6-12 اپریل 2026ء
گیت نمبر 82 اپنی روشنی چمکائیں
اپنے غیرایمان رشتےداروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھیں
”اچھے کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں۔“—گل 6:9۔
غور کریں کہ . . .
ہم اپنے اُن رشتےداروں کے ساتھ پیار محبت سے کیسے رہ سکتے ہیں جو یہوواہ کی عبادت نہیں کرتے اور ہم اُن کے ساتھ یہوواہ کے بارے میں بات کرتے وقت نرمی سے کام کیسے لے سکتے ہیں۔
1-2. شاید کن باتوں کی وجہ سے ہمارا اپنے گھر والوں یا رشتےداروں کے ساتھ اچھا رشتہ نہ رہے؟
ایک بار یسوع مسیح نے ایک ایسے شخص سے جو اُن کی پیروی کرنا چاہتا تھا، کہا: ”اپنے گھر جائیں اور اپنے رشتےداروں کو بتائیں کہ یہوواہ نے آپ کے لیے کیا کچھ کِیا ہے۔“ (مر 5:19) یسوع مسیح جانتے تھے کہ جب ایک شخص کی زندگی میں کوئی اچھی بات ہوتی ہے تو اُس کا دل چاہتا ہے کہ وہ فوراً اِسے اپنے گھر والوں اور رشتےداروں کو بھی بتائے۔
2 ذرا سوچیں کہ جب آپ نے بائبل کورس کرنا شروع کِیا تھا تو آپ کو کیسا لگا تھا؟ بےشک آپ بائبل کی سچائیوں کو سیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے اور اِسے اپنے گھر والوں اور رشتےداروں کو بھی بتانا چاہتے تھے۔ لیکن جب آپ نے ایسا کِیا تو شاید اُنہیں وہ باتیں پسند نہیں آئیں جو آپ سیکھ رہے تھے۔ یا شاید یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے جس طرح سے اُنہیں پاک کلام کی سچائیاں بتائیں، اُنہیں سُن کر وہ غصے میں آ گئے اور آپ سے ناراض ہو گئے۔ اگر آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے تو اِس مضمون کی مدد سے آپ یہ سیکھ سکتے ہیں کہ آپ یہوواہ کے وفادار رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے رشتےداروں کے ساتھ اچھا رشتہ کیسے قائم رکھ سکتے ہیں۔
3. اِس مضمون میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟
3 اِس مضمون میں ہم چار ایسی باتوں پر غور کریں گے جن کی مدد سے ہم دیکھ پائیں گے کہ ہم اپنے اُن رشتےداروں کے ساتھ کیسے پیش آ سکتے ہیں جو ہمارے ہمایمان نہیں ہیں۔ سب سے پہلے ہم دیکھیں گے کہ ہمدردی کی خوبی کی وجہ سے ہم اُس وقت بھی اُن کے ساتھ پیار سے کیسے پیش آئیں گے جب وہ ہم سے یہوواہ کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔ پھر ہم غور کریں گے کہ ہم اُس وقت کیا کر سکتے ہیں جب ہمارے رشتےدار اپنی باتوں سے ہمارا دل دُکھاتے ہیں یا ہمارے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں۔ اِس کے بعد ہم دیکھیں گے کہ اگر ہم اپنے رشتےداروں کے ساتھ صبر سے پیش آئیں گے اور یہ اُمید رکھیں گے کہ ایک نہ ایک دن وہ یہوواہ کی عبادت کرنے لگیں گے تو ہم اُن کی مدد کیسے کر پائیں گے۔ اور آخر میں ہم اِس بات پر غور کریں گے کہ ہم اپنے رشتےداروں کو اپنی محبت کا احساس کیسے دِلا سکتے ہیں۔
