یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م26 جون ص.‏ 31
  • قارئین کے سوال

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • قارئین کے سوال
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • ملتا جلتا مواد
  • ابراہام کے گھرانے کی مثال کے ”‏مجازی معنی“‏
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ (‏2019ء)‏
  • خدا کی بادشاہت پر مضبوط ایمان رکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • تُم ”‏کاہنوں کی ایک مملکت“‏ ہو گے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • یہوواہ خدائے‌عہود ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
م26 جون ص.‏ 31

قارئین کے سوال

پولُس رسول گلتیوں 4:‏24 میں کن دو عہدوں کے بارے میں بات کر رہے تھے؟‏

پولُس رسول نے اَبراہام کے سارہ اور ہاجرہ کے ساتھ رشتے پر بات کرنے کے بعد کہا:‏ ”‏اِن باتوں کے مجازی معنی ہیں کیونکہ اِن عورتوں کا مطلب دو عہد ہیں۔“‏ (‏گل 4:‏22-‏24‏)‏ ماضی میں ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ دو عہد شریعت کے عہد اور نئے عہد کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔ لیکن اِن آیتوں پر اَور زیادہ تحقیق کرنے کے بعد اب ہم سمجھ گئے ہیں کہ اِن آیتوں کا ایک فرق مطلب ہے اور ہمیں اِن کی وضاحت میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پولُس رسول نئے عہد کی طرف نہیں بلکہ اَبراہام کے ساتھ باندھے گئے عہد کی طرف اِشارہ کر رہے تھے۔ آئیے اِس کی کچھ وجوہات پر غور کرتے ہیں۔‏a

پولُس نے سارہ کی نوکرانی ہاجرہ کا موازنہ کوہِ‌سینا سے کِیا۔ (‏گل 4:‏25‏)‏ ہاجرہ کا مطلب شریعت کا عہد تھا جو 1513 قبل‌ازمسیح میں کوہِ‌سینا پر باندھا گیا تھا۔ (‏خر 19:‏5، 6)‏ کوئی بھی عیب‌دار اِنسان شریعت پر پوری طرح سے عمل نہیں کر سکتا تھا۔ تو شریعت کے عہد کے ذریعے یہودی یہ یاد رکھ پاتے تھے کہ وہ گُناہ کے غلام ہیں۔ اِس عہد کی مدد سے وہ مسیح کو بھی پہچان سکتے تھے کیونکہ صرف مسیح نے ہی ایک ایسا اِنسان ثابت ہونا تھا جو شریعت پر پوری طرح سے عمل کر سکتا تھا۔ جب مسیح نے اپنی بے‌عیب جان قربان کر دی تو اُس نے عیب‌دار اِنسانوں کے لیے گُناہ اور موت کی غلامی سے آزاد ہونا ممکن بنا دیا۔ (‏گل 3:‏19،‏ 24، 25‏)‏ جب یسوع مسیح نے خدا کا مقصد پورا کر لیا تو پھر اِس کے بعد شریعت کی ضرورت نہیں رہی۔—‏روم 10:‏4‏۔‏

پولُس نے ہاجرہ اور سارہ میں فرق بتایا۔ اُنہوں نے بتایا کہ سارہ ”‏آزاد عورت“‏ تھیں جنہوں نے ”‏وعدے کے ذریعے پیدا“‏ ہونے والے بچے کو جنم دیا۔ (‏گل 4:‏23‏)‏ یہ وعدہ اَبراہام کے ساتھ باندھا گیا عہد تھا۔ (‏گل 3:‏29؛‏ 4:‏28،‏ 30‏)‏ اِس عہد کا ذکر ہمیں پیدائش 22:‏18 میں ملتا ہے جہاں یہوواہ نے اَبراہام سے کہا:‏ ”‏تمہاری نسل کے ذریعے زمین کی سب قوموں کو برکت ملے گی کیونکہ تُم نے میری بات مانی ہے۔“‏

اَبراہام کے ساتھ باندھے گئے اِس عہد کے ذریعے ہمیں اُس وعدے کے بارے میں اَور باتیں پتہ چلیں جو یہوواہ نے باغِ‌عدن میں کِیا تھا۔ (‏پید 3:‏15‏)‏ اُس عہد کے ذریعے ظاہر ہوا کہ جس ”‏نسل“‏ کے آنے کی پیش‌گوئی کی گئی تھی، اُس نے اَبراہام کی اولاد سے ہونا تھا۔ پولُس رسول نے بتایا کہ یہ ”‏نسل“‏ سب سے پہلے تو یسوع مسیح کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔ لیکن جو لوگ”‏مسیح کے ہیں،“‏ یعنی 1 لاکھ 44 ہزار، وہ بھی اِس خاص نسل کا حصہ ہیں۔ یہ لوگ یسوع کے ساتھ اُن کی بادشاہت میں حکمرانی کریں گے۔ (‏گل 3:‏16،‏ 29؛‏ مُکا 14:‏1-‏3‏)‏ یہوواہ نے اَبراہام کے ساتھ جو عہد باندھا تھا، اُس کے ذریعے اُن لوگوں کو بہت برکتیں ملیں گی جو یسوع کو قبول کرتے ہیں اور اُن کے حکموں پر عمل کرتے ہیں۔‏

تو جب پولُس نے دو عہدوں کا ذکر کِیا تو وہ کیا سمجھانا چاہ رہے تھے؟ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اگر اُن کے زمانے کے یہودی اِس بات پر زور دیتے رہیں گے کہ اُنہیں شریعت پر عمل کرتے رہنا چاہیے تو ایک طرح سے وہ ہاجرہ کی طرح غلام ہوں گے۔ لیکن اگر وہ اَبراہام کی اولاد کے سب سے اہم شخص کو یعنی یسوع کو قبول کریں گے تو وہ سارہ کی طرح آزاد ہوں گے اور اُنہیں گُناہ اور موت سے مکمل آزادی ملے گی۔ (‏یوح 8:‏32-‏34‏)‏ لیکن اگر وہ یسوع کو قبول نہیں کریں گے تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ شریعت کے عہد کے اہم مقصد کو ہی نہیں سمجھے۔ شریعت کے عہد کا اہم مقصد لوگوں کو مسیح تک پہنچانا تھا۔‏

پولُس نے گلتیہ میں رہنے والے جن مسیحیوں کو خط لکھا تھا، اُن میں سے بہت سے مسیحی غیریہودی تھے اور کبھی شریعت کے تحت نہیں رہے تھے۔ تو کلیسیا میں وہ مسیحی جو پہلے یہودی تھے، غیریہودی مسیحیوں کو اِس بات پر مجبور کر رہے تھے کہ وہ شریعت پر عمل کریں جس میں ختنہ کرانے کا حکم بھی شامل تھا۔ پولُس نے واضح کِیا کہ اب مسیحیوں کو شریعت کی ”‏غلامی“‏ میں رہنے کی بالکل ضرورت نہیں تھی۔ اُنہیں پہلے سے ہی ”‏آزادی“‏ مل چُکی تھی کیونکہ اُنہوں نے مسیح کو قبول کر لیا تھا۔—‏گل 5:‏1،‏ 10-‏14‏۔‏

a یہ اُس وضاحت میں تبدیلی ہے جو 15 مارچ 2006ء کے ‏”‏دی واچ‌ٹاور“‏ کے صفحہ نمبر 10-‏12 میں شائع ہوئی تھی۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں