مطالعے کا مضمون نمبر 9
گیت نمبر 75: اَے خدا، مَیں حاضر ہوں!
کیا آپ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے کے لیے تیار ہیں؟
”یہوواہ نے میرے ساتھ جتنی بھی اچھائیاں کی ہیں، مَیں اُن کے بدلے میں اُسے کیا دے سکتا ہوں؟“—زبور 116:12۔
غور کریں:
یہ مضمون آپ کی مدد کرے گا کہ آپ یہوواہ سے قریبی دوستی کر سکیں تاکہ آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو کہ آپ اپنی زندگی اُس کے نام کریں اور بپتسمہ لیں۔
1-2. ایک شخص کو بپتسمہ لینے سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟
پچھلے پانچ سالوں میں دس لاکھ سے بھی زیادہ لوگوں نے یہوواہ کے گواہوں کے طور پر بپتسمہ لیا ہے۔ اِن میں سے زیادہتر کو پہلی صدی عیسوی کے شاگرد تیمُتھیُس کی طرح ”بچپن سے“ سچائی سکھائی گئی تھی۔ (2-تیم 3:14، 15) کچھ نے بڑے ہو کر یہوواہ کے بارے میں سیکھا اور کچھ نے بڑھاپے میں۔ کچھ وقت پہلے ایک عورت نے یہوواہ کے گواہوں سے بائبل کورس کرنے کے بعد 97 سال کی عمر میں بپتسمہ لیا۔
2 چاہے آپ یہوواہ کے گواہوں سے بائبل کورس کر رہے ہوں یا آپ نے بچپن سے یہوواہ کے بارے میں سیکھا ہو، کیا آپ بپتسمہ لینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔لیکن بپتسمہ لینے سے پہلے آپ کو اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنی ہوگی۔ اِس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے کا کیا مطلب ہے۔ اِس مضمون سے آپ یہ بھی دیکھ پائیں گے کہ اگر آپ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے کے لیے تیار ہیں تو آپ کو ایسا کرنے سے گھبرانا کیوں نہیں چاہیے۔
اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے کا کیا مطلب ہے؟
3. بائبل میں بتائے گئے کچھ ایسے لوگوں کی مثال دیں جنہوں نے اپنی زندگی یہوواہ کے نام کردی تھی۔
3 پُرانے زمانے میں جب ایک شخص اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرتا تھا تو اِس کا مطلب ہوتا تھا کہ وہ کسی پاک مقصد کے لیے چُنا گیا ہے۔ بنیاِسرائیل یہوواہ کی چُنی ہوئی قوم تھی۔ لیکن اِس قوم سے کچھ لوگوں نے ایک خاص طریقے سے اپنی زندگی یہوواہ کے نام کی تھی۔ مثال کے طور پر ہارون اپنے سر پر ایک عمامہ پہنتے تھے جس پر ”سونے کا پتر“ لگا ہوا تھا۔ یہ سونے کا پتر اِس بات کی علامت تھا کہ ہارون کو خاص طریقے سے یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے چُنا گیا ہے۔ اُنہیں بنی اِسرائیل کا کاہنِاعظم بنایا گیا تھا۔ (احبا 8:9) نذیر بھی ایک خاص طریقے سے اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرتے تھے۔ جس عبرانی لفظ کا ترجمہ”نذیر“کِیا گیا ہے، اُس کا مطلب ہے: ”الگ کِیا ہوا“ یا ”چُنا ہوا۔“ نذیروں کو اُن حکموں کے مطابق زندگی گزارنی تھی جو موسیٰ کی شریعت میں خاص طور پر اُن کے لیے دیے گئے تھے۔—گن 6:2-8۔
4. (الف)جو لوگ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرتے ہیں اُن کا سب سے خاص مقصد کیا بن جاتا ہے؟ (ب)’اپنے لیے جینا چھوڑ دینے‘ کا کیا مطلب ہے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
4 جب آپ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرتے ہیں تو آپ یسوع مسیح کا شاگرد بننے کا فیصلہ کرتے ہیں اور آپ اپنی زندگی میں یہوواہ کی مرضی پوری کرنے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے کا کیا مطلب ہے؟ یسوع مسیح نے کہا تھا؛ ”اگر کوئی میرے پیچھے پیچھے آنا چاہتا ہے تو اپنے لیے جینا چھوڑ دے۔“ (متی 16:24) جس یونانی اِصطلاح کا ترجمہ ”اپنے لیے جینا چھوڑ دے“ کِیا گیا ہے، اُس کا ترجمہ ”خود کو اِنکار کرنا“ بھی کِیا جا سکتا ہے۔ جب ایک شخص اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرتا ہے تو اُسے ہر ایسی چیز سے اِنکار کرنا ہوتا ہے جو یہوواہ کی مرضی کے خلاف ہوتی ہے۔ (2-کُر 5:14، 15) اِس میں یہ شامل ہے کہ آپ ’جسم کے کاموں‘ سے اِنکار کریں جیسے کہ حرامکاری سے۔ (گل 5:19-21؛ 1-کُر 6:18) کیا اِس طرح حکم آپ کی زندگی مشکل بنا دیں گے؟ اگر آپ کے دل میں یہوواہ کے لیے محبت ہوگی تو آپ کو اِس بات کا پکا یقین ہوگا کہ اُس کے حکم آپ کی بھلائی کے لیے ہیں تو آپ ایسا نہیں سوچیں گے۔ (زبور 119:97؛ یسع 48:17، 18) نکولس نام کے ایک بھائی نے یہ کہا: ”آپ یہوواہ کے حکموں کو یا تو جیل کی سلاخیں سمجھ سکتے ہیں جس کی وجہ سے آپ اپنی مرضی نہیں کر پاتے یا آپ اِسے شیر کے پنجرے کی طرح خیال کر سکتے ہیں جو آپ کو خطرے سے بچاتا ہے۔“
کیا یہوواہ کے معیار آپ کی نظر میں جیل کی اُن سلاخوں کی طرح ہیں جو آپ کو آپ کی پسند کے کام کرنے سے روکتی ہیں یا کیا یہ شیر کے پنجرے کی طرح ہیں جو آپ کو خطرے سے بچاتا ہے؟ (پیراگراف نمبر 4 کو دیکھیں۔)
5. (الف)آپ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کیسے کرتے ہیں؟ (ب)اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے میں کیا فرق ہے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
5 آپ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کیسے کرتے ہیں؟ آپ دُعا میں یہوواہ سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ آپ صرف اُسی کی عبادت کریں گے اور آپ اُسے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیں گے۔ایک طرح سے آپ یہوواہ سے یہ وعدہ کر رہے ہوتے ہیں کہ آپ اُس سے ”اپنے سارے دل، اپنی ساری جان، اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت“ کرتے رہیں گے۔ (مر 12:30) اپنی زندگی یہوواہ کے نام سب کے سامنے نہیں کی جاتی بلکہ یہ آپ کے اور یہوواہ کے بیچ ہوتا ہے۔ لیکن بپتسمہ سب لوگوں کے سامنے لیا جاتا ہے کیونکہ اِس سے سب پر یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ آپ نے اپنی زندگی یہوواہ کے نام کر دی ہے۔ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنا ایک بہت ہی بڑا اور خاص وعدہ ہے اور آپ کا یہ عزم ہونا چاہیے کہ آپ اِس وعدے کو نبھائیں گے اور یہوواہ بھی آپ سے یہی توقع کرتا ہے۔—واعظ 5:4، 5۔
اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے میں یہ شامل ہے کہ ہم اُس سے یہ وعدہ کریں کہ ہم صرف اُس کی عبادت کریں گے اور اُسے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیں گے۔ (پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)
آپ کو اپنی زندگی یہوواہ کے نام کیوں کرنی چاہیے؟
6. ایک شخص اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے کا فیصلہ کیوں کرتا ہے؟
6 اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے کی سب سے خاص وجہ یہ ہے کہ آپ اُس سے محبت کرتے ہیں۔ اُس کے لیے آپ کی محبت صرف ایک احساس نہیں ہے۔ اِس کی بجائے اِس محبت کی بنیاد یہوواہ اور اُس کے مقصد کے بارے میں ”صحیح علم ہے۔“ (کُل 1:9) پاک کلام کا مطالعہ کرنے سے آپ کو اِن باتوں کا پکا یقین ہو گیا ہے: (1)یہوواہ ایک حقیقی ہستی ہے، (2)بائبل خدا کی طرف سے ہے اور (3)یہوواہ اپنی تنظیم کے ذریعے اپنی مرضی پوری کرتا ہے۔
7. اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے سے پہلے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
7 جو لوگ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنا چاہتے ہیں، اُنہیں خدا کے کلام میں لکھی بنیادی تعلیمات کی سمجھ ہونی چاہیے اور اُنہیں اپنی زندگی یہوواہ کے معیاروں کے مطابق گزارنی چاہیے۔ جہاں تک ممکن ہو اُنہیں وہ باتیں دوسروں کو بتانی چاہئیں جو اُنہوں نے سیکھی ہیں۔ (متی 28:19، 20) اُن کے دل میں یہوواہ کے لیے اِتنی زیادہ محبت ہونی چاہیے کہ اُن کی یہ خواہش ہو کہ وہ صرف اُس کی عبادت کریں گے۔ کیا آپ کے بارے میں یہ سب باتیں سچ ہیں؟ اگر آپ کے دل یہوواہ کے لیے محبت ہوگی تو آپ اپنی زندگی اُس کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے کا فیصلہ اِس لیے نہیں کریں گے کیونکہ آپ اپنے والدین یا اُس شخص کو خوش کرنا چاہتے ہیں جو آپ کو بائبل کورس کراتا ہے اور نا ہی آپ ایسا اپنے دوستوں کے دیکھا دیکھی کریں گے۔
8. یہوواہ کے لیے شکرگزاری آپ کے دل میں اپنی زندگی اُس کے نام کرنے کی خواہش کیوں پیدا کرتی ہے؟ (زبور 116:12-14)
8 جب آپ اُن کاموں کے بارے میں سوچتے ہیں جو یہوواہ نے آپ کے لیے کیے ہیں تو آپ کے دل میں اُس کے لیے شکرگزاری پیدا ہوتی ہے اور آپ کا دل چاہتا ہے کہ آپ اپنی زندگی اُس کے نام کریں۔ (زبور 116:12-14 کو پڑھیں۔) بائبل میں یہوواہ کو ”ہر اچھی نعمت اور کامل بخشش“کا دینے والا کہا گیا ہے۔ (یعقو 1:17) یہوواہ کی سب سے بڑی نعمت اُس کے بیٹے کی قربانی ہے۔ ذرا سوچیں کہ اِس نعمت کی وجہ سے آپ کے لیے یہوواہ کے ساتھ قریبی دوستی کرنا ممکن ہوا ہے۔ اور یہوواہ نے ہمیں ہمیشہ تک زندہ رہنے کی اُمید بھی دی ہے۔ (1-یوح 4:9، 10، 19) یہوواہ کے لیے محبت اور اُس کی برکتوں کے لیے شکرگزار ی دِکھانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی اُس کے نام کریں۔ (اِست 16:17؛ 2-کُر 5:15) اِس طرح کی شکرگزاری کے بارے میں کتاب ”خوشیوں بھری زندگی!“ کے سبق نمبر 46، نکتہ نمبر 4 میں بتایا گیا ہے۔ اِس میں ویڈیو ”ہم خدا کو کیا تحفے دے سکتے ہیں؟“ شامل ہے۔
کیا آپ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے کے لیے تیار ہیں؟
9. کیا ہر شخص کو اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے میں ایک جتنا وقت لگتا ہے؟
9 شاید آپ کو لگ رہا ہو کہ ابھی آپ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنی زندگی میں کچھ تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہو تاکہ آپ یہوواہ کے معیاروں پر چل سکیں یا شاید آپ کو اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے اَور وقت چاہیے ہو۔ (کُل 2:6، 7) کچھ لوگوں کے دل میں یہوواہ کے لیے محبت بہت تیزی سے پیدا ہوتی ہے اور وہ فوراً کوئی فیصلہ لیتے ہیں لیکن کچھ کو ایسا کرنے میں وقت لگتا ہے۔ سب نوجوان ایک جیسی عمر میں اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے کے لیے تیار نہیں ہو جاتے۔ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کو خود میں کون سی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے اور پھر وہ کریں جو آپ کر سکتے ہیں۔ لیکن کسی سے اپنا موازنہ نہ کریں۔—گل 6:4، 5۔
10. اگر آپ کو لگتا ہے کہ ابھی آپ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ (بکس ”اُن لوگوں کے لیے معلومات جنہوں نے بچپن سے یہوواہ کے بارے میں سیکھا ہے“ کو دیکھیں۔)
10 اگر آپ کو لگتا ہے کہ ابھی آپ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو ایسا کرنے کا منصوبہ بنائیں۔ دُعا میں یہوواہ سے مدد مانگیں تاکہ اگر آپ کو خود میں کچھ تبدیلیاں لانی ہیں تو آپ ایسا کر سکیں۔ (فلِ 2:13؛ 3:16) آپ اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ آپ کی دُعا سنے گا اور اِس کا جواب دے گا۔—1-یوح 5:14۔
کچھ لوگ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے سے کیوں گھبراتے ہیں؟
11. یہوواہ ہماری مدد کیسے کر سکتا ہے تاکہ ہم اُس کے وفادار رہیں؟
11 جو لوگ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے کے لیے تیار ہیں شاید وہ لوگ بھی ایسا کرنے سے گھبرائیں۔ شاید وہ اِس بات سے ڈریں کہ بپتسمہ لینے کے بعد اُن سے کوئی بہت بڑا گُناہ ہو جائے گا اور وہ کلیسیا سے خارج ہو جائیں گے۔ اگر آپ کے دل میں یہ ڈر ہے تو اِس بات کا یقین رکھیں کہ یہوواہ ہر لحاظ سے آپ کی مدد کرے گا ”تاکہ آپ کا چالچلن[اُس]کے لائق ہو اور آپ ہر معاملے میں اُسے خوش کرتے رہیں۔“ (کُل 1:10) یہوواہ آپ کو صحیح کام کرنے کی ہمت بھی دے گا۔ اُس نے بہت سے لوگوں کی ایسا کرنے میں مدد کی ہے۔ (1-کُر 10:13) یہ بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے کہ مسیحی کلیسیا سے بہت کم لوگ ہی خارج ہوتے ہیں۔ یہوواہ وفادار رہنے میں اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔
12. ہم کوئی غلط کام کرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
12 ہم سب عیبدار ہیں۔ اِس لیے ہم سب کو غلط کام کرنے کی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (یعقو 1:14) لیکن اِس آزمائش کے مطابق کام کرنا یا نہ کرنا ہمارے بس میں ہے۔ ہم اپنی زندگی کیسے گزارتے ہیں یہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا اپنے کاموں اور احساسات پر کوئی قابو نہیں ہے لیکن یہ بات سچ نہیں ہے۔ آپ اپنی غلط خواہشوں پر قابو پانا سیکھ سکتے ہیں۔ اِس لیے جب آپ کو غلط کام کرنے کی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو آپ کچھ غلط نہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے ہر روز یہوواہ سے دُعا کریں، خدا کے کلام کو پڑھنے کی عادت ڈالیں، عبادتوں میں جائیں اور اپنے ایمان کے بارے میں دوسروں کو بتائیں۔ یہ کام کرتے رہنے سے آپ کو ہمت ملے گی تاکہ آپ یہوواہ سے کیے اپنے وعدے کو نبھا سکیں اور اُس کے وفادار رہیں۔ اور یہ بات کبھی نہ بھولیں کہ یہوواہ ایسا کرنے میں آپ کی مدد ضرور کرے گا۔—گل 5:16۔
13. ہم یوسف سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
13 اگر آپ پہلے سے اِس بارے میں سوچ لیں گے کہ آپ غلط کام کرنے کی آزمائش کا سامنا کرتے وقت کیا کریں گے تو آپ کے لیے یہوواہ کا وفادار رہنا آسان ہوگا۔ بائبل میں بہت سے ایسے لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جنہوں نے ایسا کِیا حالانکہ وہ بھی ہماری طرح عیبدار تھے۔ مثال کے طور پر فوطیفار کی بیوی بار بار یوسف کو حرامکاری کرنے کے لیے اُکساتی تھی۔ لیکن یوسف پہلے ہی سے جانتے تھے کہ ایسی صورتحال میں وہ کیا کریں گے۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ اُنہوں نے ”اِنکار کر دیا“ اور کہا: ”مَیں اِتنا بُرا کام کر کے خدا کے خلاف گُناہ کیوں کروں؟“ (پید 39:8-10) اِس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوطیفار کی بیوی کے اُکسانے سے پہلے ہی یوسف یہ جانتے تھے کہ وہ ایسی صورتحال میں کیا کریں گے۔ اِس وجہ سے غلط کام کرنے کی آزمائش کا سامنا کرتے وقت وہ صحیح راہ چُن پائے۔
14. ہم غلط کاموں سے اِنکار کرنا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟
14 غلط کام کرنے کی آزمائشوں کا سامنا کرتے وقت ہم یوسف کی طرح یہوواہ کے وفادار کیسے رہ سکتے ہیں؟ ایسا کرنے کے لیے ابھی سے فیصلہ کریں کہ غلط کام کرنے کی آزمائش کا سامنا کرتے وقت آپ کیا کریں گے۔ ہر ایسے کام سے فوراً اِنکار کریں جس سے یہوواہ نفرت کرتا ہے یہاں تک کہ اُس کے بارے میں سوچیں بھی نہیں۔ (زبور 97:10؛ 119:165) ایسا کرنے سے آپ غلط کام کرنے کی آزمائش کا سامنا کرتے وقت کوئی گُناہ نہیں کریں گے۔ آپ کو پہلے سے پتہ ہوگا کہ آپ نے کیا کرنا ہے۔ آپ نے صحیح راہ چُن لی ہو گی۔
