یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م22 اکتوبر ص.‏ 12-‏17
  • وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو یہوواہ کے وفادار رہتے ہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو یہوواہ کے وفادار رہتے ہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہمارے لیے ایک مثال
  • ‏’‏حاکم‘‏
  • ‏”‏حق تعالیٰ“‏
  • آخری جنگ
  • ہمیں یہوواہ کا وفادار رہنا ہوگا
  • کیا آپ اپنی راستی پر قائم رہیں گے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • ہمیں صداقت‌وراستی کی راہ پر کیوں چلنا چاہئے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • خدا اور قیصر
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • اختیار کی بابت مسیحی نقطۂ‌نظر
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
م22 اکتوبر ص.‏ 12-‏17

مطالعے کا مضمون نمبر 42

وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو یہوواہ کے وفادار رہتے ہیں

‏”‏وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو وفاداری کا دامن نہیں چھوڑتے؛‏ جو یہوواہ کے قوانین کو مانتے ہیں۔“‏‏—‏زبور 119:‏1‏، ترجمہ نئی دُنیا۔‏

گیت نمبر 124‏:‏ وفادار ہوں

مضمون پر ایک نظرa

ہمارے کچھ بہن بھائی جو اپنے ایمان کی وجہ سے جیل میں قید تھے یا ابھی قید میں ہیں، مسکرا رہے ہیں۔‏

ہمارے کچھ دلیر بہن بھائی جو یہوواہ کی حکمرانی کی حمایت کرنے کی وجہ سے جیل میں قید تھے یا ابھی قید میں ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 1-‏2 کو دیکھیں۔)‏

1-‏2.‏ (‏الف)‏ کچھ حکومتوں نے خدا کے بندوں کی مخالفت کیسے کی ہے اور اِس پر یہوواہ کے بندوں نے کیا کِیا ہے؟ (‏ب)‏ ہم اذیت کے باوجود بھی خوش کیوں رہ سکتے ہیں؟ (‏سرِورق کی تصویر پر بھی تبصرہ کریں۔)‏

پوری دُنیا میں 30 سے زیادہ ملکوں میں ہمارے کام پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ اِن میں سے کچھ ملکوں کی حکومت نے ہمارے بہن بھائیوں کو قید میں ڈال دیا ہے۔ کس جُرم میں؟ اُن کا جُرم بس یہ ہے کہ اُنہوں نے بائبل کو پڑھا، دوسروں کو اپنے عقیدوں کے بارے میں بتایا اور اپنے ہم‌ایمانوں کے ساتھ عبادت کے لیے جمع ہوئے۔ یہوواہ کی نظر میں اُس کے بندوں نے کوئی جُرم نہیں کِیا۔ اُنہوں نے سیاسی معاملوں میں کسی کا ساتھ نہیں دیا اور سخت مخالفت کے باوجود بھی وہ اپنے خدا کے وفادار رہے۔ اِس طرح اُنہوں نے ثابت کِیا کہ کوئی بھی اُنہیں یہوواہ کی عبادت کرنے سے نہیں روک سکتا۔ اُنہیں اِس بات پر بہت خوشی اور فخر ہے!‏

2 بے‌شک آپ نے اِن میں سے کچھ دلیر گواہوں کی تصویریں دیکھی ہوں گی اور غور کِیا ہوگا کہ اُن کے چہروں پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی ہے۔ وہ اِس لیے خوش رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہوواہ اِس بات سے خوش ہے کہ وہ اُس کے لیے اپنی وفاداری ثابت کر رہے ہیں۔ (‏1-‏توا 29:‏17‏)‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏وہ لوگ خوش رہتے ہیں جن کو نیکی کرنے کی وجہ سے اذیت دی جاتی ہے۔ .‏ .‏ .‏ اِس لیے خوش ہوں اور خوشی سے جھومیں کیونکہ آپ کو آسمان میں بڑا اجر ملے گا۔“‏—‏متی 5:‏10-‏12‏۔‏

ہمارے لیے ایک مثال

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ پطرس اور یوحنا یہودیوں کی عدالتِ‌عظمیٰ کے سامنے کھڑے ہیں۔ 2.‏ ایک بھائی عدالت میں جج کے سامنے کھڑا ہے۔‏

پطرس اور یوحنا نے جدید زمانے کے اُن مسیحیوں کے لیے کیا مثال قائم کی جنہیں عدالت میں پیش کِیا جاتا ہے اور جنہیں اپنے ایمان کا دِفاع کرنا پڑتا ہے؟ (‏پیراگراف نمبر 3-‏4 کو دیکھیں۔)‏

3.‏ جب پہلی صدی عیسوی میں رسولوں کو اذیت دی گئی تو اعمال 4:‏19، 20 کے مطابق اُنہوں نے کیا کِیا اور اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟‏

3 ہمارے کچھ بہن بھائی اُسی صورتحال سے گزر رہے ہیں جس سے پہلی صدی عیسوی کے رسول گزرے۔ اُنہیں اِس وجہ سے اذیت دی گئی کیونکہ وہ یسوع کے بارے میں گواہی دے رہے تھے۔ اُس زمانے کی عدالتِ‌عظمیٰ نے اُنہیں بار بار یہ حکم دیا کہ ”‏وہ یسوع کے نام سے نہ تو تعلیم دیں اور نہ ہی کوئی اَور بات کہیں۔“‏ (‏اعما 4:‏18؛‏ 5:‏27، 28،‏ 40‏)‏ اِس پر رسولوں نے کیا کِیا؟ ‏(‏اعمال 4:‏19، 20 کو پڑھیں۔)‏ وہ جانتے تھے کہ خدا اِنسانی حکمرانوں سے کہیں زیادہ اِختیار رکھتا ہے اور اُس نے اُنہیں مسیح کے بارے میں ’‏اچھی طرح سے گواہی دینے اور مُنادی کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‏ (‏اعما 10:‏42‏)‏ اِس لیے پطرس اور یوحنا نے اپنے اور باقی رسولوں کی طرف سے کہا کہ اُن کے لیے خدا کا حکم ماننا زیادہ ضروری ہے۔ اُنہوں نے عدالتِ‌عظمیٰ کو صاف صاف بتایا کہ وہ یسوع کے بارے میں بات کرنا نہیں چھوڑیں گے۔ ایک طرح سے وہ اُن اِختیار والوں سے یہ کہہ رہے تھے کہ ”‏کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے حکم خدا کے حکموں سے زیادہ اہم ہیں؟“‏

4.‏ اعمال 5:‏27-‏29 کے مطابق رسولوں نے سچے مسیحیوں کے لیے کیسی مثال قائم کی اور ہم اُن کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

4 رسولوں نے سچے مسیحیوں کے لیے بہت شان‌دار مثال قائم کی۔ اُن کی طرح خدا کے بہت سے بندوں نے اِنسانوں کا کہنا ماننے کی بجائے خدا کا کہنا مانا ہے۔ ‏(‏اعمال 5:‏27-‏29 کو پڑھیں۔)‏ جب رسولوں کو عدالتِ‌عظمیٰ نے اُن کی وفاداری کی وجہ سے مارا پیٹا تو رسول بہت خوش ہو کر وہاں سے نکلے ”‏کیونکہ اُنہیں یسوع کے نام کی خاطر بے‌عزت ہونے کا شرف ملا“‏ تھا۔ اِس کے بعد بھی وہ مُنادی کرتے رہے۔—‏اعما 5:‏40-‏42‏۔‏

5.‏ ہمیں کن سوالوں کے جواب حاصل کرنے کی ضرورت ہے؟‏

5 رسولوں نے جو کچھ کِیا، اُس سے کچھ سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر رسولوں نے اِنسانوں کی بجائے خدا کا حکم ماننے کا فیصلہ کِیا۔ لیکن یہ فیصلہ بائبل کے اُس حکم سے کیسے میل کھاتا ہے جہاں یہ کہا گیا ہے کہ ہم ’‏حاکموں کے تابع‌دار‘‏ ہوں؟ (‏روم 13:‏1‏)‏ ہم ”‏حکومتوں اور اِختیار والوں کے فرمانبردار“‏ ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے اعلیٰ حکمران یہوواہ کے وفادار کیسے رہ سکتے ہیں؟—‏طط 3:‏1‏۔‏

‏’‏حاکم‘‏

6.‏ (‏الف)‏ رومیوں 13:‏1 کے مطابق ”‏حاکموں“‏ کے حوالے سے ہم پر کیا فرض بنتا ہے؟ (‏ب)‏ سب اِنسانی حکمرانوں کے بارے میں کون سی بات سچ ہے؟‏

6 رومیوں 13:‏1 کو پڑھیں۔‏ مسیحیوں کو اِنسانی حکومتوں یا حکمرانوں کے تابع‌دار ہونا چاہیے۔ یہ حکمران نظم‌وضبط قائم کرتے ہیں، قوانین بناتے ہیں اور کبھی کبھار تو یہوواہ کے بندوں کی مدد کو بھی آتے ہیں۔ (‏مکا 12:‏16‏)‏ بائبل میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اُنہیں ٹیکس ادا کریں، اُنہیں خراج دیں؛ اُن کی عزت اور احترام کریں۔ (‏روم 13:‏7‏)‏ لیکن حکومتوں کے پاس جو بھی اِختیار ہے، وہ اُنہیں یہوواہ کی اِجازت سے ہی ملا ہے۔ یہ بات یسوع مسیح نے اُس وقت واضح کی جب رومی گورنر پُنطیُس پیلاطُس اُن سے پوچھ‌گچھ کر رہا تھا۔ جب پیلاطُس نے یسوع سے کہا کہ اُس کے پاس یسوع کو مار ڈالنے یا اُن کی جان بچانے کا اِختیار ہے تو یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏آپ کو مجھ پر صرف اِس لیے اِختیار ہے کیونکہ یہ آپ کو آسمان سے دیا گیا ہے۔“‏ (‏یوح 19:‏11‏)‏ پیلاطُس کی طرح آج بھی سب اِنسانی حکمرانوں اور سیاست‌دانوں کا اِختیار محدود ہے۔‏

7.‏ کن صورتحال میں ہمیں اِنسانی حکمرانوں کا کہنا نہیں ماننا چاہیے اور اِن حکمرانوں کو کیا بات یاد رکھنی چاہیے؟‏

7 سچے مسیحیوں کو حکومتوں کے وہ قوانین ماننے چاہئیں جو یہوواہ کے حکموں سے نہیں ٹکراتے۔ لیکن ہم اُس وقت اِنسانوں کا کہنا نہیں مانیں گے جب وہ ہم سے ایسے کام کرنے کو کہتے ہیں جن سے خدا نے ہمیں منع کِیا ہے یا ہمیں ایسے کام کرنے سے روکتے ہیں جو خدا ہم سے چاہتا ہے۔ مثال کے طور پر شاید حکومتیں جوان آدمیوں سے کہیں کہ وہ اپنی قوم کی خاطر جنگ میں حصہ لیں۔‏b یا شاید وہ بائبل اور اِس پر مبنی کتابوں وغیرہ پر پابندی لگا دیں یا ہمیں مُنادی کرنے یا مل کر یہوواہ کی عبادت کرنے سے روکیں۔ جب حکمران مسیح کے شاگردوں کو اذیت دینے کے لیے اپنے اِختیار کا غلط اِستعمال کرتے ہیں تو وہ یہوواہ کے حضور جواب‌دہ ہوتے ہیں کیونکہ یہوواہ سب دیکھ رہا ہے!‏—‏واعظ 5:‏8‏۔‏

8.‏ ’‏حاکم‘‏ اور ”‏حق تعالیٰ“‏ میں کیا فرق ہے اور اِس بات کو یاد رکھنا اِتنا ضروری کیوں ہے؟‏

8 لفظ ”‏حاکم“‏ ایک ایسے شخص کے لیے اِستعمال ہوتا ہے جو دوسروں سے ”‏بڑا، بہتر اور اُونچا رُتبہ“‏ رکھتا ہے۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ”‏سب سے بڑا، سب سے بہتر اور سب سے اُونچا رُتبہ“‏ رکھتا ہے۔ ایسی بات صرف ”‏حق‌تعالیٰ“‏ کے لیے ہی کہی جا سکتی ہے یعنی اُس خدا کے لیے جو سب سے بلند ہے۔ حالانکہ اِنسانی حکومتیں کافی اِختیار رکھتی ہیں لیکن خدا کے آگے اُن کا اِختیار کچھ بھی نہیں ہے۔ بائبل میں چار بار یہوواہ کے لیے لقب ”‏حق تعالیٰ“‏ اِستعمال ہوا ہے۔—‏دان 7:‏18،‏ 22،‏ 25،‏ 27‏۔‏

‏”‏حق تعالیٰ“‏

9.‏ دانی‌ایل نبی نے رُویات میں کیا دیکھا؟‏

9 دانی‌ایل نے جو رُویات دیکھیں، اُن سے صاف ظاہر ہوا کہ یہوواہ سب اِنسانی حکومتوں سے کہیں زیادہ اِختیار رکھتا ہے۔ دانی‌ایل نے سب سے پہلے چار بڑے حیوان دیکھے جو ماضی اور حال کی عالمی طاقتوں کی طرف اِشارہ کرتے ہیں یعنی بابل، مادی فارس، یونان، روم اور اِس سے نکلنے والی طاقت برطانیہ اور امریکہ جو ہمارے زمانے میں حکمرانی کر رہی ہے۔ (‏دان 7:‏1-‏3،‏ 17‏)‏ پھر دانی‌ایل نے آسمانی عدالت میں یہوواہ کو اپنے تخت پر بیٹھے دیکھا۔ (‏دان 7:‏9، 10‏)‏ دانی‌ایل نے آگے جو کچھ دیکھا، اُس میں اِنسانی حکمرانوں کے لیے ایک آگاہی پائی جاتی ہے۔‏

10.‏ دانی‌ایل 7:‏13، 14،‏ 27 کے مطابق یہوواہ زمین کا اِختیار کن کو سونپے گا اور اِس سے اُس کے بارے میں کیا بات ثابت ہوتی ہے؟‏

10 دانی‌ایل 7:‏13، 14،‏ 27 کو پڑھیں۔‏ خدا اِنسانی حکومتوں سے سارا اِختیار لے کر اِسے اُن لوگوں کو دے گا جو واقعی اِس کے لائق ہیں اور اِنسانی حکومتوں سے کہیں زیادہ طاقت‌ور ہیں۔ وہ یہ اِختیار ”‏آدم‌زاد“‏ یعنی یسوع مسیح اور ’‏حق تعالیٰ کے مُقدس لوگوں‘‏ یعنی 1 لاکھ 44 ہزار مسح‌شُدہ مسیحیوں کو دے گا جو ”‏ابداُلآباد تک“‏ یعنی ہمیشہ تک حکمرانی کریں گے۔ (‏دان 7:‏18‏)‏ اِس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہوواہ ”‏حق تعالیٰ“‏ ہے کیونکہ صرف وہی ایسا کرنے کا اِختیار رکھتا ہے۔‏

11.‏ دانی‌ایل نے اَور کیا بتایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہوواہ تمام قوموں پر اِختیار رکھتا ہے؟‏

11 دانی‌ایل نے رُویا میں جو کچھ دیکھا، اُس سے وہ بات ثابت ہو گئی جو اُنہوں نے پہلے کہی تھی۔ اُنہوں نے کہا:‏ ’‏آسمان کا خدا .‏ .‏ .‏ بادشاہوں کو معزول اور قائم کرتا ہے۔‘‏ اُنہوں نے یہ بھی کہا:‏ ”‏حق‌تعالیٰ آدمیوں کی مملکت میں حکمرانی کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اُسے دیتا ہے۔“‏ (‏دان 2:‏19-‏21؛‏ 4:‏17‏)‏ کیا کبھی ایسا ہوا کہ یہوواہ نے کسی کو حاکم کا عہدہ دیا اور پھر اُسے اُس عہدے سے ہٹا دیا؟ جی بالکل۔‏

بادشاہ بیلشضر اور اُس کے مہمان دیوار پر لکھی تحریر کو دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں۔‏

یہوواہ نے بیلشضر سے حکومت لے کر مادیوں اور فارسیوں کو دے دی۔ (‏پیراگراف نمبر 12 کو دیکھیں۔)‏

12.‏ ایک مثال دے کر بتائیں کہ ماضی میں یہوواہ نے کس طرح بادشاہوں کو اُن کے تخت سے ہٹایا۔ (‏تصویر کو دیکھیں۔)‏

12 یہوواہ نے ثابت کِیا کہ وہ حاکموں پر اِختیار رکھتا ہے۔ ذرا اِس سلسلے میں تین مثالوں پر غور کریں۔ فرعون نے بنی اِسرائیل کو غلام بنا لیا تھا اور وہ اُنہیں رِہا کرنے سے بار بار اِنکار کر رہا تھا۔ لیکن یہوواہ نے اپنے بندوں کو آزاد کروایا اور فرعون کو بحرِقلزم [‏بحیرۂ‌احمر]‏ میں ہلاک کر دیا۔ (‏خر 14:‏26-‏28؛‏ زبور 136:‏15‏)‏ بابل کے بادشاہ بیلشضر نے ایک بہت بڑی دعوت رکھی اور ”‏آسمان کے خداوند کے حضور اپنے آپ کو بلند کِیا۔“‏ اُس نے یہوواہ کی بجائے ’‏چاندی اور سونے کے بُتوں کی حمد کی۔‘‏ (‏دان 5:‏22، 23‏)‏ لیکن یہوواہ نے اِس گھمنڈی بادشاہ کا سر نیچا کِیا۔ اُسی رات بیلشضر بادشاہ قتل ہوا اور اُس کی حکومت مادیوں اور فارسیوں کو دے دی گئی۔ (‏دان 5:‏28،‏ 30، 31‏)‏ فلسطین کے بادشاہ ہیرودیس اگرِپا نے یعقوب رسول کو قتل کروا دیا اور بعد میں پطرس رسول کو قید میں ڈلوا دیا تاکہ وہ اُنہیں بھی مروا ڈالے۔ لیکن یہوواہ نے ہیرودیس کا یہ منصوبہ ناکام کر دیا۔ یہوواہ کے فرشتے نے ”‏اُسے بیمار کر دیا“‏ اور وہ مر گیا۔—‏اعما 12:‏1-‏5،‏ 21-‏23‏۔‏

13.‏ ایک مثال دے کر بتائیں کہ یہوواہ نے کیسے مختلف قوموں کے حکمرانوں کو شکست دی جو آپس میں مل کر اُس کے بندوں سے لڑے۔‏

13 یہوواہ نے ثابت کِیا کہ وہ اُن حاکموں سے بھی زیادہ بااِختیار ہے جو آپس میں مل کر ایک بڑی طاقت بنے ہوئے تھے۔ یہوواہ بنی‌اِسرائیل کے لیے لڑا اور اُس نے اُن 31 کنعانی بادشاہوں کو شکست دی جو آپس میں مل کر اُس کے بندوں سے لڑ رہے تھے۔ اِس طرح اُس کے بندوں نے وعدہ کیے ہوئے ملک کے بہت سے علاقوں کو فتح کر لیا۔ (‏یشو 11:‏4-‏6، 20؛ 12:‏1، 7، 24)‏ یہوواہ نے بادشاہ بِن ہدد اور 32 اَور ارامی حکمرانوں کو مکمل طور پر شکست دی جو اُس کے بندوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔—‏1-‏سلا 20:‏1،‏ 26-‏29‏۔‏

14-‏15.‏ (‏الف)‏ بادشاہ نبوکدنضر اور بادشاہ دارا نے یہوواہ کی حکمرانی کے بارے میں کیا کہا؟ (‏ب)‏ زبور لکھنے والے ایک شخص نے یہوواہ خدا اور اُس کی قوم کے بارے میں کیا کہا؟‏

14 یہوواہ نے بار بار ثابت کِیا کہ وہی ”‏حق تعالیٰ“‏ یعنی کُل اِختیار کا مالک ہے۔ جب بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے خاکساری سے یہ تسلیم نہیں کِیا کہ یہوواہ ہی بڑائی کا حق‌دار ہے بلکہ ’‏اپنی توانائی اور جاہ‌وجلال‘‏ پر شیخی ماری تو یہوواہ نے اُس کا ذہنی توازن بگا‌ڑ دیا۔ لیکن بعد میں جب وہ ٹھیک ہو گیا تو اُس نے ”‏حق تعالیٰ کا شکر کِیا“‏ اور تسلیم کِیا کہ یہوواہ کی ”‏سلطنت ابدی“‏ ہے اور ”‏کوئی نہیں جو اُس کا ہاتھ روک سکے۔“‏ (‏دان 4:‏30،‏ 33-‏35‏)‏ پھر جب دانی‌ایل کی وفاداری کا اِمتحان ہوا اور یہوواہ نے اُنہیں شیروں کے مُنہ سے بچایا تو دارا بادشاہ نے کہا:‏ ”‏ہر ایک صوبہ کے لوگ دانیؔ‌ایل کے خدا کے حضور ترسان‌ولرزان ہوں کیونکہ وہی زندہ خدا ہے اور ہمیشہ قائم ہے اور اُس کی سلطنت لازوال ہے اور اُس کی مملکت ابد تک رہے گی۔“‏—‏دان 6:‏7-‏10،‏ 19-‏22،‏ 26، 27‏۔‏

15 زبور لکھنے والے خدا کے ایک بندے نے کہا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ قوموں کی مشورت کو باطل کر دیتا ہے۔ وہ اُمتوں کے منصوبوں کو ناچیز بنا دیتا ہے۔“‏ پھر اُس نے آگے کہا:‏ ”‏مبارک [‏”‏خوش،“‏ ترجمہ نئی دُنیا‏]‏ہے وہ قوم جس کا خدا [‏یہوواہ]‏ ہے اور وہ اُمت جس کو اُس نے اپنی ہی میراث کے لئے برگذیدہ کِیا۔“‏ (‏زبور 33:‏10،‏ 12‏)‏ واقعی ہمارے پاس یہوواہ کا وفادار رہنے کی کتنی اچھی وجہ ہے!‏

آخری جنگ

یہوواہ کی آسمانی فوجیں گھوڑوں پر سوار ہیں اور زمین پر فوجیوں سے لڑ رہی ہے۔‏

قومیں مل کر بھی یہوواہ کی آسمانی فوجوں کے آگے ٹک نہیں پائیں گی۔ (‏پیراگراف نمبر 16-‏17 کو دیکھیں۔)‏

16.‏ ہم ”‏بڑی مصیبت“‏ کے حوالے سے کس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں اور کیوں؟ (‏تصویر کو دیکھیں۔)‏

16 ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ماضی میں یہوواہ نے اپنے بندوں کے لیے کیا کچھ کِیا۔ وہ مستقبل میں ہمارے لیے کیا کرے گا؟ ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے بندوں کو ”‏بڑی مصیبت“‏ سے بچا لے گا۔ (‏متی 24:‏21؛‏ دان 12:‏1‏)‏ وہ ایسا اُس وقت کرے گا جب ماجوج کا جوج یعنی بہت سی قومیں مل کر اُس کے بندوں پر حملہ کریں گی۔ بھلے ہی اِس اِتحاد میں اقوامِ‌متحدہ کے سب 193 ممبر کیوں نہ شامل ہوں، وہ یہوواہ اور اُس کی آسمانی فوجوں کے آگے ٹک نہیں پائیں گے۔ یہوواہ نے وعدہ کِیا ہے:‏ ”‏مَیں .‏ .‏ .‏ اپنی بزرگی اور اپنی تقدیس کراؤں گا اور بہت سی قوموں کی نظروں میں مشہور ہوں گا اور وہ جانیں گے کہ [‏یہوواہ]‏ مَیں ہوں۔“‏—‏حِز 38:‏14-‏16، 23؛‏ زبور 46:‏10‏۔‏

17.‏ بائبل کے مطابق مستقبل میں زمین کے بادشاہوں کا کیا انجام ہوگا اور اُن لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا جو یہوواہ کے وفادار رہیں گے؟‏

17 خدا کے بندوں پر جوج کا حملہ ہرمجِدّون کی جنگ کا باعث بنے گا۔ اِس جنگ میں یہوواہ ”‏پوری زمین کے بادشاہوں“‏ کو ہلاک کر دے گا۔ (‏مکا 16:‏14،‏ 16؛‏ 19:‏19-‏21‏)‏ لیکن ”‏سیدھی راہ پر چلنے والے زمین پر بسیں گے اور وفاداری کی راہ پر چلتے رہنے والے اِس میں رہیں گے۔“‏—‏امثا 2:‏21‏، ترجمہ نئی دُنیا۔‏

ہمیں یہوواہ کا وفادار رہنا ہوگا

18.‏ سچے مسیحی کیا کرنے کو تیار ہیں اور کیوں؟ (‏دانی‌ایل 3:‏28‏)‏

18 شروع سے ہی سچے مسیحیوں نے اپنے اعلیٰ حکمران یہوواہ کی محبت کی خاطر اپنی آزادی، یہاں تک کہ اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈالا۔ اِن مسیحیوں نے یہ عزم کِیا ہوا تھا کہ وہ ہر صورت میں یہوواہ کے وفادار رہیں گے۔ وہ اُن تین عبرانی آدمیوں کی طرح یہوواہ کے وفادار رہے جنہیں بعد میں یہوواہ نے آگ کی بھٹی سے بچا لیا تھا۔‏‏—‏دانی‌ایل 3:‏28 کو پڑھیں۔‏

19.‏ یہوواہ کس بِنا پر اپنے بندوں کی عدالت کرے گا اور اِس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں ابھی کیا کرنا چاہیے؟‏

19 داؤد نے اپنے ایک زبور میں بتایا کہ یہوواہ کا وفادار رہنا کتنا ضروری ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ قوموں کا اِنصاف کرتا ہے۔ اَے [‏یہوواہ]‏!‏ اُس صداقت‌وراستی [‏”‏نیکی اور وفاداری،“‏ ترجمہ نئی دُنیا‏]‏ کے مطابق جو مجھ میں ہے میری عدالت کر۔“‏ (‏زبور 7:‏8‏)‏ اُنہوں نے ایک اَور زبور میں لکھا:‏ ”‏دیانت‌داری [‏”‏وفاداری،“‏ ترجمہ نئی دُنیا‏]‏ اور راست‌بازی مجھے سلامت رکھیں کیونکہ مجھے تیری ہی آس ہے۔“‏ (‏زبور 25:‏21‏)‏ ہر حال میں یہوواہ کا وفادار رہنا ہی زندگی کی بہترین راہ ہے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم بھی ویسا ہی محسوس کریں گے جیسا زبور لکھنے والے خدا کے بندے نے کِیا۔ اُس نے کہا:‏ ”‏وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو وفاداری کا دامن نہیں چھوڑتے؛ جو یہوواہ کے قوانین کو مانتے ہیں۔“‏—‏زبور 119:‏1‏، ترجمہ نئی دُنیا۔‏

کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟‏

  • رسولوں نے ہمارے لیے کیسی مثال قائم کی؟‏

  • ہم یہ اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں کہ ہمیں ”‏حاکموں“‏ کا حکم ماننا چاہیے یا نہیں؟‏

  • یہوواہ خدا نے کیسے ثابت کِیا ہے کہ وہ ”‏حق تعالیٰ“‏ ہے یعنی سب سے زیادہ اِختیار رکھتا ہے؟‏

گیت نمبر 122‏:‏ سچائی کی راہ پر قائم رہیں

a بائبل میں مسیحیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حکومتوں کا کہنا مانیں۔ لیکن کچھ حکومتیں کھلم‌کُھلا یہوواہ اور اُس کے بندوں کی مخالفت کرتی ہیں۔ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہم اِنسانی حکمرانوں کا کہنا ماننے کے ساتھ ساتھ یہوواہ کے وفادار کیسے رہ سکتے ہیں۔‏

b اِس شمارے میں مضمون ”‏بنی‌اِسرائیل نے جنگیں لڑیں—‏ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟‏‏“‏ کو دیکھیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں