یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م22 دسمبر ص.‏ 16-‏21
  • ہمیں مشکلوں میں بھی اِطمینان مل سکتا ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ہمیں مشکلوں میں بھی اِطمینان مل سکتا ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • وبائیں پھیلنے کے باوجود اِطمینان اور سکون
  • آفت کے باوجود اِطمینان اور سکون
  • اذیت کے باوجود اِطمینان اور سکون
  • ‏”‏خدا جو اِطمینان کا بانی ہے، آپ کے ساتھ رہے گا“‏
  • مشکلیں برداشت کرنے میں دوسروں کی مدد کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • اِطمینان کیسے حاصل کریں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
  • حقیقی اَمن—‏کس ماخذ سے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • یسوع مسیح کی طرح اپنے اِطمینان کو برقرار رکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
م22 دسمبر ص.‏ 16-‏21

مطالعے کا مضمون نمبر 51

ہمیں مشکلوں میں بھی اِطمینان مل سکتا ہے

‏”‏اپنے دلوں کو خوف سے لرزنے یا پریشان نہ ہونے دیں۔“‏‏—‏یوح 14:‏27‏۔‏

گیت نمبر 112‏:‏ یہوواہ—‏امن اور اِطمینان کا بانی

مضمون پر ایک نظرa

1‏.‏ ”‏خدا کا اِطمینان“‏ کیا ہے اور اِسے حاصل کرنے سے ہمیں کیا فائدے ہوتے ہیں؟ (‏فِلپّیوں 4:‏6، 7‏)‏

ایک اِطمینان ایسا ہے جس کے بارے میں دُنیا کچھ بھی نہیں جانتی۔ یہ ”‏خدا کا اِطمینان“‏ ہے۔ یہ ایک ایسا سکون ہے جو اُن لوگوں کو ملتا ہے جن کا اپنے آسمانی باپ کے ساتھ ایک خاص رشتہ ہے۔ خدا کی طرف سے اِطمینان پانے سے ہم خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ‏(‏فِلپّیوں 4:‏6، 7 کو پڑھیں۔)‏ ہماری اُن لوگوں سے قریبی دوستی ہو جاتی ہے جو یہوواہ سے محبت کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہماری خدا کے ساتھ بھی قریبی دوستی ہو جاتی ہے جو ’‏اِطمینان کا بانی‘‏ ہے۔ (‏1-‏تھس 5:‏23‏)‏ جب ہم اپنے آسمانی باپ کو جان جاتے ہیں، اُس پر بھروسا کرتے ہیں اور اُس کے حکموں کو مانتے ہیں تو خدا کی طرف سے ملنے والا اِطمینان اُس وقت ہمارے دلوں کو پُرسکون کر دیتا ہے جب ہم کسی مشکل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔‏

2.‏ ہم یہ یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ ہمیں خدا کی طرف سے اِطمینان مل سکتا ہے؟‏

2 کیا ہمیں اُس وقت بھی خدا کی طرف سے اِطمینان مل سکتا ہے جب ہمیں مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے جیسے کہ وبا، آفت، خانہ‌جنگی یا اذیت؟ اِن میں سے کسی بھی مشکل کی وجہ سے ہمارے دل میں خوف پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن یسوع نے اپنے پیروکاروں کو یہ نصیحت کی:‏ ”‏اپنے دلوں کو خوف سے لرزنے یا پریشان نہ ہونے دیں۔“‏ (‏یوح 14:‏27‏)‏ خوشی کی بات ہے کہ ہمارے بہن بھائیوں نے یسوع کی اِس نصیحت پر عمل کِیا ہے۔ یہوواہ کی مدد سے وہ سخت سے سخت مشکلوں کا سامنا کرتے وقت بھی پُر سکون رہے ہیں۔‏

