اختیار کی بابت مسیحی نقطۂنظر
”کوئی صاحبِاختیار ایسا نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو۔“—رومیوں ۱۳:۱، نیو ورلڈ ٹرانسلیشن۔
۱. لفظ ”اختیار“ کا تعلق کس سے ہے، لہٰذا یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ یہوؔواہ اعلیٰ صاحبِاختیار ہے؟
اختیارکو خالق ہونے کے رُتبے کے ساتھ منسلک کِیا گیا ہے۔ لفظ ”اختیار“ کا تعلق لفظ ”مُخترِع“ سے ہے جس کا مطلب ہے ”وہ جو شروع کرتا، تخلیق کرتا، یا وجود میں لاتا ہے۔“ سب سے اعلیٰوبالا ہستی، جس نے جاندار اور بےجان تمام مخلوق کو وجود عطا کِیا، یہوؔواہ خدا ہے۔ وہی ناقابلِانکار طور پر سب سے اعلیٰوبالا صاحبِاختیار ہے۔ سچے مسیحی آسمانی مخلوقات کے احساسات میں شریک ہوتے ہیں جو بلند آواز سے کہتی ہیں: ”اَے ہمارے خداوند اور خدا تُو ہی تمجید اور عزت اور قدرت کے لائق ہے کیونکہ تُو ہی نے سب چیزیں پیدا کیں اور وہ تیری ہی مرضی سے تھیں اور پیدا ہوئیں۔“—مکاشفہ ۴:۱۱۔
۲. ایک طرح سے ابتدائی انسانی حکمرانوں نے کیسے یہ تسلیم کِیا کہ اُنہیں ساتھی انسانوں پر حکومت کرنے کا کوئی قدرتی حق حاصل نہیں تھا اور یسوؔع نے پُنطیُس پیلاؔطُس کو کیا بتایا؟
۲ یہ سادہ سی حقیقت کہ بہتیرے ابتدائی انسانی حکمرانوں نے کوئی دیوتا ہونے یا کسی دیوتا کے نمائندے ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنے اختیار کو جائز قرار دینے کی کوشش کی اس بات کا درپردہ اعتراف تھا کہ کوئی بھی انسان دیگر انسانوں پر حکومت کرنے کا پیدائشی حق نہیں رکھتا۔a (یرمیاہ ۱۰:۲۳) جائز اختیار کا واحد ماخذ یہوؔواہ خدا ہے۔ مسیح نے یہوؔدیہ کے رومی گورنر، پُنطیُس پیلاؔطُس کو بتایا: ”اگر تجھے اُوپر سے نہ دیا جاتا تو تیرا مجھ پر کچھ اِختیار نہ ہوتا۔“—یوحنا ۱۹:۱۱۔
”کوئی صاحبِاختیار ایسا نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو“
۳. پولسؔ رسول نے ”اعلیٰ اصحابِاختیار“ کے سلسلے میں کیا بیان کِیا اور یسوؔع اور پولسؔ کے بیانات کونسے سوال کھڑے کرتے ہیں؟
۳ رومی سلطنت کے زیرِتسلط رہنے والے مسیحیوں کو پولسؔ رسول نے لکھا: ”ہر ایک جان اعلیٰ اصحابِاختیار کے تابع رہے، کیونکہ کوئی ایسا صاحبِاختیار نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو؛ موجودہ اصحابِاختیار خدا کی طرف سے اپنے نسبتی مرتبوں پر فائز کئے گئے ہیں۔“ (رومیوں ۱۳:۱، اینڈبلیو) اس سے یسوؔع کی کیا مراد تھی جب اُس نے بیان کِیا کہ پیلاؔطُس کا اختیار اُسے ”اُوپر سے“ دیا گیا تھا؟ اور کس لحاظ سے پولسؔ نے یہ سمجھا کہ اس کے زمانے کے سیاسی اصحابِاختیار خدا کی طرف سے اپنے مرتبوں پر فائز کئے گئے تھے؟ کیا اُنکا یہ مطلب تھا کہ اس دنیا کے ہر ایک سیاسی حکمران کی تقرری کے لئے یہوؔواہ ذاتی طور پر ذمہدار ہے؟
۴. یسوؔع اور پولسؔ نے شیطان کو کیا نام دئے اور یسوؔع نے شیطان کے کس دعوے سے انکار نہ کیا؟
۴ یہ کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ یسوؔع نے شیطان کو ”دنیا کا سردار“ کہا اور پولسؔ رسول نے اُسے ”اس جہان کے خدا“ کا نام دیا؟ (یوحنا ۱۲:۳۱؛ ۱۶:۱۱؛ ۲-کرنتھیوں ۴:۴) علاوہازیں، یسوؔع کو آزماتے وقت، شیطان نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے اُسے ”دنیا کی سب [سلطنتوں]“ پر ”اختیار“ رکھنے کی پیشکش کی کہ یہ اختیار اُسکے سپرد کر دیا گیا ہے۔ یسوؔع نے اُس کی پیشکش کو تو مسترد کر دیا مگر اس بات سے انکار نہ کِیا کہ کسی دوسرے کو دینے کیلئے ایسا اختیار شیطان کے ہاتھ میں تھا۔—لوقا ۴:۵-۸۔
۵. (ا) انسانی اختیار کی بابت یسوؔع اور پولسؔ کے الفاظ کو ہمیں کسطرح سمجھنا چاہئے؟ (ب) کس مفہوم میں اعلیٰ اصحابِاختیار ”خدا کی طرف سے اپنے نسبتی مرتبوں پر فائز کئے گئے ہیں“؟
۵ یہوؔواہ نے اسطرح سے اس دنیا کی حکمرانی کو شیطان کے سپرد کر دیا کہ اُس نے اُس کی بغاوت کے بعد اور اُس کے آدؔم اور حوؔا کو ورغلانے اور اُن سے اُس [یہوؔواہ] کی حکمرانی کے خلاف بغاوت کرانے کے بعد اُسے زندہ رہنے کی اجازت دیدی۔ (پیدایش ۳:۱-۶؛ مقابلہ کریں خروج ۹:۱۵، ۱۶۔) اس لئے، پھر یسوؔع اور پولسؔ کے الفاظ کا لازماً یہ مطلب ہے کہ باغِعدن میں پہلے انسانی جوڑے کی طرف سے تھیوکریسی یا خدائی حکمرانی کو رد کرنے کے بعد یہوؔواہ نے دغاباز انسانوں کو ایسے حکومتی ڈھانچے تشکیل دینے کی چھوٹ دیدی جو اُنہیں ایک منظم معاشرے میں زندگی بسر کرنے کا موقع دینگے۔ بعضاوقات، اپنے مقصد کو پورا کرنے کی غرض سے، یہوؔواہ کچھ حکمرانوں یا حکومتوں کے زوال کا موجب بھی بنا۔ (دانیایل ۲:۱۹-۲۱) دیگر کو اُس نے برسرِاقتدار رہنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ان حکمرانوں کی بابت جن کے وجود کو یہوؔواہ برداشت کرتا ہے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ”خدا کی طرف سے اپنے نسبتی مرتبوں پر فائز کئے گئے ہیں۔“
ابتدائی مسیحی اور رومی اصحابِاختیار
۶. ابتدائی مسیحی رومی اصحابِاختیار کو کیسا خیال کرتے تھے اور کیوں؟
۶ ابتدائی مسیحی ایسے یہودی فرقوں کے ساتھ ملکر فوجوں میں شامل نہ ہوئے جنہوں نے اسرؔائیل پر قابض رومیوں کے خلاف سازش اور جنگ کی۔ جس حد تک کہ رومی اصحابِاختیار نے اپنے مدوّن قانونی ضابطے کے ذریعے بحروبر پر نظمونسق کو برقرار رکھا، بہت سی فائدہمند پکی محرابی نہریں، سڑکیں، اور پُل تعمیر کئے اور عموماً باہمی فلاحوبہبود کے لئے کام کیا، مسیحیوں نے اُنہیں ’اپنی بہتری کی خاطر اپنے لئے خدا کا خادم [یا، ”نوکر،“ فٹنوٹ]‘ سمجھا۔ (رومیوں ۱۳:۳، ۴، اینڈبلیو) نظمونسق نے ایسا ماحول پیدا کر دیا جس نے مسیحیوں کو یسوؔع کے حکم کے مطابق دُور دراز تک خوشخبری کی منادی کرنے کے قابل بنایا۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) وہ صاف ضمیر کے ساتھ رومیوں کی طرف سے عائد کردہ ٹیکس ادا کر سکتے تھے اگرچہ کچھ پیسہ ایسے مقاصد کے لئے بھی استعمال کِیا جاتا تھا جنکو خدا کی منظوری حاصل نہ تھی۔—رومیوں ۱۳:۵-۷۔
۷، ۸. (ا) رومیوں ۱۳:۱-۷ کا محتاط مطالعہ کیا آشکارا کرتا ہے اور سیاقوسباق کیا واضح کرتا ہے؟ (ب) کن حالات کے تحت رومی اصحابِاختیار نے ”خدا [کے] خادم“ کے طور پر کام نہ کِیا اور اس معاملے میں ابتدائی مسیحیوں نے کونسا رویہ اپنایا؟
۷ رومیوں ۱۳باب کی پہلی سات آیات (اینڈبلیو) کا محتاط مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی ”اعلیٰ اصحابِاختیار“ نیکی کرنے والوں کی تعریف کرنے اور بدی کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے ”خدا [کے] خادم“ تھے۔ سیاقوسباق ظاہر کرتا ہے کہ یہ فیصلہ خدا کرتا ہے، نہ کہ اعلیٰ اصحابِاختیار، کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا ہے۔ اس لئے، اگر رومی شہنشاہ یا کسی دوسرے سیاسی صاحبِاختیار نے ایسی چیزوں کا تقاضا کِیا جنکو خدا نے ممنوع قرار دے رکھا تھا یا اس کے برعکس، اُن چیزوں سے منع کِیا جنکا تقاضا خدا نے کِیا تھا تو پھر اُس نے خدا کے خادم کے طور پر کام نہ کِیا۔ یسوؔع نے بیان کِیا تھا: ”جو قیصرؔ کا ہے قیصرؔ کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔“ (متی ۲۲:۲۱) اگر رومی ریاست نے اُن چیزوں کا تقاضا کِیا جو خدا کی ملکیت تھیں جیسے کہ پرستش یا کسی شخص کی زندگی تو سچے مسیحیوں نے رسولی مشورت کی پیروی کی: ”ہم پر انسانوں کی نسبت حکمران کے طور پر خدا کی فرمانبرداری کرنا لازم ہے۔“—اعمال ۵:۲۹، اینڈبلیو۔
۸ شہنشاہ کی پرستش اور بُتپرستی کرنے، اپنے مسیحی اجلاسوں کو چھوڑ دینے اور خوشخبری کی منادی بند کر دینے سے ابتدائی مسیحیوں کا انکار اذیت لے آیا۔ عام طور پر یہ یقین کِیا جاتا ہے کہ پولسؔ کو شہنشاہ نیرؔو کے حکم پر سزا دی گئی تھی۔ دیگر نمایاں شہنشاہوں، ڈؔومیشیگُنکُتا، مارکسؔ اُریلؔیس، سؔیپٹِمیس، سوؔیرس، ڈؔیسائیس، اور ڈائیوکلؔیشن نے بھی ابتدائی مسیحیوں کو اذیت پہنچائی تھی۔ جب ان شہنشاہوں اور ان کے ماتحت اصحابِاختیار نے مسیحیوں کو اذیت دی تو وہ یقیناً ”خدا [کے] خادم“ کے طور پر کام نہیں کر رہے تھے۔
۹. (ا) اعلیٰ سیاسی اصحابِاختیار کی بابت کیا بات سچی رہتی ہے اور سیاسی حیوان کس سے قوت اور اقتدار حاصل کرتا ہے؟ (ب) اعلیٰ اختیار کے لئے مسیحیوں کی تابعداری کی بابت منطقی طور پر کیا کہا جا سکتا ہے؟
۹ یہ سب اس بات کی وضاحت کرنے کا کام دیتا ہے کہ اگرچہ سیاسی اعلیٰ اصحابِاختیار بعض پہلوؤں سے ایک منظم انسانی معاشرے کو برقرار رکھنے کے لئے ”خدا کے اِنتظام“ کے مطابق کام کرتے ہیں تو بھی وہ دنیاوی نظام کا حصہ ہی رہتے ہیں جسکا خدا شیطان ہے۔ (۱-یوحنا ۵:۱۹) وہ عالمگیر سیاسی تنظیم کے رکن ہیں جسکی نمائندگی مکاشفہ ۱۳:۱، ۲ کے ”حیوان“ سے کی گئی ہے۔ وہ حیوان اپنی قوت اور اختیار ”[بڑے] اژدہا“ شیطان یعنی ابلیس سے حاصل کرتا ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۹) لہٰذا، منطقی طور پر، ایسے اصحابِاختیار کے لئے مسیحیوں کی تابعداری نسبتی ہے، نہ کہ مطلق۔—مقابلہ کریں دانیایل ۳:۱۶-۱۸۔
صاحبِاختیار کیلئے مناسب احترام
۱۰، ۱۱. (ا) پولسؔ نے یہ کیسے ظاہر کیا کہ ہمیں بااختیار آدمیوں کے لئے احترام دکھانے والا ہونا چاہئے؟ (ب) کیسے اور کیوں ”بادشاہوں اور سب بڑے مرتبے والوں کے واسطے“ دعائیں کی جا سکتی ہیں؟
۱۰ تاہم، اسکا یہ مطلب نہیں کہ مسیحیوں کو اعلیٰ اصحابِاختیار کے لئے ایک گستاخ، سرکش رویہ اپنا لینا چاہئے۔ یہ سچ ہے کہ ان آدمیوں میں سے بہتیرے اپنی نجی یا اپنی عوامی زندگیوں میں بھی خاص طور پر احترام کے لائق نہیں ہیں۔ پھر بھی، رسولوں نے اپنے نمونے اور اپنی نصیحت کے ذریعے ظاہر کِیا کہ اختیار رکھنے والے آدمیوں کیساتھ عزت سے پیش آنا چاہئے۔ جب پولسؔ محرمات سے مباشرت کرنے والے بادشاہ ہیرؔودیس اگرپا دوئم کے سامنے حاضر ہوا تو اُس نے اُس سے واجب احترام کیساتھ بات کی۔—اعمال ۲۶:۲، ۳، ۲۵۔
۱۱ پولسؔ نے تو یہ بھی کہا تھا کہ دنیاوی اصحابِاختیار کا اپنی دعاؤں میں ذکر کرنا موزوں ہے، بالخصوص جب اُن سے ایسے فیصلے کرنے کی استدعا کی جاتی ہے جو ہماری زندگیوں اور مسیحی کارگزاریوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اُس نے لکھا: ”پس میں سب سے پہلے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ مناجاتیں اور دعائیں اور اِلتجائیں اور شکرگذاریاں سب آدمیوں کے لئے کی جائیں۔ بادشاہوں اور سب بڑے مرتبہ والوں کے واسطے اِسلئے کہ ہم کمال دینداری اور سنجیدگی سے امنوآرام کے ساتھ زندگی گذاریں۔ یہ ہمارے مُنجی خدا کے نزدیک عمدہ اور پسندیدہ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سب آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں۔“ (۱-تیمتھیس ۲:۱-۴) ایسے اصحابِاختیار کے لئے ہمارا مؤدبانہ رویہ اُن کی طرف سے ہمیں یہ اجازت دینے پر منتج ہو سکتا ہے کہ زیادہ آزادی کے ساتھ ”سب آدمیوں“ کو بچانے کی کوشش کرنے کیلئے اپنے کام کو جاری رکھیں۔
