13-19 اپریل 2026ء
گیت نمبر 52 ہم یہوواہ کے ہیں
بپتسمہ لینے کا مطلب اور اِس کی اہمیت
”لوگوں کو شاگرد بنائیں اور اُن کو . . . بپتسمہ دیں۔“—متی 28:19۔
غور کریں کہ . . .
بپتسمہ لینا اِتنا اہم کیوں ہے، بپتسمہ لینے سے کیا ظاہر ہوتا ہے اور بپتسمہ کیسے دیا جانا چاہیے۔
1. یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ بپتسمہ بائبل کی ایک اہم تعلیم ہے؟
ہم اُس وقت بہت خوش ہوتے ہیں جب کوئی شخص بپتسمہ لیتا ہے۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ جب مسیحی کلیسیا کا سب سے پہلا اِجلاس ہوا تھا تو اُس وقت یسوع کے شاگردوں نے بھی ایسی ہی خوشی محسوس کی تھی؟ وہ 33ء کی عیدِپنتِکُست کا دن تھا اور اُس وقت بہت سے لوگوں نے مسیحیوں کے طور پر بپتسمہ لیا تھا۔ اُس موقعے پر پطرس رسول نے ایک تقریر کی تھی جس میں اُنہوں نے بپتسمہ لینے کی اہمیت بتائی تھی۔ (اعما 2:38، 40، 41) بعد میں پولُس رسول نے بھی اپنے ایک خط میں بتایا کہ بپتسمے کی تعلیم ”مسیح کے متعلق اِبتدائی تعلیمات“ میں شامل ہے۔ (عبر 6:1، 2) تو بھلے ہی ہمیں بپتسمے کا موضوع عام سا لگے لیکن ہمیں اِسے اچھی طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آئیے دیکھیں کہ ایسا کیوں ہے۔
2. یہ کیوں ضروری ہے کہ بائبل میں بپتسمے کے حوالے سے جو تعلیم دی گئی ہے، ہم اُسے اچھی طرح سے سمجھیں؟
2 اگر ایک شخص چاہتا ہے کہ اُس کا گھر شدید طوفان میں بھی مضبوطی سے کھڑا رہے تو اِس کے لیے اُسے اپنے گھر کی اچھی بنیاد ڈالنی ہوگی۔ اِسی طرح اگر ایک شخص اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہتا ہے تو اُسے بائبل کی اُن سچائیوں کو اچھی طرح سے سمجھنا ہوگا جو مسیحیوں کے ایمان کی بنیاد ہیں۔ اِن سچائیوں میں بپتسمے کے بارے میں سچائی کو سمجھنا بھی شامل ہے۔چاہے ہم بپتسمہ لینے کی طرف قدم بڑھا رہے ہوں یا ہمیں بپتسمہ لیے ہوئے بہت سال ہو گئے ہوں، ہم سبھی کو بپتسمے کی اہم تعلیم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اِسی لیے اِس مضمون میں اِن سوالوں کے جواب دیے جائیں گے: بپتسمہ لینے کا کیا مطلب ہے؟ بپتسمہ کیسے دیا جانا چاہیے؟ اور ہمیں باپ اور بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ کیوں لینا چاہیے؟
بپتسمہ لینے سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟
3. بپتسمہ لینے سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟
3 جب آپ بپتسمہ لیتے ہیں تو اِس سے یہ باتیں ظاہر ہوتی ہیں: (1)آپ اُن سبھی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ نے بائبل سے یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کے بارے میں سیکھی ہیں؛ (2)آپ نے اپنے گُناہوں سے توبہ کر لی ہے؛ (3)آپ نے یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے اپنی زندگی بدلی ہے؛ (4)آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہوواہ صرف یسوع مسیح کے ذریعے ہی آپ کو گُناہ اور موت سے نجات دِلا سکتا ہے اور (5)آپ نے دُعا میں یہوواہ سے یہ وعدہ کِیا ہے کہ آپ اُس کی تنظیم کے ساتھ مل کر اُس کی مرضی پر چلیں گے۔ جب آپ دُعا میں یہوواہ سے یہ وعدہ کرتے اور بپتسمہ لیتے ہیں تو آپ اُس راستے پر چلنے لگتے ہیں جو ہمیشہ کی زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔
4. جب ایک شخص کو بپتسمہ دیتے وقت پانی میں ڈبکی دی جاتی ہے تو اِس سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
4 جب ایک شخص کو بپتسمہ دیا جاتا ہے تو اُسے پانی میں ڈبکی دے کر باہر لایا جاتا ہے۔a بپتسمہ ایک طرح سے دفن ہونے اور پھر سے جی اُٹھنے کی طرح ہے۔ (کُلسّیوں 2:12 پر غور کریں۔) بپتسمے کے لیے یہ مثال اِتنی مناسب کیوں ہے؟ کیونکہ بپتسمہ لیتے وقت جب ایک شخص پانی کے اندر جاتا ہے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب اُس نے اُس طرح سے زندگی گزارنی چھوڑ دی ہے جس طرح سے وہ پہلے گزارتا تھا۔ اور جب وہ پانی سے باہر آتا ہے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب اُس نے ایک نئی زندگی کی شروعات کی ہے جس میں وہ خدا کی مرضی کو سب سے زیادہ اہمیت دے گا۔
جب آپ بپتسمہ لیتے ہیں تو آپ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے اُس طرح سے زندگی گزارنا چھوڑ دی ہے جو یہوواہ کو پسند نہیں تھی اور اب آپ صرف وہی کام کریں گے جن سے یہوواہ خوش ہوگا۔ (پیراگراف نمبر 4 کو دیکھیں۔)
5. ہم بپتسمہ لینے کے لیے جو قدم اُٹھاتے ہیں، ہم اُسے کس کام کی طرح کہہ سکتے ہیں اور کیوں؟ (1-پطرس 3:18-21)
5 پہلا پطرس 3:18-21 کو پڑھیں۔ آپ بپتسمہ لینے کے لائق بننے کے لیے جو قدم اُٹھا رہے ہیں، وہ بالکل ایسے ہیں جیسے نوح نے کشتی بنائی تھی۔ شاید آپ نے ابھی یہوواہ کے بارے میں سیکھنا شروع کِیا ہے۔ شاید آپ کو لگے کہ آپ کو بپتسمہ لینے کے لیے جو کام کرنے پڑیں گے، وہ بہت مشکل ہیں، اِتنے مشکل جتنا نوح کے لیے کشتی بنانا تھا۔ لیکن کیا بپتسمہ لینے کے لیے یہ سب کام کرنا ضروری ہیں؟ بالکل۔ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟ ذرا نوح کی مثال پر غور کریں۔ یہوواہ نے نوح کو تفصیل سے بتایا کہ اُنہیں کشتی کیسے بنانی ہے۔ نوح کو یہوواہ کی بتائی ہوئی ایک ایک بات پر عمل کرنا تھا تاکہ وہ طوفان میں سے بچ سکیں۔ یہوواہ پر ایمان رکھنے کی وجہ سے نوح نے یہوواہ کی بات مانی اور اُس کی مدد سے ایک بہت بڑی کشتی بنائی۔ نوح کی طرح آپ بھی ہر وہ کام کر سکتے ہیں جس کا یہوواہ آپ کو حکم دیتا ہے۔—پید 6:22۔
6. بپتسمہ کس لحاظ سے آپ کو بچا سکتا ہے؟
6 پطرس رسول نے کہا کہ ’بپتسمہ آپ کو بچا رہا ہے۔‘ (1-پطر 3:21) بےشک صرف پانی میں ڈبکی لینے سے ایک شخص کو نجات نہیں مل جاتی یا اُس کے گُناہ دُھل نہیں جاتے۔ صرف یسوع مسیح کا خون ہی ایک شخص کو گُناہوں سے پاک کر سکتا ہے۔ (1-یوح 1:7) لیکن پھر بھی بپتسمہ لینا بہت ضروری ہے کیونکہ یہوواہ نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اور بپتسمہ لینے سے ہم اُس سے ”اچھے ضمیر کی درخواست“ کر سکتے ہیں۔ پھر جب یہوواہ خوشی سے یسوع کی قربانی کی بنیاد پر ہمارے گُناہ معاف کر دیتا ہے تو اِس لحاظ سے بپتسمہ ہمیں بچاتا ہے یعنی ہمارے لیے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنا ممکن بناتا ہے۔
بپتسمہ کیسے دیا جانا چاہیے؟
7. ایک شخص کو بپتسمہ کیسے دیا جانا چاہیے؟
7 بائبل میں یہ تو بتایا گیا ہے کہ ایک شخص کو بپتسمہ دینے کے لیے اُسے پانی میں مکمل طور پر ڈبکی دی جانی چاہیے۔ لیکن اِس میں بپتسمہ دینے کے حوالے سے ہر بات تفصیل سے نہیں بتائی گئی۔ مگر بائبل میں ایسے اصول دیے گئے ہیں جن پر بپتسمے کے وقت عمل کرنا اچھی بات ہے۔ مثال کے طور پر بائبل کے اصولوں کی مدد سے بپتسمہ لینے والے لوگ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اُنہیں اِس موقعے پر کس طرح کے کپڑے پہننے چاہئیں۔ اِس کے علاوہ بپتسمے کو دیکھنے والے مسیحی بائبل کے اصولوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچ سکتے ہیں کہ اُنہیں اِس موقعے پر کس طرح سے پیش آنا چاہیے۔ (1-کُر 14:40؛ 1-تیم 2:9) عام طور پر بپتسمہ کلیسیا کا ایک بزرگ دیتا ہے۔ لیکن جس بزرگ کو بپتسمے دینے کا اعزاز ملتا ہے، ہمیں اُسے بہت زیادہ اہمیت یا خاص توجہ نہیں دینی چاہیے۔ (1-کُر 1:14، 15) اِس کے علاوہ یہ بات بھی اہمیت نہیں رکھتی کہ زیادہ لوگ بپتسمہ دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں یا کم۔—اعما 8:36۔
8. بپتسمہ لینے والوں سے کون سے سوال پوچھے جاتے ہیں اور کیوں؟ (اعمال 2:38-42) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
8 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”زبان سے[ایمان]کا اِقرار کرنے سے نجات ملتی ہے۔“ (روم 10:9، 10) ہم اپنے ایمان کا اِقرار صرف مُنادی کرتے وقت ہی نہیں بلکہ خاص طور پر بپتسمے کے دن بھی کرتے ہیں۔ اِسی لیے تو بپتسمے کے دن بپتسمہ لینے والوں سے دو سوال پوچھے جاتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہوتا ہے: ”کیا آپ نے اپنے گُناہوں سے توبہ کر لی ہے، خود کو یہوواہ خدا کے لیے وقف کر دیا ہے اور اُس بندوبست کو تسلیم کر لیا ہے جس کے تحت یہوواہ، یسوع مسیح کے ذریعے اِنسانوں کو نجات دِلائے گا؟“ یہ سوال پوچھنے سے اِس بات پر توجہ دِلائی جاتی ہے کہ بپتسمہ لینے والے اپنے بپتسمے سے پہلے ہی کون سے قدم اُٹھا چُکے ہیں۔ اِسی طرح کی بات پطرس رسول نے بھی عیدِپنتِکُست پر اُس وقت کہی تھی جب اُنہوں نے لوگوں سے توبہ کرنے اور بپتسمہ لینے کو کہا تھا۔ پھر بپتسمہ لینے والوں سے دوسرا سوال یہ کِیا جاتا ہے: ”کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بپتسمہ لینے سے آپ ظاہر کریں گے کہ آپ یہوواہ کے ایک گواہ ہیں اور اُس کی تنظیم کا حصہ ہیں؟“ اِس سوال کے ذریعے اِس بات پر توجہ دِلائی جاتی ہے کہ بپتسمہ لینے والوں نے یہ وعدہ کِیا ہے کہ وہ یہوواہ کی تنظیم کی رہنمائی میں چلیں گے اور اپنے ہمایمانوں کے ساتھ مل کر یہوواہ کی عبادت کریں گے۔ ایسا ہی عیدِپنتِکُست کے دن پر اُن لوگوں نے کِیا تھا جنہوں نے بپتسمہ لیا تھا۔ (اعمال 2:38-42 کو پڑھیں۔) جو لوگ پورے دل سے اِن دونوں سوالوں کا جواب ہاں میں دیتے ہیں، وہ بپتسمہ لینے کے لائق ہوتے ہیں۔
بپتسمے کے دن آپ اپنی ’زبان سے اپنے ایمان کا اِقرار‘ کرتے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 8 کو دیکھیں۔)d
9. خدا کے ساتھ دوستی کرنے کے لیے ہر شخص کو کون سے قدم اُٹھانے چاہئیں؟
9 شاید بائبل کی سچائیاں سیکھنے سے پہلے ہی آپ ایک اچھی زندگی گزار رہے تھے اور آپ نے کبھی کوئی سنگین گُناہ نہیں کِیا تھا۔ یا شاید آپ یہوواہ کے گواہوں کے گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور آپ کے امی ابو نے آپ کو یہوواہ سے محبت کرنا سکھایا تھا۔ تو کیا آپ کو پھر بھی توبہ کرنے اور یہوواہ کا دوست بننے کے لیے بپتسمہ لینے کی ضرورت ہے؟ جی بالکل۔ چاہے ہمارا ماضی جیسا بھی ہو، ہم سبھی کو یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں آدم اور حوّا سے گُناہ ورثے میں ملا ہے جس کی وجہ سے ہم میں اور خدا میں دُوری آ گئی ہے۔ (زبور 51:5) جب ہم پاک کلام سے یہ بات سمجھ جاتے ہیں تو ہمیں توبہ کرنے، خود کو بدلنے اور اپنی خوشی سے زیادہ یہوواہ کی خوشی کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ اِس کے بعد ہم بپتسمہ لے سکتے ہیں۔—اعما 3:19۔
10. اگر آپ نے اُس وقت بھی بپتسمہ لیا تھا جب آپ کسی اَور مذہب کا حصہ تھے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
10 اگر آپ نے اُس وقت بھی بپتسمہ لیا تھا جب آپ کسی اَور مذہب کا حصہ تھے تو آپ کو پھر بھی یہوواہ کے گواہ کے طور پر بپتسمہ لینا چاہیے۔ کیوں؟ کیونکہ پہلے آپ یہوواہ اور یسوع کے بارے میں سچائیوں کا صحیح علم نہیں رکھتے تھے۔ اور بھلے ہی پہلے آپ نے اپنی زندگی خدا کے نام کرنے کا وعدہ کِیا تھا لیکن اُس وقت آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ اصل میں خدا آپ سے کیا چاہتا ہے۔ اِس سلسلے میں ذرا پولُس رسول کی زندگی کے ایک واقعے پر غور کریں۔ ایک دفعہ وہ اِفسس میں رہنے والے کچھ ایسے آدمیوں سے ملے جنہوں نے پہلے سے ہی بپتسمہ لیا ہوا تھا۔ اُن سے باتچیت کر کے پولُس کو اندازہ ہوا کہ اِن آدمیوں کو مسیح کے بارے میں سچائی کا بالکل علم نہیں ہے۔ اِس لیے پولُس نے پھر سے اُن کے بپتسمے کا بندوبست کِیا۔b (اعما 19:1-5) اِسی طرح آج بھی یہوواہ صرف اُسی شخص کے بپتسمے کو قبول کرتا ہے جس نے اُس کی مرضی کے بارے میں صحیح علم حاصل کِیا ہو۔
”باپ اور بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ“
11. ”باپ اور بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ“ لینے کا کیا مطلب ہے؟ (متی 28:18-20)
11 یسوع مسیح نے حکم دیا کہ جو شخص اُن کا شاگرد بننا چاہتا ہے، اُسے ”باپ اور بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ“ لینا چاہیے۔ (متی 28:18-20 کو پڑھیں۔) لیکن یسوع کی بات کا کیا مطلب تھا؟ بائبل میں لفظ ”نام“ ایک شخص کی نیکنامی کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ اِس کے علاوہ لفظ ”نام“ ایک شخص کے رُتبے اور اِختیار کی طرف بھی اِشارہ کرتا ہے۔ تو جب ہم کسی شخص یا چیز ”کے نام سے“ کچھ کرتے ہیں تو ہم اُس اِختیار کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں جو اُس نام سے کہلانے والا شخص یا چیز رکھتی ہے۔ (متی 10:41 پر غور کریں۔) آئیے دیکھیں کہ آپ باپ اور بیٹے کے رُتبے اور اِختیار کو اور پاک روح کے کردار کو کیسے تسلیم کر سکتے ہیں۔
12. ہم باپ کے نام سے بپتسمہ کیسے لیتے ہیں؟ (مُکاشفہ 4:11) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
12 باپ کے نام سے بپتسمہ۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہم اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہوواہ ہمارا آسمانی باپ ہے جس نے ہمیں زندگی دی ہے۔ وہ لامحدود طاقت کا مالک اور سب چیزوں کو بنانے والا ہے۔ (مُکاشفہ 4:11 کو پڑھیں۔) اِس کے علاوہ وہ دُعاؤں کا سننے والا ہے۔ ہم اُس کا ذاتی نام لے کر بڑے احترام سے اور کُھل کر اُس سے بات کر سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی اُس کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔ (زبور 65:2) لیکن باپ کے نام سے بپتسمہ لینے میں صرف اِنہی باتوں پر یقین رکھنا کافی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر جب پطرس عیدِپنتِکُست پر لوگوں سے بات کر رہے تھے تو لوگ پہلے سے ہی یہوواہ کے بارے میں جانتے تھے۔ لیکن اب اِن لوگوں کو یہ تسلیم کرنے کی ضرورت تھی کہ یہوواہ صرف یسوع مسیح کے ذریعے ہی اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دے سکتا ہے۔—روم 5:8۔
بپتسمہ لینے کے بعد بھی باپ اور بیٹے کے رُتبے اور اِختیار کو اور پاک روح کے کردار کو تسلیم کرتے رہیں۔ (پیراگراف نمبر 12 کو دیکھیں۔)
13. ہم بیٹے کے نام سے بپتسمہ کیسے لیتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
13 بیٹے کے نام سے بپتسمہ۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہم اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یسوع خدا کے اِکلوتے بیٹے ہیں۔ یسوع مسیح ”راستہ“ ہیں اور ہم صرف اُنہی کے ذریعے یہوواہ سے دوستی کر سکتے ہیں۔ (یوح 14:6) یسوع ہمارے نجاتدہندہ بھی ہیں کیونکہ اُنہوں نے ہمارے لیے اپنی جان قربان کی تاکہ ہمیں زندگی مل سکے۔ اِسی لیے ہم صرف بپتسمے کے دن ہی نہیں بلکہ ہر دن اُن کی مثال پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ (1-یوح 2:6) یسوع کی طرح ہم بھی کسی بھی چیز کی وجہ سے مُنادی کرنا بند نہیں کرتے۔ (لُو 4:43) ہم تو یسوع کی پیروی کرنے اور یہوواہ کا وفادار رہنے کے لیے اذیت بھی سہنے کو تیار رہتے ہیں۔ (2-تیم 3:12) ہم اپنی کلیسیا کے سربراہ یسوع کی بہت عزت کرتے ہیں اِس لیے ہم خوشی سے اُن لوگوں کی ہدایتوں کو مانتے ہیں جنہیں یسوع ہماری پیشوائی کرنے اور ہمارا خیال رکھنے کے لیے اِستعمال کرتے ہیں۔—اِفِس 4:8، 11، 12؛ 5:23۔
بپتسمہ لینے کے بعد بھی بیٹے کے رُتبے اور اِختیار کو تسلیم کرتے رہیں۔ (پیراگراف نمبر 13 کو دیکھیں۔)
