یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م23 اکتوبر ص.‏ 12-‏17
  • ‏”‏وہ آپ کو طاقت بخشے گا“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏وہ آپ کو طاقت بخشے گا“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2023ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دُعا کرنے اور بائبل کا مطالعہ کرنے سے ہمت اور طاقت حاصل کریں
  • آپ کے بہن بھائی آپ کی ہمت بڑھا سکتے ہیں
  • مستقبل کے حوالے سے اُمید آپ کی ہمت بڑھا سکتی ہے
  • اُنہوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
  • دوسروں کو یہوواہ کی نظر سے دیکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • اُنہوں نے رحم کا درس پایا
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
  • یوناہ اور ایک بڑی مچھلی
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2023ء
م23 اکتوبر ص.‏ 12-‏17

مطالعے کامضمون نمبر 43

‏”‏وہ آپ کو طاقت بخشے گا“‏

‏”‏[‏یہوواہ]‏ آپ کو مضبوط بنائے گا۔‏ وہ آپ کو طاقت بخشے گا۔‏ وہ آپ کو قائم کرے گا۔“‏‏—‏1-‏پطر 5:‏10‏۔‏

گیت نمبر 38‏:‏ وہ آپ کو طاقت بخشے گا

مضمون پر ایک نظرa

1.‏ پُرانے زمانے میں یہوواہ نے اپنے بندوں کو ہمت کیسے دی؟‏

خدا کے کلام میں اکثر خدا کے بندوں کا ذکر بہت ہی ہمت والے لوگوں کے طور پر کِیا گیا ہے۔ لیکن اِن میں سے زیادہ‌تر کے لیے ہمیشہ ہمت سے کام لینا آسان نہیں تھا۔ مثال کے طور پر کچھ موقعوں پر بادشاہ داؤد کو لگ رہا تھا کہ وہ ایک ”‏پہاڑ“‏ کی طرح مضبوط ہیں لیکن کچھ موقعوں پر وہ ”‏گھبرا“‏ گئے۔ (‏زبور 30:‏7‏)‏ سمسون کو یہوواہ نے اپنی پاک روح کے ذریعے بہت زیادہ طاقت دی تھی۔ لیکن سمسون جانتے تھے کہ خدا کی طرف سے ملنے والی طاقت کے بغیر وہ ’‏کمزور ہو کر اَور آدمیوں کی طرح ہو جائیں گے۔‘‏ (‏قُضا 14:‏5، 6؛ 16:‏17)‏ خدا کے یہ بندے اِس لیے ہمت والے تھے کیونکہ اُنہیں یہوواہ نے ہمت دی تھی۔‏

2.‏ پولُس رسول نے یہ کیوں کہا کہ وہ کمزور بھی ہیں اور طاقت‌ور بھی؟ (‏2-‏کُرنتھیوں 12:‏9، 10‏)‏

2 پولُس رسول یہ جانتے تھے کہ اُنہیں بھی یہوواہ کی طاقت کی ضرورت ہے۔ ‏(‏2-‏کُرنتھیوں 12:‏9، 10 کو پڑھیں۔)‏ ہم میں سے زیادہ‌تر کی طرح پولُس کو صحت کے مسئلے تھے۔ (‏گل 4:‏13، 14‏)‏ کبھی کبھار اُنہیں صحیح کام کرنا مشکل لگتا تھا۔(‏روم 7:‏18، 19‏)‏ اور کچھ موقعوں پر وہ یہ سوچ کر پریشان ہو جاتے اور ڈر جاتے تھے کہ آگے کیا ہوگا۔ (‏2-‏کُر 1:‏8، 9‏)‏ لیکن پولُس کمزور ہونے کے باوجود بھی طاقت‌ور تھے۔ لیکن کیوں؟ کیونکہ یہوواہ نے اُنہیں وہ طاقت دی تھی جس کی اُنہیں ضرورت تھی۔ اُس نے پولُس کو مضبوط بنا دیا تھا۔‏

3.‏ اِس مضمون میں کن سوالوں کے جواب دیے جائیں گے؟‏

3 یہوواہ نے وعدہ کِیا ہے کہ وہ ہمیں بھی ہمت اور طاقت دے گا۔ (‏1-‏پطر 5:‏10‏)‏ لیکن ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں یہ ہمت اور طاقت بغیر کسی کوشش کے ہی مل جائے گی۔ ذرا اِس مثال پر غور کریں:‏ گاڑی کے انجن کی وجہ سے ہی گاڑی آگے بڑھتی ہے لیکن اِس کے لیے گاڑی چلانے والے کو بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ گاڑی کو آگے بڑھانے کے لیے اُسے ریس دینی پڑتی ہے تاکہ گاڑی کی رفتار بڑھے۔ اِسی طرح یہوواہ ہمیں وہ ہمت اور طاقت دینے کے لیے تیار ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ لیکن اِسے حاصل کرنے کے لیے ہمیں بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہوواہ ہمیں ہمت اور طاقت کیسے دیتا ہے؟ اور ہمیں کیا کرنا چاہیے تاکہ ہمیں یہوواہ کی طرف سے ہمت اور طاقت ملے؟ اِن سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لیے ہم اِس بات پر غور کریں گے کہ یہوواہ نے یُوناہ نبی، یسوع کی ماں مریم اور پولُس رسول کو ہمت کیسے دی۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ آج یہوواہ اپنے بندوں کو اِنہی طریقوں سے ہمت اور طاقت کیسے دیتا ہے۔‏

دُعا کرنے اور بائبل کا مطالعہ کرنے سے ہمت اور طاقت حاصل کریں

4.‏ ہم یہوواہ کی طرف سے ہمت اور طاقت کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟‏

4 یہوواہ سے ہمت اور طاقت حاصل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اُس سے دُعا کریں۔ ہماری دُعاؤں کے جواب میں یہوواہ ہمیں ایسی طاقت دے سکتا ہے جو کسی بھی ”‏اِنسانی قوت سے بڑھ کر ہے۔“‏ (‏2-‏کُر 4:‏7‏)‏ ہمیں اُس وقت بھی یہوواہ کی طرف سے ہمت اور طاقت ملتی ہے جب ہم اُس کے کلام کو پڑھتے اور اُس پر سوچ بچار کرتے ہیں۔ (‏زبور 86:‏11‏)‏ یہوواہ نے اپنے کلام میں جو پیغام لکھوایا ہے، وہ بہت ”‏مؤثر“‏ ہے۔ (‏عبر 4:‏12‏)‏ جب آپ یہوواہ سے دُعا کرتے اور اُس کے کلام کو پڑھتے ہیں تو آپ کو ایسی ہمت اور طاقت ملتی ہے جس کی وجہ سے آپ مشکلوں کو برداشت کر پاتے ہیں، اپنی خوشی برقرار رکھ پاتے ہیں یا کسی ایسی ذمے‌داری کو نبھا پاتے ہیں جسے پورا کرنا اِتنا آسان نہیں ہے۔ ذرا غور کریں کہ یہوواہ نے اپنے نبی یُوناہ کو ہمت اور طاقت کیسے دی۔‏

5.‏ یُوناہ نبی کو ہمت اور طاقت کیوں چاہیے تھی؟‏

5 یُوناہ نبی کو ہمت اور طاقت کی ضرورت تھی۔ یہوواہ نے اُنہیں ایک ذمے‌داری دی تھی جسے پورا کرنا اُنہیں مشکل لگ رہا تھا اور وہ اِس ذمے‌داری سے دُور بھاگ رہے تھے۔ وہ ایک کشتی میں سوار تھے اور اچانک ایک بہت خطرناک طوفان آیا۔ اُن کی وجہ سے اُن کی اور کشتی میں سوار دوسرے لوگوں کی جان خطرے میں پڑ گئی۔ جب اُنہیں کشتی سے سمندر میں پھینک دیا گیا تو ایک بہت بڑی مچھلی نے اُنہیں نگل لیا۔ آپ کے خیال میں اُس وقت یُوناہ کو کیسا لگ رہا ہوگا؟ کیا وہ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ بس مرنے والے ہیں؟ یا کیا اُنہیں یہ لگ رہا ہوگا کہ یہوواہ نے اُنہیں چھوڑ دیا ہے؟ بے‌شک یُوناہ بہت پریشان ہوئے ہوں گے۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ یُوناہ مچھلی کے پیٹ میں ہیں اور شدت سے یہوواہ سے دُعا کر رہے ہیں۔ 2.‏ ایک بھائی اپنے کمرے میں ہے اور شدت سے یہوواہ سے دُعا کر رہا ہے۔ اُس کے پاس بائبل، فون اور ہیڈ سیٹ پڑا ہوا ہے۔‏

یُوناہ نبی کی طرح آپ کو مشکلوں کے دوران ہمت کیسے مل سکتی ہے؟ (‏پیراگراف نمبر 6-‏9 کو دیکھیں۔)‏

6.‏ یُوناہ 2:‏1، 2،‏ 7 کے مطابق جب یُوناہ مچھلی کے پیٹ میں تھے تو کس چیز نے اُنہیں ہمت دی؟‏

6 جب یُوناہ مچھلی کے پیٹ میں تھے تو اُنہوں نے کیا کِیا تاکہ اُنہیں یہوواہ کی طرف سے ہمت اور طاقت ملے؟ اُنہوں نے یہوواہ سے دُعا کی۔ ‏(‏یُوناہ 2:‏1، 2،‏ 7 کو پڑھیں۔)‏ حالانکہ یُوناہ نے یہوواہ کی بات نہیں مانی تھی لیکن اُنہوں نے توبہ کر لی تھی۔ اور اِس وجہ سے اُنہیں پورا یقین تھا کہ یہوواہ اُن کی دُعا ضرور سنے گا۔ یُوناہ نے ایسے صحیفوں پر بھی سوچ بچار کی جو اُنہوں نے پہلے پڑھے تھے۔ ہم ایسا اِس لیے کہہ سکتے ہیں کیونکہ یُوناہ دو باب میں لکھی یُوناہ کی دُعا میں ایسے بہت سے الفاظ اور باتیں ہیں جو زبور کی کتاب میں ملتی ہیں۔ (‏مثال کے طور پر یُوناہ 2:‏2،‏ 5 کے ساتھ زبور 69:‏1؛‏ 86:‏7 کو دیکھیں۔)‏ اِس سے یہ بات صاف طور پر پتہ چل جاتی ہے کہ یُوناہ صحیفوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ اِن صحیفوں پر سوچ بچار کرنے کی وجہ سے یُوناہ کو اِس بات پر یقین ہو گیا کہ یہوواہ اُن کی مدد کرے گا۔ اور یہوواہ نے اُن کی جان بچا لی۔ بعد میں یُوناہ اُس ذمے‌داری کو پورا کرنے کے لیے تیار ہو گئے جو یہوواہ نے اُنہیں دی تھی۔—‏یُوناہ 2:‏10–‏3:‏4‏۔‏

7-‏8.‏ تائیوان میں رہنے والے ایک بھائی کو مشکلوں کے دوران یہوواہ کی طرف سے ہمت اور طاقت کیسے ملی؟‏

7 یُوناہ کی مثال پر غور کرنے سے ہمیں اُس وقت بہت فائدہ ہو سکتا ہے جب ہم فرق فرق طرح کی مشکلوں کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر تائیوان میں رہنے والے زینگ نام کے ایک بھائی کو صحت کا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔‏b اِس کے علاوہ چونکہ بھائی زینگ یہوواہ کے گواہ تھے اِس لیے اُن کے گھر والے اُن کی بہت مخالفت کرتے تھے۔ اُنہیں یہوواہ سے دُعا کرنے اور بائبل کا مطالعہ کرنے سے بہت ہمت ملی۔ بھائی نے کہا:‏ ”‏کبھی کبھار جب کوئی مشکل کھڑی ہو جاتی تھی تو مَیں اِتنا پریشان ہو جاتا تھا کہ مَیں ذاتی مطالعہ ہی نہیں کر پاتا تھا۔“‏ لیکن بھائی زینگ نے ہمت نہیں ہاری۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ایسی صورتحال میں مَیں سب سے پہلے یہوواہ سے دُعا کرتا ہوں۔ پھر مَیں ہیڈفون لگاتا ہوں اور ہمارے گیت سنتا ہوں۔ کبھی کبھار مَیں ساتھ ساتھ ہلکی آواز میں تب تک گیت گاتا رہتا ہوں جب تک مَیں پُر سکون نہ ہو جاؤں۔ پھر مَیں بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کرتا ہوں۔“‏

