پاک کلام سے سنہری باتیں | پیدایش 9-11
’تمام زمین پر ایک ہی زبان تھی‘
شہر بابل میں یہوواہ خدا نے نافرمان لوگوں کی زبان میں اِختلاف ڈال دیا اور اُنہیں ساری زمین پر اِدھر اُدھر بکھیر دیا۔ لیکن آج وہ سب قوموں، نسلوں اور زبانوں سے ایک بڑی بِھیڑ کو جمع کر کے اُن کے ”ہونٹ پاک“ کر رہا ہے ”تاکہ وہ سب [اُس] سے دُعا کریں اور ایک دل ہو کر اُس کی عبادت کریں۔“ (صفن 3:9؛ مکا 7:9) اِس آیت میں جس اِصطلاح کا ترجمہ ’پاک ہونٹ‘ کِیا گیا ہے، اُس کا مطلب پاک زبان ہے۔ یہ زبان یہوواہ اور اُس کے مقصد کے بارے میں سچائیاں ہیں جو بائبل میں درج ہیں۔
نئی زبان سیکھنے میں صرف لفظوں کو یاد کر لینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اِس میں نئی سوچ کو اپنانا بھی شامل ہوتا ہے۔ اِسی طرح جب ہم بائبل کی سچائیوں پر مبنی پاک زبان سیکھتے ہیں تو ہماری سوچ بدل جاتی ہے۔ (روم 12:2) یہ ایک جاری رہنے والا عمل ہے جس کے ذریعے خدا کے بندے متحد رہتے ہیں۔—1-کُر 1:10۔