وبائیں پھیلنے کے باوجود اِطمینان اور سکون

3.‏ کسی ایک ملک یا پوری دُنیا میں پھیلنے والی وبا کی وجہ سے ہمارا اِطمینان اور سکون کیسے برباد ہو سکتا ہے؟‏

3 چاہے کوئی وبا ایک ملک میں پھیلی ہو یا پوری دُنیا میں، یہ ہر شخص کی زندگی کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ اب کورونا کی وبا کو ہی لے لیں جس نے بہت سے لوگوں کی زندگی کو متاثر کِیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دُنیا میں آدھے سے زیادہ لوگوں نے بتایا کہ وبا کے دوران وہ راتوں کو سو نہیں پاتے تھے۔ اِس وبا کے دوران ڈپریشن، شراب اور منشیات کا اِستعمال اور گھریلو تشدد میں اِضافہ ہو گیا۔ اور خودکُشی کرنے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھ گئی۔ اگر آپ کے علاقے میں کوئی وبا پھیل جاتی ہے تو آپ حد سے زیادہ پریشان ہونے سے کیسے بچ سکتے ہیں اور خدا کا اِطمینان کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟‏

4.‏ آخری زمانے کے بارے میں یسوع کی پیش‌گوئی کے بارے میں جاننے سے ہمیں اِطمینان اور سکون کیوں ملتا ہے؟‏

4 یسوع نے پیش‌گوئی کی تھی کہ آخری زمانے میں ”‏جگہ جگہ“‏ وبائیں پھیلیں گی۔ (‏لُو 21:‏11‏)‏ یہ جان کر ہمیں اِطمینان کیوں ملتا ہے؟ کیونکہ جب کوئی وبا پھلتی ہے تو ہمیں حیرانی نہیں ہوتی۔ ہم سمجھ جاتے ہیں کہ دراصل اِن واقعات سے یسوع مسیح کی باتیں سچ ثابت ہو رہی ہیں۔ اِس طرح ہم یسوع کی اُس نصیحت پر عمل کر پاتے ہیں جو اُنہوں نے آخری زمانے میں رہنے والوں کو دی۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏پریشان نہ ہوں۔“‏—‏متی 24:‏6‏۔‏

ایک بہن نے ہیڈفون لگائے ہوئے ہیں اور وہ اپنے ٹیبلٹ پر آڈیو ریکارڈنگ سُن رہی ہے۔‏

کسی وبا کے دوران پاک کلام کی آڈیو ریکارڈنگ سننے سے آپ کو دلی اِطمینان اور سکون مل سکتا ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)‏

5.‏ (‏الف)‏ فِلپّیوں 4:‏8، 9 کے مطابق وبا کا سامنا کرتے وقت ہمیں کس بارے میں دُعا کرنی چاہیے؟ (‏ب)‏بائبل کی آڈیو ریکارڈنگ سننے سے ہمیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟‏

5 کسی وبا کے پھیلنے سے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص گھبرا جائے اور یہ سوچ کر پریشان ہونے لگے کہ پتہ نہیں آگے کیا ہوگا۔ ایسا ہی کچھ بہن رینا کے ساتھ ہوا۔‏b جب اُن کے چچا، تایا کا بڑا بیٹا اور اُن کا ڈاکٹر کورونا کی وجہ سے فوت ہو گئے تو وہ ڈر گئیں کہ اُنہیں بھی کورونا ہو جائے گا اور اُن کی وجہ سے اُن کی بوڑھی ماں کو بھی۔ اِس وبا کی وجہ سے اُن کی نوکری بھی خطرے میں پڑ گئی اور وہ یہ سوچنے لگیں کہ وہ اپنے کھانے پینے کے خرچے کیسے پورے کریں گی اور اپنے گھر کا کرایہ کیسے دیں گی۔ یہ پریشانیاں اُن کے ذہن پر اِس قدر سوار ہو گئیں کہ اُن کی راتوں کی نیند اُڑ گئی۔ لیکن بہن رینا کو پھر سے دلی اِطمینان حاصل ہوا۔ وہ کیسے؟ اُنہوں نے یہوواہ سے خاص طور پر یہ دُعا کی کہ وہ اُن کی مدد کرے کہ وہ پُر سکون رہ سکیں اور اچھی باتوں کے بارے میں سوچ سکیں۔ ‏(‏فِلپّیوں 4:‏8، 9 کو پڑھیں۔)‏ اُنہوں نے بائبل کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سنی جس سے اُنہیں یہ محسوس ہوا کہ یہوواہ اُن سے بات کر رہا ہے۔ بہن رینا نے کہا:‏ ”‏آڈیو ریکارڈنگ میں بہن بھائیوں کی میٹھی آوازیں سُن کر میرے دل کو بہت سکون ملتا ہے۔ اور اِس طرح میں یہ یاد رکھ پائی کہ یہوواہ کو میری فکر ہے۔“‏—‏زبور 94:‏19‏۔‏

6.‏ ذاتی مطالعہ کرنے اور اِجلاسوں پر جانے سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟‏

6 بے‌شک کسی وبا کے پھیلنے سے ہماری زندگی اُتھل پتھل ہو جاتی ہے۔ لیکن اِس بات کو ذاتی مطالعہ کرنے یا اِجلاسوں پر جانے میں رُکاوٹ نہ بننے دیں۔ ذاتی مطالعہ کرتے وقت ہماری کتابوں اور ویڈیوز میں ایسے تجربے پڑھیں اور دیکھیں جن سے آپ یہ یاد رکھ پائیں کہ ہمارے بہن بھائی اُن مشکلوں میں یہوواہ کے وفادار کیسے رہ رہے ہیں جن کا سامنا آپ بھی کر رہے ہیں۔ (‏1-‏پطر 5:‏9‏)‏ اِجلاسوں پر جانے سے آپ اپنا دھیان بائبل میں لکھی اچھی باتوں پر رکھ پائیں گے۔ اِن پر جانے سے نہ صرف آپ کا حوصلہ بڑھے گا بلکہ آپ اپنے بہن بھائیوں کا حوصلہ بھی بڑھا رہے ہوں گے۔ (‏روم 1:‏11، 12‏)‏ جب آپ اِس بارے میں سوچیں گے کہ یہوواہ نے اپنے بندوں کی اُس وقت مدد کیسے کی جب وہ بیمار تھے، ڈرے ہوئے تھے یا خود کو اکیلا محسوس کر رہے تھے تو آپ کا ایمان مضبوط ہوگا اور اِس بات پر آپ کا یقین پکا ہو جائے گا کہ یہوواہ آپ کی بھی مدد کرے گا۔‏

7.‏ آپ یوحنا رسول سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

7 کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ کسی وبا کے پھیلنے پر شاید یہ لازمی ہو کہ آپ اپنے ہم‌ایمانوں سے بھی سماجی فاصلہ رکھیں۔ ایسے وقت میں شاید آپ یوحنا رسول کی طرح محسوس کریں۔ وہ اپنے دوست گِیُس سے آمنے سامنے ملنا چاہتے تھے۔ (‏3-‏یوح 13، 14‏)‏ لیکن یوحنا رسول یہ جانتے تھے کہ فی‌الحال وہ گِیُس سے نہیں مل سکتے۔ اِس لیے اُنہوں نے وہ کام کِیا جو وہ کر سکتے تھے۔ اُنہوں نے گِیُس کو خط لکھا۔ جب آپ کے لیے اپنے بہن بھائیوں سے آمنے سامنے ملنا ممکن نہ ہو تو آپ اُنہیں فون کر سکتے ہیں، ویڈیو کال کر سکتے ہیں یا اُنہیں کوئی میسج بھیج سکتے ہیں۔ جب آپ اپنے ہم‌ایمانوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں تو آپ خود کو اکیلا محسوس نہیں کرتے اور پُر سکون رہ پاتے ہیں۔ جب آپ شدید پریشان ہو جاتے ہیں تو بزرگوں سے مدد لیں اور وہ جس طرح سے آپ کی مدد کرتے ہیں، اُسے قبول کریں۔—‏یسع 32:‏1، 2‏۔‏

آفت کے باوجود اِطمینان اور سکون

8.‏ کوئی آفت آنے پر آپ کا اِطمینان کیوں چھن سکتا ہے؟‏

8 اگر آپ نے کسی آفت کا سامنا کِیا ہے جیسے کہ سیلاب، زلزلے یا آگ لگ جانے کی آفت کا تو شاید کافی لمبے عرصے تک آپ کو اِس کی ہول‌ناک یادیں ستاتی رہیں۔ اگر اِس وجہ سے آپ نے اپنے کسی عزیز کو کھو دیا ہے یا آپ کا گھر بار تباہ ہو گیا ہے تو شاید آپ بہت دُکھی ہو جائیں، مایوس ہو جائیں یہاں تک کہ آپ کو بہت غصہ آئے۔ اگر آپ ایسا محسوس کرتے ہیں تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو مال‌ودولت سے بڑا پیار ہے یا آپ کا ایمان کمزور ہے۔ ظاہری بات ہے کہ آپ ایک مشکل وقت سے گزرے ہیں اور کچھ لوگ جانتے ہیں کہ مشکل وقت میں ایک شخص کے دل میں ایسے احساسات پیدا ہو سکتے ہیں۔ (‏ایو 1:‏11‏)‏ لیکن آپ ایسے حالات میں بھی اِطمینان پا سکتے ہیں۔ مگر کیسے؟‏

9.‏ یسوع مسیح نے ہمیں آفتوں کے لیے کیسے تیار کِیا؟‏

9 یاد کریں کہ یسوع نے کیا پیش‌گوئی کی تھی۔ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ اُنہیں کسی آفت کا سامنا نہیں ہوگا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں آفتوں میں اِضافہ ہو جائے گا اور اِن میں سے کچھ کا سامنا ہمیں بھی ہوگا۔ یسوع نے اپنے پیروکاروں کو بتایا کہ دُنیا کا خاتمہ آنے سے پہلے ”‏بڑے بڑے زلزلے“‏ اور دوسری آفتیں آئیں گی۔ (‏لُو 21:‏11‏)‏ اُنہوں نے یہ پیش‌گوئی بھی کی تھی کہ ”‏بُرائی بہت بڑھ جائے گی“‏ اور آج واقعی جُرم، تشدد اور دہشت‌گردوں کے حملوں میں اِضافہ ہو رہا ہے۔ (‏متی 24:‏12‏)‏ یسوع نے یہ کبھی نہیں کہا تھا کہ اِن آفتوں کا اثر صرف اُن لوگوں پر ہوگا جنہیں یہوواہ نے چھوڑ دیا ہے۔ دراصل یہوواہ کے بہت سے بندے بھی اِن آفتوں کا شکار ہوئے ہیں۔ (‏یسع 57:‏1؛‏ 2-‏کُر 11:‏25‏)‏ شاید یہوواہ معجزہ کر کے ہمیں سب آفتوں سے نہ بچائے۔ لیکن وہ ہمیں وہ سب کچھ دے گا جو پُرسکون رہنے کے لیے ضروری ہے۔‏

10.‏ ابھی سے کسی آفت کے لیے خود کو تیار کرنے سے یہ کیسے ثابت ہوگا کہ ہم یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں؟ (‏امثال 22:‏3‏)‏

10 جب ہم پہلے سے ہی کسی حادثے کے لیے خود کو تیار کر لیں گے تو کوئی مسئلہ کھڑا ہو جانے پر ہمارے لیے پُرسکون رہنا آسان ہوگا۔ لیکن کیا پہلے سے خود کو تیار کر لینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمیں یہوواہ پر کوئی بھروسا نہیں ہے؟ ایسا بالکل نہیں ہے۔ دراصل جب ہم کسی آفت کے لیے خود کو پہلے سے تیار کر تے ہیں تو اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں اِس بات پر بھروسا ہے کہ یہوواہ کو ہمارا خیال ہے۔ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟ خدا کے کلام میں ہمیں ہدایت دی گئی ہے کہ ہم آنے والے خطروں کے لیے پہلے سے خود کو تیار کریں۔ ‏(‏امثال 22:‏3 کو پڑھیں۔)‏ یہوواہ کی تنظیم ہمارے رسالوں، اِجلاسوں اور اِعلانات کے ذریعے بار بار ہم سے کہتی ہے کہ ہم کسی بھی ایمرجنسی کے لیے پہلے سے خود کو تیار کریں۔‏c کیا ہم یہوواہ پر بھروسا رکھتے ہیں؟ اگر ہاں تو ہم کوئی آفت آنے سے پہلے اِس ہدایت پر عمل کریں گے۔‏

ایک بہن گاڑی میں بیٹھی ہوئی ہے اور اُس کے ہاتھ میں ایک نقشہ ہے۔ اُس کے پاس پانی کی بوتلیں اور کچھ اَور ضروری سامان بھی ہے۔‏

کسی آفت کے لیے پہلے سے تیاری کرنے سے آپ کی جان بچ سکتی ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 11 کو دیکھیں۔)‏d

11.‏ آپ نے بہن مارگریٹ سے کیا سیکھا ہے؟‏

11 ذرا مارگریٹ نام کی بہن کی مثال پر غور کریں۔ اُن کے ملک کی حکومت نے اُن کے علاقے کے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے گھروں سے چلے جائیں کیونکہ اُن کے علاقے کے جنگل میں آگ لگ گئی تھی۔ اُس وقت ایک ہی وقت میں بہت سارے لوگ علاقے سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اِس لیے ٹریفک جام ہو گئی۔ ہوا میں کالا دھواں پھیل گیا۔ اِس لیے بہن مارگریٹ کچھ دیر اپنی گاڑی سے باہر نہیں نکل سکیں۔ لیکن چونکہ وہ پہلے سے تیار تھیں اِس لیے اُن کی جان بچ گئی۔ اُن کے بیگ میں ایک نقشہ تھا جس سے اُنہوں نے اُس علاقے سے نکلنے کا ایک اَور راستہ ڈھونڈ لیا۔ اُنہوں نے تو ایمرجنسی کے لیے خود کو تیار کرنے کے لیے پہلے سے ہی اِس راستے کا سفر کِیا تھا تاکہ وہ اِس سے واقف ہو سکیں۔ پہلے سے خود کو تیار کرنے سے بہن مارگریٹ کی جان بچ گئی۔‏

12.‏ ہمیں اُن ہدایتوں کو کیوں ماننا چاہیے جو ہماری حفاظت کے لیے ہمیں دی جاتی ہیں؟‏

12 ہمیں اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے شاید حکومت ہم سے کہے کہ ہم یا تو اپنے گھروں میں رہیں یا اپنے گھروں سے بھاگ جائیں یا پھر وہ ہمیں کوئی اَور ہدایت دے۔ شاید کچھ لوگ اپنی چیزوں کو کھونے کے ڈر سے حکومت کی ہدایتوں کو ماننے میں ٹال مٹول کریں۔ لیکن یہوواہ کے بندے کیا کرتے ہیں؟ بائبل میں بتایا گیا ہے:‏ ”‏مالک کی خاطر ہر اِنسانی نظام کے تابع رہیں، چاہے بادشاہ ہو کیونکہ اُس کا مرتبہ اُونچا ہے، چاہے حاکم ہوں جن کو بادشاہ نے بھیجا ہے۔“‏ (‏1-‏پطر 2:‏13، 14‏)‏ یہوواہ کی تنظیم بھی ہمیں محفوظ رکھنے کے لیے ہدایتیں دیتی ہے۔ ہمیں بار بار یہ یاد دِلایا جاتا ہے کہ ہم بزرگوں کو اپنے رابطے کی معلومات دیں تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں وہ ہماری مدد کر سکیں۔ کیا آپ نے ایسا کِیا ہے؟ شاید ہمیں پناہ لینے کی جگہ، اپنے گھروں کو خالی کرنے اور کھانے پینے کی چیزوں کو جمع کرنے کے حوالے سے بھی ہدایتیں دی جائیں۔ یا شاید ہمیں یہ بھی بتایا جائے کہ ہمیں کب اور کیسے دوسروں کی اِس حوالے سے مدد کرنی ہے۔ اگر ہم ہدایتوں کو نہیں مانیں گے تو ہم اپنی اور بزرگوں کی جان خطرے میں ڈال دیں گے۔ یاد رکھیں کہ یہ بزرگ ہماری دیکھ‌بھال کرتے ہیں۔ (‏عبر 13:‏17‏)‏ بہن مارگریٹ نے کہا:‏ ”‏مجھے اِس بات پر پکا یقین ہے کہ بزرگوں اور تنظیم کی ہدایتوں کو ماننے سے ہی میری جان بچی تھی۔“‏

13.‏ جن بہن بھائیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا، اُنہیں کس وجہ سے خوشی اور اِطمینان ملا؟‏

13 بہت سے بہن بھائیوں کو کسی آفت، جنگ یا خانہ‌جنگی کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ لیکن اُنہوں نے خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی پوری کوشش کی اور وہ فوراً ہی یہوواہ کی عبادت میں مصروف ہو گئے۔ پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں کی طرح خدا کے یہ بندے بھی ”‏خدا کے کلام کی خوش‌خبری سناتے رہے۔“‏ (‏اعما 8:‏4‏)‏ مُنادی کرنے کی وجہ سے وہ اپنا دھیان مشکلوں پر نہیں بلکہ خدا کی بادشاہت پر رکھ پائے۔ اَور اِس وجہ سے اُن کی خوشی اور اِطمینان برقرار رہا۔‏

اذیت کے باوجود اِطمینان اور سکون

14.‏ اذیت کی وجہ سے ہمارا اِطمینان اور سکون کیوں برباد ہو سکتا ہے؟‏

14 جب ہمیں اذیت دی جاتی ہے تو ہم ایسی بہت سی چیزیں کھو دیتے ہیں جن سے ہمیں اِطمینان اور سکون ملتا ہے۔ جب ہم گِرفتاری کے ڈر کے بغیر ایک دوسرے سے مل پاتے، مُنادی اور روزمرہ کے کام کر پاتے ہیں تو ہم خوش اور مطمئن رہتے ہیں۔ اگر ہم سے ہماری یہ آزادی چھین لی جائے تو شاید ہم پریشان ہو جائیں اور یہ سوچ کر ڈرنے لگیں کہ پتہ نہیں آگے کیا ہوگا۔ ایسے حالات میں پریشان ہو جانا یا ڈر جانا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ لیکن ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو بتایا کہ اذیت کی وجہ سے وہ بھٹک سکتے ہیں۔ (‏یوح 16:‏1، 2‏)‏ تو ہم اذیت کے باوجود بھی اپنا اِطمینان کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟‏

15.‏ ہمیں اذیت سے کیوں نہیں ڈرنا چاہیے؟ (‏یوحنا 15:‏20؛‏ 16:‏33‏)‏

15 خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے:‏ ”‏اُن سب کو اذیت دی جائے گی جو مسیح یسوع کے پیروکاروں کے طور پر خدا کی بندگی کرنا چاہتے ہیں۔“‏ (‏2-‏تیم 3:‏12‏)‏ اِس بات پر آندرے نام کے بھائی کو اُس وقت یقین کرنا مشکل لگا جب اُن کے ملک میں ہمارے کام پر پابندی لگ گئی۔ اُنہوں نے سوچا:‏ ”‏یہاں تو بہت سے گواہ ہیں۔ تو حکومت ہم سب کو گِرفتار کیسے کر سکتی ہے؟“‏ اِس وجہ سے بھائی آندرے ہر وقت پریشان رہنے لگے۔ دوسرے بہن بھائیوں نے معاملے کو یہوواہ کے ہاتھ میں چھوڑ دیا تھا اور یہ سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ وہ گِرفتار ہونے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ شاید اُنہیں گِرفتار کر لیا جائے گا۔ لیکن وہ اِتنے پریشان نہیں تھے جتنے بھائی آندرے تھے۔ اِس لیے بھائی آندرے نے سوچا کہ وہ بھی اُن بہن بھائیوں جیسی سوچ رکھیں گے اور خود کو یہوواہ کے ہاتھوں میں سونپ دیں گے۔ جلد ہی وہ پُرسکون ہو گئے اور اب وہ مشکلوں کے باوجود بھی خوش رہتے ہیں۔ بے‌شک یسوع نے کہا تھا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں اذیت دی جائے گی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اُنہوں نے یہ یقین بھی دِلایا تھا کہ ہم اذیت کے باوجود یہوواہ کے وفادار رہ سکتے ہیں۔‏‏—‏یوحنا 15:‏20؛‏ 16:‏33 کو پڑھیں۔‏

16.‏ اذیت کا سامنا کرتے وقت ہمیں کس ہدایت پر عمل کرنا چاہیے؟‏

16 جب کسی ملک میں ہمارے کام پر مکمل یا کافی حد پابندی لگی ہوتی ہے تو ہمیں وہاں کی برانچ اور بزرگوں سے ہدایتیں ملتی ہیں۔ ہمیں یہ ہدایتیں اِس لیے ملتی ہیں تاکہ ہم محفوظ رہیں، ہم روحانی کھانا کھاتے رہیں اور جہاں تک ممکن ہو مُنادی کرتے رہیں۔ اُس وقت بھی اِن ہدایتوں پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں جب آپ کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ کوئی ہدایت کیوں دی گئی ہے۔ (‏یعقو 3:‏17‏)‏ اِس کے علاوہ کبھی بھی کسی ایسے شخص کو ہمارے بہن بھائیوں یا کلیسیا میں ہونے والے کاموں کی معلومات نہ دیں جو اُسے جاننے کا حق نہیں رکھتا۔—‏واعظ 3:‏7‏۔‏

ایک بھائی کام پر وقفے کے دوران اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص سے بات کر رہا ہے اور اپنے فون پر بائبل کی طرف اِشارہ کر رہا ہے۔‏

کیا چیز آپ کی مدد کرے گی کہ آپ مشکل وقت میں اِطمینان اور سکون سے رہ سکیں؟ (‏پیراگراف نمبر 17 کو دیکھیں۔)‏e

17.‏ ہم نے پہلی صدی عیسوی کے رسولوں کی طرح کیا کرنے کا عزم کِیا ہے؟‏

17 شیطان کے پاس یہوواہ کے بندوں سے جنگ لڑنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ”‏یسوع کے بارے میں گواہی دینے کا کام“‏ کرتے ہیں۔ (‏مکا 12:‏17‏)‏ کبھی بھی شیطان اور اُس کی دُنیا سے نہ ڈریں۔ مخالفت کے باوجود مُنادی کرنے اور پاک کلام کی تعلیم دینے سے آپ کو خوشی اور اِطمینان ملے گا۔ پہلی صدی عیسوی میں جب یہودی عدالتِ‌عظمیٰ نے رسولوں کو یہ حکم دیا کہ وہ آئندہ مُنادی نہ کریں تو رسولوں نے اُن کا کہنا ماننے کی بجائے خدا کا حکم ماننے کا فیصلہ کِیا۔ وہ مُنادی کرتے رہے اور اُنہیں اِس کام سے بہت خوشی ملی۔ (‏اعما 5:‏27-‏29،‏ 41، 42‏)‏ بے‌شک جب ہمارے کام پر پابندی لگی ہوتی ہے تو ہمیں بہت محتاط ہو کر مُنادی کرنی چاہیے۔ (‏متی 10:‏16‏)‏ اگر ہم یہوواہ کی عبادت کرنے میں ہمت نہیں ہاریں گے تو ہمیں وہ اِطمینان ملے گا جو یہوواہ کو خوش کرنے اور لوگوں کو زندگی‌بخش پیغام سنانے سے ملتا ہے۔‏

‏”‏خدا جو اِطمینان کا بانی ہے، آپ کے ساتھ رہے گا“‏

18.‏ کون ہمیں اِطمینان دے سکتا ہے؟‏

18 اِس بات کا پکا یقین رکھیں کہ چاہے ہمیں کتنے ہی کٹھن وقت سے کیوں نے گزرنا پڑے، ہم اِطمینان پا سکتے ہیں۔ مشکلوں کا سامنا کرتے وقت ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے وقت میں ہمیں جو اِطمینان چاہیے وہ صرف اور صرف خدا ہی دے سکتا ہے۔ اِس لیے جب کوئی وبا پھیل جاتی ہے، کوئی آفت آ جاتی ہے یا آپ کو اذیت کا سامنا ہوتا ہے تو یہوواہ پر بھروسا رکھیں۔ اُس کی تنظیم سے جُڑے رہیں۔ اُس شان‌دار مستقبل کے منتظر رہیں جو بہت جلد آنے والا ہے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو ”‏خدا جو اِطمینان کا بانی ہے، آپ کے ساتھ رہے گا۔“‏ (‏فل 4:‏9‏)‏ اگلے مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہم خدا کا اِطمینان حاصل کرنے میں اپنے اُن ہم‌ایمانوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں جو مصیبتوں سے گزر رہے ہیں۔‏

آپ اُس وقت بھی اِطمینان اور سکون سے کیسے رہ سکتے ہیں جب ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

  • کوئی وبا پھیل جاتی ہے؟‏

  • کوئی آفت آ جاتی ہے؟‏

  • آپ کو اذیت دی جاتی ہے؟‏

گیت نمبر 38‏:‏ وہ آپ کو طاقت بخشے گا

a یہوواہ نے اُن لوگوں کو اِطمینان دینے کا وعدہ کِیا ہے جو اُس سے محبت کرتے ہیں۔ یہوواہ ہمیں کیسا اِطمینان دیتا ہے اور ہم اِسے کیسے پا سکتے ہیں؟ ”‏خدا کا اِطمینان“‏ اُس وقت ہماری مدد کیسے کر سکتا ہے جب کوئی وبا پھیل جاتی ہے، کوئی آفت آ جاتی ہے یا ہمیں اذیت دی جاتی ہے؟ اِس مضمون میں اِن سوالوں کے جواب دیے جائیں گے۔‏

b کچھ نام فرضی ہیں۔‏

c اِس بارے میں اَور جاننے کے لیے jw.org پر مضمون ”‏پاک کلام میں قدرتی آفتوں کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟‏‏“‏ کو پڑھیں۔‏

d تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک بہن کوئی آفت آنے پر اپنی جان بچانے کے لیے پہلے سے تیار تھی۔‏

e تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک بھائی ایسے علاقے میں رہتا ہے جہاں ہمارے کام پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ لیکن وہ اپنے کام کی جگہ پر گواہی دے رہا ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں