یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 اگست ص.‏ 14-‏19
  • یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہمیں یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کیوں کرنا چاہیے؟‏
  • کیا چیز یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کرنے میں ہماری مدد کرے گی؟‏
  • وہ نہ بھولیں جو یہوواہ یاد رکھتا ہے
  • اپنے دل کو یقین دِلاتے رہیں
  • یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کے فائدے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • یہوواہ، ایک ایسا خدا جو ”‏معاف کرنے کو تیار“‏ ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • یہوواہ—‏معاف کرنے کی بہترین مثال
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • کیا یہوواہ خدا ہمارے گُناہوں کا حساب رکھتا ہے؟‏
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ (‏2017ء)‏
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 اگست ص.‏ 14-‏19

مطالعے کا مضمون نمبر 34

گیت نمبر 3‏:‏ یہوواہ، ہمارا سہارا اور آسرا

یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کریں

‏”‏تُو نے میرے گُناہوں اور میری غلطیوں کو معاف کر دیا۔“‏‏—‏زبور 32:‏5‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

ہمیں یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کیوں کرنا چاہیے اور بائبل میں ہمیں اِس بات کا یقین کیسے دِلایا گیا ہے کہ یہوواہ توبہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے۔‏

1-‏2.‏ جب ہم اپنے گُناہوں سے توبہ کرتے ہیں تو یہوواہ کیا کرتا ہے اور اِس وجہ سے ہمیں کیسا محسوس ہوتا ہے؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

بادشاہ داؤد نے اپنی زندگی میں کچھ سنگین گُناہ کیے تھے جن کی وجہ سے وہ بہت شرمندہ تھے۔ (‏زبور 40:‏12؛‏ 51:‏3‏؛ تمہید)‏ لیکن جب اُنہوں نے دل سے توبہ کی تو یہوواہ نے اُنہیں معاف کر دیا۔ (‏2-‏سمو 12:‏13‏)‏ اِس طرح داؤد خوش رہ پائے اور اُن کے دل کو سکون مل گیا۔—‏زبور 32:‏1‏۔‏

2 داؤد کی طرح جب ہم بھی دیکھتے ہیں کہ یہوواہ نے ہم پر رحم کرتے ہوئے ہمارے گُناہ کو معاف کر دیا ہے تو ہمیں بھی بہت خوشی اور سکون ملتا ہے۔ ہمیں یہ جان کر کتنی تسلی ملتی ہے کہ یہوواہ ہمیں معاف کرنے کو تیار رہتا ہے، یہاں تک کہ ہمارے سنگین گُناہوں کو بھی!‏ جب ہم دل سے اپنے گُناہ سے توبہ کرتے ہیں، اِس کا اِقرار کرتے ہیں اور اِسے دوبارہ نہ کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں تو یہوواہ ہمیں معاف کر دیتا ہے۔ (‏اَمثا 28:‏13؛‏ اعما 26:‏20؛‏ 1-‏یوح 1:‏9‏)‏ اور ہمیں یہ جان کر کتنی خوشی ہوتی ہے کہ جب یہوواہ ہمیں مکمل طور پر معاف کر دیتا ہے تو یہ ایسے ہوتا ہے جیسے ہم نے وہ گُناہ کبھی کِیا ہی نہیں تھا!‏—‏حِز 33:‏16۔‏

بادشاہ داؤد اپنے گھر کی بالکونی میں بیٹھے بربط بجا رہے ہیں اور گیت گا رہے ہیں۔‏

بادشاہ داؤد نے بہت سے ایسے زبور لکھے جن میں اُنہوں نے یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کا ذکر کِیا۔ (‏پیراگراف نمبر 1-‏2 کو دیکھیں۔)‏


3-‏4.‏ (‏الف)‏ایک بہن کو بپتسمہ لینے کے بعد بھی کیا لگ رہا تھا؟ (‏ب)‏اِس مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟‏

3 لیکن کبھی کبھار شاید ہمیں یہ تسلیم کرنا مشکل لگے کہ یہوواہ نے ہمیں واقعی معاف کر دیا ہے۔ ذرا بہن جینی‌فر کی مثال پر غور کریں جن کی پرورش یہوواہ کے گواہوں کے ایک گھرانے میں ہوئی تھی۔ جب وہ نوجوان تھیں تو وہ بُرے کام کرنے اور دوہری زندگی جینے لگیں۔ لیکن پھر کچھ سال بعد اُنہوں نے خود کو بدل لیا، اپنی زندگی یہوواہ کے نام کی اور بپتسمہ لے لیا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏پہلے مَیں بہت جلدی غصے میں آ جاتی تھی۔ مَیں اکثر حرام‌کاری کرتی تھی اور حد سے زیادہ شراب پیتی تھی اور میری نظر میں ڈھیر سارا پیسہ کمانا زندگی میں سب سے اہم تھا۔ حالانکہ مَیں جانتی تھی کہ مَیں نے یہوواہ سے معافی مانگی ہے اور دل سے توبہ کی ہے اور اِس وجہ سے یسوع کی قربانی نے میرے گُناہوں کو دھو ڈالا ہے لیکن پھر بھی میرا دل یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ یہوواہ نے مجھے معاف کر دیا ہے۔“‏

4 کیا کبھی کبھار آپ کو بھی خود کو اِس بات پر قائل کرنا مشکل لگتا ہے کہ یہوواہ نے آپ کو معاف کر دیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یاد رکھیں کہ یہوواہ بہت رحم‌دل خدا ہے۔ اِسی بات کی وجہ سے تو داؤد کو پکا یقین تھا کہ یہوواہ نے اُنہیں معاف کر دیا ہے۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم بھی داؤد کی طرح سوچیں اور جب وہ ہمیں معاف کر دیتا ہے تو ہم بھی خوش رہیں۔ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہمیں یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کیوں کرنا چاہیے اور کیا چیز ایسا کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔‏

ہمیں یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کیوں کرنا چاہیے؟‏

5.‏ شیطان ہمیں کس بات پر قائل کرنا چاہتا ہے؟ ایک مثال دیں۔‏

5 یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کرنے سے ہم شیطان کے ایک پھندے میں پھنسنے سے بچ سکتے ہیں۔‏ یاد رکھیں کہ شیطان ہمیں یہوواہ کی خدمت کرنے سے روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ وہ اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے شاید ہمیں اِس بات پر قائل کرے کہ ہمارے گُناہ کسی بھی صورت میں معاف نہیں ہو سکتے۔ اِس سلسلے میں ذرا کُرنتھس کی کلیسیا کے ایک آدمی کی مثال پر غور کریں جسے حرام‌کاری کرنے کی وجہ سے کلیسیا سے نکال دیا گیا تھا۔ (‏1-‏کُر 5:‏1،‏ 5،‏ 13‏)‏ بعد میں جب اُس آدمی نے توبہ کر لی تھی تو شیطان چاہتا تھا کہ کلیسیا کے بہن بھائی نہ تو اُسے معاف کریں اور نہ ہی کلیسیا میں اُس کا خیرمقدم کریں۔ اِتنا ہی نہیں، شیطان چاہتا تھا کہ توبہ کرنے والا شخص بھی یہ سوچنے لگے کہ وہ معافی کے لائق نہیں ہے اور وہ ”‏اپنے غم کے بوجھ تلے[‏اِتنا]‏دب جائے“‏ کہ یہوواہ کی خدمت کرنا ہی چھوڑ دے۔ شیطان کی چالیں اور اُس کے مقصد آج بھی نہیں بدلے۔ لیکن ہم بھی ”‏اُس کی چالوں سے بے‌خبر نہیں ہیں۔“‏—‏2-‏کُر 2:‏5-‏11‏۔‏

6.‏ ہمیں اپنے گُناہ کے بوجھ سے رِہائی کیسے مل سکتی ہے؟‏

6 یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کرنے سے ہم پچھتاوے کے بوجھ تلے دبے رہنے سے بچ جاتے ہیں۔‏ بے‌شک جب ہم گُناہ کرتے ہیں تو ہمیں اپنے کیے پر پچھتاوا ہوتا ہے۔ (‏زبور 51:‏17‏)‏ اور یہ اچھی بات ہے کیونکہ اِس طرح ہمارا ضمیر ہم میں یہ خواہش پیدا کرتا ہے کہ ہم اپنی بُری روِش کو بدلیں اور صحیح کام کریں۔ (‏2-‏کُر 7:‏10، 11‏)‏ لیکن اگر ہم گُناہ سے توبہ کرنے کے بعد بھی کافی لمبے عرصے تک شرمندگی کے بوجھ تلے دبے رہیں گے تو ہم یہوواہ کی خدمت کرنے میں ہمت ہار بیٹھیں گے۔ لیکن اگر ہم یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کریں گے تو ہم گُناہ کو اُس کے صحیح مقام پر رکھ رہے ہوں گے یعنی اپنی پیٹھ کے پیچھے۔ پھر ہم یہوواہ کی اُسی طرح سے خدمت کر پائیں گے جس طرح سے وہ چاہتا ہے یعنی صاف ضمیر اور خوشی کے ساتھ۔ (‏کُل 1:‏10، 11؛‏ 2-‏تیم 1:‏3‏)‏ لیکن ہم اپنے دل کو اِس بات پر کیسے راضی کر سکتے ہیں کہ یہوواہ نے ہمیں معاف کر دیا ہے؟‏

کیا چیز یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کرنے میں ہماری مدد کرے گی؟‏

7-‏8.‏ یہوواہ نے موسیٰ کو اپنے بارے میں کیا بتایا اور اِس سے ہمیں کس بات کا پکا یقین ہو جاتا ہے؟ (‏خروج 34:‏6، 7)‏

7 اِس بات پر سوچ بچار کریں کہ یہوواہ نے ہمیں اپنے بارے میں کیا بتایا ہے۔‏ مثال کے طور پر غور کریں کہ اُس نے کوہِ‌سینا پر موسیٰ کو کیا بتایا تھا۔‏a ‏(‏خروج 34:‏6، 7 کو پڑھیں۔)‏ یہوواہ میں بہت سی خوبیاں ہیں جن کا ذکر وہ موسیٰ سے کر سکتا تھا۔ لیکن اپنی ساری خوبیوں میں سے اُس نے موسیٰ کی توجہ پہلے اپنی اِن خوبیوں پر دِلائی کہ وہ ”‏خدایِ‌رحیم اور مہربان“‏ ہے۔ ذرا سوچیں کہ کیا ایسا خدا اپنے اُس بندے کو معاف نہیں کرے گا جو دل سے اپنے گُناہ سے توبہ کرتا ہے؟ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو یہ تو بڑی بے‌رحمی اور سنگ‌دلی ہوگی۔ اور یہوواہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے!‏

8 ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ کبھی بھی ہمیں اپنے بارے میں کوئی جھوٹی بات نہیں بتائے گا کیونکہ وہ سچائی کا خدا ہے۔ (‏زبور 31:‏5‏)‏ تو ہم اُس کی بات پر آنکھیں بند کر کے بھروسا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو اپنے ماضی کے گُناہوں کے چُنگل سے نکلنا مشکل لگ رہا ہے تو خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا مَیں یہ مانتا ہوں کہ یہوواہ سچ میں رحم‌دل اور مہربان خدا ہے جو توبہ کرنے والے شخص کو معاف کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا؟ اگر ہاں تو پھر کیا مجھے اُس کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول نہیں کرنا چاہیے؟“‏

9.‏ زبور 32:‏5 کے مطابق یہوواہ ہمیں کیسے معاف کرتا ہے؟‏

9 اِس بات پر سوچ بچار کریں کہ جس طرح سے یہوواہ معاف کرتا ہے،‏ اُس حوالے سے اُس نے اپنے کلام میں کیا بتایا ہے۔‏ مثال کے طور پر غور کریں کہ داؤد نے بائبل میں یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کے بارے میں کیا بتایا۔ ‏(‏زبور 32:‏5 کو پڑھیں۔)‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏تُو نے میرے گُناہوں اور میری غلطیوں کو معاف کر دیا۔“‏ جس عبرانی لفظ کا ترجمہ ”‏معاف“‏ کرنا کِیا گیا ہے، اُس کا مطلب ”‏اُٹھا لینا“‏ یا ”‏دُور کر دینا“‏ بھی ہو سکتا ہے۔ تو جب یہوواہ نے داؤد کو معاف کر دیا تو ایک طرح سے اُس نے داؤد کے کندھوں سے گُناہ کا بھاری بوجھ اُٹھا کر اِسے اُن سے دُور کر دیا۔ اِس طرح داؤد بوجھ سے آزاد ہو گئے اور ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگے۔ (‏زبور 32:‏2-‏4‏)‏ ہم بھی ایسا ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ جب ہم دل سے اپنے گُناہوں سے توبہ کرتے ہیں تو پھر ہمیں آئندہ اپنے اُن گُناہوں کے بوجھ تلے نہیں دبے رہنا چاہیے جنہیں یہوواہ اُٹھا کر ہم سے دُور کر چُکا ہے۔‏

10-‏11.‏ جب ہم بائبل میں پڑھتے ہیں کہ یہوواہ ”‏معاف کرنے کو تیار رہتا ہے“‏ تو اِس سے ہمیں یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟ (‏زبور 86:‏5‏)‏

10 زبور 86:‏5 کو پڑھیں۔‏ اِس آیت میں داؤد نے کہا کہ یہوواہ ‏”‏معاف کرنے کو تیار رہتا ہے۔“‏ اِس کا مطلب ہے کہ جب ہم سے غلطیاں ہو جاتی ہیں تو یہوواہ فوراً غصے میں نہیں آ جاتا۔ وہ توبہ کرنے والے لوگوں کو ہمیشہ معاف کر دیتا ہے۔ بائبل کی ایک لغت میں اِصطلا‌ح ”‏معاف کرنے کو تیار“‏ پر بات کرتے ہوئے یہوواہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ”‏معاف کرنا یہوواہ کی عادت ہے۔“‏ یہوواہ ایسا کیوں ہے؟ زبور 86:‏5 کے اگلے حصے میں بتایا گیا ہے کہ ”‏جو تجھے پکارتے ہیں، اُن کے لیے تیری اٹوٹ محبت کی کوئی اِنتہا نہیں۔“‏ جیسا کہ ہم نے پچھلے مضمون میں دیکھا تھا، اٹوٹ محبت کی وجہ سے یہوواہ اپنے وفادار بندوں سے گہرا لگاؤ رکھتا ہے اور ہر توبہ کرنے والے شخص کو ”‏دل کھول کر معاف“‏ کر دیتا ہے۔ (‏یسع 55:‏7‏)‏ اگر آپ کو یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کرنا مشکل لگتا ہے تو خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ یہوواہ توبہ کرنے والے ہر اُس شخص کو معاف کر دیتا ہے جو رحم کے لیے اُسے پکارتا ہے؟ تو پھر کیا مجھے اِس بات کو قبول نہیں کرنا چاہیے کہ جب مَیں اُس سے رحم کی اِلتجا کروں گا تو وہ مجھے بھی معاف کر دے گا؟“‏

11 ہمیں یہ جان کر بھی بہت تسلی مل سکتی ہے کہ یہوواہ ہمیں اچھی طرح سے جانتا ہے اور یہ بھی کہ ہم عیب‌دار ہیں۔ (‏زبور 139:‏1، 2‏)‏ یہ بات داؤد کے لکھے ایک اَور زبور سے واضح ہوتی ہے۔ اِس زبور سے بھی ہماری مدد ہوگی کہ ہم یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کریں۔‏

وہ نہ بھولیں جو یہوواہ یاد رکھتا ہے

12-‏13.‏ زبور 103:‏14 کے مطابق یہوواہ ہمارے بارے میں کیا بات یاد رکھتا ہے اور اِس وجہ سے وہ کیا کرتا ہے؟‏

12 زبور 103:‏14 کو پڑھیں۔‏ داؤد نے ایک وجہ بتائی جس کی بِنا پر یہوواہ توبہ کرنے والے لوگوں کو معاف کرنے کو تیار رہتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہوواہ ‏”‏یاد رکھتا ہے کہ ہم خاک ہیں۔“‏ اِس کا مطلب ہے کہ وہ ہمیشہ اِس بات کو ذہن میں رکھتا ہے کہ ہم عیب‌دار ہیں اور ہم سے غلطیاں ہو جائیں گی۔ آئیے داؤد کی کہی بات کے مطلب کو اَور گہرائی سے سمجھتے ہیں۔‏

13 داؤد نے یہوواہ کے بارے میں کہا کہ ”‏وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ہمیں کیسے بنایا گیا ہے۔“‏ یہوواہ نے آدم کو ’‏زمین کی مٹی سے بنایا۔‘‏ لفظ ”‏مٹی“‏ کو کبھی کبھار مجازی طور پر یہ سمجھانے کے لیے اِستعمال کِیا گیا ہے کہ اِنسان کس حد تک محدود ہیں۔ مثال کے طور پر بے‌عیب اِنسانوں کا بھی کھانے، سونے اور سانس لینے کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا تھا۔ (‏پید 2:‏7‏)‏ لیکن جب آدم اور حوّا نے گُناہ کِیا تو اِنسانوں کے لیے مٹی یا خاک ہونے کا ایک اَور مطلب بھی نکل آیا۔ ہم اِس لحاظ سے بھی خاک ہیں کیونکہ ہمیں آدم اور حوّا سے گُناہ ورثے میں ملا ہے اور ہم غلط کام کرنے کی طرف مائل ہیں۔ غور کریں کہ یہوواہ صرف اِس بات سے واقف ہی نہیں ہے کہ ہم خاک ہیں بلکہ وہ اِس بات کو یاد بھی رکھتا ہے۔ اِصطلا‌ح ”‏یاد رکھتا“‏کے لیے جو عبرانی لفظ اِستعمال ہوا ہے، اُس کا مطلب قدم اُٹھانا بھی ہو سکتا ہے۔ تو ہم داؤد کی کہی بات کے مطلب کا خلاصہ یوں کر سکتے ہیں:‏ یہوواہ جانتا ہے کہ کبھی کبھار ہم سے غلطیاں ہو جائیں گی لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ ہم نے سچے دل سے توبہ کی ہے تو وہ ہم پر رحم کرتا اور ہمیں معاف کر دیتا ہے۔—‏زبور 78:‏38، 39‏۔‏

14.‏ (‏الف)‏یہوواہ جس حد تک معاف کرتا ہے، اُس حوالے سے داؤد نے کیا بتایا؟ (‏زبور 103:‏12‏)‏ (‏ب)‏داؤد کی مثال سے کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ مکمل طور پر معاف کرتا ہے؟ (‏بکس ”‏یہوواہ معاف کرتا اور بھول جاتا ہے‏“‏ کو دیکھیں۔)‏

14 یہوواہ ہمیں کس حد تک معاف کرتا ہے؟ ‏(‏زبور 103:‏12 کو پڑھیں۔)‏ داؤد نے بتایا کہ جب یہوواہ ہمیں معاف کر دیتا ہے تو وہ ہمارے گُناہوں کو ہم سے اِتنا دُور کر دیتا ہے ”‏جتنا مشرق مغرب سے دُور ہے۔“‏ مشرق کا فاصلہ مغرب سے اِتنا دُور ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ یہ دونوں سمتیں ایک دوسرے سے کبھی مل ہی نہیں سکتیں۔ اِس بات سے ہمیں اُن گُناہوں کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے جنہیں یہوواہ معاف کر دیتا ہے؟ اِس بات کو سمجھانے کے لیے ایک کتاب میں یہ مثال دی گئی تھی:‏ جب خدا ہمارے گُناہ کو ہم سے دُور کر دیتا ہے تو ایک طرح سے یہ ایسے ہوتا ہے جیسے کوئی خوشبو مکمل طور پر مٹا دی گئی ہو۔ کبھی کبھار ہمیں کھانے یا کسی چیز کی خوشبو سے ماضی کی کوئی بات یاد آ جاتی ہے۔ لیکن جب یہوواہ ہمارے گُناہ کو معاف کر دیتا ہے تو پھر اُس گُناہ کی بُو کا نشان تک باقی نہیں رہتا جس سے یہوواہ کو ہمارا گُناہ یاد آئے اور وہ اِس کے لیے ہمیں سزا دے۔—‏حِز 18:‏21، 22؛‏ اعما 3:‏19‏۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ بادشاہ داؤد اپنے گھر کی چھت سے بت‌سبع کو نہاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ 2.‏ وہ شدت سے یہوواہ سے دُعا کر رہے ہیں۔ 3.‏ وہ کچھ لکھتے ہوئے سوچ بچار کر رہے ہیں۔‏

یہوواہ معاف کرتا اور بھول جاتا ہے

بائبل میں بتایا گیا ہے کہ جب یہوواہ ہمارے کسی گُناہ کو معاف کر دیتا ہے تو وہ اُس گُناہ کو بھول جاتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیں نہ تو اُس گُناہ کے لیے قصوروار ٹھہراتا ہے اور نہ ہی اُس گُناہ کے لیے کبھی سزا دیتا ہے۔ (‏یسع 43:‏25‏)‏ اِس سلسلے میں ذرا بادشاہ داؤد کی مثال پر غور کریں۔ اُن کی مثال سے پتہ چلتا ہے کہ ہم تب بھی یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی مضبوط کر سکتے ہیں جب ہم سے سنگین غلطیاں ہو جاتی ہیں۔‏

داؤد نے بہت سنگین گُناہ کیے تھے جن میں زِناکاری اور قتل جیسے گُناہ شامل تھے۔ لیکن چونکہ اُنہوں نے دل سے اپنے گُناہوں سے توبہ کی تھی اِس لیے یہوواہ نے اُنہیں معاف کر دیا۔ جب ناتن نبی نے داؤد کی درستی کی تو داؤد نے اِصلاح کو قبول کِیا اور خود کو بدلا۔ اُس کے بعد سے وہ ساری زندگی وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہے اور اُنہوں نے پھر کبھی اپنے گُناہوں کو نہیں دُہرایا۔—‏2-‏سمو 11:‏1-‏27؛‏ 12:‏13‏۔‏

بعد میں یہوواہ نے داؤد کا ذکر کرتے ہوئے سلیمان سے کہا:‏ ”‏تُم .‏ .‏ .‏ اپنے باپ داؤد کی طرح سچے دل اور راستی سے میری راہوں پر چلو۔“‏ (‏1-‏سلا 9:‏4، 5‏)‏ غور کریں کہ یہوواہ نے داؤد کے گُناہوں کا ذکر تک نہیں کِیا۔ اِس کی بجائے اُس نے داؤد کی زندگی پر بات کرتے ہوئے اُن کے بارے میں کہا کہ وہ اُس کے وفادار بندے تھے اور اُنہوں نے وہی کام کیے جو صحیح تھے۔ یہوواہ نے داؤد کو اُن کی وفاداری کے لیے ”‏ڈھیروں برکتیں“‏ دیں۔—‏زبور 13:‏6‏۔‏

اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ جب یہوواہ ہمیں معاف کر دیتا ہے تو پھر وہ اُن گُناہوں پر دھیان نہیں دیتا جنہیں وہ معاف کر چُکا ہوتا ہے۔ اِس کی بجائے وہ ہماری اچھائیوں پر دھیان دیتا ہے تاکہ وہ ہمیں اجر دے سکے۔ (‏عبر 11:‏6‏)‏ تو ہمیں بھی اپنے اُن گُناہوں کو یاد نہیں رکھنا چاہیے جنہیں یہوواہ نے بھولنے کا فیصلہ کِیا ہے۔‏

15.‏ اگر ہمیں ابھی بھی لگتا ہے کہ یہوواہ نے ہمارے ماضی کے گُناہوں کو معاف نہیں کِیا تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟‏

15 اگر ہمیں یہ تسلیم کرنا مشکل لگ رہا ہے کہ یہوواہ نے ہمیں معاف کر دیا ہے تو زبور 103 میں لکھے داؤد کے الفاظ ہماری مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ اگر ہم نے ابھی بھی اپنے کندھوں پر اپنے ماضی کے گُناہوں کا بوجھ اُٹھایا ہوا ہے تو ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏کیا مَیں وہ بات بھول رہا ہوں جو یہوواہ یاد رکھتا ہے؟ مطلب یہ کہ کیا مَیں بھول رہا ہوں کہ یہوواہ یہ یاد رکھتا ہے کہ مجھ سے غلطیاں ہو جائیں گی اور اگر مَیں دل سے توبہ کروں گا تو وہ مجھے معاف کر دے گا؟ اِس کے علاوہ کیا مَیں وہ بات یاد رکھ رہا ہوں جسے یہوواہ نے بھولنے کا فیصلہ کِیا ہے؟ مطلب یہ کہ کیا مَیں اُن گُناہوں کو یاد رکھ رہا ہوں جنہیں یہوواہ نے معاف کر دیا ہے اور جن کے لیے وہ مجھے کبھی سزا نہیں دے گا؟“‏ یہوواہ ہمارے ماضی کے گُناہوں کے بارے میں سوچتا نہیں رہتا۔ اِس لیے ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ (‏زبور 130:‏3‏)‏ اگر ہم یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کریں گے تو ہم خود کو معاف کر پائیں گے اور آگے بڑھ پائیں گے۔‏

16.‏ ایک مثال دیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ہم اپنے ماضی کے اُن گُناہوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں جنہیں یہوواہ نے معاف کر دیا ہے تو یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

16 ذرا اِس مثال پر غور کریں:‏ جب ایک شخص گاڑی چلا رہا ہوتا ہے تو وہ وقفے وقفے سے سامنے لگے شیشے کے ذریعے پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کو دیکھتا ہے۔ لیکن اگر وہ سارا وقت ہی ایسا کرتا رہے گا تو یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ احتیاط سے گاڑی چلانے کے لیے اُسے اپنا پورا دھیان سامنے سڑک پر رکھنا ہوگا۔ اِسی طرح اگر ہم کبھی کبھار ماضی میں ہوئے اپنے کسی گُناہ کے بارے میں سوچیں گے تو یہ اچھا ہوگا کیونکہ اِس طرح ہم اپنے اِس عزم پر قائم رہ سکیں گے کہ ہم پھر وہ گُناہ نہیں کریں گے۔ لیکن اگر ہم ہر وقت اِس کے بارے میں سوچتے رہیں گے تو ہم اپنی خوشی کھو بیٹھیں گے اور دل‌وجان سے وہ کام نہیں کر پائیں گے جو ہم ابھی یہوواہ کے لیے کر سکتے ہیں۔ لیکن دُعا ہے کہ ہم اپنا دھیان سامنے اپنی منزل پر رکھیں۔ ہم ایک ایسے راستے پر چل رہے ہیں جس کی منزل وہ نئی دُنیا ہے جس کا وعدہ یہوواہ نے ہم سے کِیا ہے۔ جب ہم نئی دُنیا میں رہیں گے تو پھر ہمیں ”‏پُرانی باتیں یاد نہیں آئیں گی۔“‏—‏یسع 65:‏17؛‏ اَمثا 4:‏25‏۔‏

ایک آدمی آڑے ترچھے راستے پر گاڑی چلاتے ہوئے وقفے وقفے سے سامنے لگے شیشے سے پیچھے آنے والی گاڑیوں کو دیکھ رہا ہے۔‏

جس طرح ایک ڈرائیور سامنے لگے شیشے سے پیچھے آنے والی گاڑیوں کو ہر وقت نہیں دیکھتا رہتا بلکہ وہ اپنی توجہ سامنے سڑک پر رکھتا ہے اِسی طرح ہمیں بھی اپنی اُن غلطیوں کے بارے میں ہر وقت نہیں سوچتے رہنا چاہیے جو ہم سے ماضی میں ہوئی تھیں۔ اِس کی بجائے ہمیں اپنی توجہ اُن برکتوں پر رکھنی چاہیے جو یہوواہ ہمیں مستقبل میں دے گا۔ (‏پیراگراف نمبر 16 کو دیکھیں۔)‏


اپنے دل کو یقین دِلاتے رہیں

17.‏ ہمیں اپنے دل کو یہ یقین کیوں دِلاتے رہنا چاہیے کہ یہوواہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمیں معاف کرنے کو تیار رہتا ہے؟‏

17 ہمیں اپنے دل کو یہ یقین دِلاتے رہنا چاہیے کہ یہوواہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمیں معاف کرنے کو تیار رہتا ہے۔ (‏1-‏یوح 3:‏19‏)‏ ہمیں ایسا کیوں کرنا چاہیے؟ کیونکہ شیطان ہمیں اِس بات کا یقین دِلانے میں کبھی ہمت نہیں ہارے گا کہ ہم یہوواہ کی محبت یا معافی کے لائق نہیں ہیں۔ چاہے وہ اِن دونوں باتوں میں سے کسی بات کو بھی اِستعمال کرے، اُس کا مقصد یہی ہے کہ ہم یہوواہ کی خدمت کرنا چھوڑ دیں۔ جیسے جیسے اِس دُنیا کا خاتمہ نزدیک آ رہا ہے، شیطان ہمیں یہوواہ سے دُور کرنے کی اَور بھی زیادہ کوشش کرے گا کیونکہ اُسے پتہ ہے کہ اُس کے پاس تھوڑا ہی وقت بچا ہے۔ (‏مُکا 12:‏12‏)‏ لیکن ہم شیطان کو اُس کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے!‏

18.‏ آپ اپنے دل کو یہ یقین دِلانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں کہ یہوواہ آپ سے محبت کرتا ہے اور آپ کو معاف کرنے کو تیار ہے؟‏

18 یہوواہ کی محبت پر اپنے یقین کو مضبوط کرنے کے لیے اُن مشوروں پر عمل کریں جو پچھلے مضمون میں دیے گئے تھے۔ اور اپنے دل کو اِس بات پر قائل کرنے کے لیے کہ یہوواہ ہمیں معاف کر دیتا ہے، اِس بات پر غور کریں کہ یہوواہ نے ہمیں اپنے بارے میں کیا بتایا ہے۔ اُن باتوں پر سوچ بچار کریں جو بائبل کو لکھنے والے آدمیوں نے یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کے حوالے سے کہیں۔ کبھی نہ بھولیں کہ یہوواہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ ہم سے غلطیاں ہو جائیں گی۔ اِس وجہ سے وہ ہمارے ساتھ بڑے رحم سے پیش آتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ جب یہوواہ ہمیں معاف کر دیتا ہے تو وہ مکمل طور پر ایسا کرتا ہے۔ اِس طرح آپ داؤد کی طرح خوش رہ پائیں گے اور اِس بات پر پورا بھروسا رکھ پائیں گے کہ یہوواہ نے آپ پر رحم کِیا ہے۔ پھر آپ بھی پورے یقین سے کہہ سکیں گے:‏ ”‏شکریہ یہوواہ!‏ آپ نے میرے گُناہوں اور میری غلطیوں کو معاف کر دیا!‏“‏—‏زبور 32:‏5‏۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • ہمیں یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کیوں کرنا چاہیے؟‏

  • کیا چیز یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کرنے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے؟‏

  • ہمیں اپنے دل کو اِس بات پر قائل کیوں کرنا چاہیے کہ یہوواہ نے ہمیں معاف کر دیا ہے؟‏

گیت نمبر 1‏:‏ یہوواہ کی صفات

a جون 2022ء کے ‏”‏مینارِنگہبانی“‏ میں مضمون ”‏یہوواہ—‏معاف کرنے کی بہترین مثال‏“‏ کے پیراگراف نمبر 4-‏7 کو دیکھیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں