حصہ ۹: طالبعلموں کو ہر موقع پر گواہی دینے کیلئے تیار کرنا
ترقیپسند بائبل مطالعے کرانا
۱ جب اندریاس اور فلپس کو یسوع کے مسیحا ہونے کا یقین ہو گیا تو اُنہوں نے بڑے جوش کیساتھ یہ خبر دوسروں کو سنائی۔ (یوح ۱:۴۰-۴۵) اسی طرح آجکل بھی بائبل طالبعلم سیکھی ہوئی باتوں کی بابت دوسروں کو بتانے کی تحریک پاتے ہیں۔ (۲-کر ۴:۱۳) ہم انہیں ہر موقع پر مؤثر گواہی دینے کیلئے کیسے تیار کر سکتے ہیں؟
۲ آپ اپنے طالبعلم سے پوچھ سکتے ہیں کہ آیا وہ بائبل سے سیکھی ہوئی باتوں کی بابت دوسروں سے باتچیت کرتا ہے۔ شاید وہ اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کو اپنے مطالعے میں بیٹھنے کی دعوت دے۔ اس سے پوچھیں کہ کیا کسی شخص نے ملازمت پر، سکول میں یا کسی واقفکار نے خوشخبری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یوں وہ گواہی دینے کے قابل ہو سکتا ہے۔ یہ بات سمجھنے میں اسکی مدد کریں کہ وہ یہوواہ خدا اور اسکے مقاصد کی بابت دوسروں سے بات کرتے وقت سمجھداری سے کام لے۔ تاہم، اُسے بااحترام اور مہربانہ طریقے سے ایسا کرنا چاہئے۔—کل ۴:۶؛ ۲-تیم ۲:۲۴، ۲۵۔
۳ اپنے اعتقادات کی بابت دوسروں سے باتچیت کریں: بائبل طالبعلموں کو یہ سکھانا بہت ضروری ہے کہ دوسروں سے اپنے اعتقادات کی بابت باتچیت کرتے وقت خدا کے کلام کا استعمال کریں۔ بائبل مطالعے کے دوران کچھ نکات کا انتخاب کریں اور طالبعلم سے پوچھیں: آپ اپنے خاندان کو یہ سچائی بتاتے وقت بائبل کو کیسے استعمال کریں گے؟ یا اپنے دوست کو سچائی کا ثبوت دیتے وقت بائبل کا کون سا صحیفہ استعمال کریں گے؟ اسکے جوابیعمل پر غور کرتے ہوئے اُسے بتائیں کہ وہ صحائف کو اپنی تعلیم کی بنیاد کیسے بنا سکتا ہے۔ (۲-تیم ۲:۱۵) ایسا کرنے سے آپ اپنے طالبعلم کو ہر موقع پر گواہی دینے کیلئے تیار کر رہے ہوں گے۔ یوں وہ کلیسیا کیساتھ ملکر منادی کرنے کے قابل بھی ہو جائے گا۔
۴ بائبل طالبعلم کو مخالفت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کرنا دانشمندانہ بات ہے۔ (متی ۱۰:۳۶؛ لو ۸:۱۳؛ ۲-تیم ۳:۱۲) جب لوگ یہوواہ کے گواہوں کے خلاف سوال اُٹھاتے یا تبصرے کرتے ہیں تو یہ طالبعلم کیلئے گواہی دینے کا اچھا موقع ہوتا ہے۔ بروشر یہوواہ کے گواہ کون ہیں؟—وہ کیا ایمان رکھتے ہیں؟ انہیں ”جواب“ دینے کیلئے تیار کر سکتا ہے۔ (۱-پطر ۳:۱۵) یہ بروشر نئے طالبعلم کو ایسی بہترین معلومات فراہم کرتا ہے جنہیں وہ اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کو بائبل معیاروں اور کارگزاریوں کو سمجھانے کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