مطالعے کا مضمون نمبر 9
گیت نمبر 51: ہم نے خدا کے لیے زندگی وقف کی ہے
بپتسمہ لینے میں دیر نہ کریں
”آپ دیر کیوں کر رہے ہیں؟ اُٹھیں! بپتسمہ لیں۔“—اعما 22:16۔
غور کریں کہ . . .
سامریوں، ترسسُ سے تعلق رکھنے والے ساؤل، کُرنیلیُس اور کُرنتھس کے مسیحیوں کی مثال پر غور کرنے سے آپ میں بپتسمہ لینے کی خواہش کیسے پیدا ہو سکتی ہے۔
1. بپتسمہ لینے کی کچھ وجوہات کیا ہیں؟
کیا آپ یہوواہ خدا سے محبت کرتے ہیں جس نے آپ کو ہر اچھی نعمت دی ہے، یہاں تک کہ آپ کو زندگی بھی دی ہے؟ کیا آپ اُس کے لیے اپنی محبت ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ ایسا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ دُعا میں اپنی زندگی اُس کے نام کر دیں اور پھر بپتسمہ لیں۔ یہ قدم اُٹھانے سے آپ یہوواہ کے خاندان کا حصہ بن جائیں گے۔ اِس کے نتیجے میں یہوواہ آپ کے باپ اور دوست کے طور پر آپ کی رہنمائی کرے گا اور آپ کا خیال رکھے گا کیونکہ آپ اُس کے ہو جائیں گے۔ (زبور 73:24؛ یسع 43:1، 2) اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ کو ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی گزارنے کی اُمید ملے گی۔—1-پطر 3:21۔
2. اِس مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟
2 کیا کوئی ایسی چیز ہے جو آپ کو بپتسمہ لینے سے روک رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پریشان نہ ہوں۔ بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ بپتسمہ لینے سے پہلے لاکھوں لوگوں کو اپنے چالچلن اور اپنی سوچ کو بدلنا پڑا اور اب وہ بہت خوشی اور جوش سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ آپ پہلی صدی عیسوی میں رہنے والے کچھ ایسے لوگوں سے کیا سیکھ سکتے ہیں جنہوں نے بپتسمہ لیا تھا۔ ایسا کرتے وقت غور کریں کہ اُن لوگوں کو کن رُکاوٹوں کا سامنا تھا اور آپ اُن کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔
سامریوں نے بپتسمہ لیا
3. کچھ سامریوں کے لیے شاید کون سی باتیں بپتسمہ لینے کی راہ میں رُکاوٹ بن رہی تھیں؟
3 یسوع مسیح کے زمانے میں سامری ایک مذہبی فرقہ تھا۔بہت سے سامری یہودیہ کے شمال میں شہر سِکم اور سامریہ کے آسپاس رہتے تھے۔ سامریوں کو بپتسمہ لینے سے پہلے خدا کے پورے کلام کا صحیح علم حاصل کرنا تھا۔ وہ مانتے تھے کہ صرف پیدائش سے اِستثنا اور شاید یشوع کی کتاب ہی خدا کے اِلہام سے ہے۔ بےشک سامری اِستثنا 18:18، 19 میں بتائے گئے خدا کے وعدے کے مطابق مسیح کے آنے کی توقع کرتے تھے۔ (یوح 4:25) لیکن بپتسمہ لینے کے لیے اُنہیں یہ قبول کرنا تھا کہ یسوع ہی وہ مسیح ہیں جس کے آنے کا وعدہ یہوواہ نے کِیا تھا۔ اور ’بہت سے سامریوں‘ نے ایسا کِیا بھی۔ (یوح 4:39) اِس کے علاوہ کچھ سامریوں کو شاید اپنے دل سے یہودیوں کے لیے تعصب نکالنے اور اپنی سوچ کو بدلنے کی بھی ضرورت تھی۔—لُو 9:52-54۔
4. اعمال 8:5، 6، 14 کے مطابق کچھ سامریوں نے فِلپّس کا پیغام سُن کر کیا کِیا؟
4 کس چیز نے سامریوں کی بپتسمہ لینے میں مدد کی؟ جب فِلپّس نے سامریوں کو ”مسیح کے بارے میں خوشخبری“ سنائی تو کچھ سامریوں نے ”خدا کے کلام کو قبول کر لیا۔“ (اعمال 8:5، 6، 14 کو پڑھیں۔) حالانکہ فِلپّس پہلے یہودی تھے لیکن سامریوں نے پھر بھی اُن کی بات سنی۔ شاید اُن کے ذہن میں پاک صحیفوں کی وہ آیتیں تھیں جن میں بتایا گیا ہے کہ خدا کسی کا طرفدار نہیں۔ (اِست 10:17-19) ہر موقعے پر سامریوں نے فِلپّس کی اُن باتوں کو ”بڑے دھیان سے سنا“ جو وہ اُنہیں مسیح کے بارے میں بتاتے تھے۔ وہ اِس بات کے واضح ثبوت بھی دیکھ سکتے تھے کہ یہوواہ فِلپّس کے ساتھ ہے کیونکہ فِلپّس نے بہت سے معجزے بھی کیے تھے جیسے کہ اُنہوں نے بیماروں کو شفا دی تھی اور بہت سے لوگوں میں سے بُرے فرشتوں کو نکالا تھا۔—اعما 8:7۔
5. آپ سامریوں سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں؟
5 سامری چاہتے تو وہ فِلپّس سے تعلیم پانے سے اِنکار کر سکتے تھے کیونکہ فِلپّس پہلے ایک یہودی تھے اور وہ اُنہیں ایسی باتوں کی تعلیم دے رہے تھے جو اِن لوگوں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں۔ لیکن جب سامریوں کو یقین ہو گیا کہ فِلپّس اُنہیں جو باتیں سکھا رہے ہیں، وہ بالکل سچی ہیں تو اُنہوں نے بپتسمہ لینے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔ بائبل میں لکھا ہے: ”جب فِلپّس نے لوگوں کو یسوع مسیح کے نام کے بارے میں اور خدا کی بادشاہت کے بارے میں خوشخبری سنائی تو وہ اُن کی باتوں پر ایمان لے آئے اور آدمیوں اور عورتوں نے بپتسمہ لیا۔“ (اعما 8:12) کیا آپ کو اِس بات کا پکا یقین ہے کہ خدا کا کلام سچائی ہے؟ اور کیا آپ کو اِس بات کا پکا یقین ہے کہ یہوواہ کے گواہ اپنے دل سے تعصب نکال کر ایک دوسرے سے دل سے محبت کرتے ہیں جو کہ سچے مسیحیوں کی پہچان ہے؟ (یوح 13:35) اگر آپ کو اِن باتوں پر یقین ہے تو بپتسمہ لینے سے نہ ہچکچائیں۔ آپ اِس بات پر پکا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ اِس حوالے سے آپ کے فیصلے پر ضرور برکت دے گا۔
6. آپ کو بھائی روبن کی مثال پر غور کرنے سے کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟
6 ذرا جرمنی میں رہنے والے بھائی روبن کی مثال پر غور کریں۔ وہ یہوواہ کے گواہوں کے ایک گھرانے میں پلے بڑھے تھے۔ لیکن جب وہ نوجوان تھے تو یہوواہ کے وجود کو لے کر اُن کے دل میں کچھ شک تھے۔ اُنہوں نے اپنے شک کو دُور کیسے کِیا؟ وہ جانتے تھے کہ وہ اِس موضوع کے بارے میں بائبل کا زیادہ علم نہیں رکھتے۔ اِس لیے اُنہوں نے اِس موضوع پر تحقیق کرنے کا فیصلہ کِیا۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے بائبل کا ذاتی مطالعہ کرتے وقت یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ۔ مَیں نے کئی بار اِرتقا کے موضوع کا مطالعہ کِیا۔“ بھائی روبن نے اِس حوالے سے ہماری تنظیم کی ایک کتاب بھی پڑھی۔ (”اِز دئیر اے کریئٹر ہو کیئرز اباؤٹ یو؟“) اِس کتاب میں لکھی باتوں کا بھائی روبن پر بہت گہرا اثر ہوا۔ اُنہوں نے سوچا: ”بےشک! یہوواہ واقعی حقیقی ہستی ہے۔“ اور پھر جب بھائی روبن ہمارے مرکزی دفتر کو دیکھنے گئے تو اُنہیں محسوس ہوا کہ پوری دُنیا میں ہمارے بہن بھائیوں کا اِتحاد کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ اِس طرح وہ اپنے بہن بھائیوں سے اَور بھی زیادہ محبت کرنے لگے۔ بعد میں جب وہ جرمنی واپس گئے تو اُنہوں نے 17 سال کی عمر میں بپتسمہ لے لیا۔ اگر آپ کے بھی دل میں خدا، بائبل یا کسی اَور موضوع کے حوالے سے کوئی شک ہے تو اِسے اپنے دل سے نکالنے کے لیے ہماری تنظیم کی کتابوں سے تحقیق کریں۔ ”صحیح علم“ حاصل کرنے سے شک کو دُور کِیا جا سکتا ہے۔ (اِفِس 4:13، 14) اِس کے علاوہ ایسے تجربے پڑھیں جن میں بتایا گیا ہے کہ دوسرے ملکوں میں رہنے والے یہوواہ کے بندے ایک دوسرے کے ساتھ کتنی محبت اور صلح صفائی سے رہ رہے ہیں اور یہ بھی دیکھیں کہ آپ کی اپنی کلیسیا اِس حوالے سے کتنی اچھی مثال قائم کر رہی ہے۔ ایسا کرنے سے آپ کے دل میں پوری دُنیا میں رہنے والے اپنے ہمایمانوں کے لیے قدر اور محبت بڑھے گی۔
ترسسُ سے تعلق رکھنے والے ساؤل نے بپتسمہ لیا
7. ساؤل کو کس حوالے سے اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت تھی؟
7 اب ذرا ترسسُ سے تعلق رکھنے والے ساؤل کی مثال پر غور کریں۔ اُنہوں نے یہودیوں کی شریعت کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اور یہودیوں میں اُن کی کافی شہرت بھی تھی۔ (گل 1:13، 14؛ فِل 3:5) اُس زمانے میں بہت سے یہودیوں کا ماننا تھا کہ مسیحی خدا سے برگشتہ لوگ ہیں۔ ساؤل بھی یہی مانتے تھے اور مسیحیوں کو بڑی بےرحمی سے اذیت دیتے تھے۔ وہ اِس غلط سوچ کا شکار تھے کہ ایسا کرنے سے وہ خدا کی مرضی کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ (اعما 8:3؛ 9:1، 2؛ 26:9-11) تو اب یسوع پر ایمان لانے اور ایک مسیحی کے طور پر بپتسمہ لینے کے لیے اُنہیں خود بھی اُس اذیت کو سہنے کے لیے تیار رہنا تھا جو وہ کبھی دوسروں کو دیا کرتے تھے۔
8. (الف)کس چیز نے ساؤل کی بپتسمہ لینے میں مدد کی؟ (ب)اعمال 22:12-16 کے مطابق حننیاہ نے ساؤل کی مدد کیسے کی؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
8 کس چیز نے ساؤل کی بپتسمہ لینے میں مدد کی؟ جب یسوع مسیح نے آسمان سے ساؤل سے بات کی تو اِس کے بعد ساؤل آسمان سے آنے والی تیز روشنی کی وجہ سے اندھے ہو گئے۔ (اعما 9:3-9) تین دن تک اُنہوں نے نہ تو کچھ کھایا اور نہ ہی پیا۔ وہ غالباً اُن باتوں پر گہرائی سے سوچ بچار کر رہے ہوں گے جو اُن کے ساتھ ہوئی تھیں۔ ساؤل کو اِس بات کا پکا یقین ہو گیا تھا کہ یسوع ہی مسیح ہیں اور یسوع کے پیروکار سچائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ بےشک ساؤل کو اِس بات کا بھی شدید پچھتاوا ہوا ہوگا کہ ستفنُس کی موت میں اُن کا بھی ہاتھ تھا! (اعما 22:20) پھر تین دن بعد یسوع کے شاگرد حننیاہ ساؤل سے ملنے گئے۔ اُنہوں نے بہت پیار سے ساؤل سے بات کی، اُنہیں اُن کے اندھے پن سے شفا دی اور اُن کا حوصلہ بڑھایا کہ وہ بپتسمہ لینے میں دیر نہ کریں۔ (اعمال 22:12-16 کو پڑھیں۔) ساؤل نے بڑی خاکساری سے حننیاہ کی بات پر عمل کرتے ہوئے بپتسمہ لیا اور ایک نئی زندگی شروع کی۔—اعما 9:17، 18۔
جب ساؤل کی حوصلہافزائی کی گئی کہ وہ بپتسمہ لینے میں دیر نہ کریں تو اُنہوں نے فوراً ایسا کِیا۔ کیا آپ بھی ایسا کریں گے؟ (پیراگراف نمبر 8 کو دیکھیں۔)
9. آپ ساؤل سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں؟
9 ہم ساؤل سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اگر ساؤل چاہتے تو وہ غرور یا اِنسانوں کے ڈر کی وجہ سے بپتسمہ لینے سے پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے ایسا بالکل نہیں کِیا۔ ساؤل نے مسیح کا پیروکار بننے کے لیے خاکساری سے اپنی روِش بدل لی۔ (اعما 26:14، 19) ساؤل خوشی سے مسیحی بننے کو تیار تھے حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اِس وجہ سے اُنہیں بہت اذیت دی جائے گی۔ (اعما 9:15، 16؛ 20:22، 23) پھر جب اُنہوں نے بپتسمہ لے لیا تو اِس کے بعد بھی وہ مشکلوں میں ثابتقدم رہنے کے لیے یہوواہ پر بھروسا کرتے رہے۔ (2-کُر 4:7-10) جب آپ یہوواہ کے گواہ کے طور پر بپتسمہ لیں گے تو آپ کے بھی ایمان کا اِمتحان ہو سکتا ہے اور آپ کی بھی مخالفت کی جا سکتی ہے۔ لیکن آپ اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ اور یسوع مسیح ہمیشہ آپ کی مدد کریں گے تاکہ آپ مشکلوں میں بھی اُن کے وفادار رہ سکیں۔—فِل 4:13۔
10. آپ کو بہن اینا کی مثال پر غور کرنے سے کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟
10 ذرا بہن اینا کی مثال پر غور کریں جو مشرقی یورپ میں ایک کردش گھرانے میں پلی بڑھیں۔ جب اُن کی امی نے یہوواہ کی گواہ کے طور پر بپتسمہ لیا تو بہن اینا نے بھی 9 سال کی عمر میں اپنے ابو کی اِجازت سے بائبل کورس کرنا شروع کِیا۔ لیکن اِس وجہ سے اُن کے گھر میں رہنے والے اُن کے باقی رشتےداروں نے اُن کے لیے بہت مسئلے کھڑے کیے۔ اُن کے رشتےداروں کو لگتا تھا کہ اینا نے اپنے باپدادا کے مذہب کو چھوڑ کر اُن کا سر نیچا کِیا ہے۔ پھر جب بہن اینا 12 سال کی ہوئیں تو اُنہوں نے اپنے ابو سے بپتسمہ لینے کی اِجازت مانگی۔ بہن اینا کے ابو جاننا چاہتے تھے کہ کیا یہ اُن کا اپنا فیصلہ ہے یا پھر وہ کسی کے دباؤ میں آ کر یہ فیصلہ لے رہی ہیں۔ اِس پر بہن اینا نے اپنے ابو سے کہا: ”مَیں یہوواہ سے محبت کرتی ہوں۔“ اُن کے ابو نے اُنہیں بپتسمہ لینے کی اِجازت دے دی۔ بہن اینا کے بپتسمہ لینے کے بعد بھی اُن کے رشتےدار فرق فرق طریقوں سے اُن کا مذاق اُڑاتے تھے اور اُن کے ساتھ بہت بُرا سلوک کرتے تھے۔ اُن کے ایک رشتےدار نے تو کہا: ”یہوواہ کا گواہ بننے سے تو اچھا تھا کہ تُم بدچلن زندگی گزارنا یا سگریٹ پینا شروع کر دیتی۔“ بہن اینا نے یہ سب کچھ کیسے برداشت کِیا؟ اُنہوں نے کہا: ”یہوواہ نے ہمت سے کام لینے میں میری بہت مدد کی۔ اِس کے علاوہ میرے امی ابو نے بھی میرا بڑا ساتھ دیا۔“ بہن اینا نے اُن باتوں کی ایک لسٹ بنائی ہوئی ہے جن میں اُنہوں نے یہوواہ کی مدد کو بہت قریب سے محسوس کِیا۔ وہ اکثر اِس لسٹ کو پڑھتی ہیں تاکہ وہ ہمیشہ یاد رکھ سکیں کہ یہوواہ نے اُن کے لیے کیا کچھ کِیا ہے۔ اگر آپ کو اِس بات کا ڈر ہے کہ بپتسمہ لینے کے بعد آپ کو اذیت دی جائے گی تو یاد رکھیں کہ یہوواہ آپ کے بھی ساتھ ہوگا اور آپ کی بھی مدد کرے گا۔—عبر 13:6۔
کُرنیلیُس نے بپتسمہ لیا
11. کُرنیلیُس کو کس طرح کی صورتحال کا سامنا تھا؟
11 بائبل میں ہمیں کُرنیلیُس نام کے آدمی کی بھی مثال ملتی ہے۔ کُرنیلیُس رومی فوج کے ایک ایسے افسر تھے جو 100 فوجیوں کا اِنچارج ہوتا تھا۔ (اعما 10:1، فٹنوٹ) اِس وجہ سے کُرنیلیُس نے معاشرے میں اور فوج میں بہت نام کمایا ہوا تھا۔ بائبل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ ”بڑی خیرات دیا کرتے تھے۔“ (اعما 10:2) یہوواہ نے پطرس رسول کو کُرنیلیُس کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُنہیں خوشخبری سنا سکیں۔ کیا کُرنیلیُس نے اپنے عہدے اور رُتبے کی وجہ سے بپتسمہ لینے میں دیر لگائی؟
12. کس چیز نے کُرنیلیُس کی بپتسمہ لینے میں مدد کی؟
12 کس چیز نے کُرنیلیُس کی بپتسمہ لینے میں مدد کی؟ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”وہ اور اُن کے گھر والے خدا کا خوف رکھتے تھے“ اور کُرنیلیُس خدا سے اِلتجائیں کِیا کرتے تھے۔ (اعما 10:2) جب پطرس نے کُرنیلیُس کو یسوع کے بارے میں خوشخبری سنائی تو کُرنیلیُس اور اُن کے گھر والے یسوع پر ایمان لے آئے اور اُن سب نے فوراً بپتسمہ لے لیا۔ (اعما 10:47، 48) بےشک کُرنیلیُس ہر طرح سے خود کو بدلنے کو تیار تھے تاکہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر یہوواہ کی عبادت کر سکیں۔—یشو 24:15؛ اعما 10:24، 33۔
13. آپ کُرنیلیُس سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں؟
13 اگر کُرنیلیُس چاہتے تو وہ اپنے عہدے یا رُتبے کا بہانہ بنا کر مسیحی بننے سے اِنکار کر سکتے تھے۔ لیکن ساؤل کی طرح اُنہوں نے بھی ایسا نہیں کِیا۔ کیا آپ کو بپتسمہ لینے کے لیے اپنی زندگی میں بڑی بڑی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہوواہ آپ کی مدد کرے گا۔ اگر آپ اُس کی خدمت کرنے کے لیے بائبل کے اصولوں پر چلنے کا پکا عزم کریں گے تو وہ آپ کو ضرور برکت دے گا۔
14. آپ کو بھائی سیاُوشی کی مثال پر غور کرنے سے کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟
14 ذرا جاپان سے تعلق رکھنے والے بھائی سیاُوشی کی مثال پر غور کریں۔ اُنہیں اپنی نوکری میں کیے جانے والے کام کے حوالے سے ایک تبدیلی کرنی پڑی تاکہ وہ بپتسمہ لے سکیں۔ وہ ایک بڑے جانے مانے سکول میں کام کرتے تھے جہاں لوگوں کو پھولوں کی سجاوٹ کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔ بھائی سیاُوشی اُس سکول کے ہیڈماسٹر کے مددگار تھے۔ وہ ہیڈماسٹر بدھمت لوگوں کے جنازے کے لیے پھولوں کے اِنتظامات کرتا تھا اور جنازے کے دوران ایسی رسمیں ادا کرتا تھا جن کا تعلق جھوٹے مذہب سے تھا۔ لیکن جب وہ کسی وجہ سے ایسا نہیں کر پاتا تھا تو اکثر بھائی سیاُوشی اُس کی جگہ اِن رسموں میں اُس کی نمائندگی کرتے تھے۔ مگر جب بھائی سیاُوشی نے موت کے بارے میں بائبل سے سچائی سیکھی تو اُنہیں احساس ہوا کہ اگر وہ اِن رسموں میں حصہ لیتے رہیں گے تو وہ بپتسمہ نہیں لے پائیں گے۔ اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ اب سے وہ بدھمت کی رسموں میں حصہ نہیں لیا کریں گے۔ (2-کُر 6:15، 16) اُنہوں نے اِس بارے میں ہیڈماسٹر سے بات کی۔ پھر کیا ہوا؟ بھائی سیاُوشی کی نوکری بھی بچ گئی اور اُنہیں آئندہ سے جھوٹے مذہب کی رسموں میں حصہ لینے کو بھی نہیں کہا گیا۔ اُنہوں نے بائبل کورس شروع کرنے کے تقریباً ایک سال بعد بپتسمہ لے لیا۔ اگر آپ کو بھی یہوواہ کو خوش کرنے کے لیے اپنی نوکری میں کچھ ردوبدل کرنے کی ضرورت ہے تو اِس بات کا پورا بھروسا رکھیں کہ یہوواہ آپ کی اور آپ کے گھر والوں کی ضرورتیں پوری کرے گا۔—زبور 127:2؛ متی 6:33۔
کُرنتھس میں رہنے والوں نے بپتسمہ لیا
15. کون سی باتیں کُرنتھس میں رہنے والے لوگوں کے لیے بپتسمہ لینے کی راہ میں رُکاوٹ بن رہی تھیں؟
15 پُرانے زمانے میں شہر کُرنتھس مالودولت اور بدکاری کے لیے بہت مشہور تھا۔ وہاں رہنے والے لوگ ایسے کام کرتے تھے جن سے یہوواہ نے منع کِیا تھا۔ تو ایسے شہر میں رہنے والے لوگوں کے لیے خوشخبری کو قبول کرنا بہت مشکل رہا ہوگا۔ لیکن جب پولُس رسول اُس شہر میں لوگوں کو مسیح کے بارے میں خوشخبری سنانے لگے تو ’بہت سے کُرنتھی ایمان لانے اور بپتسمہ لینے لگے۔‘ (اعما 18:7-11) پھر مالک یسوع مسیح پولُس کو ایک رُویا میں دِکھائی دیے اور اُنہوں نے پولُس سے کہا: ”اِس شہر میں میرے بہت سے لوگ ہیں۔“ پولُس وہاں ڈیڑھ سال تک مُنادی کرتے رہے۔
16. کس چیز نے کُرنتھس کے کچھ لوگوں کی مدد کی تاکہ وہ بپتسمے کی راہ میں کھڑی ہونے والی رُکاوٹوں پر قابو پا سکیں؟ (2-کُرنتھیوں 10:4، 5)
16 کس چیز نے کُرنتھس میں رہنے والے لوگوں کی بپتسمہ لینے میں مدد کی؟ (2-کُرنتھیوں 10:4، 5 کو پڑھیں۔) خدا کے کلام اور اُس کی پاک روح کی طاقت سے اُنہوں نے اپنی زندگی میں بڑی بڑی تبدیلیاں کیں۔ (عبر 4:12) کُرنتھس میں خدا کے کلام کو قبول کرنے والے لوگوں نے اپنی بُری عادتوں کو چھوڑ دیا جیسے کہ اُنہوں نے حد سے زیادہ شراب پینا، چوری کرنا اور ہمجنسپرستی کرنا چھوڑ دیا۔—1-کُر 6:9-11۔a
17. آپ کُرنتھس میں رہنے والے مسیحیوں سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں؟
17 حالانکہ کُرنتھس میں رہنے والے کچھ لوگوں کو ایسی بُری عادتوں کو چھوڑنا تھا جو بہت پکی ہو چُکی تھیں لیکن اُنہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اُن کے لیے اِن عادتوں کو چھوڑنا بہت مشکل ہوگا۔ اُنہوں نے پورے جی جان سے تنگ راستے پر چلنے کی کوشش کی جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ (متی 7:13، 14) کیا آپ کو اپنی کسی بُری عادت پر قابو پانا یا اِسے چھوڑنا مشکل لگ رہا ہے تاکہ آپ بپتسمہ لے سکیں؟ اِن بُری عادتوں سے لڑنا کبھی نہ چھوڑیں! یہوواہ سے مِنت کریں کہ وہ آپ کو اپنی پاک روح دے تاکہ آپ ڈٹ کر غلط خواہشوں کا مقابلہ کر سکیں۔
18. آپ کو بہن مونیکا کی مثال پر غور کرنے سے کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟
18 ذرا جارجیا میں رہنے والی بہن مونیکا کی مثال پر غور کریں۔ اُنہوں نے گندی زبان اِستعمال کرنا اور بُری تفریح کرنا چھوڑ دیا تاکہ وہ بپتسمہ لے سکیں۔ بہن مونیکا نے کہا: ”جب مَیں نوجوان تھی تو یہوواہ سے دُعا کرنے سے مجھے خود کو بدلنے کی طاقت ملی۔ یہوواہ جانتا تھا کہ مَیں صحیح کام کرنا چاہتی ہوں۔ اِس لیے اُس نے ہمیشہ میری مدد اور رہنمائی کی۔“ بہن مونیکا نے 16 سال کی عمر میں بپتسمہ لے لیا۔ کیا آپ میں کچھ ایسی عادتیں ہیں جنہیں آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ یہوواہ آپ کی عبادت کو قبول کرے؟ خود کو بدلنے کے لیے یہوواہ سے طاقت مانگتے رہیں۔ یہوواہ دل کھول کر آپ کو اپنی پاک روح دے گا۔—یوح 3:34۔
آپ اپنے ایمان سے پہاڑ بھی ہلا سکتے ہیں!
19. آپ پہاڑ جیسی مشکلوں کا سامنا کیسے کر سکتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
19 یقین مانیں کہ یہوواہ آپ سے بہت پیار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ اُس کے خاندان کا حصہ بنیں۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جو کبھی نہیں بدل سکتی پھر چاہے کوئی بھی چیز آپ کے لیے بپتسمہ لینے کی راہ میں رُکاوٹ بن رہی ہو۔ یسوع مسیح نے پہلی صدی عیسوی میں رہنے والے اپنے شاگردوں کے ایک گروہ سے کہا: ”اگر آپ میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہے تو آپ اِس پہاڑ سے کہیں گے کہ ”یہاں سے وہاں چلا جا“ اور یہ چلا جائے گا اور آپ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہوگا۔“ (متی 17:20) یسوع کے جو شاگرد اُن کی یہ بات سُن رہے تھے، اُنہیں یسوع کے ساتھ رہتے ہوئے بس کچھ ہی سال ہوئے تھے۔ تو اُنہیں ابھی بھی اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی۔ لیکن یسوع مسیح نے اُنہیں یقین دِلایا کہ اگر وہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں گے تو یہوواہ پہاڑ جیسی مشکلوں کا سامنا کرنے میں اُن کی مدد کرے گا۔ اور یہوواہ آپ کی بھی مدد کرے گا!
یقین مانیں کہ یہوواہ آپ سے بہت پیار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ اُس کے خاندان کا حصہ بنیں۔ (پیراگراف نمبر 19 کو دیکھیں۔)b
20. اِس مضمون میں پہلی صدی عیسوی میں رہنے والے مسیحیوں اور ہمارے زمانے کے کچھ بہن بھائیوں کی مثالوں پر غور کرنے سے آپ کے دل میں کیا کرنے کی خواہش پیدا ہوئی ہے؟
20 اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوئی چیز آپ کو بپتسمہ لینے سے روک رہی ہے تو بِنا دیر کیے اُس رُکاوٹ کو دُور کرنے کے لیے قدم اُٹھائیں۔ پہلی صدی عیسوی میں رہنے والے مسیحیوں اور ہمارے زمانے کے کچھ بہن بھائیوں کی مثالوں پر غور کرنے سے ہمت اور تسلی پائیں۔ دُعا ہے کہ اُن کی مثال سے آپ کا حوصلہ بڑھے اور آپ میں اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے کی خواہش پیدا ہو۔ یہ آپ کی زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ ہوگا!
گیت نمبر 38: وہ آپ کو طاقت بخشے گا
a ویبسائٹ jw.org پر ویڈیو ”آپ بپتسمہ لینے میں دیر کیوں کر رہے ہیں؟“ کو دیکھیں۔
b تصویر کی وضاحت: کچھ بہن بھائی علاقائی اِجتماع پر اُن بہن بھائیوں کا خوشی سے خیرمقدم کر رہے ہیں جنہوں نے ابھی ابھی بپتسمہ لیا ہے۔