں جنہوں نے اُس زمانے میں روحانی کھانا حاصل کرتے رہنے میں ہماری بہت مدد کی۔ مثال کے طور پر بھائی اِجتماع کی تقریریں ریکارڈ کر دیتے تھے اور پھر اِنہیں کیوبا میں رہنے والے گواہوں تک پہنچاتے تھے۔ کبھی کبھار تو صرف دو بھائیوں کو ہی پورے اِجتماع کے پروگرام کی تقریریں تیار کرنے اور ریکارڈ کرنے کی ذمےداری دی جاتی تھی۔ چونکہ یہ بھائی خفیہ جگہوں پر تقریریں ریکارڈ کرتے تھے اِس لیے کبھی کبھار ہم ریکارڈنگز میں پیچھے مُرغوں کی یا کچھ اَور عجیب یا دلچسپ آوازیں سنتے تھے۔ اگر کبھی اِجتماع کی جگہ پر بجلی نہیں ہوتی تھی تو ایک بھائی ڈیوائس کے ساتھ لگی سائیکل پر پیڈل مارتا تھا جس سے بجلی پیدا ہوتی تھی۔ اِس طرح ہم ریکارڈنگ چلا کر پروگرام سُن سکتے تھے۔ بھلے ہی ہم آزادی سے عبادت نہیں کر سکتے تھے اور ہمارے پاس وہ سب کتابیں نہیں تھیں جو دوسرے ملکوں میں بہن بھائیوں کے پاس تھیں لیکن پھر بھی ہمیں کبھی روحانی کھانے کی کمی نہیں ہوئی۔ ہمیں واقعی مل کر یہوواہ کی خدمت کرنے میں بہت مزہ آیا۔—نحم 8:10۔
پہلکاروں اور ماں باپ کے طور پر زندگی
جب مَیں 18 سال کا ہوا تو مَیں نے کیوبا کے شہر فلوریڈا میں پہلکار کے طور پر خدمت شروع کی۔ اِس کے تقریباً ایک سال بعد مجھے کاماگوئے شہر میں خصوصی پہلکار کے طور پر خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ وہیں میری ملاقات ایمیلیا نام کی گواہ سے ہوئی جو سانتیاگو دی کیوبا سے تھیں۔ ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جاننے لگے اور پھر ایک سال کے اندر ہم نے شادی کر لی۔
(دائیں) سن 1966ء میں کیوبا کے شہر کاماگوئے میں بزرگوں کے لیے بادشاہتی خدمتی سکول میں
(بائیں) سن 1967ء میں ہماری شادی کا دن
مَیں ایک ایسی سرکاری فیکٹری میں کُلوقتی طور پر کام کرنے لگا جہاں چینی بنائی جاتی تھی۔ حالانکہ اب مَیں اور ایمیلیا پہلکار نہیں رہے تھے لیکن ہم پھر بھی یہوواہ کی خدمت کرنے میں زیادہ وقت گزارنا چاہتے تھے۔ اِس لیے مَیں نے فیکٹری میں صبح تین بجے سے صبح گیارہ بجے والی شفٹ میں کام کرنے کا بندوبست کِیا۔ مجھے صبح سویرے اُٹھنا پسند نہیں تھا لیکن اِس طرح کے وقت میں کام کرنے سے مَیں باقاعدگی سے مُنادی کر پاتا تھا اور ایمیلیا کے ساتھ ہر اِجلاس میں جا پاتا تھا۔
پھر 1969ء میں ہمارا پہلا بیٹا گستاوو پیدا ہوا۔ اُسی وقت کے آسپاس بھائیوں نے مجھے حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کرنے کے لیے پوچھا۔ اُس زمانے میں کیوبا میں ایک حلقے کا نگہبان اپنے بیوی بچوں کی دیکھبھال کرنے کے ساتھ ساتھ یہ خدمت بھی کر سکتا تھا۔ تو جب مَیں حلقے کا نگہبان بنا تو ہماری زندگی خوشیوں سے بھر گئی لیکن ہم بہت مصروف بھی ہو گئے۔ مَیں اور ایمیلیا اِس طرح سے اپنے بہن بھائیوں کی خدمت کرنے کو بہت بڑا اعزاز سمجھتے تھے اور اِسے یہوواہ کی طرف سے ایک برکت خیال کرتے تھے۔ اِسی خدمت کے دوران ہمارا بیٹا عوبید اور پھر بعد میں ابنر پیدا ہوا۔ پھر کچھ سالوں بعد ہماری بیٹی ماہیلے بھی پیدا ہوئی۔
