مطالعے کا مضمون نمبر 12
گیت نمبر 119: ایمان مضبوط رکھنے کی اہمیت
ایمان کے سہارے چلتے رہیں
”ہم اُن چیزوں کے سہارے نہیں چلتے جو دیکھی جا سکتی ہیں بلکہ ایمان کے سہارے چلتے ہیں۔“—2-کُر 5:7۔
غور کریں کہ . . .
ہم اہم فیصلے لیتے وقت ایمان کے سہارے کیسے چل سکتے ہیں۔
1. پولُس رسول نے جس طرح سے اپنی زندگی گزاری، اُس کی وجہ سے وہ خوش اور مطمئن کیوں ہو سکتے تھے؟
پولُس رسول جانتے تھے کہ بہت جلد اُنہیں مار ڈالا جائے گا۔ مگر جب اُنہوں نے اِس بارے میں سوچا کہ اُنہوں نے اپنی زندگی کس طرح سے گزاری ہے تو اُنہیں بہت سکون اور اِطمینان ملا۔ اپنی زندگی پر غور کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے دوڑ مکمل کر لی ہے۔ مَیں ایمان پر قائم رہا ہوں۔“ (2-تیم 4:6-8) پولُس نے اپنی زندگی یہوواہ کی خدمت میں گزارنے سے بہت اچھا فیصلہ کِیا اور اُنہیں اِس بات کا پکا یقین تھا کہ یہوواہ اُن کے اِس فیصلے سے بہت خوش ہے۔ ہم بھی اپنی زندگی میں ایسے فیصلے لینا چاہتے ہیں جن سے یہوواہ خوش ہو۔ لیکن ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟
2. ایمان کے سہارے چلنے کا کیا مطلب ہے؟
2 پولُس نے اپنے اور اپنے ہمایمانوں کے بارے میں کہا: ”ہم اُن چیزوں کے سہارے نہیں چلتے جو دیکھی جا سکتی ہیں بلکہ ایمان کے سہارے چلتے ہیں۔“ (2-کُر 5:7) پولُس کی اِس بات کا کیا مطلب تھا؟ بائبل میں لفظ ”چلنا“ کبھی کبھار اِس بات کی طرف اِشارہ کرتا ہے کہ ایک شخص کس طرح سے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ جو شخص صرف دیکھی ہوئی چیزوں کے سہارے چلتا ہے، وہ صرف اُنہی باتوں کی بِنا پر فیصلے لیتا ہے جنہیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے، جنہیں وہ سُن سکتا اور محسوس کر سکتا ہے۔ لیکن جو شخص ایمان کے سہارے چلتا ہے، وہ اِس بِنا پر فیصلے لیتا ہے کہ یہوواہ ایک معاملے کے بارے میں کیسی سوچ رکھتا ہے اور اُس سے کیا چاہتا ہے۔ وہ اپنے کاموں سے ظاہر کرتا ہے کہ اُسے اِس بات کا پکا یقین ہے کہ بائبل میں لکھی ہدایتوں پر عمل کرنے سے وہ نہ صرف اب ایک اچھی زندگی گزار پائے گا بلکہ مستقبل میں اُسے یہوواہ کی طرف سے اَور بھی زیادہ برکتیں ملیں گی۔—زبور 119:66؛ عبر 11:6۔
3. ایمان کے سہارے چلنے سے کون سے فائدے ہوتے ہیں؟ (2-کُرنتھیوں 4:18)
3 بےشک ہم سب کو کبھی کبھار کچھ ایسی باتوں کی بِنا پر فیصلے لینے پڑتے ہیں جنہیں ہم دیکھ سکتے، سُن سکتے یا محسوس کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اہم معاملوں کے بارے میں فیصلے لیتے وقت صرف دیکھی ہوئی یا سنی ہوئی باتوں پر ہی غور کریں گے تو اِس سے مسئلے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہماری آنکھیں ہمیں دھوکا دے سکتی ہیں اور جو باتیں ہم سنتے ہیں، کبھی کبھار وہ سچی نہیں ہوتیں۔ لیکن اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی صرف دیکھی ہوئی چیزوں کے سہارے چلنے سے ہم اُن باتوں کو نظرانداز کرنے کے خطرے میں پڑ سکتے ہیں جو یہوواہ ہم سے چاہتا ہے۔ (واعظ 11:9؛ متی 24:37-39) لیکن ایمان کے سہارے چلنے سے ہم ایسے فیصلے کر پاتے ہیں جو ’مالک کو پسند ہیں۔‘ (اِفِس 5:10) خدا کی ہدایتوں پر عمل کرنے سے ہمیں دلی سکون اور سچی خوشی ملے گی۔ (زبور 16:8، 9؛ یسع 48:17، 18) اور اگر ہم اپنے ایمان کے مطابق چلتے رہیں گے تو ہمیں ہمیشہ کی زندگی بھی ملے گی۔—2-کُرنتھیوں 4:18 کو پڑھیں۔
4. ایک شخص یہ کیسے جان سکتا ہے کہ وہ دیکھی ہوئی چیزوں کے سہارے چل رہا ہے یا ایمان کے سہارے؟
4 ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ ہم دیکھی ہوئی چیزوں کے سہارے چل رہے ہیں یا ایمان کے سہارے چل رہے ہیں؟ اِس حوالے سے ہم اِن سوالوں پر غور کر سکتے ہیں: ”مَیں کن باتوں کی بِنا پر فیصلے لیتا ہوں؟ کیا مَیں فیصلے لیتے وقت صرف اُن باتوں پر غور کرتا ہوں جو مَیں دیکھ سکتا ہوں؟ یا کیا مَیں یہوواہ کی ہدایتوں پر بھروسا کرتے ہوئے فیصلے لیتا ہوں؟“ آئیے زندگی کے تین ایسے حلقوں پر غور کرتے ہیں جن میں ہمیں ایمان کے سہارے چلتے رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ ہم اُس وقت ایمان کے سہارے کیسے چل سکتے ہیں جب ہمیں نوکری کا اِنتخاب کرنا ہوتا ہے، اپنے لیے اچھا جیون ساتھی چُننا ہوتا ہے اور جب ہمیں یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے ہدایتیں ملتی ہیں۔ اِن تینوں حلقوں کے حوالے سے ہم کچھ ایسی باتوں پر غور کریں گے جن پر ہمیں کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے خوب سوچ بچار کرنی چاہیے۔
جب ہمیں کسی نوکری کا اِنتخاب کرنا ہوتا ہے
5. ہمیں نوکری کا اِنتخاب کرتے وقت کن باتوں پر غور کرنا چاہیے؟
5 ہم سبھی اپنی اور اپنے گھر والوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ (واعظ 7:12؛ 1-تیم 5:8) کچھ نوکریاں ایسی ہوتی ہیں جن میں کافی اچھی تنخواہ ملتی ہے اور اِن کی وجہ سے ایک شخص نہ صرف کُھل کر اپنے گھر والوں کی ضرورتیں پوری کر سکتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے کچھ پیسے بچا کر بھی رکھ سکتا ہے۔ لیکن کچھ نوکریاں ایسی ہوتی ہیں جن میں بہت کم تنخواہ ملتی ہے اور اِن کی وجہ سے ایک شخص اور اُس کے گھر والوں کا بس بنیادی چیزوں پر ہی گزارہ ہو سکتا ہے۔ سچ ہے کہ نوکری کا اِنتخاب کرتے وقت ہم اِس بات پر غور کرتے ہیں کہ ہمیں کتنے پیسے ملیں گے۔ لیکن اگر ہم صرف اِسی بات پر اپنا دھیان رکھیں گے تو ہم دیکھی ہوئی چیزوں کے سہارے چل رہے ہوں گے نہ کہ ایمان کے سہارے۔
6. ہم نوکری کا اِنتخاب کرتے وقت ایمان کے سہارے کیسے چل سکتے ہیں؟ (عبرانیوں 13:5)
6 اگر ہم ایمان کے سہارے چلتے ہیں تو نوکری کا اِنتخاب کرتے وقت ہم اِس بات پر ضرور دھیان دیں گے کہ اِس کا یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی پر کیا اثر پڑے گا۔ ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں: ”کیا اِس نوکری میں مجھے کچھ ایسے کام کرنے پڑیں گے جن سے یہوواہ نفرت کرتا ہے؟“ (اَمثا 6:16-19) ”کیا اِس کی وجہ سے میرے لیے عبادتوں میں جانا مشکل ہو جائے گا اور مُنادی کرنے اور بائبل کا مطالعہ کرنے کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو جائے گا؟ اور کیا اِسے کرنے سے مَیں اپنے گھر والوں کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار پاؤں گا؟“ (فِل 1:10) اگر اِن میں سے کسی بھی سوال کا جواب ہاں ہے تو یہ اچھا ہوگا کہ آپ یہ نوکری نہ کریں، بھلے ہی یہ آپ کو بہت مشکل سے ملی ہو۔ اگر ہم ایمان کے سہارے چلتے ہیں تو ہم ایسے فیصلے لیں گے جن سے ثابت ہوگا کہ ہم اِس بات پر پورا بھروسا کرتے ہیں کہ یہوواہ کسی نہ کسی طرح سے ہماری ضرورتوں کو پورا کرے گا۔—متی 6:33؛ عبرانیوں 13:5 کو پڑھیں۔
7-8. جنوبی امریکہ میں رہنے والا ایک بھائی ایمان کے سہارے کیسے چل پایا؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
7 ذرا جنوبی امریکہ میں رہنے والے بھائی کرسٹوفرa کی بات پر غور کریں جنہوں نے دیکھا کہ ایمان کے سہارے چلنا کتنا ضروری ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں جس کمپنی میں نوکری کر رہا تھا، وہاں مَیں نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے درخواست ڈالی جس میں مجھے پہلے والے کام سے دُگنی تنخواہ ملتی اور جو میری پسند کا بھی کام تھا۔“ لیکن بھائی کرسٹوفر کے دل میں پہلکار بننے کی بھی شدید خواہش تھی۔ اُنہوں نے کہا: ”مجھے اُس کام کے لیے اپنی کمپنی کے مینیجر کو اِنٹرویو دینا تھا۔ اِنٹرویو دینے سے پہلے مَیں نے یہوواہ سے دُعا کی کیونکہ مَیں جانتا تھا کہ اُسے پتہ ہے کہ میرے لیے کیا اچھا رہے گا۔ مَیں اپنے کام میں ترقی چاہتا تھا لیکن مَیں یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اِس وجہ سے میرے لیے یہوواہ کی اَور زیادہ خدمت کرنا مشکل ہو جائے۔“
8 بھائی کرسٹوفر نے کہا: ”اِنٹرویو کے دوران مینیجر نے مجھ سے کہا کہ مجھے اکثر اوورٹائم کرنا ہوگا۔ لیکن مَیں نے اُسے بڑے احترام سے بتایا کہ مَیں عبادت اور مُنادی کی وجہ سے ایسا نہیں کر پاؤں گا۔“ بھائی کرسٹوفر نے فیصلہ کِیا کہ وہ دُگنی تنخواہ والا کام نہیں کریں گے۔ وہ اُس کمپنی میں پہلے والا کام ہی کرتے رہے۔ دو ہفتے بعد اُنہوں نے پہلکار کے طور پر خدمت شروع کر دی۔ اور پھر اُسی سال بعد میں اُنہیں ایک پارٹ ٹائم نوکری مل گئی۔ اُنہوں نے کہا: ”یہوواہ نے میری دُعاؤں کو سنا اور اُس نے ایک ایسی نوکری ڈھونڈنے میں میری مدد کی جس کی وجہ سے مَیں پہلکار کے طور پر خدمت جاری رکھ پایا۔ مَیں بہت خوش ہوں کہ مَیں ایک ایسی نوکری کر رہا ہوں جس کی وجہ سے مجھے یہوواہ اور اپنے بہن بھائیوں کی خدمت کرنے کا زیادہ موقع مل رہا ہے۔“
جب کام کی جگہ پر آپ کی ترقی ہوتی ہے تو کیا آپ کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو اِس بات کا پکا یقین ہے کہ یہوواہ زیادہ بہتر جانتا ہے؟ (پیراگراف نمبر 7-8 کو دیکھیں۔)
9. آپ نے بھائی ٹریزور سے کیا سیکھا ہے؟
9 اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہم ابھی جو نوکری کر رہے ہیں، اُس کی وجہ سے ہمارے لیے یہوواہ کے قریب رہنا مشکل ہو رہا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اِس سلسلے میں ذرا کانگو جمہوریہ میں رہنے والے بھائی ٹریزور کی مثال پر غور کریں۔ اُنہوں نے کہا: ”میری نئی نوکری بڑی زبردست تھی اور اِس میں مجھے وہ کام کرنا تھا جو مَیں شروع سے ہی کرنا چاہتا تھا۔ اِس نوکری میں مجھے اپنی پہلی والی نوکری سے تین گُنا زیادہ تنخواہ مل رہی تھی اور وہاں کے لوگ میری بہت عزت کرتے تھے۔“ لیکن بھائی ٹریزور کو آئے دن اوورٹائم کرنا پڑتا تھا جس کی وجہ سے وہ باقاعدگی سے عبادتوں میں نہیں جا پاتے تھے۔ اِس کے علاوہ کبھی کبھار اُن پر یہ دباؤ بھی ڈالا جاتا تھا کہ وہ جھوٹ بولیں اور بےایمانی سے کام لیں۔ بھائی ٹریزور اِس نوکری کو چھوڑ دینا چاہتے تھے لیکن اُنہیں اِس بات کی فکر تھی کہ وہ بےروزگار ہو جائیں گے۔ کس چیز نے بھائی ٹریزور کی صحیح فیصلہ لینے میں مدد کی؟ اُنہوں نے کہا: ”حبقوق 3:17-19 میں لکھی بات سے مَیں یہ سمجھ پایا کہ اگر مَیں یہ نوکری چھوڑ بھی دیتا ہوں تو یہوواہ کسی نہ کسی طرح سے مجھے ضرور سنبھالے گا۔ اِس لیے مَیں نے اِستعفیٰ دے دیا۔“ بھائی ٹریزور نے کہا: ”جو لوگ نوکری کرتے ہیں، اُن میں سے بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ ایک شخص موٹی تنخواہ والی نوکری کی خاطر کچھ بھی قربان کرنے کو تیار ہو جائے گا، یہاں تک کہ وہ اپنے اُس وقت کو بھی قربان کر دے گا جو وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ یا عبادت کرنے میں گزارتا ہے۔ مَیں بہت خوش ہوں کہ مَیں نے یہوواہ کے ساتھ اپنے رشتے کو بچا لیا۔ اِس کے ایک سال بعد یہوواہ نے ایک مناسب نوکری تلاش کرنے میں میری مدد کی جس سے مَیں اپنے اخراجات پورے کر سکتا تھا اور یہوواہ کی خدمت میں زیادہ وقت لگا سکتا تھا۔ سچ ہے کہ یہوواہ کی خدمت کو زیادہ اہمیت دینے سے کبھی کبھار ہمیں پیسے کی تنگی کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن یہوواہ ہمیشہ ہمارا خیال رکھتا ہے۔“ واقعی اگر ہم یہوواہ کی ہدایتوں اور اُس کے وعدوں پر بھروسا کریں گے تو ہمیں ایمان کے سہارے چلتے رہنے کی ہمت ملے گی اور یہوواہ ہمیں ڈھیروں برکتیں دے گا۔
جب ہمیں اچھا جیون ساتھی چُننا ہوتا ہے
10. جیون ساتھی کا اِنتخاب کرتے وقت کون سی باتیں دیکھی ہوئی چیزوں کے سہارے چلنے کا باعث بن سکتی ہیں؟
10 شادی یہوواہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے اور شادی کی خواہش کرنا کوئی غلط بات نہیں۔ جب ایک بہن ایک بھائی سے شادی کرنے کا سوچ رہی ہوتی ہے تو شاید وہ اِن باتوں پر دھیان دے کہ وہ بھائی دِکھنے میں کیسا ہے؛ اُس کی شخصیت کیسی ہے؛ دوسرے اُسے کیسا خیال کرتے ہیں؛ اُس کے پاس کتنا پیسہ ہے؛ اُس پر اپنے گھر والوں کے حوالے سے کون سی ذمےداریاں ہیں اور وہ اُس کا کتنا خیال رکھتا ہے۔b اِن ساری باتوں پر ہی غور کرنا ضروری ہے۔ لیکن اگر وہ بہن صرف اِن باتوں پر ہی غور کرے گی تو وہ دیکھی ہوئی چیزوں کے سہارے چل رہی ہوگی۔
11. ہم جیون ساتھی کا اِنتخاب کرتے وقت ایمان کے سہارے کیسے چل سکتے ہیں؟ (1-کُرنتھیوں 7:39)
11 ذرا سوچیں کہ یہوواہ کو اُن بہن بھائیوں پر کتنا فخر محسوس ہوتا ہوگا جو اپنے لیے جیون ساتھی چُنتے وقت اُس کی ہدایتوں کو مانتے ہیں! مثال کے طور پر یہ بہن بھائی کسی بھی شخص کو شادی کے اِرادے سے جاننے سے پہلے بائبل کی اِس نصیحت پر عمل کرتے ہیں کہ وہ ایسا اُس وقت نہ کریں ”جب جوانی کی خواہشیں زوروں پر ہوتی ہیں۔“ (1-کُر 7:36) وہ خاص طور پر اِس بات کا پورا خیال رکھتے ہیں کہ اُن کے جیون ساتھی میں وہ خوبیاں ہوں جو یہوواہ کے مطابق ایک اچھے شوہر اور اچھی بیوی میں ہونی چاہئیں۔ (اَمثا 31:10-13، 26-28؛ اِفِس 5:33؛ 1-تیم 5:8) اور اگر کوئی غیر ایمان شخص اُن میں دلچسپی لیتا ہے تو یہ بہن بھائی 1-کُرنتھیوں 7:39 میں لکھی نصیحت کو یاد رکھتے ہیں کہ اُنہیں ”صرف مالک کے پیروکاروں میں“ شادی کرنی چاہیے۔ (اِس آیت کو پڑھیں۔) وہ ایمان کے مطابق چلتے ہوئے اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جتنی محبت اور توجہ یہوواہ اُنہیں دے سکتا ہے اور جتنا اچھا یہوواہ اُن کے دُکھ سُکھ کا ساتھی بن سکتا ہے، اُتنا کوئی اِنسان نہیں بن سکتا۔—زبور 55:22۔
12. آپ نے بہن روزا سے کیا سیکھا ہے؟
12 ذرا کولمبیا میں رہنے والی ایک بہن کی مثال پر غور کریں جن کا نام روزا ہے اور جو ایک پہلکار ہیں۔ بہن روزا جس جگہ نوکری کرتی تھیں، وہاں ایک شخص اُنہیں بہت پسند کرتا تھا لیکن وہ یہوواہ کا گواہ نہیں تھا۔ بہن روزا بھی اُسے پسند کرنے لگی تھیں۔ اُنہوں نے کہا: ”وہ ایک بہت اچھا اِنسان تھا اور اپنے علاقے میں رہنے والے لوگوں کی بہت مدد کرتا تھا۔ اُسے نشہ کرنے، سگریٹ پینے اور حد سے زیادہ شراب پینے جیسی بُری عادت بھی نہیں تھی۔ وہ میرے ساتھ بہت پیار سے پیش آتا تھا اور مجھے اُس کی یہ بات بہت اچھی لگتی تھی۔ اُس میں وہ سب باتیں تھیں جو مَیں اپنے ہونے والے شوہر میں دیکھنا چاہتی تھی۔ بس اُس میں اِسی بات کی کمی تھی کہ وہ یہوواہ کا گواہ نہیں تھا۔“ بہن روزا نے یہ بھی کہا: ”میرے لیے اُسے اِنکار کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ مَیں خود بھی اُسے پسند کرتی تھی اور بات آگے بڑھانا چاہتی تھی۔ اُس وقت مجھے اپنی زندگی میں ایک جیون ساتھی کی بہت کمی محسوس ہوتی تھی اور مَیں شادی کرنا چاہتی تھی۔ لیکن مجھے یہوواہ کے گواہوں میں کوئی مناسب جیون ساتھی نہیں مل رہا تھا۔“ لیکن بہن روزا نے صرف اُن چیزوں پر دھیان نہیں دیا جنہیں وہ دیکھ سکتی تھیں۔ اُنہوں نے اِس بارے میں سوچا کہ اُن کے فیصلے سے یہوواہ کے ساتھ اُن کی دوستی پر کیا اثر پڑے گا۔ اِس لیے اُنہوں نے اُس شخص سے ہر طرح کا رابطہ توڑ دیا اور یہوواہ کی خدمت کرنے میں مصروف ہو گئیں۔ کچھ ہی وقت بعد اُنہیں بادشاہت کے مُنادوں کے لیے سکول میں جانے کی دعوت ملی اور اب وہ ایک خصوصی پہلکار کے طور پر خدمت کر رہی ہیں۔ بہن روزا نے کہا: ”یہوواہ نے میرا دل خوشیوں سے بھر دیا ہے۔“ سچ ہے کہ ہمارے لیے ہمیشہ وہ کام کرنا آسان نہیں ہوتا جو یہوواہ ہم سے چاہتا ہے، خاص طور پر تب جب ہم اُس کام کو کرنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں لیکن اگر ہم یہوواہ کی سوچ کے مطابق فیصلے لیتے ہیں تو اِس سے ہمیں ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے۔
جب ہمیں یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے ہدایتیں ملتی ہیں
13. جب ہمیں یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے ہدایتیں ملتی ہیں تو ہم کس وجہ سے دیکھی ہوئی چیزوں کے سہارے چلنے کے خطرے میں پڑ سکتے ہیں؟
13 ہمیں اکثر یہوواہ کی عبادت کرنے کے حوالے سے کلیسیا کے بزرگوں، حلقے کے نگہبانوں، ہماری برانچ اور گورننگ باڈی کی طرف سے ہدایتیں ملتی ہیں۔ لیکن اگر کبھی کبھار ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ بھائیوں نے ہمیں فلاں ہدایت کیوں دی ہے تو پھر کیا ہو سکتا ہے؟ ایسی صورت میں شاید ہمارا دھیان اِسی بات رہے کہ ہمیں اِس ہدایت کو ماننا بہت مشکل لگ رہا ہے۔ شاید ہم تو اُن بھائیوں کی خامیوں پر ہی دھیان دینے لگیں جنہوں نے ہمیں وہ ہدایت دی ہے۔
14. جب ہمیں یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے ہدایتیں ملتی ہیں تو کیا چیز ایمان کے سہارے چلنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟ (عبرانیوں 13:17)
14 ایمان کے سہارے چلنے سے ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ہمیں اِس بات پر بھروسا ہے کہ یہوواہ اپنی تنظیم کی رہنمائی کر رہا ہے اور وہ ہماری صورتحال کو اچھی طرح سے جانتا ہے۔ اِس طرح ہمارے لیے ہدایتوں کو فوراً دل سے ماننا آسان ہو جاتا ہے۔ (عبرانیوں 13:17 کو پڑھیں۔) ہم جانتے ہیں کہ ہدایتوں کو ماننے سے ہم کلیسیا کے اِتحاد کو مضبوط رکھ سکتے ہیں۔ (اِفِس 4:2، 3) ہم اِس بات پر بھی بھروسا کرتے ہیں کہ بھلے ہی ہماری پیشوائی کرنے والے بھائی عیبدار ہیں لیکن اُن کی فرمانبرداری کرنے سے یہوواہ ہمیں اجر دے گا۔ (1-سمو 15:22) اِس کے علاوہ ہم اِس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ اگر ہدایتوں کو واقعی بدلنے کی ضرورت ہے تو یہوواہ وقت آنے پر ایسا ضرور کرے گا۔—میک 7:7۔
15-16. کس چیز نے ایک بھائی کی ایمان کے سہارے چلنے میں مدد کی حالانکہ اُس کے دل میں تنظیم کی طرف سے ملنے والی ہدایتوں کے حوالے سے کچھ شک تھے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
15 ذرا ایک مثال پر غور کریں جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایمان کے سہارے چلنے سے کتنا فائدہ ہوتا ہے۔ پیرو میں سپینش زبان بہت عام بولی جاتی ہے لیکن بہت سے لوگ وہاں کی مقامی زبانیں بولتے ہیں۔ اِن میں سے ایک زبان کویچوا ہے۔ کئی سالوں سے کویچوا بولنے والے بہن بھائی اپنے علاقے میں ایسے لوگوں کو ڈھونڈتے تھے جو یہ زبان بولتے تھے۔ لیکن پھر حکومت کے قائم کیے ہوئے قوانین کی پابندی کرنے کے لیے اِن لوگوں تک بادشاہت کا پیغام سنانے کے طریقے میں تھوڑی ردوبدل کی گئی۔ (روم 13:1) اِس وجہ سے کچھ بہن بھائی یہ سوچنے لگے کہ اب اُن کے لیے اپنے علاقے میں مُنادی کرنا مشکل ہو جائے گا۔ لیکن اِن بہن بھائیوں نے تنظیم کی طرف سے ملنے والی ہدایتوں کو مانا۔ اُنہوں نے دیکھا کہ ایسا کرنے سے یہوواہ نے اُن کی ایسے لوگوں کو ڈھونڈنے میں بہت مدد کی جو کویچوا زبان بولتے ہیں۔
16 کویچوا زبان کی کلیسیا کے ایک بزرگ کو بھی اِسی بات کی فکر تھی۔ اُن کا نام کیون ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے سوچا کہ اب ہم کویچوا بولنے والے لوگوں کو کیسے ڈھونڈیں گے؟“ بھائی کیون نے کیا کِیا؟ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے اَمثال 3:5 پر غور کِیا اور موسیٰ کے بارے میں سوچا۔ موسیٰ کو بنیاِسرائیل کی مصر سے نکلنے میں رہنمائی کرنی تھی۔ اور ایسا کرنے کے لیے یہوواہ نے اُنہیں جو راستہ اپنانے کو کہا تھا، اُسے دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا جیسے بنیاِسرائیل مصریوں کے ہاتھوں سے نہیں بچیں گے جو اُن کا پیچھا کر رہے تھے۔ لیکن موسیٰ نے پھر بھی یہوواہ کی بات مانی اور یہوواہ نے اُنہیں اُن کی فرمانبرداری کی وجہ سے بڑے زبردست طریقے سے نجات دِلائی۔“ (خر 14:1، 2، 9-11، 21، 22) بھائی کیون نے فرق طریقے سے مُنادی کرنے کے لیے خود کو ڈھالا۔ اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟ اُنہوں نے کہا: ”یہوواہ نے جس طرح سے ہمیں برکت دی، اُسے دیکھ کر مَیں بہت حیران رہ گیا! پہلے ہم کویچوا بولنے والے لوگوں کو ڈھونڈنے کے لیے بہت پیدل چل کر اُن سے ملنے جاتے تھے اور پھر کبھی کبھار ہی ہمیں ایک یا دو لوگ مل جاتے تھے۔ لیکن اب ہم اُن علاقوں میں جاتے ہیں جہاں ہمیں بہت سے کویچوا بولنے والے لوگ ملتے ہیں۔ اِس وجہ سے اب ہم پہلے سے زیادہ لوگوں سے باتچیت کرتے ہیں، ہماری بہت سی واپسی ملاقاتیں ہیں اور ہم کئی لوگوں کو بائبل کورس کرا رہے ہیں۔ اب عبادت میں آنے والے لوگوں کی تعداد بھی پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے۔“ بےشک جب ہم ایمان کے سہارے چلتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ یہوواہ کی طرف سے برکتیں ملتی ہیں۔
ہمارے بہن بھائیوں نے دیکھا کہ مُنادی کے دوران بہت سے لوگوں نے اُنہیں ایسے لوگوں کے بارے میں بتایا جو کویچوا زبان بول سکتے تھے۔ (پیراگراف نمبر 15-16 کو دیکھیں۔)
17. آپ نے اِس مضمون سے کیا سیکھا ہے؟
17 اِس مضمون میں ہم نے دیکھا ہے کہ ہم زندگی کے تین اہم حلقوں میں ایمان کے سہارے کیسے چل سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں اپنی زندگی کے ہر حلقے میں ہی ایمان کے سہارے چلنا چاہیے جیسے کہ تفریح کا اِنتخاب کرتے وقت اور تعلیم یا بچوں کی پرورش کے حوالے سے فیصلے لیتے وقت۔ کوئی بھی فیصلہ لیتے وقت ہمیں صرف اُن چیزوں کے سہارے نہیں چلنا چاہیے جنہیں ہم دیکھ سکتے ہیں بلکہ ہمیں یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو، اُس کی ہدایتوں کو اور اُس کے اِس وعدے کو ذہن میں رکھ کر فیصلے لینے چاہئیں کہ وہ ہمارا خیال رکھے گا۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ”ہم ابداُلآباد تک[یہوواہ]اپنے خدا کے نام سے چلیں گے۔“—میک 4:5۔
گیت نمبر 156: یہ ہے ایمان
a کچھ نام فرضی ہیں۔
b مضمون کو تھوڑا آسان رکھنے کے لیے اِس پیراگراف میں ایک بہن کا حوالہ دے کر بات کی گئی ہے جو اپنے لیے جیون ساتھی کی تلاش کر رہی ہے۔ لیکن اِس میں دیے گئے اصول اُن بھائیوں کے بھی کام آ سکتے ہیں جو شادی کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