8 بائبل کا ذاتی مطالعہ کرنے سے بھائی زینگ کو ایسے طریقوں سے ہمت ملی جن کی اُنہوں نے توقع بھی نہیں کی تھی۔ مثال کے طور پر جب وہ ایک بہت بڑے آپریشن کے بعد ٹھیک ہو رہے تھے تو ایک نرس نے اُنہیں بتایا کہ اُن کے سُرخ خلیے بہت کم ہیں اور اِس وجہ سے اُنہیں خون لگوانا پڑے گا۔ بھائی کو یاد آیا کہ اِس آپریشن سے ایک رات پہلے اُنہوں نے ایک بہن کے بارے میں پڑھا تھا جس کا ایسا ہی آپریشن ہوا تھا۔ اُس بہن کے سُرخ خلیے اُس بھائی کے سُرخ خلیوں سے بھی بہت کم تھے لیکن اُس نے خون نہیں لگوایا اور وہ ٹھیک ہو گئی۔ اُس بہن کے بارے میں پڑھنے کی وجہ سے بھائی زینگ کو ہمت ملی کہ وہ بھی یہوواہ کے وفادار رہ سکیں۔‏

9.‏ اگر کسی پریشانی کی وجہ سے آپ کمزور پڑ گئے ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

9 کسی پریشانی کا سامنا کرتے وقت کیا آپ اِتنے پریشان ہو جاتے ہیں کہ آپ کو سمجھ نہیں آتی کہ آپ دُعا میں یہوواہ سے کیا کہیں گے یا کیا آپ اِتنا تھکا ہوا محسوس کرتے ہیں کہ آپ میں بائبل کا مطالعہ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی؟ یاد رکھیں کہ یہوواہ آپ کی صورتحال کو بہت اچھی طرح سمجھتا ہے۔ اِس لیے اگر آپ چھوٹی سی دُعا بھی کرتے ہیں تو آپ اِس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ آپ کو وہ سب کچھ دے گا جس کی آپ کو ضرورت ہے۔ (‏اِفِس 3:‏20‏)‏ اگر بیماری، تھکاوٹ یا پریشانی کی وجہ سے آپ کے لیے بائبل پڑھنا اور اِس کا مطالعہ کرنا مشکل ہے تو آپ بائبل اور اِس سے تیار کی گئی کتابوں اور مضامین کی ریکارڈنگ سُن سکتے ہیں۔ آپ کو jw.org پر ہمارے گانے اور ویڈیوز دیکھ کر بھی اچھا لگے گا۔ جب آپ یہوواہ سے دُعا کریں گے اور بائبل، ہماری عبادتوں، کتابوں اور ویڈیوز میں اپنی دُعاؤں کا جواب تلاش کریں گے تو یہوواہ آپ کو ہمت اور طاقت دے گا۔‏

آپ کے بہن بھائی آپ کی ہمت بڑھا سکتے ہیں

10.‏ ہمارے بہن بھائی ہمیں ہمت اور طاقت کیسے دے سکتے ہیں؟‏

10 یہوواہ ہمارے بہن بھائیوں کے ذریعے ہمیں ہمت اور طاقت دے سکتا ہے۔ وہ اُس وقت ہمیں ”‏بڑی تسلی“‏ دے سکتے ہیں جب ہم کسی مشکل سے گزر رہے ہوتے ہیں یا ہمیں کسی ذمے‌داری کو نبھانا مشکل لگ رہا ہوتا ہے۔ (‏کُل 4:‏10، 11‏)‏ ہمیں خاص طور پر ”‏مصیبت کی گھڑی“‏ اپنے دوستوں کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ (‏اَمثا 17:‏17‏، ترجمہ نئی دُنیا‏)‏ جب ہم خود کو کمزور محسوس کر رہے ہوتے ہیں تو ہمارے ہم‌ایمان ہماری ضرورتیں پوری کر سکتے ہیں، ہمیں تسلی دے سکتے ہیں اور ہمارا حوصلہ بڑھا سکتے ہیں تاکہ ہم یہوواہ کی خدمت کرتے رہیں۔ ذرا غور کریں کہ یسوع کی ماں مریم کو دوسروں کی طرف سے ہمت اور طاقت کیسے ملی۔‏

11.‏ مریم کو ہمت کیوں چاہیے تھی؟‏

11 مریم کو یہوواہ کی مرضی کے مطابق کام کرنے کے لیے ہمت چاہیے تھی۔ ذرا سوچیں کہ وہ اُس وقت کتنی پریشان ہو گئی ہوں گی جب جبرائیل فرشتے نے اُنہیں بتایا ہوگا کہ وہ حاملہ ہوں گی حالانکہ ابھی تک اُن کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ وہ بچوں کی پرورش کرنے کے حوالے سے کچھ بھی نہیں جانتی تھیں۔ لیکن اُنہیں ایک ایسے بچے کی پرورش کرنی تھی جس نے بڑے ہو کر مسیح بننا تھا۔ اُنہوں نے کبھی کسی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم نہیں کیے تھے لیکن اب اُنہیں اپنے منگیتر کو یہ بتانا تھا کہ وہ ماں بننے والی ہیں۔ ذرا سوچیں کہ مریم کے لیے یہ کتنا مشکل رہا ہوگا۔—‏لُو 1:‏26-‏33‏۔‏

12.‏ لُوقا 1:‏39-‏45 کے مطابق مریم کو یہوواہ کی طرف سے ہمت اور طاقت کیسے ملی؟‏

12 اِس بھاری ذمے‌داری کو نبھانے کے لیے مریم کو ہمت اور طاقت کیسے ملی؟ اُنہوں نے دوسروں سے مدد مانگی۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے جبرائیل سے اِس ذمے‌داری کے حوالے سے اَور معلومات مانگی۔ (‏لُو 1:‏34‏)‏ اِس کے کچھ ہی وقت بعد وہ یہوداہ کے ”‏پہاڑی علاقے“‏ کا سفر کر کے اپنی رشتے‌دار الیشبع سے ملنے گئیں۔ اِس ملاقات کا اُنہیں بہت فائدہ ہوا۔ الیشبع نے مریم کی تعریف کی اور اُنہیں یہوواہ کی طرف سے وہ پیش‌گوئی بتائی جو اُن کے ہونے والے بچے کے بارے میں تھی۔ ‏(‏لُوقا 1:‏39-‏45 کو پڑھیں۔)‏ مریم نے کہا کہ یہوواہ نے ”‏اپنے بازو سے زبردست کام کیے ہیں۔“‏ (‏لُو 1:‏46-‏51‏)‏ یہوواہ نے جبرائیل اور الیشبع کے ذریعے مریم کو ہمت اور طاقت دی۔‏

13.‏ بولیویا میں رہنے والی ایک بہن کو اپنے ہم‌ایمانوں سے مدد لینے سے کیا فائدہ ہوا؟‏

13 مریم کی طرح آپ کو بھی اپنے ہم‌ایمانوں سے بہت ہمت مل سکتی ہے۔ بولیویا میں رہنے والی دسوری نام کی ایک بہن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ جب اُن کے ابو کو ایک لاعلاج بیماری لگ گئی اور اُنہیں ہسپتال داخل کرنا پڑا تو بہن دسوری اُن کا خیال رکھنے کے لیے اُن کے ساتھ رہنے لگیں۔ (‏1-‏تیم 5:‏4‏)‏ ایسا کرنا اُن کے لیے آسان نہیں تھا۔ بہن نے کہا:‏ ”‏بہت بار مجھے ایسا لگنے لگا کہ اب مَیں یہ اَور نہیں کر سکتی۔“‏ کیا بہن نے دوسروں سے مدد مانگی؟ شروع میں اُنہوں نے ایسا نہیں کِیا۔ بہن نے کہا:‏ ”‏مَیں اپنے بہن بھائیوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مَیں سوچتی تھی کہ یہوواہ ہی میری مدد کرے گا۔ لیکن پھر مَیں سمجھ گئی کہ خود کو دوسروں سے دُور کر لینے سے مَیں اکیلے ہی اپنی مشکلوں سے لڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔“‏ (‏اَمثا 18:‏1‏)‏ بہن دسوری نے فیصلہ کِیا کہ وہ اپنے دوستوں کو اپنی صورتحال کے بارے میں بتائیں گی۔ بہن نے کہا:‏ ”‏مَیں بتا نہیں سکتی کہ میرے بہن بھائیوں نے میری کتنی زیادہ ہمت بڑھائی ہے۔ وہ ہسپتال میں ہمارے لیے کھانا لے کر آتے تھے اور میرے ساتھ مل کر بائبل کی آیتیں پڑھتے تھے۔ یہ جان کر ہمیں کتنی تسلی ملتی ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ ہم یہوواہ کے ایک بہت بڑے خاندان کا حصہ ہیں اور اِس خاندان میں شامل بہن بھائی ایک دوسرے کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں، ایک دوسرے کے لیے ہمدردی دِکھاتے ہیں اور ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں تاکہ ہم یہوواہ کی خدمت کرتے رہیں۔“‏

14.‏ ہمیں کلیسیا کے بزرگوں کی طرف سے ملنے والی مدد کو کیوں قبول کرنا چاہیے؟‏

14 یہوواہ ہمیں کلیسیا کے بزرگوں کے ذریعے بھی ہمت دیتا ہے۔ کلیسیا کے بزرگ ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ وہ ہمیں ہمت دیتے ہیں اور ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ (‏یسع 32:‏1، 2‏)‏ اِس لیے جب آپ پریشان ہوں تو بزرگوں کو بتائیں کہ کیا چیز آپ کو پریشان کر رہی ہے۔ اور جب وہ آپ کی مدد کرنا چاہیں تو اُن سے مدد لینے سے نہ ہچکچائیں۔ اُن کے ذریعے یہوواہ آپ کو مضبوط بنا سکتا ہے۔‏

مستقبل کے حوالے سے اُمید آپ کی ہمت بڑھا سکتی ہے

15.‏ سب مسیحیوں کے پاس کس بات کی اُمید ہے؟‏

15 بائبل میں ہمیں مستقبل کے حوالے سے بہت شان‌دار اُمید دی گئی ہے جو ہمارے اندر یہوواہ کی خدمت کرتے رہنے کی طاقت بھر دیتی ہے۔ (‏روم 4:‏3،‏ 18-‏20‏)‏ کچھ مسیحیوں کے پاس آسمان پر اور کچھ کے پاس زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہنے کی اُمید ہے۔ یہ اُمید ہمیں ہمت دیتی ہے تاکہ ہم مشکلوں سے نمٹ پائیں، خوش‌خبری کی مُنادی کرتے رہیں اور کلیسیا میں اپنے بہن بھائیوں کے کام آتے رہیں۔ (‏1-‏تھس 1:‏3‏)‏ اِسی اُمید کی وجہ سے پولُس رسول کو بھی ہمت ملی تھی۔‏

16.‏ پولُس رسول کو ہمت اور طاقت کیوں چاہیے تھی؟‏

16 پولُس رسول کو ہمت اور طاقت چاہیے تھی۔ کُرنتھس کی کلیسیا کے نام اپنے خط میں اُنہوں نے اپنا موازنہ مٹی کے برتنوں سے کِیا۔ اُنہیں ”‏دبایا“‏ گیا، وہ ”‏حیران‌وپریشان“‏ ہوئے، اُنہیں ”‏اذیت“‏ دی گئی اور اُنہیں ”‏گِرایا“‏ گیا یہاں تک کہ اُن کی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔ (‏2-‏کُر 4:‏8-‏10‏)‏ پولُس نے یہ باتیں اپنے تیسرے مشنری دورے کے دوران لکھیں۔ شاید وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اُن کی مشکلیں ابھی ختم نہیں ہوئیں بلکہ یہ اَور بڑھنے والی ہیں۔ اِسی مشنری دورے کے دوران لوگوں کے ایک ہجوم نے اُن پر حملہ کر دیا، اُنہیں گِرفتار کر لیا گیا، اُن کا جہاز سمندر میں ڈوبتے ڈوبتے بچا اور اُنہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔‏

17.‏ دوسرا کُرنتھیوں 4:‏16-‏18 کے مطابق پولُس رسول کو مشکلوں سے نمٹنے کے لیے ہمت کیسے ملی؟‏

17 پولُس کو اپنی اُمید پر اپنا دھیان رکھنے سے ہمت ملی۔ ‏(‏2-‏کُرنتھیوں 4:‏16-‏18 کو پڑھیں۔)‏ اُنہوں نے کُرنتھس میں رہنے والے مسیحیوں کو بتایا کہ بھلے ہی وہ ”‏باہر سے ختم ہوتے جا رہے ہیں“‏ لیکن اِس وجہ سے وہ ہمت نہیں ہاریں گے۔ پولُس نے اپنا دھیان مستقبل پر رکھا۔ اُن کے لیے آسمان پر ہمیشہ کی زندگی کی اُمید ایک ’‏ایسی شان تھی جو بڑھتی ہی گئی‘‏ اور یہ اجر اُن کے لیے اِتنا خاص تھا کہ اِسے پانے کے لیے وہ ہر طرح کی مشکل کو برداشت کرنے کے لیے تیار تھے۔ پولُس نے اپنی اُمید پر سوچ بچار کی اور اِس وجہ سے اُنہیں ایسا لگنے لگا جیسے وہ ”‏اندر سے دن بہ دن نئے بنتے جا رہے ہیں۔“‏

18.‏ مستقبل کے بارے میں اپنی اُمید کی وجہ سے بھائی تہومیر اور اُن کے گھر والوں کو ہمت کیسے ملی؟‏

18 بلغاریہ میں رہنے والے تہومیر نام کے بھائی کو مستقبل کے بارے میں اپنی اُمید کی وجہ سے بہت ہمت ملی۔ کچھ سال پہلے اُن کا چھوٹا بھائی زدارگو ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گیا۔ اِس وجہ سے بھائی تہومیر بہت دُکھی رہنے لگے۔ اِس دُکھ سے نکلنے کے لیے بھائی اور اُن کے گھر والوں نے یہ سوچنا شروع کِیا کہ جب مُردے زندہ ہوں گے تو وہ وقت کیسا ہوگا۔ بھائی نے کہا:‏ ”‏مثال کے طور پر ہم اِس بارے میں بات کرتے تھے کہ ہم زدارگو سے کہاں ملیں گے، ہم اُس کے لیے کھانے میں کیا بنائیں گے، جب وہ ہمارے پاس ہوگا تو ہم سب سے پہلے اپنے گھر کسے بلا‌ئیں گے اور ہم اُسے آخری زمانے کے بارے میں کیا کچھ بتائیں گے۔“‏ بھائی تہومیر نے بتایا کہ اپنی اُمید پر اپنا دھیان رکھنے کی وجہ سے اُن کے گھر والوں کو ہمت ملی کہ وہ اِس مشکل سے نمٹ سکیں اور اُس وقت کا اِنتظار کر سکیں جب یہوواہ زدارگو کو زندہ کر دے گا۔‏

ایک بہن جو سُن نہیں سکتی، وہ اِشاروں کی زبان میں ہمارا ایک گانا دیکھ رہی ہے جو نئی دُنیا کے بارے میں ہے۔ وہ سوچ رہی ہے کہ نئی دُنیا میں زندگی کیسی ہوگی۔ وہ تصور کر رہی ہے کہ وہ دوسرے موسیقاروں کے ساتھ ہے اور ایک ساز بجا رہی ہے۔‏

آپ کے خیال میں نئی دُنیا میں آپ کی زندگی کیسی ہوگی؟ (‏پیراگراف نمبر 19 کو دیکھیں۔)‏c

19.‏ ہم مستقبل کے حوالے سے اپنی اُمید کو مضبوط کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

19 آپ مستقبل کے حوالے سے اپنی اُمید کو کیسے مضبوط کر سکتے ہیں؟ مثال کے طور پر اگر آ پ کو اُمید ہے کہ آپ زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہیں گے تو بائبل سے ایسی آیتیں پڑھیں جن میں فردوس کے بارے میں بتایا گیا ہے اور اِن پر سوچ بچار کریں۔ (‏یسع 25:‏8؛‏ 32:‏16-‏18‏)‏ اِس بارے میں بھی سوچیں کہ نئی دُنیا میں زندگی کیسی ہوگی۔ خود کو وہاں تصور کریں۔ آپ کن لوگوں کو وہاں دیکھ رہے ہیں؟ کون سی آوازیں سُن رہے ہیں؟ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ اِن باتوں کا تصور کرنے کی اپنی صلاحیت کو اَور بڑھانے کے لیے ہماری کتابوں سے ایسی تصویریں یا ہماری ویب‌سائٹ پر گانوں کی ایسی ویڈیوز دیکھیں جن میں نئی دُنیا کے منظر دِکھائے گئے ہیں جیسے کہ گانا ‏”‏سوچیں کہ کیسا سماں ہوگا!‏‏“‏ اور گانا ‏”‏امن کا دَور آ گیا!‏‏“‏ اگر ہم نئی دُنیا کے حوالے سے اپنی اُمید کو ذہن میں رکھیں گے تو آج ہم جن مشکلوں کا سامنا کر رہے ہیں، وہ ہمارے لیے ایسے ہی ہوں گی جیسے یہ ”‏تھوڑی دیر کے لیے ہیں اور سخت نہیں ہیں۔“‏ (‏2-‏کُر 4:‏17‏)‏ یہوواہ نے آپ کو جو اُمید دی ہے، اُس کے ذریعے وہ آپ کو مضبوط بنائے گا۔‏

20.‏ جب ہم خود کو کمزور محسوس کر رہے ہوتے ہیں تو تب بھی ہم ہمت اور طاقت کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟‏

20 جب ہم خود کو کمزور محسوس کر رہے ہوتے ہیں تو ’‏یہوواہ ہمیں طاقت بخشتا ہے۔‘‏ (‏زبور 108:‏13‏، ترجمہ نئی دُنیا‏)‏ یہوواہ نے ہمیں ابھی ہی وہ سب چیزیں دی ہیں جن کے ذریعے ہمیں ہمت مل سکتی ہے۔ اِس لیے جب آپ کو کسی مشکل ذمے‌داری کو نبھانے، کسی مشکل سے نمٹنے یا اپنی خوشی کو برقرار رکھنے کے لیے ہمت چاہیے ہوتی ہے تو دل کھول کر یہوواہ سے دُعا کریں اور پاک کلام کا مطالعہ کرنے سے اُس کی رہنمائی حاصل کریں۔ بہن بھائیوں کی طرف سے ملنے والی مدد کو قبول کریں۔ مستقبل کے حوالے سے اپنی اُمید کے بارے میں سوچ بچار کرنے کے لیے وقت نکالیں۔ پھر ”‏خدا اپنی عظیم قدرت کے ذریعے آپ کو ضرورت کے مطابق طاقت دے[‏گا]‏تاکہ آپ ہر صورت میں صبر اور خوشی سے ثابت‌قدم رہیں۔“‏—‏کُل 1:‏11‏۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے؟‏

  • آپ کو دُعا کرنے اور بائبل کا ذاتی مطالعے کرنے سے ہمت کیسے مل سکتی ہے؟‏

  • آپ کو اپنے بہن بھائیوں کے ذریعے ہمت کیسے مل سکتی ہے؟‏

  • آپ کو مستقبل کے حوالے سے اُمید کے ذریعے ہمت کیسے مل سکتی ہے؟‏

گیت نمبر 33‏:‏ اپنا بوجھ یہوواہ پر ڈال دو!‏

a یہ مضمون اُن بہن بھائیوں کے لیے لکھا گیا ہے جنہیں لگتا ہے کہ اپنی کسی پریشانی سے نمٹنا یا اپنی کسی ذمے‌داری کو پورا کرنا اُن کے بس میں نہیں ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ یہوواہ ہمیں ہمت کیسے دیتا ہے اور ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ یہوواہ ہماری مدد کرے۔‏

b کچھ نام فرضی ہیں۔‏

c تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک بہن جو سُن نہیں سکتی، وہ بائبل میں لکھے وعدوں پر سوچ بچار کر رہی ہے اور ہماری ویب‌سائٹ سے ایک گانا دیکھ رہی ہے جس میں دِکھایا گیا ہے کہ نئی دُنیا میں زندگی کیسی ہوگی۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں