حصہ ۱۱: واپسی ملاقاتیں کرنے میں نئے مبشر کی مدد کرنا
ترقیپسند بائبل مطالعے کرانا
۱ جب ایک بائبل طالبعلم منادی شروع کرتا ہے تو اُسے خوشخبری کیلئے اچھا جوابیعمل دکھانے والے لوگ ملتے ہیں۔ ہم نئے مبشر کی مؤثر واپسی ملاقاتیں کرنے اور کسی شخص کی دلچسپی بڑھانے میں کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
۲ واپسی ملاقات کی تیاری پہلی ملاقات سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ طالبعلم کو اس بات کی تحریک دیں کہ وہ جن لوگوں سے باتچیت کرتا ہے اُن میں حقیقی دلچسپی لے۔ (فل ۲:۴) اُسے یہ بھی سکھائیں کہ ہمیں صاحبِخانہ کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دینا چاہئے۔ جب وہ اپنی فکروں کا اظہار کرتا ہے تو اُسکی بات کو غور سے سننا چاہئے۔ اسکے علاوہ، جب کوئی شخص دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو اُسے ملاقات سے متعلق تمام معلومات کو اپنے پاس لکھ لینا چاہئے۔ یہ تمام باتیں اگلی ملاقاتوں کیلئے فائدہمند ہو سکتی ہیں۔
۳ واپسی ملاقات کی تیاری کرنا: طالبعلم سے کہیں کہ وہ تمام معلومات کی دُہرائی کرے جو اس نے پہلی ملاقات پر لکھی تھی۔ اُسے سکھائیں کہ وہ صاحبِخانہ کیلئے کوئی موزوں بادشاہتی پیغام منتخب کرے۔ (۱-کر ۹:۱۹-۲۳) اسکے بعد جن کتابوں سے ہم بائبل مطالعہ کراتے ہیں اُن میں سے کسی بائبل موضوع پر ملکر ایک مختصر پیغام تیار کریں۔ ایک سوال بھی تیار کریں جو باتچیت ختم کرتے وقت اُٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ سوال آئندہ ملاقات کی بنیاد ڈالنے کیلئے استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ طالبعلم کو یہ سکھائیں کہ وہ ہر ملاقات پر خدا کے کلام کی بابت صاحبِخانہ کے علم کو کیسے بڑھا سکتا ہے۔
۴ نئے مبشر کو ایک سادہ سا تعارف سکھانا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ صاحبِخانہ کو سلام کرنے کے بعد وہ یوں کہہ سکتا ہے: ”ہماری پچھلی ملاقات بہت اچھی رہی۔ آج مَیں اس موضوع پر مزید بائبل معلومات آپکے پاس لے کر آیا ہوں [موضوع کا ذکر کریں]۔“ آپ طالبعلم کو یہ بھی سکھا سکتے ہیں کہ جب خاندان کا کوئی دوسرا فرد دروازے پر آ جاتا ہے تو وہ کیا کہہ سکتا ہے۔
۵ واپسی ملاقات کرنے کو اپنا فرض سمجھیں: طالبعلم کو اس بات کی تحریک دیں کہ وہ دلچسپی رکھنے والے اشخاص سے جلدازجلد واپسی ملاقات کرے۔ لوگوں سے گھروں میں ملاقات کرنے کیلئے اُنکے پاس بار بار جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ طالبعلم کو واپسی ملاقات کا بندوبست بنانا سکھائیں اور وعدہ پورا کرنے میں اسکی مدد کریں۔ (متی ۵:۳۷) نئے مبشر کو سکھائیں کہ جب وہ بھیڑ خصلت لوگوں کی تلاش کرتا اور انکی دلچسپی بڑھاتا ہے تو اُسے مہربان اور پاسولحاظ دکھانے والا ہونا چاہئے۔—طط ۳:۲۔