۱۲، ۱۳. (ا) اختیار کے سلسلے میں پطرؔس نے کونسی متوازن مشورت پیش کی؟ (ب) ہم ”نادان آدمیوں کی جہالت کی باتوں“ کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں جو یہوؔواہ کے گواہوں کے خلاف تعصب پیدا کرتے ہیں؟
۱۲ پطرؔس رسول نے لکھا: ”خداوند کی خاطر اِنسان کے ہر ایک اِنتظام کے تابع رہو۔ بادشاہ کے اِسلئے کہ وہ سب سے بزرگ ہے۔ اور حاکموں کے اِس لئے کہ وہ بدکاروں کی سزا اور نیکوکاروں کی تعریف کے لئے اُس کے بھیجے ہوئے ہیں۔ کیونکہ خدا کی یہ مرضی ہے کہ تم نیکی کرکے نادان آدمیوں کی جہالت کی باتوں کو بند کر دو۔ اور اپنے آپ کو آزاد جانو مگر اِس آزادی کو بدی کا پردہ نہ بناؤ بلکہ اپنے آپ کو خدا کے بندے جانو۔ سب کی عزت کرو۔ برداری سے محبت رکھو۔ خدا سے ڈرو۔ بادشاہ کی عزت کرو۔“ (۱-پطرس ۲:۱۳-۱۷) کیا ہی متوازن نصیحت! ہم اُس کے بندوں کے طور پر خدا ہی کی مکمل اطاعت کرنے کے پابند ہیں اور بدکاروں کو سزا دینے کیلئے بھیجے گئے سیاسی اصحابِاختیار کی نسبتی اور مؤدبانہ اطاعت کرتے ہیں۔
۱۳ یہ دیکھا گیا ہے کہ بہتیرے دنیاوی اصحابِاختیار یہوؔواہ کے گواہوں کی بابت نہایت عجیب غلطفہمیوں کا شکار ہیں۔ عام طور پر یہ اس لئے ہے کہ اُنہیں خدا کے لوگوں کے کینہپرور دشمنوں کے ذریعے غلط خبر دی گئی ہے۔ یا پھر یہ ہو سکتا ہے کہ جو کچھ وہ ہماری بابت جانتے ہیں وہ اُنہوں نے ذرائعابلاغ سے سیکھا ہے جو ہمیشہ اپنی خبررسانی میں غیرجانبدار نہیں ہوتے۔ بعضاوقات ہم اپنے مؤدبانہ رویے اور جہاں ممکن ہو وہاں اصحابِاختیار کو یہوؔواہ کے گواہوں کے کام اور اعتقادات کی بابت درست تفصیل مہیا کرنے سے اس تعصب کو ختم کر سکتے ہیں۔ مصروف اہلکاروں کے لئے بروشر جیہوواز وِٹنسز اِن دی ٹوینٹیتھ سنچری (یہوؔواہ کے گواہ بیسویں صدی میں) مختصر اور جامع وضاحت پیش کرتا ہے۔ مکمل معلومات کے لئے، اُنہیں جیہوواز وِٹنسز—پروکلیمرز آف گاڈز کنگڈم (یہوؔواہ کے گواہ—خدا کی بادشاہی کے مناد) کتاب دی جا سکتی ہے، ایک عمدہ آلہ جو مقامی اور قومی عوامی کتبخانوں کی کتابوں کی الماریوں میں خاص مقام کا مستحق ہے۔
مسیحی گھرانوں کے اندر اختیار
۱۴، ۱۵. (ا) ایک مسیحی گھرانے کے اندر اختیار کی بنیاد کیا ہے؟ (ب) مسیحی بیویوں کا اپنے شوہروں کی جانب کیسا رویہ ہونا چاہئے اور کیوں؟
۱۴ یہ صاف ظاہر ہے کہ اگر خدا کی طرف سے مسیحیوں سے دنیاوی اصحابِاختیار کے لئے واجب احترام دکھانے کا تقاضا کِیا گیا ہے تو پھر اسی طرح اُنہیں مسیحی گھرانوں کے اندر خدا کے قائمکردہ اختیار کے بندوبست کا احترام کرنا چاہئے۔ پولسؔ رسول نے یہوؔواہ کے لوگوں کے درمیان پائے جانیوالے سرداری کے اصول کی بڑے مختصر الفاظ میں خاکہکشی کی۔ اُس نے لکھا: ”پس میں تمہیں آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہر مرد کا سر مسیح اور عورت کا سر مرد اور مسیح کا سر خدا ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۱:۳) یہی تھیوکریسی یا خدائی حکمرانی کا اصول ہے۔ اس میں کیا کچھ شامل ہے؟
۱۵ تھیوکریسی کے لئے احترام گھر سے شروع ہوتا ہے۔ ایسی مسیحی بیوی تھیوکریٹک نہیں ہے جو اپنے شوہر—خواہ وہ ہمایمان ہے یا نہیں—کے اختیار کے لئے واجب احترام نہیں دکھاتی۔ پولسؔ نے مسیحیوں کو نصیحت کی: ”اور مسیح کے خوف سے ایک دوسرے کے تابع رہو۔ اَے بیویو! اپنے شوہروں کی اَیسی تابع رہو جیسے خداوند کی۔ کیونکہ شوہر بیوی کا سر ہے جیسے کہ مسیح کلیسیا کا سر ہے اور وہ خود بدن کا بچانے والا ہے۔ لیکن جیسے کلیسیا مسیح کے تابع ہے ویسے ہی بیویاں بھی ہر بات میں اپنے شوہروں کے تابع ہوں۔“ (افسیوں ۵:۲۱-۲۴) جیسے مسیحی مردوں کو مسیح کی سرداری کے تابع رہنا ہے ویسے ہی مسیحی عورتوں کو اپنے شوہروں کے خداداد اختیار کی تابعداری کرنے کی حکمت کو پہچاننا چاہئے۔ یہ اُن کے لئے گہری باطنی تسکین اور زیادہ اہم یہ کہ یہوؔواہ کی برکت لائے گا۔
۱۶، ۱۷. (ا) مسیحی گھرانوں میں پرورش پانے والے بچے اپنے آپ کو آجکل کے بہتیرے نوجوانوں سے کیسے فرق کر سکتے ہیں اور اُن کے پاس کونسا محرک ہے؟ (ب) آجکل کے نوجوانوں کے لئے یسوؔع ایک عمدہ نمونہ کیسے تھا اور اُن کی کیا کرنے کے لئے حوصلہافزائی کی گئی ہے؟
۱۶ تھیوکریٹک بچے اپنے والدین کے لئے مناسب احترام دکھا کر خوش ہیں۔ آخری ایام میں نوجوان نسل کی بابت یہ پیشینگوئی کی گئی تھی کہ وہ ”ماں باپ کے نافرمان“ ہونگے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱، ۲) لیکن مسیحی بچوں سے خدا کا کلام کہتا ہے: ”اَے فرزندو! ہر بات میں اپنے ماں باپ کے فرمانبردار رہو کیونکہ یہ خداوند میں پسندیدہ ہے۔“ (کلسیوں ۳:۲۰) ماں باپ کے اختیار کے لئے احترام یہوؔواہ کو شاد کرتا ہے اور اُس کی برکات لاتا ہے۔
۱۷ اس بات کو یسوؔع کے معاملے میں واضح کِیا گیا ہے۔ لوؔقا کا بیان کہتا ہے: ”وہ اُن کے [اپنے والدین کے] ساتھ روانہ ہوکر ناؔصرۃ میں آیا اور اُن کے تابع رہا . . . اور یسوؔع حکمت اور قدوقامت میں اور خدا اور انسان کی مقبولیت میں ترقی کرتا گیا۔“ (لوقا ۲:۵۱، ۵۲) یسوؔع اس وقت ۱۲سال کی عمر کا تھا اور یہاں پر استعمال ہونے والی یونانی فعل کی حالت زور دیتی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ”تابع رہا“۔ لہٰذا جب وہ اپنی جوانی کے برسوں میں داخل ہوا تو اُس کی اطاعت شعاری ختم نہ ہوئی۔ اگر آپ نوجوان لوگ روحانیت میں اور یہوؔواہ اور خداترس انسانوں کی مقبولیت میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنے گھر کے اندر اور باہر اختیار کے لئے احترام دکھائینگے۔
کلیسیا کے اندر اختیار
۱۸. مسیحی کلیسیا کا سر کون ہے اور اُس نے اختیار کس کے سپرد کِیا ہے؟
۱۸ مسیحی کلیسیا کے اندر نظموضبط کی ضرورت کی بابت بات کرتے ہوئے، پولسؔ نے لکھا: ”خدا ابتری کا نہیں بلکہ امن کا بانی ہے۔ . . . مگر سب باتیں شائستگی اور قرینہ کے ساتھ [یا ”نظمونسق کے مطابق،“ فٹنوٹ، اینڈبلیو] عمل میں آئیں۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۴:۳۳، ۴۰) تاکہ سب باتیں ایک منظم طریقے سے عمل میں آئیں، مسیحی کلیسیا کے سر یعنی مسیح نے اختیار وفادار انسانوں کو سونپ دیا ہے۔ ہم پڑھتے ہیں: ”اُسی نے بعض کو رسول اور بعض کو نبی اور بعض کو مبشر اور بعض کو چرواہا اور اُستاد بنا کر دے دیا۔ تاکہ مقدس لوگ کامل بنیں اور خدمتگذاری کا کام کِیا جائے . . . بلکہ محبت کے ساتھ سچائی پر قائم رہ کر اور اُس کے ساتھ جو سر ہے یعنی مسیح کے ساتھ پیوستہ ہوکر ہر طرح سے بڑھتے جائیں۔“—افسیوں ۴:۱۱، ۱۲، ۱۵۔
۱۹. (ا) اپنے سارے زمینی مال پر مسیح نے کس کو مقرر کِیا ہے اور اُس نے خاص اختیار کس کو بخشا ہے؟ (ب) مسیحی کلیسیا میں اختیار کی کونسی سپردگی واقع ہوتی ہے اور یہ ہم سے کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟
۱۹ خاتمے کے اس دور میں مسیح نے ”اپنے سارے مال“ یا زمین پر بادشاہتی مفادات کے اُوپر اجتماعی ”عقلمند اور دیانتدار نوکر“ کو مقرر کر دیا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) جیسا کہ پہلی صدی میں تھا، اس نوکر کی نمائندگی ممسوح مسیحی آدمیوں کی گورننگ باڈی کے ذریعے ہوتی ہے جنکو مسیح نے فیصلے کرنے اور دیگر لوگوں کو بطور نگہبانوں کے مقرر کرنے کا اختیار دیا ہے۔ (اعمال ۶:۲، ۳؛ ۱۵:۲) پھر، گورننگ باڈی برانچ کمیٹیوں کو، ڈسٹرکٹ اور سرکٹ اوورسئیروں اور تمام دنیا میں یہوؔواہ کے گواہوں کی ۷۳،۰۰۰ سے زائد کلیسیاؤں میں سے ہر ایک کے اندر بزرگوں کو اختیار سونپتی ہے۔ یہ تمام عقیدتمند مسیحی آدمی ہماری حمایت اور احترام کے مستحق ہیں۔—۱-تیمتھیس ۵:۱۷۔
۲۰. کونسی مثال یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہوؔواہ اُن سے ناراض ہوتا ہے جو بااختیار ساتھی مسیحیوں کے لئے احترام کی کمی دکھاتے ہیں؟
۲۰ مسیحی کلیسیا کے اندر اختیار رکھنے والوں کے لئے ہم جو احترام دکھانے کے پابند ہیں اُس کے سلسلے میں ایک دلچسپ موازنہ اُس تابعداری کے ساتھ کِیا جا سکتا ہے جو ہم دنیاوی اصحابِاختیار کے لئے ظاہر کرنے کے پابند ہیں۔ جب کوئی شخص خدا کے منظورشدہ کسی انسانی قانون کی خلافورزی کرتا ہے تو ”حاکم“ کی طرف سے دی گئی سزا دراصل ”بدکار“ پر خدا کے غضب کا ایک بالواسطہ اظہار ہوتا ہے۔ (رومیوں ۱۳:۳، ۴) اگر یہوؔواہ کسی شخص کے انسانی قوانین کو توڑنے اور دنیاوی اصحابِاختیار کے لئے مناسب احترام میں کمی رکھنے پر غصے ہوتا ہے تو پھر وہ اس پر کتنا زیادہ ناراض ہوگا اگر ایک مخصوصشدہ مسیحی بائبل کے اصولوں کی حقارت کرتا ہے اور اُن ساتھی مسیحیوں کے لئے جنہیں اختیار حاصل ہے بےادبی ظاہر کرتا ہے!
۲۱. کس صحیفائی نصیحت کی پیروی کرکے ہم خوش ہونگے اور اگلے مضمون میں کس چیز پر غور کیا جائے گا؟
۲۱ ایک سرکش یا خودمختار رویہ اپنانے سے خدا کی ناراضگی مول لینے کی بجائے ہم فلپیؔ کے مسیحیوں کے لئے پولسؔ کی نصیحت پر عمل کریں گے: ”پس اَے میرے عزیزو! جس طرح تم ہمیشہ سے فرمانبرداری کرتے آئے ہو اُسی طرح اب بھی نہ صرف میری حاضری میں بلکہ اِس سے بہت زیادہ میری غیرحاضری میں ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کا کام کئے جاؤ۔ کیونکہ جو تم میں نیت اور عمل دونوں کو اپنے نیک اِرادہ کو انجام دینے کے لئے پیدا کرتا ہے وہ خدا ہے۔ سب کام شکایت اور تکرار بغیر کِیا کرو۔ تاکہ تم بےعیب اور بھولے ہوکر ٹیڑھے اور کجرو لوگوں میں خدا کے بےنقص فرزند بنے رہو جنکے درمیان تم دنیا میں چراغوں کی طرح دکھائی دیتے ہو۔“ (فلپیوں ۲:۱۲-۱۵) موجودہ ٹیڑھی اور کجرو نسل کے برعکس جو اپنے اوپر اختیار کا بحران لے آئی ہے، یہوؔواہ کے لوگ بخوشی اختیار کے تابع رہتے ہیں۔ یوں وہ بڑے فائدے حاصل کرتے ہیں، جیسے کہ ہم اگلے مضمون میں دیکھیں گے۔ (۱۸ ۷/۱ w۹۴)
[فٹنوٹ]
a پچھلے مضمون کو دیکھیں۔
اعادے کے طور پر
▫ کون اعلیٰوبالا صاحبِاختیار ہے اور کیوں اُسی کا اختیار جائز ہے؟
▫ کس لحاظ سے اعلیٰ اصحابِاختیار ”خدا کی طرف سے اپنے نسبتی مرتبوں پر فائز کئے گئے ہیں“؟
▫ کس وقت اعلیٰ اصحابِاختیار ”خدا [کے] خادم“ نہیں رہتے؟
▫ مسیحی گھرانوں کے اندر اختیار کا کونسا انتظام موجود ہے؟
▫ مسیحی کلیسیا کے اندر اختیار کی کونسی سپردگی موجود ہے؟