29 جون–5 جولائی 2026ء
گیت نمبر 131 شادی کا مُقدس بندھن
اپنے جیون ساتھی کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرتے رہیں
”ایسا دوست بھی ہوتا ہے جو بھائی سے زیادہ وفا نبھاتا ہے۔“—اَمثا 18:24۔
غور کریں کہ . . .
شادی کا بندھن اُس وقت خوشیوں سے کیسے بھر جاتا ہے جب میاں اور بیوی دونوں ہی یہوواہ سے محبت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
1. اچھے دوست یہوواہ کی طرف سے نعمت کیوں ہیں؟
اچھے دوست یہوواہ کی طرف سے ایک نعمت ہوتے ہیں۔ (یعقو 1:17) کیوں؟ کیونکہ وہ یہوواہ سے اور ہم سے محبت کرتے ہیں۔ وہ ہماری خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں اور جب ہم دُکھی ہو جاتے ہیں تو ہمیں تسلی دیتے ہیں۔ اِس کے علاوہ وہ ضرورت پڑنے پر ہمیں کُھل کر مشورے دیتے اور نصیحت کرتے ہیں۔ وہ ہر موڑ پر ہمارا ساتھ دیتے ہیں اور ہم اُن پر پورا بھروسا کر سکتے ہیں۔ واقعی ایسے دوستوں کا ساتھ پا کر ہمارے ”دل کو خوشی ملتی ہے۔“—اَمثا 27:9۔
2. میاں بیوی کے لیے یہ کیوں ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرتے رہیں؟ (متی 19:6)
2 ایک میاں بیوی کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پکے دوست بنیں۔ اُنہیں اپنی دوستی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اِسے اَور مضبوط کرتے رہنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ خود کو اکیلا محسوس کریں گے، اُداسی کا شکار ہو جائیں گے، یہاں تک کہ ایک دوسرے پر غصہ بھی کرنے لگیں گے۔ لیکن اگر وہ ایک دوسرے کے اَور قریب آنے کی کوشش کریں گے تو وہ دوستی کا ایک ایسا مضبوط بندھن قائم کر پائیں گے جو شاید ہی کسی اَور اِنسانی رشتے میں قائم ہو سکتا ہے۔ (متی 19:6 کو پڑھیں۔) اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ میاں بیوی اپنی دوستی کو مضبوط کرتے رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ لیکن آئیے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ غیرشادیشُدہ مسیحی اپنے لیے ایک ایسا جیون ساتھی کیسے چُن سکتے ہیں جو زندگی بھر کے لیے اُن کا پکا دوست بن جائے۔
ایک ایسا جیون ساتھی جو ہمیشہ آپ کا پکا دوست بنا رہے
3-4. ایک شخص اپنے لیے اچھا جیون ساتھی کیسے چُن سکتا ہے؟ (اَمثال 18:22)
3 ہم زندگی میں کوئی بھی بڑا فیصلہ لینے سے پہلے فائدے اور نقصان کا سوچتے ہیں اور اِس بات پر بھی غور کرتے ہیں کہ ہمارے اُس فیصلے کے کیا نتیجے نکلیں گے۔ ہم جو بھی فیصلے لیتے ہیں، اِن کا ہماری پوری زندگی پر یا تو اچھا یا پھر بُرا اثر پڑ سکتا ہے۔ اِس لیے ہمیں کوئی بھی بڑا یا اہم فیصلہ لینے سے پہلے خوب سوچ بچار کر لینی چاہیے۔
4 اپنے لیے جیون ساتھی کا اِنتخاب کرنا ہماری زندگی کے سب سے بڑے اور اہم فیصلوں میں سے ایک ہے۔ چونکہ یہوواہ نے شادی کا بندھن قائم کِیا ہے اِس لیے اِس معاملے میں اُس سے بہتر رہنمائی ہماری کوئی اَور نہیں کر سکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ ایک آدمی اپنے لیے اچھی بیوی چُنے اور ایک عورت اپنے لیے اچھا شوہر چُنے۔ یہوواہ کو ہمیشہ یہ پتہ ہوتا ہے کہ ہمارے لیے کیا صحیح رہے گا۔ (اَمثال 18:22 کو پڑھیں؛ یسع 48:17، 18) تو یہوواہ کے کلام میں پائے جانے والے اصولوں کی مدد سے ایک مسیحی اپنے لیے اچھے جیون ساتھی کا اِنتخاب کر سکتا ہے۔
5. یہ کیوں ضروری ہے کہ ایک مسیحی اُس شخص کو اپنے جیون ساتھی کے طور پر چُنے جس نے یہوواہ کے گواہ کے طور پر بپتسمہ لیا ہوا ہے؟
5 جب ہم بپتسمہ لیتے ہیں تو ہم یہوواہ کے دوست بن جاتے ہیں۔ (زبور 25:14) تو اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہیں تو اپنے لیے ایک ایسا جیون ساتھی چُنیں جو یہوواہ کا دوست ہو۔ (1-کُر 7:39) ایسا کرنے سے آپ یہوواہ کے معیاروں کے لیے قدر دِکھا رہے ہوں گے اور پھر جب آپ کی شادی ہو جائے گی تو آپ کو اپنا جیون ساتھی اُس کی طرف سے ایک نعمت لگے گا۔ (اَمثا 19:14) اِس کے علاوہ یہوواہ کے کسی دوست سے شادی کرنے سے آپ اُن مسئلوں سے بھی بچ جائیں گے جو غیر ایمان شخص کے ساتھ شادی کرنے سے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ (2-کُر 6:14) یہ سوچ کر کسی غیرایمان شخص کے ساتھ ڈیٹنگ نہ کریں کہ آپ کو یہوواہ کے گواہوں میں کوئی مناسب جیون ساتھی نہیں مل رہا۔ اِس کے علاوہ یہ سوچنا بھی سمجھداری کی بات نہیں ہو گی کہ وہ شخص ایک نہ ایک دن یہوواہ کا گواہ بن جائے گا۔
6-7. جس شخص سے آپ شادی کرنے کا سوچ رہے ہیں، اُسے ذہن میں رکھتے ہوئے آپ کو خود سے کون سے سوال پوچھنے چاہئیں؟
6 ضروری نہیں کہ اگر ایک شخص نے یہوواہ کے گواہ کے طور پر بپتسمہ لیا ہوا ہے تو وہ آپ کے لیے ایک اچھا جیون ساتھی بھی ثابت ہوگا۔ اِس لیے اگر آپ کسی مسیحی کو پسند کرتے ہیں تو اچھا ہوگا کہ آپ خود سے اِس طرح کے سوال پوچھیں: ”وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کس طرح سے پیش آتا ہے؟ کیا وہ اُن کا خیال رکھتا ہے اور اُن کے ساتھ احترام سے پیش آتا ہے؟ اُس کے دوست کیسے ہیں؟ وہ اِختلافات سے کیسے نمٹتا ہے؟ کیا وہ ہمیشہ اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے یا کیا وہ اُس وقت دوسروں کی رائے سننے کو تیار ہوتا ہے جب بائبل کا کوئی اصول نہیں ٹوٹ رہا ہوتا؟ اُس کی نظر میں پیسہ کتنا اہم ہے؟“a
7 آپ خود سے یہ سوال بھی پوچھ سکتے ہیں: ”جس شخص کو مَیں پسند کرتا یا کرتی ہوں، کیا وہ یہوواہ سے گہری محبت کرتا ہے؟ کیا وہ ”نئی شخصیت“ کو پہننے کی پوری کوشش کر رہا ہے؟ کیا وہ اَور زیادہ اچھا مسیحی بننے میں میری مدد کرے گا؟ کیا یہوواہ کی خدمت کے حوالے سے ہم دونوں کے منصوبے ایک جیسے ہیں؟ کیا آگے چل کر ہم دونوں ایک دوسرے کے پکے دوست بن پائیں گے؟“ (کُل 3:9، 10) اگر آپ ایک بہن ہیں تو اِس بارے میں سوچیں کہ جس شخص کو آپ ابھی اچھی طرح سے جاننے کی کوشش کر رہی ہیں، کیا وہ آپ کا ایک اچھا دوست اور گھر کا اچھا سربراہ بن پائے گا؟ (1-کُر 11:3) اور اگر آپ ایک بھائی ہیں تو اِس بارے میں سوچیں کہ جس لڑکی کو آپ ابھی اچھی طرح سے جاننے کی کوشش کر رہے ہیں، کیا وہ آپ کی خامیوں کے باوجود خوشی سے آپ کی سربراہی کے اِختیار کو قبول کر پائے گی؟ ایسے سوالوں کے جواب حاصل کرنے میں وقت لگتا ہے۔ اِس لیے جس شخص سے آپ شادی کرنے کا سوچ رہے ہیں، اُسے اچھی طرح سے جاننے کے لیے خوب وقت لیں۔
8-9. اگر ایک شخص کسی کو شادی کے اِرادے سے جاننے کی کوشش کر رہا ہے تو کیا چیز صحیح فیصلہ لینے میں اُس کی مدد کر سکتی ہے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
8 اگر آپ کسی کو شادی کے اِرادے سے جان رہے ہیں، تو یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ وہ شخص اصل میں کیسا اِنسان ہے۔ اِس طرح آپ صحیح فیصلہ لے پائیں گے۔ دیکھیں کہ دوسرے اُس شخص کو کیسا خیال کرتے ہیں۔ آپ دوسروں سے اُس شخص کی نیکنامی اور خوبیوں کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ یہ پتہ لگانے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ کیا دوسرے اُسے ایک ایسا شخص سمجھتے ہیں جو خاکسار اور مہربان ہے اور صورتحال کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے؟ ذرا فرانسیسی گیانا میں رہنے والی ایک شادیشُدہ بہن کی بات پر غور کریں جن کا نام سارہ ہے اور جن کے شوہر کا نام ڈینیایل ہے۔ بہن سارہ نے کہا: ”مَیں نے دوسروں سے پوچھا کہ اُن کی نظر میں ڈینیایل کیسے شخص ہیں۔ مثال کے طور پر مَیں نے اُس بھائی سے بات کی جو ڈینیایل کے ساتھ رہتا تھا اور اُن کے ساتھ مل کر مُنادی کرتا تھا۔ اِس کے علاوہ مَیں نے ڈینیایل کی کلیسیا کے ایک بزرگ اور اُن کی کلیسیا کی کچھ بہنوں سے بھی اُن کے بارے میں پوچھا۔ مَیں نے اُن لوگوں سے بھی بات کی جو میرے اور ڈینیایل، ہم دونوں کے ہی اچھے دوست تھے اور ہمیں اچھی طرح سے جانتے تھے۔“ جس شخص سے آپ شادی کرنا چاہتے ہیں، آپ اُس سے بھی بڑے پیار سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ کیا اُس کے ماضی میں کوئی ایسی بات ہوئی جسے جاننا آپ کے لیے ضروری ہے یا پھر ابھی اُس کی زندگی میں کچھ ایسا چل رہا ہے جس کے بارے میں آپ کو پتہ ہونا چاہیے؟ اِن باتوں کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ آگے چل کر یہ باتیں آپ کی شادیشُدہ زندگی میں بڑے مسئلے کھڑے کر سکتی ہیں۔
9 ہو سکتا ہے کہ جس شخص سے آپ شادی کرنے کا سوچ رہے ہیں، اُسے لے کر آپ کے دل میں ایسے شک ہیں جنہیں آپ چاہ کر بھی نظرانداز نہیں کر پا رہے۔ یا پھر شاید کچھ سمجھدار بہن بھائیوں نے آپ کو اُس شخص کی خامیوں اور ایسی عادتوں کے بارے میں بتایا ہے جو اچھی نہیں ہیں۔ اِن باتوں کو سنجیدگی سے لیں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ یہ فیصلہ لے پائیں گے کہ آپ آگے بھی اُس شخص سے بات جاری رکھیں گے یا نہیں۔b اب آئیے باقی مضمون میں اُن مسیحیوں کی بات کرتے ہیں جو شادیشُدہ ہیں۔
جب آپ شادی کے اِرادے سے کسی کو جان رہے ہوتے ہیں تو یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ وہ شخص اصل میں کیسا اِنسان ہے۔ (پیراگراف نمبر 8-9 کو دیکھیں۔)
اپنی دوستی کو مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں
10. میاں بیوی کو ایک دوسرے کو اپنا وقت اور توجہ کیوں دینی چاہیے؟
10 ایک میاں بیوی چاہے کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں، وہ آپس میں وقت گزارنے سے اپنی دوستی اور شادی کے بندھن کو مضبوط رکھ سکتے ہیں۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کو اپنا وقت دیتے ہیں تو اُنہیں روزمرہ کے معاملوں پر بات کرنے، ایک دوسرے کو اپنے خیالات اور احساسات بتانے، ایک دوسرے کے لیے محبت دِکھانے اور مل کر تفریح اور ہنسی مذاق کرنے کا موقع ملتا ہے۔
11. کون سی چیز میاں بیوی کی دوستی کو نقصان پہنچا سکتی ہے؟
11 جو میاں بیوی پکے دوست ہوتے ہیں، وہ ایک دوسرے سے بچھڑنا نہیں بلکہ ایک دوسرے کے قریب رہنا چاہتے ہیں۔ سچ ہے کہ وہ ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ لیکن اگر وہ کافی لمبے عرصے تک ایک دوسرے سے دُور رہیں گے تو یہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ میاں بیوی نے ایک ایسی نوکری قبول کی جس کے لیے اُنہیں کسی اَور ملک جانا پڑا اور اِس وجہ سے وہ اپنے گھر والوں سے کافی عرصے سے دُور رہ رہے ہیں۔ شاید اِس طرح سے ایک میاں بیوی کو پیسہ تو مل جاتا ہے لیکن ایک دوسرے سے دُور رہ کر اُن کی شادیشُدہ زندگی میں بہت سے مسئلے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
12-13. (الف)کچھ مسیحی میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔) (ب)آپ کا جیون ساتھی آپ کی زندگی میں کتنا اہم ہونا چاہیے؟ (تصویر اور بکس ”آپ کی زندگی میں آپ کے جیون ساتھی کا مقام“ کو بھی دیکھیں۔)
12 غور کریں کہ کچھ میاں بیوی نے ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کے لیے کیا کِیا ہے۔ ذرا لِیاہ نام کی بہن کی بات پر غور کریں جو گوام میں رہتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں اور میرے شوہر مل کر ہر کام کرتے ہیں۔ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ ہم کسی دعوت پر یا تفریح کرتے وقت ایک دوسرے کے ساتھ نہ ہوں۔“ اور امریکہ میں رہنے والی بہن روکسان نے اپنے اور اپنے شوہر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ”ہم دونوں بہت مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے لیے کبھی کبھار ایک دوسرے کو وقت دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اِس لیے جس طرح ہم دوسرے اہم کاموں کو کرنے کے لیے پہلے سے ہی پروگرام بنا لیتے ہیں اُسی طرح اب ہم پہلے سے وہ وقت بھی طے کر لیتے ہیں جب صرف ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہوں۔“ (عاموس 3:3 پر غور کریں۔) فرانس میں رہنے والے بھائی ڈامین نے کہا: ”مَیں اور میری بیوی اِس بات کو بہت اہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایک دوسرے کے پسندیدہ کاموں میں دلچسپی لینی چاہیے اور اب تو ہم دونوں کو ہی ایسا کرنے میں مزہ آتا ہے۔“ (متی 7:12) ذرا امریکہ میں رہنے والی ایک اَور بہن کی بات پر بھی غور کریں جن کا نام کےٹی ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”کبھی کبھار مَیں اور میرے شوہر اپنے اپنے فون سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں تاکہ ہم ایک دوسرے کو پوری توجہ دے سکیں۔“
13 میاں بیوی کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ مل کر یہوواہ کی خدمت کرنے میں وقت گزاریں۔ اِس سلسلے میں فرانس میں رہنے والی بہن مریم نے کہا: ”ہم اپنے دن کا آغاز مل کر بائبل پڑھنے سے کرتے ہیں۔ پھر ہم اِس بارے میں بات کرتے ہیں کہ ہمیں بائبل پڑھتے ہوئے کون سی بات اچھی لگی اور ہم اِس پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔ ہمیں اِس طرح سے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار کر بہت اچھا لگتا ہے۔ مجھے تب بھی بہت اچھا لگتا ہے جب ہم مل کر دُعا کرتے ہیں کیونکہ میرے شوہر دُعا میں یہوواہ سے جو کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں، اُس سے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہوواہ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔“ اور ذرا بہن کےٹی کی بات پر بھی غور کریں جن کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”ہم کئی موقعوں پر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ لیکن ہم مل کر مُنادی کرنے میں جو وقت گزارتے ہیں وہ ہمیں سب سے زیادہ پسند ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کو یہوواہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کے اَور قریب ہو پاتے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے سے نئی نئی باتیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔“—اَمثا 27:17۔
اپنی شادی کے بندھن اور دوستی کو مضبوط کرنے کے لیے باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں۔ (پیراگراف نمبر 12-13 کو دیکھیں۔)
مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھائیں
14-15. ایک میاں بیوی کو اپنی شادیشُدہ زندگی میں کھڑے ہونے والے مسئلوں سے نمٹنے کی پوری کوشش کیوں کرنی چاہیے؟ مثال دیں۔
14 میاں بیوی دونوں ہی عیبدار ہیں۔ اِس لیے ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ اُن کی شادیشُدہ زندگی میں کبھی کوئی مسئلہ کھڑا نہ ہو۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”جو لوگ شادی کرتے ہیں، اُنہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ (1-کُر 7:28) اِس آیت میں اُن مشکلوں یا مسئلوں کی بات کی جا رہی ہے جن کا سامنا سبھی میاں بیوی کو کرنا پڑتا ہے۔ تو جب اِس طرح کی مشکلیں کھڑی ہوتی ہیں تو میاں بیوی کو اِنہیں مل کر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے۔
15 اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں۔ فرض کریں کہ ایک جانی مانی عمارت یا خوبصورت پینٹنگ خراب ہو جاتی ہے۔ بےشک ایسی صورت میں عمارت یا پینٹنگ کا مالک اِسے ٹھیک کرانے کی کوشش کرے گا۔ ایسا کرنے میں شاید اُسے اپنا پیسہ پانی کی طرح بہانا پڑے اور اِس میں کئی سال بھی لگ جائیں۔ لیکن وہ پھر بھی ہمت نہیں ہارے گا۔ کیوں؟ کیونکہ وہ عمارت یا پینٹنگ اُس کی نظر میں بہت بیشقیمت ہے۔ اِسی طرح شادی کا بندھن بھی بہت بیشقیمت ہے۔ چاہے میاں بیوی ایک دوسرے کے کتنے ہی پکے دوست کیوں نہ ہوں پھر بھی اُن کی شادیشُدہ زندگی میں مسئلے اور اِختلافات کھڑے ہو سکتے ہیں۔ لیکن جس طرح ایک خراب عمارت یا پینٹنگ کو ٹھیک کِیا جا سکتا ہے اُسی طرح میاں بیوی اپنے خراب رشتے کو ٹھیک کر سکتے ہیں۔ بےشک ایسا کرنے کے لیے اُنہیں محنت کرنی ہوگی اور اِس میں وقت بھی لگے گا۔ لیکن اگر میاں بیوی اپنے بندھن کو مضبوط کرنے اور ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کی پوری کوشش کریں گے تو یہوواہ اُن سے خوش ہوگا۔ (ملا 2:16) اِس طرح وہ نہ صرف ایک دوسرے کے لیے بلکہ یہوواہ کے لیے بھی محبت اور احترام دِکھا رہے ہوں گے جس نے شادی کے بندھن کو قائم کِیا ہے۔
16. اگر ایک میاں بیوی کی شادیشُدہ زندگی میں کوئی بڑا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے تو 1-کُرنتھیوں 13:4-8 کے مطابق کیا چیز اُن کی مدد کر سکتی ہے؟ (بکس ”آپ اپنے جیون ساتھی کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟“ کو دیکھیں۔)
16 اگر آپ کی شادیشُدہ زندگی میں کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے تو فوراً ایک دوسرے سے الگ ہونے کا فیصلہ نہ کریں۔ (1-کُر 7:10، 11) اِس کی بجائے خود سے پوچھیں: ”مَیں اپنے جیون ساتھی کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرنے کے لیے اَور کیا کر سکتا ہوں؟“ اِس بات پر سوچ بچار کریں کہ بائبل میں محبت دِکھانے کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے اور پھر اِس بارے میں سوچیں کہ آپ اُن طریقوں سے محبت کیسے دِکھا سکتے ہیں جن کا ذکر 1-کُرنتھیوں 13:4-8 میں ہوا ہے۔ (اِن آیتوں کو پڑھیں۔) ایک دوسرے کو اپنی زندگی سے نکالنے کی بجائے پھر سے ایک دوسرے کے دل میں جگہ بنانے کی کوشش کریں۔ اِس بات پر دھیان دیں کہ آپ ذاتی طور پر اپنے رشتے کو بہتر بنانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ یہوواہ سے دُعا کریں کہ وہ آپ کی رہنمائی کرے۔ اِس کے علاوہ ہماری تنظیم کی تیار کی ہوئی کتابوں اور ویڈیوز سے اور کلیسیا کے بزرگوں اور پُختہ مسیحیوں سے مدد لیں۔ بائبل میں شادی کے بندھن کو ایک ڈوری کی طرح کہا گیا ہے جو تین دھاگوں سے مل کر بنی ہے۔ اِس بندھن یا ڈوری کا سب سے مضبوط اور اہم حصہ یہوواہ ہے۔ تو جب آپ اپنی شادی کے بندھن کو مضبوط کرنے کے لیے وہ کام کریں گے جو یہوواہ کو پسند ہیں تو پھر اِس بندھن کو ”آسانی سے نہیں توڑا“ جا سکے گا۔—واعظ 4:12۔
اپنی شادیشُدہ زندگی میں کھڑے ہونے والے مسئلوں کے باوجود ایک دوسرے سے جُڑے رہیں۔ (پیراگراف نمبر 16 کو دیکھیں۔)
17. جو مسیحی شادی کرنے کا سوچ رہے ہیں یا جن مسیحیوں کی شادی ہو گئی ہے، وہ خوش کیسے رہ سکتے ہیں؟
17 یہوواہ چاہتا ہے کہ اُس کے سب بندے خوش رہیں پھر چاہے وہ شادیشُدہ ہوں یا ابھی شادی کرنے کا سوچ رہے ہوں۔ اگر آپ غیرشادیشُدہ ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں تو سوچ سمجھ کر اپنے جیون ساتھی کا اِنتخاب کریں۔ اور اگر آپ شادیشُدہ ہیں تو اپنے جیون ساتھی کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرتے رہیں۔ جب آپ کی شادیشُدہ زندگی میں مسئلے کھڑے ہو جاتے ہیں تو مل کر اِن سے نمٹیں اور مدد کے لیے یہوواہ پر بھروسا کریں۔ ایسا کرنے سے آپ اپنے پیارے جیون ساتھی کے ساتھ ”زندگی کا مزہ“ لے پائیں گے!—واعظ 9:9۔
گیت نمبر 132 اب ہم ایک ہو گئے ہیں
a یہ سوال آدمی اور عورت دونوں ہی خود سے پوچھ سکتے ہیں۔
b اِس بارے میں اَور جاننے کے لیے کہ آپ شادی کے اِرادے سے کسی کو اچھی طرح سے کیسے جان سکتے ہیں، مئی 2024ء کے ”مینارِنگہبانی“ میں مضمون ”شادی کے اِرادے سے ایک دوسرے کو جانتے وقت یہوواہ کی نظر میں پاک رہیں“ کے ذیلی عنوان ”ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جانیں“ کو دیکھیں۔