جب مَیں اُس وقت کو یاد کرتا ہوں جو مَیں نے حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کرنے میں گزارا تھا تو مجھے یہ سوچ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ یہوواہ نے کیوبا میں اپنے بندوں کا کتنا خیال رکھا۔ اِس کے علاوہ اُس نے ہماری بھی مدد کی تاکہ ہم اپنے بچوں کے دل میں اُس کے لیے محبت پیدا کر سکیں۔ آئیے مَیں آپ کو بتاتا ہوں کہ جب مَیں حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کر رہا تھا تو اُس وقت ہماری زندگی کیسی تھی۔
ایسے وقت میں حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت جب کیوبا میں ہمارے کام پر پابندی تھی
ہمارے کام پر لگی پابندی کی وجہ سے بہن بھائیوں کے لیے مُنادی اور اِجلاسوں میں جانا بہت مشکل ہو گیا۔ ہماری عبادتگاہیں بند ہو گئیں اور ہمارے مشنری بہن بھائیوں کو ملک سے نکال دیا گیا۔ بہت سے نوجوان بھائیوں کو گِرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور ہوانا میں ہماری برانچ کو بھی بند کر دیا گیا۔
سن 1990ء کے دہے میں حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت
پابندی لگنے کی وجہ سے ہم صرف ہفتے اور اِتوار کو ہی کلیسیاؤں کا دورہ کر سکتے تھے۔ اِس لیے ہم ایک کلیسیا سے ہفتے کے آخر پر یعنی ہفتے اور اِتوار کو ملتے تھے اور پھر دوبارہ اُن سے اگلے ہفتے اور اِتوار کو ملتے تھے۔ کلیسیاؤں کا دورہ کرتے وقت ہم اپنے پاس بہت کم سامان رکھتے تھے اور اکثر سائیکل پر سفر کرتے تھے۔ اِس طرح ہم پولیس یا دوسرے لوگوں کی نظروں میں آنے سے بچ جاتے تھے۔ ہم کسی بھی کلیسیا کا دورہ کرنے سے پہلے اِس حوالے سے کوئی اِعلان نہیں کرتے تھے۔ ہم یہ ظاہر کرتے تھے کہ ہم اپنے رشتےداروں سے ملنے جا رہے ہیں جو کہ کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ ہمیں اپنے بہن بھائی بالکل اپنے گھر والوں کی طرح لگتے تھے۔ اِس لیے کبھی کبھار تو ہم یہ بھول ہی جاتے تھے کہ ہم وہاں کلیسیا کا دورہ کرنے گئے ہیں۔ (مر 10:29، 30) لیکن ہمیں پھر بھی احتیاط سے کام لینا ہوتا تھا کیونکہ پولیس اکثر ہمارا پیچھا کرتی تھی اور ہم سے پوچھگچھ کرتی تھی۔ اگر پولیس کو ذرا سی بھی بھنک لگ جاتی کہ ہم کس مقصد سے ایک علاقے میں گئے ہیں تو وہ ہمارے اُن بہن بھائیوں کو گِرفتار کر سکتی تھی جن کے گھر ہم رُکتے تھے۔—روم 16:4۔
اُس دوران ہم بہت سے ایسے بہن بھائیوں سے ملے جن کے پاس بہت کم پیسے ہوتے تھے لیکن وہ پھر بھی بہت فراخدل تھے۔ کچھ علاقوں میں تو اِنسانوں سے زیادہ مچھر ہوتے تھے۔ لیکن ہمارے دوست بڑی محبت دِکھاتے ہوئے ہمیں اپنی مچھردانی دے دیتے تھے تاکہ ہم سکون سے سو سکیں حالانکہ اُن کے پاس صرف ایک ہی مچھردانی ہوتی تھی۔ کچھ بہن بھائی تو بڑی مہماننوازی دِکھاتے ہوئے ہمیں اپنے گھر میں ٹھہراتے تھے حالانکہ وہ بہت غریب ہوتے تھے۔ کبھی کبھار تو ہم اپنا کھانا اُن کے ساتھ بانٹتے تھے۔
کلیسیاؤں کا دورہ کرتے وقت ہم اپنے سب بچوں کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے۔ ہم صرف اپنے ایک ہی بچے کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور پیچھے باقی بچوں کا خیال میری امی اور بہن رکھتی تھیں۔ دراصل چھوٹے بچے کے ساتھ سفر کرنے سے ہمیں بہت فائدہ ہوتا تھا۔ کبھی کبھار جب پولیس ہماری تلاشی لیتی تھی تو ہم اپنی کتابوں یا رسالوں کو ایک ایسے تھیلے میں ڈال دیتے تھے جس میں بچے کے گندے ڈائپر رکھے جاتے تھے۔ پولیس اِن تھیلوں میں کبھی نہیں جھانکتی تھی۔
مَیں دل سے ایمیلیا کی قدر کرتا ہوں جنہوں نے کُلوقتی طور پر خدمت کے دوران بچوں کو بھی سنبھالا اور میرا بھی ساتھ دیا۔ جہاں تک میری بات ہے تو مَیں حلقے کے نگہبان کے طور پر اپنی ذمےداریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ فیکٹری میں بھی کام کرتا رہا۔ دونوں کاموں کو اچھی طرح سے کرنے کے لیے کبھی کبھار مَیں ہفتے کے دوران ایک یا دو بار زیادہ گھنٹے کام کرتا تھا تاکہ مجھے ہفتے اور اِتوار کے دن کام نہ کرنا پڑے۔ لیکن بعد میں فیکٹری میں میرا کام بدل دیا گیا۔ مجھے ایک ٹیم کی نگرانی کرنے پر مقرر کِیا گیا اور مجھے ہفتے میں سات دن کام کرنا ہوتا تھا۔ مَیں اِس پیشکش سے اِنکار نہیں کر سکتا تھا۔ مگر پھر مَیں نے دیکھا کہ اگر مَیں اپنی ٹیم کو ہفتے اور اِتوار کو اِتنا کام دیتا ہوں کہ وہ اِسے کرنے میں مصروف رہ سکے تو مَیں آرام سے کلیسیا کا دورہ کر سکتا ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ میرے مالکوں نے کبھی اِس بات کو نوٹ کِیا تھا کہ مَیں ہفتے اور اِتوار کو کام پر نہیں ہوتا تھا!
مَیں نے بدلتے حالات میں بھی خوشی برقرار رکھی
سن 1994ء میں ہمارے کام سے پابندی ہٹنے کے بعد ہونے والا پہلا صوبائی اِجتماع
سن 1994ء میں ایک دن کیوبا میں ہمارے کام کی پیشوائی کرنے والے بھائیوں نے سبھی سفری نگہبانوں کو ہوانا میں ایک خاص اِجلاس کے لیے بُلوایا۔ ہم کُل ملا کر 80 سفری نگہبان تھے۔ ہم سبھی اِس بات سے بہت خوش تھے کہ اِتنے سالوں بعد ہم ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ اِجلاس میں سب سے پہلے تو ہم نے تنظیم میں ہونے والی کچھ تبدیلیوں پر بات کی۔ اِس کے بعد ہمارے سامنے ایک بہت ہی حیران کر دینے والا اِعلان کِیا گیا۔ بھائیوں نے ہمیں بتایا کہ وہ سرکاری افسروں کو ہمارے نام بتانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ لیکن بھائیوں نے ایسا کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا؟
اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ سرکاری افسروں سے باتچیت کرنے کے لیے ملے تھے تاکہ حکومت اور یہوواہ کے گواہوں کے بیچ تعلقات بہتر ہو سکیں۔ سرکاری افسروں نے بھائیوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اُنہیں سفری نگہبانوں کے ناموں کی فہرست دیں۔ تو ہم سبھی اپنے اپنے نام دینے پر راضی ہو گئے۔ تب سے حکومت کے ساتھ باتچیت کرنے کے بہت اچھے نتیجے نکلنے لگے۔
پھر آخرکار ہم کُھل کر عبادت اور مُنادی کرنے کے لیے جمع ہونے لگے حالانکہ ابھی ہمارا مذہب قانونی طور پر رجسٹر بھی نہیں ہوا تھا۔ بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ سرکاری افسر کچھ حلقے کے نگہبانوں کے نام پہلے سے ہی جانتے تھے لیکن وہ بس ایک دفعہ ہم سے اِس بات کی تصدیق کر لینا چاہتے تھے۔
ستمبر 1994ء میں حکومت نے ہمیں برانچ کھولنے کی اِجازت دے دی۔ ہم پھر سے وہی عمارت اِستعمال کرنے لگے جو 20 سال پہلے بند کر دی گئی تھی۔
پھر 1996ء میں مجھے اور ایمیلیا کو ایک فون آیا جس میں ہمیں بیتایل میں خدمت کرنے کی دعوت ملی۔ یہ سُن کر شروع میں تو مجھے بہت حیرانی ہوئی اور مَیں نے بھائیوں سے کہا کہ ابھی بھی میرے دو بچے میرے ساتھ رہ رہے ہیں جن کی ذمےداری میرے سر پر ہے۔ بھائیوں نے میری صورتحال پر غور کِیا اور بعد میں مجھ سے کہا کہ وہ ابھی بھی چاہتے ہیں کہ ہم بیتایل میں خدمت کریں۔ ہم نے بیتایل میں خدمت کرنے کی دعوت کو قبول کر لیا اور اپنے گھرانے کو ہوانا لے کر جانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔
(دائیں) سن 2000ء کے شروع میں ایمیلیا کیوبا برانچ میں سلائی کے شعبے میں کام کرتے ہوئے
(بائیں) سن 2012ء میں اِجتماع کے ہال کی مخصوصیت
سچ کہوں تو شروع شروع میں مجھے بیتایل میں خدمت کرنا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ مَیں نے اِتنے سال حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کی تھی کہ میرا دل اور دماغ ابھی بھی مُنادی کے کام میں ہی لگا ہوا تھا۔ مَیں جانتا تھا کہ ملک میں بہن بھائی کن کن مسئلوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اِس لیے آفس میں کام کر کے مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے مَیں اُن کے لیے کچھ نہیں کر رہا۔ لیکن میرے ساتھ بیتایل میں کام کرنے والے بہن بھائیوں نے اور خاص طور پر ایمیلیا نے میری بہت مدد کی تاکہ مَیں اپنی سوچ کو ٹھیک کر سکوں۔ کچھ وقت بعد مجھے اُس کام کو کرنے سے خوشی ملنے لگی جو مَیں بیتایل میں کر رہا تھا اور مَیں ابھی بھی خوشی سے وہاں خدمت کر رہا ہوں۔
(دائیں) سن 2013ء میں شادیشُدہ جوڑوں کے لئے سکول سے گریجویشن
(بائیں) سن 2013ء میں کیوبا میں برانچ کی کمیٹی
اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ ایک حلقے کے اِجتماع میں
اب مَیں اور ایمیلیا بوڑھے ہو گئے ہیں۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ یہوواہ کی خدمت میں گزرے سالوں کے دوران ہمیں بہت سے بہن بھائیوں کو جاننے اور اُن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ہمیں خاص طور پر اِس بات کی بہت خوشی ہے کہ ہمارے بچے اور آگے سے اُن کے بچے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہم بھی بالکل یوحنا رسول کی طرح محسوس کرتے ہیں جنہوں نے کہا تھا: ”میرے لیے اِس سے بڑی کوئی خوشی نہیں کہ مَیں سنوں کہ میرے بچے سچائی کے مطابق چل رہے ہیں۔“—3-یوح 4۔
مجھے اور ایمیلیا کو بیتایل میں خدمت کرتے ہوئے تقریباً 30 سال ہو گئے ہیں۔ حالانکہ ہمیں بڑھاپے اور صحت کے مسئلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن ہم پھر بھی اُس کام کو اچھی طرح سے کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں جو ہمیں دیا گیا ہے۔ سچ ہے کہ یہوواہ کی خدمت کرتے ہوئے ہمیں کچھ مسئلوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم بہت خوش ہیں کہ ہم تقریباً 70 سال سے کیوبا کے جزیرے پر اپنے ”خوشدل خدا“ کی خدمت کر پائے ہیں۔—1-تیم 1:11؛ زبور 97:1۔