15. ایک شخص یہ کیسے ثابت کر سکتا ہے کہ وہ ”لگن سے[یہوواہ]کی خدمت“ کرنا چاہتا ہے؟ (عبرانیوں 11:6)
15 شاید آپ کو یہ پتہ ہو کہ آپ کو سچا مذہب مل گیا ہے اور آپ پوری لگن سے یہوواہ کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی شاید کوئی چیز آپ کو اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے سے روک رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو آپ وہ کر سکتے ہیں جو بادشاہ داؤد نے کِیا۔ آپ یہوواہ سے یہ اِلتجا کر سکتے ہیں: ”اَے خدا! مجھے پوری طرح جانچ اور میرے دل کو جان۔ مجھے پرکھ اور میری فکروں کو جان۔ دیکھ کہ کہیں میرا جھکاؤ غلط کام کرنے کی طرف تو نہیں اور مجھے اُس راہ پر لے چل جو ہمیشہ قائم رہتی ہے۔“ (زبور 139:23، 24) یہوواہ اُن لوگوں کو برکت دیتا ہے جو ”لگن سے اُس کی خدمت“ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے اور بپتسمہ لینے کے لیے قدم بڑھا رہے ہوں گے تو آپ یہوواہ کو دِکھا رہے ہوں گے کہ آپ اُس کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔—عبرانیوں 11:6 کو پڑھیں۔
یہوواہ کے قریب ہوتے جائیں
16-17. جن لوگوں نے بچپن سے یہوواہ کے بارے میں سیکھا ہے، یہوواہ اُنہیں اپنی طرف کیسے کھینچ لاتا ہے؟ (یوحنا 6:44)
16 یسوع نے کہا تھا کہ اُن کے شاگردوں کو یہوواہ اُن کے پاس لایا ہے۔ (یوحنا 6:44 کو پڑھیں۔) ذرا سوچیں کہ یہ کتنی بڑی بات ہے اور اِس بات کی کیا اہمیت ہے۔ یہوواہ ہر شخص میں کچھ اچھا دیکھتا ہے اور وہ اُسے اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔ یہوواہ ہر شخص کو اپنی ”خاص ملکیت“ سمجھتا ہے۔ (اِست 7:6، اُردو جیو ورشن) آپ کے بارے میں بھی یہ بات سچ ہے۔
17 ہو سکتا ہے کہ آپ نے بچپن سے یہوواہ کے بارے میں سیکھا ہے۔ شاید آپ کو یہ لگ رہا ہو کہ آپ صرف اِس لیے یہوواہ کی عبادت کر رہے ہیں کیونکہ آپ کے امی ابو ایسا کرتے ہیں، اِس لیے نہیں کیونکہ یہوواہ آپ کو اپنے قریب لایا ہے۔ لیکن بائبل میں لکھا ہے: ”خدا کے قریب جائیں تو وہ آپ کے قریب آئے گا۔“ (یعقو 4:8؛ 1-توا 28:9) جب آپ خدا کے قریب جانے کے لیے قدم بڑھاتے ہیں تو وہ بھی آپ کے قریب آتا ہے۔ یہوواہ آپ کو صرف ایک گروپ کا حصہ نہیں سمجھتا بلکہ وہ ہر شخص کو اپنے قریب لاتا ہے۔ اُن لوگوں کو بھی جنہوں نے بچپن سے اُس کے بارے میں سیکھا ہے۔ جب ایک ایسا شخص یہوواہ کے قریب جاتا ہے تو یہوواہ بھی اُس کی طرف قدم بڑھاتا ہے جیسا کہ یعقوب 4:8 میں لکھا ہے۔—2-تھسلُنیکیوں 2:13 پر غور کریں۔
18. اگلے مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟ (زبور 40:8)
18 جب آپ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرتے اور بپتسمہ لیتے ہیں تو آپ وہی کر رہے ہوتے ہیں جو یسوع نے کِیا۔ یسوع نے خوشی سے اپنے آپ کو پیش کِیا تاکہ وہ وہی کر سکیں جو اُن کا آسمانی باپ اُن سے چاہتا تھا۔ (زبور 40:8 کو پڑھیں؛ عبر 10:7) اگلے مضمون میں ہم اِس بارے میں بات کریں گے کہ آپ بپتسمہ لینے کے بعد بھی وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔
آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے؟
اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے کا کیا مطلب ہے؟
شکرگزاری آپ کے دل میں اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے کی خواہش کیسے پیدا کرتی ہے؟
کیا چیز گُناہ سے بچنے میں آپ کی مدد کرے گی؟
گیت نمبر 38: وہ آپ کو طاقت بخشے گا