14. (الف)ہم پاک روح کے نام سے بپتسمہ کیسے لیتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔) (ب)مسحشُدہ مسیحی اَور کون سے بپتسمے لیتے ہیں؟ (بکس ”کچھ اَور بپتسمے جو مسحشُدہ مسیحی لیتے ہیں“ کو دیکھیں۔)
14 پاک روح کے نام سے بپتسمہ۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہم پاک روح کے بارے میں اِس سچائی کو قبول کرتے ہیں کہ یہ کوئی شخص یا تثلیث کا حصہ نہیں ہے بلکہ یہ خدا کی طاقت ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ نے اپنی پاک روح کے ذریعے اپنے نبیوں اور بائبل کو لکھنے والے آدمیوں کی رہنمائی کی۔ اِس لیے ہمیں اِسے روزانہ پڑھنا چاہیے اور اِس میں لکھی باتوں پر عمل کرنا چاہیے۔ (2-پطر 1:20، 21) اِس کے علاوہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمیں سنگین گُناہ کرنے سے خبردار رہنا چاہیے کیونکہ اگر ہم گُناہ کریں گے تو یہوواہ کی پاک روح نہ صرف ہماری بلکہ کلیسیا کی بھی مدد کرنا چھوڑ دے گی۔—اِفِس 4:30۔
بپتسمہ لینے کے بعد بھی پاک روح کے کردار کو تسلیم کرتے رہیں۔ (پیراگراف نمبر 14 کو دیکھیں۔)
15. آپ نے کیا کرنے کا پکا اِرادہ کِیا ہے؟
15 اگر آپ پہلے سے ہی بپتسمہ لے چُکے ہیں تو اِس بات کا پکا اِرادہ کریں کہ آپ ’بپتسمے کی تعلیم‘c کے ہر پہلو کو اچھی طرح سے سمجھیں گے اور اُس وعدے پر قائم رہیں گے جو آپ نے اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرتے وقت اور بپتسمہ لیتے وقت کِیا تھا۔ لیکن اگر آپ نے ابھی تک بپتسمہ نہیں لیا تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا کوئی ایسی بات ہے جو آپ کو بپتسمہ لینے سے روک رہی ہے؟ اگلے مضمون میں بتایا جائے گا کہ آپ بپتسمہ لینے کی طرف قدم کیسے بڑھا سکتے ہیں۔
گیت نمبر 161 تیری مرضی دیتی خوشی
a جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”بپتسمہ“ کِیا گیا ہے، اُس کا مطلب ”مکمل طور پر ڈبونا“ہے۔ تو بپتسمے کا اِشارہ ایک شخص کو مکمل طور پر پانی میں ڈبکی دینے کی طرف ہے نہ کہ اُس پر پانی چھڑکنے کی طرف جیسا کہ کچھ مذہبوں میں سکھایا جاتا ہے۔
b اِفسس میں رہنے والے آدمیوں نے پولُس کو بتایا کہ اُنہوں نے اُس طرح کا بپتسمہ لیا ہے ”جو یوحنا دیتے تھے۔“ (اعما 19:3) یوحنا بپتسمہ دینے والے نے یہودیوں کا حوصلہ بڑھایا تھا کہ وہ اپنے اُن گُناہوں سے توبہ کریں جو اُنہوں نے موسیٰ کی شریعت کے خلاف کیے تھے۔ اِس کے بعد یوحنا توبہ کرنے والے لوگوں کو بپتسمہ دیتے تھے۔ (مر 1:4، 5) لیکن جب موسیٰ کی شریعت ختم ہو گئی تو پھر یہوواہ نے اِس طرح کے بپتسمے کو قبول کرنا چھوڑ دیا۔ اِس کے بعد سے یہوواہ صرف اُسی بپتسمے کو قبول کرتا ہے جس سے نجات ملتی ہے۔—اِفِس 4:5۔
c ویبسائٹ jw.org پر اور جےڈبلیو لائبریری میں سلسلہ وار مضامین ”پاک کلام سے متعلق سوالوجواب“ میں مضمون ”بپتسمہ کیا ہے؟“ کو دیکھیں۔
d تصویر کی وضاحت:ایک اِجتماع پر بپتسمہ لینے والے بہن بھائی کھڑے ہو کر سب سے سامنے اپنے ایمان کا اِقرار کر رہے ہیں۔