حصہ ۳: ترقیپسند بائبل مطالعے کرانا
صحائف کا مؤثر استعمال
۱ بائبل مطالعے کرانے کا ہمارا مقصد لوگوں کو خدا کے کلام کی تعلیمات کو سمجھنے میں مدد دینا ہے تاکہ وہ اسے قبول کرکے اپنی زندگیوں پر عائد کرنے سے ”شاگرد“ بنیں۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰؛ ۱-تھس ۲:۱۳) لہٰذا مطالعہ کراتے وقت ہمیں صحائف پر خاص توجہ دینی چاہئے۔ سب سے پہلے، طالبعلم کو اُسکی اپنی بائبل میں سے صحائف نکالنے کا طریقہ سکھانا مددگار ہو سکتا ہے۔ تاہم، ایسے اشخاص کو روحانی طور پر ترقی کرنے میں مدد دینے کیلئے ہم صحائف کا استعمال کیسے کر سکتے ہیں؟
۲ پڑھے جانے والے صحائف کا انتخاب کرنا: مطالعے پر جانے سے پہلے اپنی ذاتی تیاری کرتے وقت حوالہشُدہ صحائف کا زیرِبحث موضوع کیساتھ موازنہ کریں اور اُن صحائف کو منتخب کر لیں جنہیں آپ مطالعے کے دوران بائبل میں سے نکال کر ان پر گفتگو کرینگے۔ عام طور پر، ایسے حوالہجات کو پڑھنا اچھا ہوتا ہے جو ہمارے عقائد کی صحیفائی بنیاد ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے صحائف کو پڑھنا جو پسمنظر کی معلومات فراہم کرتے ہیں زیادہ ضروری نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں ہر طالبعلم کی ضرورت اور صورتحال کا خیال رکھا جانا چاہئے۔
۳ سوالات استعمال کرنا: صحیفے کی وضاحت کرنے کی بجائے طالبعلم سے پوچھیں کہ وہ اس آیت سے کیا سمجھتا ہے۔ اس کے لئے آپ مہارت کیساتھ سوالات استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر صحیفے کا اطلاق بالکل واضح ہے تو آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اس آیت کا پیراگراف سے کیا تعلق ہے۔ دیگر معاملات میں، کوئی خاص سوال یا کئی سوال طالبعلم کی درست نتیجہ اخذ کرنے میں راہنمائی کر سکتے ہیں۔ اگر مزید وضاحت کی ضرورت ہو تو طالبعلم کے ردِعمل کو دیکھتے ہوئے اسکا بندوبست کِیا جا سکتا ہے۔
۴ سادہ رکھیں: ایک ماہر تیرانداز کو نشانے پر تیر لگانے کیلئے اکثراوقات صرف ایک تیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک ماہر اُستاد کو اپنی بات سمجھانے کیلئے بہت زیادہ باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ معلومات کو سادہ اور واضح الفاظ میں درستی کیساتھ پیش کر سکتا ہے۔ بعضاوقات ہو سکتا ہے کہ کسی صحیفے کی درست سمجھ حاصل کرنے اور صحیح طور پر اسکی وضاحت کرنے کیلئے آپکو مسیحی مطبوعات سے تحقیق کرنی پڑے۔ (۲-تیم ۲:۱۵) لیکن بائبل مطالعے کے دوران ہر صحیفے کے ہر پہلو کی وضاحت کرنے سے گریز کریں۔ صرف زیرِبحث نکتے کو واضح کرنے کی کوشش کریں۔
۵ عملی اطلاق کریں: جب موزوں ہو تو طالبعلم کی یہ سمجھنے میں مدد کریں کہ بائبل آیات کا اُس پر کیسے اطلاق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب آپ کسی ایسے طالبعلم کیساتھ عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵ پر بات کرتے ہیں جو ابھی تک اجلاسوں پر حاضر نہیں ہوتا تو آپ اُسے کسی ایک اجلاس پر آنے کی دعوت دے سکتے اور اسکے متعلق بتا سکتے ہیں۔ مگر اُسے مجبور نہ کریں۔ یہوواہ کو خوش کرنے کیلئے ضروری قدم اُٹھانے کے سلسلے میں خدا کے کلام کو اسے تحریک دینے دیں۔—عبر ۴:۱۲۔
۶ جب ہم شاگرد بنانے کے حکم کو پورا کرتے ہیں تو دُعا ہے کہ ہم صحائف کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ”ایمان کے تابع“ رہنے کی تحریک دیں۔—روم ۱۶:۲۶۔
[Study Questions]
۱. بائبل مطالعے کراتے وقت ہمیں صحائف پر کیوں زور دینا چاہئے؟
۲. ہم اس بات کا فیصلہ کیسے کرینگے کہ ہمیں کونسی بائبل آیات پڑھنی اور اُن پر باتچیت کرنی چاہئے؟
۳. سوالات استعمال کرنے کا کیا فائدہ ہے اور ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟
۴. جو صحائف ہم پڑھتے ہیں کس حد تک اُنکی وضاحت کرنا ضروری ہوتا ہے؟
۵، ۶. ہم طالبعلموں کو خدا کے کلام کو اپنی زندگیوں میں عائد کرنے میں کیسے مدد دے سکتے ہیں لیکن ہمیں کس بات سے گریز کرنا چاہئے؟