مطالعے کامضمون نمبر 42
کیا آپ ”فرمانبردار“ ہیں؟
”جو دانشمندی اُوپر سے آتی ہے، وہ . . . فرمانبردار . . . ہوتی ہے۔“—یعقو 3:17۔
گیت نمبر 101: یہوواہ کی خدمت میں یکدل
مضمون پر ایک نظرa
1. دوسروں کی بات ماننا مشکل کیوں ہو سکتا ہے؟
کیا کبھی کبھار آپ کو کسی کی بات ماننا مشکل لگتا ہے؟ بادشاہ داؤد کو بھی ایسا ہی لگتا تھا اِس لیے اُنہوں نے خدا سے یہ دُعا کی: ”میرے اندر یہ خواہش جگا کہ مَیں تیری فرمانبرداری کروں۔“ (زبور 51:12، ترجمہ نئی دُنیا) بادشاہ داؤد یہوواہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ لیکن پھر بھی کبھی کبھار اُنہیں اُس کا فرمانبردار رہنا مشکل لگتا تھا۔ لیکن کیوں؟ پہلی وجہ یہ ہے کہ آدم اور حوا کی وجہ سے ہمارے اندر نافرمانی کا رُجحان ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ شیطان لگاتار اپنی طرح ہمیں بھی یہوواہ کے خلاف جانے کے لیے اُکساتا ہے۔ (2-کُر 11:3) تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم اِس دُنیا کے باغی لوگوں میں گِھرے ہوئے ہیں اور ”یہ روح اب نافرمانی کے بیٹوں پر اثر کر رہی ہے۔“ (اِفِس 2:2) اِس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم آدم اور حوا سے ورثے میں ملنے والی خامیوں، شیطان اور اِس دُنیا کا مقابلہ کریں تاکہ ہم یہوواہ اور اُن لوگوں کے فرمانبردار رہ سکیں جنہیں اُس نے اِختیار دیا ہے۔
2. ”فرمانبردار“ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ (یعقوب 3:17)
2 یعقوب 3:17 کو پڑھیں۔ یعقوب نے کہا کہ سمجھدار لوگ ”فرمانبردار“ ہوتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ اِس بات کا کیا مطلب ہے۔ ہمیں اُن لوگوں کی بات ماننے کے لیے تیار رہنا چاہیے جنہیں یہوواہ نے کسی حد تک اِختیار دیا ہے۔ بےشک یہوواہ یہ نہیں چاہتا کہ ہم کسی ایسے شخص کی بات مانیں جو ہمیں اُس کے حکم ماننے سے روکے۔—اعما 4:18-20۔
3. یہوواہ کے لیے یہ بات اِتنی اہم کیوں ہے کہ ہم اُن لوگوں کی بات مانیں جنہیں اُس نے اِختیار دیا ہے؟
3 شاید ہمیں اِنسانوں کی بجائے یہوواہ کی ہدایتیں ماننا زیادہ آسان لگے اور ایسا کرنا صحیح بھی ہے کیونکہ یہوواہ کی دی ہوئی ہدایتیں ہمیشہ صحیح ہوتی ہیں۔ (زبور 19:7) لیکن اِنسانوں کے بارے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ عیبدار ہیں۔ مگر پھر بھی ہمارے شفیق خدا نے ماں باپ، حکومتی اہلکاروں اور کلیسیا کے بزرگوں کو کسی حد تک اِختیار دیا ہے۔ (اَمثا 6:20؛ 1-تھس 5:12؛ 1-پطر 2:13، 14) جب ہم اِن لوگوں کی بات مانتے ہیں تو ہم اصل میں یہوواہ کی بات مان رہے ہوتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم اُن لوگوں کی فرمانبرداری کیسے کر سکتے ہیں جنہیں یہوواہ نے اِختیار دیا ہے، اُس وقت بھی جب ہمیں اُن کی دی ہوئی ہدایتوں کو قبول کرنا اور اِن پر عمل کرنا مشکل لگتا ہے۔
اپنے ماں باپ کے فرمانبردار ہوں
4. زیادہتر بچے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کیوں کرتے ہیں؟
4 بچے آجکل دُنیا میں ایسے بچوں میں گِھرے ہوئے ہیں جو اپنے ”ماں باپ کے نافرمان“ ہیں۔ (2-تیم 3:1، 2) زیادہتر بچے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کیوں کرتے ہیں؟ کچھ ماں باپ اپنے بچوں سے جو کرنے کو کہتے ہیں، وہ خود اُس سے بالکل اُلٹ کام کرتے ہیں اور بچوں کو لگتا ہے کہ یہ نااِنصافی ہے۔ کچھ بچوں کو لگتا ہے کہ اُن کے ماں باپ اُنہیں جو مشورے دیتے ہیں، وہ آج کے زمانے کے حساب سے نہیں ہیں یا اُنہیں یہ لگتا ہے کہ اُن کے ماں باپ اُن پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ کیا آپ کو بھی اپنے امی ابو کے بارے میں ایسا ہی لگتا ہے؟ بہت سے بچوں کو یہوواہ کے اِس حکم کو ماننا مشکل لگتا ہے: ”مالک کی مرضی کے مطابق اپنے ماں باپ کے فرمانبردار رہیں کیونکہ یہ اُس کی نظر میں اچھا ہے۔“ (اِفِس 6:1) اِس حکم کو ماننے میں کیا چیز آپ کی مدد کر سکتی ہے؟
5. یسوع اپنے ماں باپ کی فرمانبرداری کرنے کے حوالے سے سب سے بہترین مثال کیوں ہیں؟ (لُوقا 2:46-52)
5 آپ فرمانبرداری کے حوالے سے یسوع سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ (1-پطر 2:21-24) وہ ایک بےعیب اِنسان تھے لیکن اُن کے ماں باپ عیبدار تھے۔ یسوع نے اُس وقت بھی اپنے ماں باپ کے لیے احترام دِکھایا جب کبھی کبھار اُن کے ماں باپ سے غلطیاں ہوئیں اور وہ اُنہیں ہی غلط سمجھنے لگے۔ (خر 20:12) ذرا غور کریں کہ جب یسوع 12 سال کے تھے تو اُس وقت کیا ہوا تھا۔ (لُوقا 2:46-52 کو پڑھیں۔) وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ یروشلیم گئے تھے۔ لیکن جب یوسف اور مریم واپس جا رہے تھے تو وہ یسوع کو یروشلیم میں ہی بھول گئے۔ یہ یوسف اور مریم کی ذمےداری تھی کہ وہ اِس بات کا خیال رکھیں کہ گھر جاتے وقت اُن کے سب بچے اُن کے ساتھ ہوں۔ بعد میں جب یوسف اور مریم کو یسوع مل گئے تو مریم نے یسوع سے کہا کہ اُن کی وجہ سے اُنہیں اِتنی پریشانی اُٹھانی پڑی ہے۔ یسوع کہہ سکتے تھے کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کِیا۔ اُنہوں نے بڑے پیار سے اپنی امی کو سادہ سا جواب دیا۔ حالانکہ یوسف اور مریم ”اُن کی باتوں کا مطلب نہیں سمجھے“ لیکن یسوع ”اُن کے فرمانبردار رہے۔“
6-7. کیا چیز بچوں کی مدد کر سکتی ہے تاکہ وہ اپنے ماں باپ کا کہنا مانیں؟
6 بچو! جب آپ کے امی ابو آپ کو سمجھ نہیں پاتے یا اُن سے غلطیاں ہو جاتی ہیں تو کیا آپ کو اُن کی بات ماننا مشکل لگتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا چیز آپ کی مدد کر سکتی ہے کہ آپ اُن کا کہنا مانیں؟ سب سے پہلے تو سوچیں کہ جب آپ اپنے امی ابو کا کہنا مانتے ہیں تو یہوواہ کو کیسا لگتا ہے۔ بائبل میں لکھا ہے کہ جب آپ اپنے امی ابو کا کہنا مانتے ہیں تو ”یہ مالک کو پسند“ آتا ہے۔ (کُل 3:20) یہوواہ جانتا ہے کہ کبھی کبھار آپ کے ماں باپ آپ کو اچھی طرح نہیں سمجھ پاتے یا وہ گھر میں ایسے اصول بناتے ہیں جن پر چلنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن اگر آپ تب بھی اپنے امی ابو کا کہنا مانتے ہیں تو یہوواہ بہت خوش ہوتا ہے۔
7 ذرا اِس بارے میں بھی سوچیں کہ جب آپ اپنے امی ابو کا کہنا مانتے ہیں تو اُنہیں کیسا لگتا ہے۔ جب آپ اُن کی بات مانتے ہیں تو آپ اُنہیں خوش کرتے ہیں اور اُن کا بھروسا جیت جاتے ہیں۔ (اَمثا 23:22-25) شاید آپ اُن کے اَور قریب ہوتے جائیں۔ بیلجیئم میں رہنے والے الیگزینڈر نام کے بھائی نے کہا: ”جب مَیں نے اپنے امی ابو کا کہنا ماننا شروع کر دیا تو ہمارا رشتہ مضبوط ہونے لگا۔ ہم ایک دوسرے کے اَور قریب آ گئے اور خوش رہنے لگے۔“b اِس بارے میں بھی سوچیں کہ جب آپ اپنے امی ابو کا کہنا مانیں گے تو آگے چل کر آپ کو کیا فائدہ ہوگا۔ برازیل میں رہنے والے پاؤلو نام کے بھائی نے کہا: ”اپنے امی ابو کی بات ماننے کی وجہ سے مَیں یہوواہ کی بات مان پایا اور اُن لوگوں کی بھی جنہیں اُس نے اِختیار دیا ہے۔“ خدا کے کلام میں اپنے ماں باپ کا کہنا ماننے کی ایک بہت خاص وجہ بتائی گئی ہے۔ اِس میں لکھا ہے: ”تاکہ تُم سلامت رہو اور زمین پر تمہاری عمر لمبی ہو۔“—اِفِس 6:2، 3۔
8. بہت سے نوجوان اپنے ماں باپ کا کہنا کیوں مانتے ہیں؟
8 بہت سے نو جوانوں نے دیکھا ہے کہ جب اُنہوں نے اپنے امی ابو کی بات مانی تو اُنہیں آگے چل کر اِس کا بہت فائدہ ہوا۔ برازیل میں رہنے والی لوئیزا نام کی بہن کو شروع شروع میں یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اُن کے امی ابو نے اُنہیں فون رکھنے کی اِجازت کیوں نہیں دی کیونکہ اُنہیں لگتا تھا کہ اُن کی عمر کے ہر شخص کے پاس فون ہے۔ لیکن پھر وہ سمجھ گئیں کہ اصل میں اُن کے امی ابو اُنہیں محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بہن لوئیزا نے کہا: ”مَیں اپنے امی ابو کی بات ماننے کو کوئی پابندی نہیں سمجھتی بلکہ یہ ایک سیٹ بیلٹ کی طرح ہے جو میری زندگی بچا سکتا ہے۔“ امریکہ میں رہنے والی الزبتھ نام کی بہن کو آج بھی اپنے امی ابو کی بات ماننا مشکل لگتا ہے۔ بہن نے کہا: ”جب مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ میرے امی ابو نے کوئی اصول کیوں بنایا ہے تو مَیں اُس وقت کے بارے میں سوچتی ہوں جب اُن کے بنائے کسی اصول پر چلنے سے مَیں محفوظ رہ پائی۔“ آرمینیا میں رہنے والی مونیکا نام کی بہن نے بتایا کہ جب اُنہوں نے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرنے کی بجائے اُن کی بات مانی تو اُنہیں بہت فائدہ ہوا۔
”حاکموں“ کے فرمانبردار ہوں
9. بہت سے لوگوں کو حکومت کے بنائے قوانین ماننا کیسا لگتا ہے؟
9 بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ ہمیں حکومتوں کی ضرورت ہے اور ہمیں ”حاکموں“ کی بنائے کچھ قوانین ضرور ماننے چاہئیں۔ (روم 13:1) لیکن اِنہی لوگوں کو ایسا قانون ماننا مشکل لگتا ہے جو اُنہیں پسند نہیں آتا یا جو اُنہیں ناجائز لگتا ہے۔ اِس سلسلے میں ذرا ٹیکس بھرنے کے بارے میں سوچیں۔ یورپ کے ایک ملک کے بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ ”اگر آپ کو لگتا ہے کہ حکومت ناجائز ٹیکس مانگ رہی ہے تو ٹیکس نہ بھریں۔“ اِس لیے یہ لوگ حکومت کو سارے ٹیکس نہیں بھرتے۔
فرمانبرداری کے حوالے سے ہم یوسف اور مریم سے کیا سیکھتے ہیں؟ (پیراگراف نمبر 10-12 کو دیکھیں۔)c
10. ہم حکومت کے بنائے وہ قوانین بھی کیوں مانتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں آتے؟
10 بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ اِنسانوں پر مصیبتیں لانے والی حکومتیں شیطان کے ہاتھ میں ہیں اور یہ بہت جلد ختم ہو جائیں گی۔ (زبور 110:5، 6؛ واعظ 8:9؛ لُو 4:5، 6) اِس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ”جو شخص حاکموں کی مخالفت کرتا ہے، وہ خدا کے اِنتظام کی مخالفت کرتا ہے۔“ فیالحال یہوواہ نے اِنسانوں کو حکومت کرنے کی اِجازت دی ہوئی ہے تاکہ سب کام منظم طریقے سے ہوتے رہیں۔ اِس لیے ہمیں اِن حکومتوں کا ”حق ادا“ کرنا چاہیے جس میں ٹیکس بھرنا، اُن کا احترام کرنا اور اُن کی بات ماننا شامل ہے۔ (روم 13:1-7) شاید ہمیں کوئی قانون ماننا مشکل لگ رہا ہو، یہ ہمیں ناجائز لگے یا اِسے ماننے کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں حکومت کو بہت سے پیسے دینے ہوں گے۔ لیکن ہم یہوواہ کے فرمانبردار رہنا چاہتے ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اگر حکومت ہمیں اُس کا حکم توڑنے کو نہیں کہہ رہی تو ہم حکومت کے فرمانبردار رہیں۔—اعما 5:29۔
11-12. لُوقا 2:1-6 کے مطابق یوسف اور مریم نے ایک ایسا قانون ماننے کے لیے کیا کِیا جسے ماننا اُن کے لیے آسان نہیں تھا؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
11 ہم یوسف اور مریم سے حکومت کے قوانین ماننے کے حوالے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اُنہوں نے اُس وقت بھی حکومت کے قوانین مانے جب اُن کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں تھا۔ (لُوقا 2:1-6 کو پڑھیں۔) جب مریم کا نواں مہینہ چل رہا تھا تو یوسف اور مریم کا حکومت کے لیے فرمانبرداری دِکھانے کا اِمتحان ہوا۔ روم کے حکمران اوگوستُس نے یہ حکم جاری کِیا تھا کہ پورے ملک میں مردمشماری کرائی جائے۔ مردمشماری کے لیے یوسف اور مریم کو بیتلحم جانا تھا۔ اُنہیں پہاڑی علاقے سے جانا تھا اور یہ سفر 150 کلومیٹر(93 میل) سے بھی لمبا تھا۔ مریم کے لیے خاص طور پر یہ سفر بہت مشکل تھا۔ شاید یوسف اور مریم اپنے اور اپنے ہونے والے بچے کے لیے فکرمند ہوں۔ اگر سفر کے دوران مریم کو حمل کی دردیں لگ جاتیں تو کیا ہوتا؟ اُن کے پیٹ میں وہ بچہ پَل رہا تھا جس نے بڑے ہو کر مسیح بننا تھا۔ کیا اِن باتوں کی وجہ سے یوسف اور مریم نے حکومت کا بنایا قانون ماننے سے اِنکار کر دیا؟
12 حالانکہ یوسف اور مریم کے پاس پریشان ہونے کی وجہ تھی لیکن پھر بھی اُنہوں نے حکومت کے بنائے قانون کو مانا۔ یہوواہ اُن کے اِس فیصلے سے بہت خوش تھا اور اُس نے اُن کا خیال رکھا۔ مریم صحیح سلامت بیتلحم پہنچ گئیں، اُنہوں نے ایک صحتمند بچے کو جنم دیا اور اِس طرح بائبل کی پیشگوئی پوری ہوئی۔—میک 5:2۔
13. جب ہم حکومت کے فرمانبردار رہتے ہیں تو ہمارے بہن بھائیوں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
13 جب ہم حکومت کے فرمانبردار رہتے ہیں تو نہ صرف ہمیں بلکہ دوسروں کو بھی بہت فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن کیسے؟ ایک بات یہ ہے کہ ہم اُس سزا سے بچ جاتے ہیں جو قانون توڑنے والے شخص کو ملتی ہے۔ (روم 13:4) جب ہم حکومت کے فرمانبردار رہتے ہیں تو وہ یہ دیکھ پاتی ہے کہ ہم اچھے شہری ہیں۔ اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں۔ بہت سال پہلے نائیجیریا میں کچھ فوجی اِجلاس کے دوران ہماری عبادتگاہ میں گھس گئے۔ وہ ایسے لوگوں کو تلاش کر رہے تھے جو ٹیکس بھرنے کے خلاف تھے۔ لیکن اُن کے اعلیٰ افسر نے اُن سے وہاں سے جانے کو کہا۔ اُس نے کہا: ”یہ یہوواہ کے گواہ ہیں اور یہ ہمیشہ ٹیکس بھرتے ہیں۔“ جب آپ حکومت کے بنائے قوانین پر عمل کرتے ہیں تو اِس سے یہوواہ کے گواہوں کی نیکنامی ہوتی ہے اور اِس نیکنامی کی وجہ سے شاید آگے چل کر ہمارے بہن بھائی محفوظ رہ پائیں۔—متی 5:16۔
14. کس چیز نے ایک بہن کی مدد کی کہ وہ حکومت کی ”فرمانبردار“ رہ سکے؟
14 اِن سب باتوں کے باوجود بھی شاید ہم ہمیشہ حکومت کی بات نہ ماننا چاہیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں رہنے والی جوآنا نام کی بہن نے کہا: ”میرے لیے حکومت کے فرمانبردار رہنا بہت مشکل تھا کیونکہ میرے گھر کے کچھ لوگوں کو حکومت کی طرف سے نااِنصافی کا سامنا کرنا پڑا۔“ لیکن بہن جوآنا نے فیصلہ کِیا کہ وہ اپنی سوچ بدلیں گی اور اِس کے لیے اُنہوں نے کچھ خاص کام کیے۔ سب سے پہلا کام اُنہوں نے یہ کِیا کہ اُنہوں نے سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹ پڑھنا چھوڑ دیں جن میں حکومت کے خلاف بات کی جاتی تھی۔ (اَمثا 20:3) دوسرا کام اُنہوں نے یہ کِیا کہ اُنہوں نے یہوواہ سے مدد کی اِلتجا کی تاکہ وہ کسی اِنسانی حکومت کی بجائے اُس پر بھروسا کرتی رہیں۔ (زبور 9:9، 10) تیسرا کام اُنہوں نے یہ کِیا کہ اُنہوں نے ہماری کتابوں سے ایسے مضمون پڑھیں جن میں کسی اِنسان کی طرفداری نہ کرنے کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ (یوح 17:16) اب بہن جوآنا کو لگتا ہے کہ حکومت کے لیے احترام دِکھانے اور اُس کی فرمانبرداری کرنے سے اُنہیں ایسا اِطمینان ملا ہے ”جو سمجھ سے باہر ہے۔“
یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے ملنے والی ہدایتوں پر چلیں
15. ہمیں یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے ملنے والی ہدایتوں پر چلنا مشکل کیوں لگ سکتا ہے؟
15 یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم ”اُن لوگوں کے فرمانبردار . . . ہوں جو[ہماری]پیشوائی کرتے ہیں۔“ (عبر 13:17) سچ ہے کہ ہمارے پیشوا یعنی یسوع بےعیب ہیں۔ لیکن اُنہوں نے زمین پر ہماری پیشوائی کرنے کے لیے جن بھائیوں کو چُنا ہے، وہ عیبدار ہیں۔ اِس لیے شاید کبھی کبھار ہمیں اُن کی بات ماننا مشکل لگے، خاص طور پر اُس وقت جب وہ ہمیں کوئی ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جو ہم نہیں کرنا چاہتے۔ ایک بار پطرس رسول کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ جب ایک فرشتے نے اُنہیں ایسے جانوروں کا گوشت کھانے کی ہدایت دی جو شریعت کے مطابق ناپاک تھے تو پطرس نے صاف اِنکار کر دیا۔ اُنہوں نے ایک بار نہیں بلکہ تین بار ایسا کِیا! (اعما 10:9-16) اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟ کیونکہ یہ نئی ہدایت اُن کے لیے بہت عجیب تھی؛ وہ فرق طرح سے زندگی گزارتے آئے تھے۔ اگر پطرس کو ایک بےعیب فرشتے کی طرف سے ملنے والی ہدایت کو ماننا مشکل لگ رہا تھا تو ہمارے لیے عیبدار بھائیوں کی طرف سے ملنے والی ہدایتوں کو ماننا شاید اَور بھی زیادہ مشکل ہو۔
16. حالانکہ شاید پولُس کو یروشلیم کے بزرگوں کی طرف سے ملنے والی ہدایت عجیب لگی ہو لیکن پھر بھی اُنہوں نے کیا کِیا؟ (اعمال 21:23، 24، 26)
16 پولُس رسول اُس وقت بھی ”فرمانبردار“ رہے جب اُنہیں ایک ایسی ہدایت ملی جو شاید اُنہیں تھوڑی عجیب لگی ہو۔ یہودی مذہب سے آئے مسیحیوں نے پولُس کے بارے میں بہت سی افواہیں سنی تھیں۔ اُنہوں نے سنا تھا کہ پولُس لوگوں کو ”موسیٰ کی شریعت سے برگشتہ کر رہے ہیں“ اور اِس شریعت کی بےحُرمتی کر رہے ہیں۔ (اعما 21:21) یروشلیم کے بزرگوں نے پولُس کو ہدایت دی کہ وہ چار آدمیوں کو لے کر ہیکل جائیں اور طہارت کی رسموں کے مطابق خود کو پاک کریں تاکہ لوگ جان جائیں کہ وہ شریعت کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔ پولُس جانتے تھے کہ مسیحیوں کو اب موسیٰ کی شریعت کے مطابق چلنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اُنہوں نے کچھ غلط کِیا تھا۔ لیکن پھر بھی اُنہوں نے فوراً اِس ہدایت پر عمل کِیا۔ ”اگلے دن پولُس نے اُن آدمیوں کو ساتھ لیا اور رسموں کے مطابق خود کو اُن کے ساتھ پاک کِیا۔“ (اعمال 21:23، 24، 26 کو پڑھیں۔) چونکہ پولُس نے اِس ہدایت کو مانا اِس لیے کلیسیا کا امن برقرار رہا۔—روم 14:19، 21۔
17. بہن سٹیفنی کے ساتھ جو کچھ ہوا، اُس سے آپ نے کیا سیکھا ہے؟
17 سٹیفنی نام کی ایک بہن کو اُس فیصلے کو ماننا مشکل لگ رہا تھا جو اُن کے ملک کی برانچ کے بھائیوں نے لیا تھا۔ اُس وقت یہ بہن اور اُن کے شوہر ایک فرق زبان والے گروپ کے ساتھ مل کر خدمت کر رہے تھے۔ لیکن پھر برانچ نے اِس گروپ کو ختم کر دیا اور بہن اور اُن کے شوہر کو اُن کی اپنی زبان والی ایک کلیسیا میں بھیج دیا۔ بہن نے کہا: ”مَیں بالکل بھی خوش نہیں تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ ہماری زبان والے علاقے میں زیادہ مبشروں کی ضرورت نہیں ہے۔“ لیکن اِس بہن نے فیصلہ کِیا کہ وہ بھائیوں کی طرف سے ملنے والی اِس ہدایت کے مطابق چلے گی۔ اُنہوں نے کہا: ”کچھ وقت بعد مَیں دیکھ پائی کہ بھائیوں نے جو فیصلہ لیا تھا، وہ بالکل صحیح تھا۔ ہماری نئی کلیسیا میں بہت سے ایسے بہن بھائی تھے جن کے گھر والے یہوواہ کے گواہ نہیں تھے۔ وہ ہمیں اپنے گھر والوں کی طرح سمجھنے لگے اور ہم اُن میں سے بہت سے بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھا پائے۔ مَیں ابھی ایک ایسی بہن کو بائبل کورس کرا رہی ہوں جو کلیسیا سے دُور ہو گئی تھی۔ اب میرے پاس ذاتی مطالعہ کرنے کے لیے بھی زیادہ وقت ہوتا ہے۔“ بہن نے یہ بھی کہا: ”اب میرا ضمیر صاف ہے کیونکہ مَیں جانتی ہوں کہ مَیں نے بھائیوں کی طرف سے ملنے والی ہدایت کو ماننے کی پوری کوشش کی۔“
18. فرمانبردار رہنے سے ہمیں کون سے فائدے ہوتے ہیں؟
18 ہم فرمانبرداری دِکھانا سیکھ سکتے ہیں۔ یسوع نے ”تکلیفیں سہہ کر فرمانبرداری سیکھی۔“ (عبر 5:8) یسوع کی طرح اکثر ہم بھی مشکل صورتحال میں فرمانبردار رہنا سیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کورونا پھیلنا شروع ہوا تو ہمیں یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے یہ ہدایت ملی کہ ہم ایک جگہ جمع ہو کر عبادت کرنا اور گھر گھر جا کر مُنادی کرنا روک دیں۔ کیا آپ کو اِس ہدایت کو ماننا مشکل لگا تھا؟ ہم میں سے زیادہتر کو یہ مشکل لگا تھا۔ لیکن فرمانبردار رہنے کی وجہ سے آپ محفوظ رہ پائے، کلیسیا کا امن برقرار رہا اور یہوواہ کو بہت خوشی ملی۔ اب ہم اُن ہدایتوں کو ماننے کے لیے تیار ہو گئے ہیں جو ہمیں بڑی مصیبت کے دوران ملیں گی۔ اِن ہدایتوں کو ماننے سے ہی ہماری زندگی بچے گی۔—ایو 36:11۔
19. آپ نے فرمانبردار رہنے کا عزم کیوں کِیا ہے؟
19 ہم نے سیکھا ہے کہ فرمانبردار رہنے کے بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔ لیکن ہم خاص طور پر یہوواہ کے فرمانبردار اِس لیے رہتے ہیں کیونکہ ہم یہوواہ سے پیار کرتے ہیں اور اُسے خوش کرنا چاہتے ہیں۔ (1-یوح 5:3) یہوواہ نے ہمارے لیے جو کچھ کِیا ہے، اُس کے بدلے میں ہم اُسے کچھ نہیں دے سکتے۔ (زبور 116:12) لیکن ایک کام جو ہم کر سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ہم اُس کے اور اُن لوگوں کے فرمانبردار رہیں جنہیں اُس نے اِختیار دیا ہے۔ اگر ہم فرمانبردار رہیں گے تو ہم ثابت کریں گے کہ ہم سمجھدار ہیں اور ایک سمجھدار شخص یہوواہ کا دل خوش کرتا ہے۔—اَمثا 27:11۔
گیت نمبر 89: یہوواہ کی بات سنیں
a عیبدار ہونے کی وجہ سے ہم سب کو ہی کبھی کبھار دوسروں کی بات ماننا مشکل لگتا ہے یہاں تک کہ اُس وقت بھی جب ہمیں ہدایتیں دینے والے شخص کے پاس ہمیں ہدایتیں دینے کا پورا اِختیار ہو۔ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ اگر ہم اپنے والدین، حاکموں اور کلیسیا میں پیشوائی کرنے والے بھائیوں کی بات مانتے ہیں تو ہمیں کون سے فائدے ہوتے ہیں۔
b اپنے والدین کے بنائے جن اصولوں کو ماننا آپ کو مشکل لگتا ہے، اُن کے حوالے سے اُن سے بات کرنے کے سلسلے میں کچھ مشوروں کے لیے jw.org پر مضمون ”مَیں اپنے والدین سے اُن کے بنائے ہوئے اصولوں کے متعلق کیسے بات کر سکتا ہوں؟“ کو دیکھیں۔
c تصویر کی وضاحت: یوسف اور مریم نے قیصر کا حکم مانا اور مردمشماری کے لیے بیتلحم گئے۔ آج مسیحی حکومت کے بنائے ٹریفک کے قوانین کو مانتے ہیں، ٹیکس بھرتے ہیں اور صحت کے حوالے سے حکومت کی طرف سے ملنے والی ہدایتوں پر عمل کرتے ہیں۔