اُن کے لیے ہمدردی محسوس کریں
4. یسوع مسیح اُن لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آئے جو اُن کے پیغام کو سننا نہیں چاہتے تھے؟
4 یسوع مسیح کو پتہ تھا کہ کچھ لوگ اُن کے پیغام کو نہیں سننا چاہتے لیکن وہ پھر بھی اِن لوگوں کی مدد کرتے رہے۔ یسوع نے ایک مثال میں خود کو ایسے مالی کی طرح کہا جو اِنجیر کے اُس درخت پر سخت محنت کرتا رہا جو پھل نہیں لا رہا تھا۔ (لُو 13:6-9) جب یسوع نے یہ مثال دی تھی تو اُس وقت اُنہیں یہودیوں کی مدد کرتے ہوئے تقریباً تین سال ہو چُکے تھے۔ وہ پورے جی جان سے یہ کوشش کر رہے تھے کہ وہ لوگ اُن پر ایمان لائیں اور اُن کے شاگرد بنیں۔ لیکن یسوع لوگوں کی مدد کرنے کی اِتنی کوشش کیوں کر رہے تھے؟ کیونکہ وہ اُن کے لیے ہمدردی محسوس کرتے تھے اور اِسی وجہ سے وہ اُن کے ساتھ صبر سے پیش آئے۔
5. یسوع مسیح کس وجہ سے اپنے زمانے کے لوگوں کے لیے ہمدردی محسوس کرتے تھے؟
5 یسوع مسیح اپنے زمانے کے لوگوں کے لیے اِس لیے ہمدردی محسوس کرتے تھے کیونکہ یہودی مذہبی رہنما لوگوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے تھے۔ اِسی لیے یسوع نے لوگوں کے بارے میں کہا کہ ”وہ ایسی بھیڑوں کی طرح[ہیں]جن کا کوئی چرواہا نہ ہو۔“ (مر 6:34) یسوع تو اپنی موت سے کچھ وقت پہلے شہر یروشلم کو دیکھ کر رونے لگے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اِس میں رہنے والے زیادہتر لوگ ایمان کی کمی کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ (لُو 19:41-44) یسوع کی مثال پر عمل کرتے ہوئے اگر ہم اِس بارے میں سوچیں گے کہ ہمارے رشتےداروں کو بائبل کی سچائیاں سیکھنے کی ضرورت کیوں ہے تو ہمارے دل میں اُن کے لیے ہمدردی پیدا ہوگی اور ہم اُن کی اَور زیادہ مدد کرنا چاہیں گے۔
6. ہمیں اپنے اُن رشتےداروں کے ساتھ صبر سے پیش کیوں آنا چاہیے جو ہمارے ہمایمان نہیں ہیں؟ (گلتیوں 6:9)
6 گلتیوں 6:9 کو پڑھیں۔ اگر ہمارے رشتےدار یہوواہ کے بارے میں نہیں بھی سیکھنا چاہتے تو بھی ہمیں اُن کے ساتھ پیار سے پیش آنا چاہیے اور ’اچھے کام کرنے میں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔‘ ظاہری بات ہے کہ ایک شخص کو یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں اپنی سوچ کو بدلنے اور یہوواہ پر ایمان لانے میں وقت لگ سکتا ہے۔ شاید آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ شاید پہلے آپ بھی ”کسی اُمید کے بغیر دُنیا میں رہ رہے تھے اور خدا کو نہیں جانتے تھے۔“ (اِفِس 2:12) اگر ایسا تھا تو بےشک کسی نے آپ کی مدد کی تھی۔ وہ شخص آپ کے ساتھ صبر سے پیش آیا تھا تاکہ آپ خود کو بدل سکیں اور یہوواہ کے بارے میں سیکھ سکیں۔ اگر آپ بھی اپنے رشتےداروں کے ساتھ صبر سے پیش آئیں گے تو کیا پتہ آپ کو بھی اُنہیں یہوواہ کے بارے میں سکھانے کا موقع مل جائے!
اُن کی کڑوی باتوں اور بُرے سلوک پر دھیان نہ دیں
7. یسوع مسیح کے سوتیلے بھائی شاید کس وجہ سے اُن پر ایمان نہیں لا رہے تھے؟
7 یسوع مسیح کے سوتیلے بھائیوں نے شاید اُن معجزوں کے بارے میں سنا ہوگا جو یسوع نے گلیل میں کیے تھے۔ (لُو 4:14، 22-24) لیکن شروع شروع میں وہ یسوع پر ایمان نہیں لائے۔ (یوح 7:5) بائبل میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اِس کے پیچھے کیا وجہ تھی۔ مگر اِس میں کم سے کم دو ایسی باتیں بتائی گئی ہیں جن کی وجہ سے کچھ یہودی یسوع کا شاگرد بننے سے ہچکچاتے تھے۔ شاید کچھ یہودی اِس لیے یسوع پر ایمان نہیں لائے کیونکہ اُنہیں ڈر تھا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو معاشرے میں اُن کا جینا مشکل ہو جائے گا۔ (یوح 9:18-22) اِس کے علاوہ کچھ لوگ یسوع کو اُن کے بچپن سے جانتے تھے اِس لیے اُنہیں اِس بات پر یقین کرنا مشکل لگ رہا تھا کہ یسوع جیسا عام آدمی خدا کا بیٹا ہو سکتا ہے۔ (مر 6:1-4) یسوع مسیح کے سوتیلے بھائی بھی شاید ایسا ہی سوچتے ہوں۔ تو اب اگر آپ اپنے رشتےداروں کے بارے میں سوچیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ بھی اِس وجہ سے آپ کے پیغام کو نہیں سننا چاہتے کیونکہ اُنہیں ڈر ہے کہ ایسا کرنے سے دوسرے اُن کی مخالفت کریں گے؟ یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُنہیں اِس بات کو تسلیم کرنا مشکل لگ رہا ہے کہ آپ جیسا عام شخص اُنہیں بائبل سے کوئی بات بتا رہا ہے۔
8. ہمارے وہ رشتےدار جو یہوواہ کی عبادت نہیں کرتے، کس وجہ سے ہم سے دل دُکھانے والی باتیں کہہ سکتے ہیں؟
8 اِس بارے میں سوچیں کہ آپ کے رشتےدار دل دُکھانے والی باتیں یا کام کیوں کر رہے ہیں۔ شاید یسوع کے بھائی بھی اُن رشتےداروں میں شامل تھے جنہوں نے ایک بار یسوع کے بارے میں کہا تھا کہ ’اُن کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔‘ (مر 3:21) لیکن یسوع کے بھائیوں نے اُن کے بارے میں اِتنی بُری بات کیوں کہی ہوگی؟ مرقس 3 باب کے شروع کی آیتوں کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع لوگوں کو تعلیم اور شفا دینے میں اِتنے مصروف رہتے تھے کہ اُنہیں کھانا کھانے تک کی فرصت نہیں ملتی تھی۔ (مر 3:20) کیا یسوع کے بھائیوں نے یہ سوچا ہوگا کہ اُنہوں نے مُنادی کرنے کو اپنے سر پر اِتنا سوار کر لیا ہے کہ وہ کھانا تک نہیں کھا رہے؟ ہو سکتا ہے کہ اُنہوں نے ایسا سوچا ہو۔ شاید ہمیں دیکھ کر ہمارے رشتےدار بھی یہی سوچتے ہوں کہ ہم ضرورت سے کچھ زیادہ ہی یہوواہ کی خدمت کرنے میں اپنا وقت لگاتے ہیں۔ اگر وہ ایسا سوچتے ہیں تو ہم اپنی باتوں اور کاموں سے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم لچکدار ہیں۔
9. کیا چیز ہمارے رشتےداروں کی مدد کر سکتی ہے تاکہ وہ یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں اپنی سوچ بدل لیں؟ (1-پطرس 3:1، 2) (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
9 اپنی باتوں اور کاموں سے اپنے رشتےداروں کے لیے پیار اور نرمی دِکھائیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں ہمارے رشتےداروں کی سوچ بدل جائے۔ (1-پطرس 3:1، 2 کو پڑھیں۔) مثال کے طور پر فرض کریں کہ ایک بہن کا شوہر یہوواہ کا گواہ نہیں ہے۔ شاید اُس کا شوہر خود کو اُس وقت بہت اکیلا محسوس کرتا ہے جب ہماری بہن عبادت یا مُنادی کے لیے گھر سے جاتی ہیں۔ تو بہن اپنے معمول میں اِس طرح سے ردوبدل کر سکتی ہے تاکہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکے۔ مثال کے طور پر وہ اُس وقت مُنادی کرنے کے لیے جا سکتی ہے جب اُس کا شوہر مصروف ہوتا ہے یا گھر پر نہیں ہوتا۔ اگر ایک مسیحی بیوی سمجھداری اور لچکداری سے کام لے گی تو ہو سکتا ہے کہ اُس کے شوہر کی سوچ یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں بدل جائے۔
اگر آپ کا جیون ساتھی یہوواہ کا گواہ نہیں ہے تو آپ کی محبت بھری باتوں اور کاموں سے یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں اُس کی سوچ بدل سکتی ہے۔ (پیراگراف نمبر 9 کو دیکھیں۔)f
10. جب دوسرے ہم پر نکتہچینی کرتے ہیں تو ہم یسوع مسیح کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
10 جب آپ کے رشتےدار آپ پر نکتہچینی کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ ہر بار اُنہیں صفائیاں دیں۔ جب لوگوں نے یسوع مسیح پر پیٹ پجاری اور شرابی ہونے کا جھوٹا اِلزام لگایا تو یسوع نے لوگوں کے سامنے کوئی صفائی پیش نہیں کی۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے لوگوں کی حوصلہافزائی کی کہ وہ خود دیکھیں کہ اُنہوں نے یسوع کے بارے میں جو باتیں سنی ہیں، وہ سچی ہیں یا جھوٹی۔ (متی 11:19) اِس کے علاوہ یسوع نے اپنے کاموں سے ثابت کِیا کہ وہ زندگی کا مزہ لینے کے حوالے سے مناسب سوچ رکھتے ہیں۔ (یوحنا 2:2، 6-10 پر غور کریں۔) تو جب لوگ آپ کے بارے میں بُری باتیں کہتے ہیں تو یہ نہ سوچیں کہ آپ کو اپنے اُوپر لگے اِلزامات کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ضرور کچھ کہنا چاہیے۔ اِس کی بجائے آپ اپنے کاموں سے اپنے رشتےداروں پر یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ زندگی گزارنے کے حوالے سے مناسب سوچ رکھتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔ جب آپ کے رشتےدار خود اپنی آنکھوں سے یہ بات دیکھیں گے تو پھر وہ گواہوں کے بارے میں سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کریں گے۔
صبر سے کام لیں اور ہمت نہ ہاریں
11. یسوع مسیح اپنے بھائیوں کے ساتھ کیسے پیش آئے؟
11 بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع مسیح اپنے بھائیوں کے ساتھ بہت صبر سے پیش آئے تھے۔ مثال کے طور پر جب یسوع مسیح نے شہر قانا میں اپنا پہلا معجزہ کِیا تھا تو یقیناً اُس وقت اُن کے بھائی بھی وہاں موجود تھے۔ (یوح 2:11، 12) جیسے کہ ہم نے پہلے بھی بات کی تھی، یسوع مسیح کے بھائی اُن پر ایمان نہیں لائے تھے۔ لیکن یسوع مسیح نے اُن سے تعلق نہیں توڑا۔ بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ قانا میں پہلا معجزہ کرنے کے تقریباً تین سال بعد بھی یسوع اپنے بھائیوں کے ساتھ پیار اور نرمی سے پیش آئے۔—یوح 7:5-8۔
12. ہم کس بات کی وجہ سے یہ اُمید رکھ سکتے ہیں کہ ہمارے رشتےدار ایک دن یہوواہ کی عبادت کرنے لگیں گے؟
12 اب ہم یہ بات اَور بھی بہتر طور پر سمجھ گئے ہیں کہ یہوواہ کتنا رحمدل خدا ہے۔ اِس بات کی وجہ سے ہم یہ اُمید رکھ سکتے ہیں کہ ہمارے رشتےدار ایک نہ ایک دن یہوواہ کی عبادت کرنے لگیں گے۔ جب جھوٹے مذہب کا خاتمہ ہو جائے گا تو شاید ہمارے رشتےداروں کو یہ یاد آئے کہ ہم نے اُنہیں یہ بتایا تھا کہ ایسا ہوگا۔a (مُکا 17:16) شاید وہ تو بڑی مصیبت کے شروع ہونے کے بعد ہمارے ساتھ مل کر یہوواہ کی عبادت بھی کرنے لگیں! لیکن ہم اُس وقت کے آنے سے پہلے بھی اپنے رشتےداروں کی مشکل وقت میں مدد کر نے کی پوری کوشش کر سکتے ہیں۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ہم دل سے اُن سے محبت کرتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ بائبل کی سچائیوں کے بارے میں سیکھنا چاہیں۔
اُنہیں اپنی محبت کا احساس دِلائیں
13. حالانکہ ہم یہوواہ کی خدمت کرنے میں بہت مصروف رہتے ہیں لیکن ہمیں کس بات کا خیال رکھنا چاہیے؟
13 سچ ہے کہ ہم یہوواہ کی خدمت کرنے میں بہت مصروف رہتے ہیں لیکن ہمیں اپنے رشتےداروں کو یہ احساس نہیں دِلانا چاہیے کہ ہمارے پاس اُن کے لیے وقت نہیں ہے یا ہم اُن سے محبت نہیں کرتے۔ (متی 7:12) آئیے دیکھیں کہ ہم کن طریقوں سے اپنے رشتےداروں کو اپنی محبت کا احساس دِلا سکتے ہیں۔
14-15. ہم اپنے اُن رشتےداروں کے لیے محبت کیسے دِکھا سکتے ہیں جو ہمارے ہمایمان نہیں ہیں؟ ایک مثال دیں۔
14 اُن کے ساتھ رابطے میں رہیں اور اُن کے لیے محبت دِکھائیں۔ اپنے رشتےداروں کے لیے محبت دِکھانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اکثر اُن سے بات کریں اور اُنہیں بتائیں کہ ہماری زندگی میں کیا چل رہا ہے۔ مثال کے طور پر ہم اُنہیں ایک میسج بھیجنے کے ساتھ ساتھ اپنی وہ تصویریں بھی بھیج سکتے ہیں جن میں ہم چھٹیوں پر تھے یا اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزار رہے تھے۔ ہم اُنہیں کوئی چھوٹا موٹا تحفہ دینے یا کارڈ لکھ کر دینے سے بھی ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم اُن کی فکر کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے رشتےداروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنے کی پوری کوشش کریں گے تو اُنہیں محسوس ہوگا کہ ہم دل سے اُن سے محبت کرتے ہیں۔
15 ذرا آرمینیا میں رہنے والی ایک بہن کی مثال پر غور کریں جن کا نام اینا ہے۔ اُن کا خاندان خاص طور پر سالگرہ کے موقعے پر اور کسی تہوار پر مل کر وقت گزارتا تھا۔ جب بہن اینا یہوواہ کی گواہ بنیں تو اُن کے رشتےدار اِس بات کی وجہ سے پریشان ہو گئے کہ اب بہن اینا اُن کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزاریں گی اور اُن سے دُور ہو جائیں گی۔ اُنہیں اِس بات کی بھی فکر تھی کہ یہوواہ کی گواہ بننے سے بہن اینا کی زندگی مشکلوں سے بھر جائے گی۔ بہن اینا نے اپنے گھر والوں اور رشتےداروں کی پریشانی کو کیسے دُور کِیا؟ اُنہوں نے کہا: ”مَیں اپنے رشتےداروں سے ملنے جاتی تھی اور اُنہیں بتاتی تھی کہ میری زندگی میں کیا چل رہا ہے اور آجکل مَیں کن کاموں میں مصروف ہوں۔ اِس کے علاوہ مَیں اُنہیں اپنے گھر میں بھی بُلاتی تھی اور اُنہیں اپنے کچھ دوستوں سے ملواتی تھی۔ اِس طرح میرے زیادہتر رشتےدار میرے دوستوں کو جان پائے اور خود بھی اُن کے ساتھ گھل مل گئے۔ اب میرے بہت سے رشتےداروں نے میرے بارے میں فکر کرنا چھوڑ دی ہے کیونکہ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ مَیں کتنا خوش رہتی ہوں۔“
16. یسوع مسیح نے اپنے سوتیلے بھائی یعقوب پر کیسے ظاہر کِیا کہ اُنہیں یعقوب کی فکر تھی؟ (فٹنوٹ کو بھی دیکھیں۔)
16 اپنے رشتےداروں کو احساس دِلائیں کہ وہ آپ کی نظر میں بہت اہم ہیں۔ جب یہوواہ نے یسوع کو مُردوں میں سے زندہ کر دیا تو اِس کے بعد یسوع اپنے بھائی یعقوب سے ملنے گئے اور اُن سے باتچیت کی۔ اِس طرح اُنہوں نے اپنے بھائی کے لیے فکر ظاہر کی۔ (1-کُر 15:7) ذرا سوچیں کہ یعقوب کو یہ دیکھ کر کتنی خوشی ہوئی ہوگی کہ یسوع نے ابھی تک اُن سے محبت کرنا اور اُن کی فکر کرنا نہیں چھوڑا۔ بےشک اِس ملاقات کے بعد یعقوب کو پکا یقین ہو گیا ہوگا کہ یسوع ہی مسیح ہیں اور یقیناً اِس کے بعد اُنہوں نے اپنے رشتےداروں کی بھی یہ بات سمجھنے میں مدد کی ہوگی۔b—اعما 1:14۔
17. ہم رومیوں 12:15 میں لکھے اصول پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
17 رومیوں 12:15 کو پڑھیں۔ ہم اپنے رشتےداروں کے اچھے اور بُرے وقت میں اُن کا ساتھ دینے سے یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں اُن کی سوچ بدل سکتے ہیں۔c مثال کے طور پر اگر ہمارے کسی رشتےدار کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اُنہیں مبارکباد اور کوئی تحفہ دینے سے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم اُن کی خوشیوں میں شریک ہیں۔ اور جب ہمارا کوئی رشتےدار فوت ہو جاتا ہے تو ہم اپنے باقی رشتےداروں کو تسلی دے سکتے ہیں یا پھر کسی اَور طریقے سے اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہم اُنہیں اکثر فون کر سکتے یا اُن سے ملنے جا سکتے ہیں، خاص طور پر اُس وقت جب وہ کسی مشکل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔
اگر آپ اپنے رشتےداروں کے مشکل وقت میں اُنہیں اپنی محبت کا احساس دِلائیں گے تو آپ کے اور آپ کے عقیدوں کے بارے میں اُن کی سوچ اور رویہ بدل جائے گا۔ (پیراگراف نمبر 17 کو دیکھیں۔)g
18. ہم یسوع کے شاگرد اندریاس کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
18 اپنے رشتےداروں کو اپنی کلیسیا کے بہن بھائیوں سے ملوائیں۔ جب یسوع کے شاگرد اندریاس کو پتہ چلا کہ یسوع ہی مسیح ہیں تو وہ خوشی خوشی اپنے بھائی پطرس کے پاس گئے تاکہ وہ اُنہیں یسوع سے ملوا سکیں۔ (یوح 1:40-42) ہم بھی اندریاس کی مثال پر عمل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کبھی کبھار ہم اپنے کسی رشتےدار کو اپنے ساتھ عبادت میں آنے کی دعوت دے سکتے ہیں یا اُسے اپنے گھر بُلا سکتے ہیں تاکہ وہ ہمارے دوستوں کے ساتھ مل کر کھانا کھا سکے۔ جب ہم اپنے رشتےداروں کو اپنے ہمایمانوں سے ملوائیں گے تو وہ یہ دیکھ پائیں گے کہ یہوواہ کے گواہ بھی عام اِنسان ہیں اور وہ دوسروں کے ساتھ کتنی محبت اور مہربانی سے پیش آتے ہیں۔
19. اگر ہمارے رشتےدار ہمارے کچھ عقیدوں کو نہیں سمجھ پاتے تو بھی ہمیں اُن کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے؟ (1-پطرس 3:15)
19 پہلا پطرس 3:15 کو پڑھیں۔ شاید ہمارے گھر والے یا رشتےدار یہ بات پوری طرح سے نہ سمجھ پائیں کہ ہم کچھ کاموں کو کرنے سے کیوں اِنکار کرتے ہیں لیکن اگر ہم اُن کے ساتھ پیار اور احترام سے پیش آئیں گے تو وہ اِسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔سچ ہے کہ ہم اُن کے ساتھ کوئی تہوار یا اُن رسموں کو نہیں منائیں گے جو بائبل کے مطابق ٹھیک نہیں ہیں۔ لیکن اگر ہم دوسرے موقعوں پر اُن کے ساتھ وقت گزارنے کی کوشش کریں گے جیسے کہ اُن سے ملنے جائیں گے، اُن کے ساتھ کھانا کھائیں گے یا اُنہیں تحفے دیں گے تو اِس سے اُنہیں خوشی ملے گی۔
اُمید کا دامن نہ چھوڑیں
20. ہمیں یعقوب کی مثال سے حوصلہ کیوں ملتا ہے؟
20 جب یسوع زمین پر یہوواہ کی خدمت کر رہے تھے تو اُس وقت اُن کے بھائی یعقوب اُن کے شاگرد نہیں بنے تھے۔ (گل 1:18، 19؛ 2:9) لیکن بعد میں وہ یسوع کے شاگرد بن گئے۔ یعقوب نے یقیناً وہ بہت سی باتیں سیکھی ہوں گی جو یسوع نے زمین پر رہتے ہوئے لوگوں کو سکھائی تھیں۔ مثال کے طور پر یعقوب نے یہوواہ کی پاک روح کی رہنمائی میں اپنے ہمایمانوں کو جو خط لکھا، اُس میں اُنہوں نے بہت سی ایسی باتوں کا ذکر کِیا جو یسوع نے اپنے پہاڑی وعظ میں بتائی تھیں۔d
21. ہمیں اِس بات کی اُمید کیوں نہیں چھوڑنی چاہیے کہ ہمارے رشتےدار ایک نہ ایک دن یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کریں گے؟
21 بھلے ہی ہم اپنے رشتےداروں کے ساتھ پیار اور نرمی سے پیش آنے کی پوری کوشش کریں لیکن پھر بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ بُری طرح سے پیش آئیں یا یہوواہ کے بارے میں سیکھنا نہ چاہیں۔ مگر ہمیں تب بھی اُن کے لیے پیار اور شفقت دِکھاتے رہنا چاہیے۔ کیوں؟ کیونکہ ایسا کرنے سے ہم اپنے رحمدل خدا یہوواہ اور اُس کے بیٹے یسوع کی مثال پر عمل کر رہے ہوں گے۔ (لُو 6:33، 36) اِس کے علاوہ اگر ہم اپنے رشتےداروں کے لیے محبت دِکھاتے رہیں گے تو ہو سکتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی سوچ ہمارے بارے میں بدل جائے اور وہ اُن بہت سی باتوں کو یاد کرنے لگیں جو ہم نے اُنہیں یہوواہ اور اُس کے وعدوں کے بارے میں بتائی تھیں۔ اگر ہم اپنے رشتےداروں کی مدد کرنے میں ہمت نہیں ہاریں گے تو وقت آنے پر شاید وہ بھی ہمارے ساتھ مل کر یہوواہ کی عبادت کرنے لگیں گے جس سے ہمیں بہت خوشی ملے گی!
گیت نمبر 60 یہ زندگی کا سوال ہے!
a مئی 2024ء کے ”مینارِنگہبانی“ میں مضمون ”مستقبل میں یہوواہ لوگوں کی عدالت کیسے کرے گا؟“ کے پیراگراف نمبر 11-13 کو دیکھیں۔
b یسوع مسیح کے کم از کم دو بھائی یعنی یعقوب اور یہوداہ یسوع کی موت اور اُن کے جی اُٹھنے کے بعد اُن کے شاگرد بنے۔
c بکس ”کیا آپ کو اپنے اُس رشتےدار کی شادی یا جنازے میں جانا چاہیے جو یہوواہ کا گواہ نہیں ہے؟“ کو دیکھیں۔
d یعقوب 1:2 کا متی 5:11، 12 سے؛ یعقوب 1:19 کا متی 5:22 سے؛ یعقوب 1:22؛ 2:24 کا متی 7:21 سے؛ یعقوب 2:13 کا متی 5:7؛ 6:14، 15 سے موازنہ کریں۔
e اِس بارے میں اَور زیادہ جاننے کے لیے 15 مئی 2002ء اور 1 دسمبر 2007ءکے ”مینارِنگہبانی“ میں ”سوالات از قارئین“ کو دیکھیں۔
f تصویر کی وضاحت: ایک بہن مُنادی میں جانے سے پہلے اپنے شوہر کو کھانا تیار کر کے دے رہی ہے۔
g تصویر کی وضاحت: وہی بہن اپنی ساس کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے اُس سے ملنے بھی گئی ہے۔ اُس بہن کی ساس یہوواہ کی گواہ نہیں ہے۔