کسی رشتہدار کے خارج ہونے کی صورت میں مسیحی وفاداری کا مظاہرہ کریں
۱ خاندانی افراد کا رشتہ بہت مضبوط ہوتا ہے۔ ایک مسیحی کو اُس وقت آزمائش کا سامنا ہو سکتا ہے جب بیاہتا ساتھی، بچہ، ماں یا باپ یا پھر کوئی قریبی رشتہدار خارج ہو جاتا ہے یا وہ خود اپنے آپ کو کلیسیا سے الگ کر لیتے ہیں۔ (متی ۱۰:۳۷) ایک وفادار مسیحی کو ایسے رشتہداروں کیساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟ اگر وہ شخص آپکے گھر میں رہتا ہے تو کیا برتاؤ میں فرق آنا چاہئے؟ سب سے پہلے، آئیے یہ دیکھیں کہ بائبل اس موضوع پر کیا کہتی ہے کیونکہ خارج ہونے والے یا خود کو الگ کرنے والے اشخاص پر اسکے اُصولوں کا یکساں اطلاق ہوتا ہے۔
۲ خارجشُدہ اشخاص کیساتھ کیسا برتاؤ کریں: خدا کا کلام مسیحیوں کو حکم دیتا ہے کہ کلیسیا سے خارج ہونے والے یا خود کو الگ کر لینے والے شخص کیساتھ رفاقت نہ رکھیں: ”اگر کوئی بھائی کہلا کر حرامکار یا لالچی یا بُتپرست یا گالی دینے والا یا شرابی یا ظالم ہو تو اُس سے صحبت نہ رکھو بلکہ ایسے کے ساتھ کھانا تک نہ کھانا۔ . . . اُس شریر آدمی کو اپنے درمیان سے نکال دو۔“ (۱-کر ۵:۱۱، ۱۳) متی ۱۸:۱۷ میں درج یسوع کے الفاظ بھی اس معاملے پر روشنی ڈالتے ہیں: ”اُسے [خارجشُدہ شخص کو] غیرقوم والے اور محصول لینے والے کے برابر جان۔“ یسوع کے سامعین اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ اُس زمانے کے یہودی غیرقوم والوں سے کسی قسم کا میلجول نہیں رکھتے تھے اور محصول لینے والوں کو حقیر جانتے تھے۔ پس یسوع اپنے پیروکاروں کو خارجشُدہ اشخاص کیساتھ رفاقت نہ رکھنے کی ہدایت کر رہا تھا۔—دیکھیں مینارِنگہبانی جون ۱۹۸۲، صفحہ ۷-۱۰۔
۳ اسکا مطلب ہے کہ وفادار مسیحی کلیسیا سے خارج ہونے والے کسی بھی شخص کیساتھ روحانی رفاقت نہیں رکھیں گے۔ مگر اس میں اَور کچھ بھی شامل ہے۔ خدا کا کلام بیان کرتا ہے کہ ہمیں ’ایسے شخص کیساتھ کھانا تک نہیں کھانا چاہئے۔‘ (۱-کر ۵:۱۱) لہٰذا ہمیں خارجشُدہ شخص کیساتھ سماجی میلجول سے بھی گریز کرنا چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم نہ تو اُسکے ساتھ پکنک، پارٹی، کھیلکود، بازار یا تھیٹر جا سکتے ہیں اور نہ ہی اُسکے ساتھ گھر میں یا ریسٹورانٹ میں کھانا کھا سکتے ہیں۔
۴ خارجشُدہ شخص کیساتھ باتچیت کرنے کی بابت کیا ہے؟ اگرچہ بائبل ہر ممکنہ صورتحال کو تو زیرِبحث نہیں لاتی توبھی، ۲-یوحنا ۱۰ ہمیں اس معاملے میں یہوواہ کے نقطۂنظر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے: ”اگر کوئی تمہارے پاس آئے اور یہ تعلیم نہ دے تو نہ اُسے گھر میں آنے دو اور نہ سلام کرو۔“ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے، جون ۱۹۸۲ کا مینارِنگہبانی صفحہ ۱۵ پر بیان کرتا ہے: ”کسی کے لئے ایک معمولی سا ’ہیلو‘ پہلا قدم ہو سکتا ہے جو اس کیساتھ باتچیت یا یہاں تک کہ دوستی کو بڑھاتا ہے۔ کیا ہم یہ پہلا قدم خارجشُدہ شخص کی طرف اُٹھانا چاہینگے؟“
۵ بِلاشُبہ مینارِنگہبانی کے اسی شمارے کا صفحہ ۲۳ یوں بیان کرتا ہے: ”یہ حقیقت ہے کہ جب ایک مسیحی اپنے آپ کو گناہ میں ڈال لیتا ہے اور ضرور ہے کہ اُسے خارج کر دیا جائے تو وہ بہت کچھ کھو دیتا ہے: خدا کیساتھ ایک مقبول رشتہ؛ . . . بھائیوں کیساتھ پسندیدہ بھائیچارہ، جس میں وہ رفاقت بھی شامل ہے جو اُسے مسیحی رشتہداروں کیساتھ حاصل تھی۔“
۶ خاندان میں رہنے والا فرد: کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ خارجشُدہ شخص کیساتھ ایک ہی خاندان میں رہنے والے مسیحی اپنی روزمرّہ زندگی کے معمول میں اُس کیساتھ باتچیت کرنا، کھاناپینا اور رفاقت رکھنا بند کر دینگے؟ اکتوبر ۱۹۹۱ کے مینارِنگہبانی کے صفحہ ۱۶ کا فٹنوٹ بیان کرتا ہے: ”اگر ایک مسیحی گھرانے میں ایک خارجشُدہ رشتہدار رہتا ہے تو وہ شخص ہنوز روزمرّہ کے عام خاندانی معاملات اور کامکاج کا حصہ ہوگا۔“ پس خاندان کے افراد یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ خارجشدہ شخص کس حد تک کھانےپینے یا گھر کے دیگر معاملات میں شامل ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ اُن بھائیوں کو یہ تاثر نہیں دینا چاہینگے کہ سب کچھ اُسکے خارج ہونے سے پہلے کی طرح ہی ہے۔
۷ تاہم، جون ۱۹۸۲ کا مینارِنگہبانی صفحہ ۲۰ پر خارجشُدہ یا الگ ہو جانے والے شخص کی بابت بیان کرتا ہے: ”سابقہ روحانی رشتے مکمل طور پر منقطع ہو جاتے ہیں۔ یہ بات اُسکے رشتہداروں پر بھی صادق آتی ہے جن میں اُس کے گھرانے کے قریبی ممبر بھی شامل ہیں۔ . . . اس کا مطلب یہ ہوگا کہ روحانی رفاقت میں تبدیلیاں آ جائیں گی جو گھر کے اندر پہلے پائی جاتی تھی۔ مثلاً، اگر شوہر خارج کر دیا گیا ہے تو اُسکی بیوی اور بچے اُس کے ساتھ خاندانی بائبل مطالعہ کرنے یا اُس کے بائبل پڑھنے یا دُعا میں راہنمائی کرنے سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ اگر وہ کھانے کے موقع پر دُعا کرنا چاہتا ہے تو اپنے گھر کے اندر ایسا کرنا اُس کا حق ہے۔ لیکن وہ خاموشی سے خدا سے اپنی ذاتی دُعا کر سکتے ہیں۔ (امثا ۲۸:۹؛ زبور ۱۱۹:۱۴۵، ۱۴۶) اگر خارجشُدہ شخص یہ چاہتا ہے کہ اُس وقت وہ گھر میں موجود رہے جب اہلِخانہ مل کر بائبل پڑھتے یا بائبل مطالعہ کرتے ہیں تو پھر کیا ہو؟ خاندان کے دیگر افراد اُسے محض سننے کیلئے شریک ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں لیکن وہ اُن کو تعلیم دینے یا اُنہیں اپنے مذہبی خیالات میں شریک کرنے کی کوشش نہیں کریگا۔“
۸ اگر گھر میں رہنے والا ایک نابالغ بچہ خارج ہو جاتا ہے تو مسیحی والدین پھر بھی اُس کی پرورش کرنے کے ذمہدار ہیں۔ جون ۱۹۸۹ کا مینارِنگہبانی صفحہ ۲۲ پر بیان کرتا ہے: ”جیسے وہ اُسے روٹی کپڑا اور مکان مہیا کرتے رہینگے، ویسے ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اُسے خدا کے کلام کی مطابقت میں تعلیموتربیت دیں اور تنبیہ کریں۔ (امثا ۶:۲۰-۲۲؛ ۲۹:۱۷) اگرچہ اُسے خارج کر دیا گیا ہے توبھی شفیق والدین اُسکے ساتھ گھریلو بائبل مطالعے کا انتظام کرینگے۔ ممکن ہے کہ وہ صرف اُسی کیساتھ کئے جانے والے بائبل مطالعے سے بکثرت اصلاحی فائدہ اُٹھائے گا۔ یا شاید وہ فیصلہ کریں کہ وہ گھریلو بائبل مطالعہ کے انتظام میں شریک ہونا جاری رکھ سکتا ہے۔“—نیز یکم اکتوبر، ۲۰۰۱ کے مینارِنگہبانی کے صفحہ ۱۶، ۱۷ کو بھی دیکھیں۔
۹ رشتہدار جو گھر میں نہیں رہتے: اکتوبر ۱۹۸۸ کا مینارِنگہبانی صفحہ ۲۸ پر بیان کرتا ہے: ”ایسی صورتحال میں بات فرق ہو جاتی ہے اگر خارجشُدہ یا الگ ہو جانے والا شخص قریبی خاندانی دائرے اور گھر کے باہر رہتا ہے تو اس صورت میں یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ اس رشتہدار کیساتھ بالکل رابطہ نہ رکھا جائے۔ اگر کچھ خاندانی معاملات کی وجہ سے رابطہ ناگزیر ہو بھی تو اسے یقیناً کم سے کم رکھا جائیگا،“ جو اِس خدائی اُصول کے مطابق ہوگا کہ غیرتائب گنہگار کیساتھ ”صحبت نہ“ رکھنا۔ (۱-کر ۵:۱۱) وفادار مسیحیوں کو ایسے رشتہدار کیساتھ غیرضروری رفاقت سے گریز کرنے کی کوشش کرنی چاہئے حتیٰکہ کاروباری معاملات میں بھی کم سے کم رابطہ رکھنا چاہئے۔—نیز جون ۱۹۸۲ کے مینارِنگہبانی کے صفحہ ۲۲، ۲۳ کو دیکھیں۔
۱۰ مینارِنگہبانی ایک اَور طرح کی صورتحال پر بھی بات کرتا ہے: ”لیکن اگر ایک قریبی رشتہدار، بیٹا یا پھر ماں یا باپ جو گھر کے اندر نہیں رہتا تھا اور اُسے خارج کر دیا گیا ہے لیکن اب وہ آخرکار گھر آنا چاہتا ہے تو پھر کیا ہو؟ اہلِخانہ صورتحال کے مطابق یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کیا کِیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر، ہو سکتا ہے کہ خارجشُدہ باپ یا ماں بیمار ہو یا وہ اس قابل نہیں کہ اپنی مالی یا جسمانی ضروریات پوری کر سکے۔ صحائف کی رو سے مسیحی بچوں کا یہ اخلاقی فرض ہے کہ اُسکی مدد کریں۔ (۱-تیم ۵:۸) جوکچھ بھی کِیا جاتا ہے اسکا انحصار ماں یا باپ کی مناسب ضروریات یا اُسکے رُجحان یا احترام پر ہو سکتا ہے جو وہ گھرانے کے سردار کی روحانی بہبود کیلئے رکھتا ہے۔“—جون ۱۹۸۲ کے مینارِنگہبانی کے صفحہ ۲۱ کو دیکھیں۔
۱۱ جہاں تک بچے کا تعلق ہے تو وہی مضمون مزید بیان کرتا ہے: ”بعضاوقات مسیحی والدین اُس خارجشُدہ بچے کو فیالحال گھر میں واپس قبول کر لیتے ہیں جو جسمانی یا نفسیاتی طور پر بیمار ہے۔ لیکن ہر معاملے میں والدین اُس کے حالات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ کیا خارجشُدہ بچہ پہلے علیٰحدہ رہ کر اپنی ضروریات پوری کرتا تھا مگر اب وہ ایسا کرنے کے قابل نہیں ہے؟ یا کیا وہ خصوصاً اس لئے واپس آنا چاہتا ہے کہ یہ آسان زندگی ہوگی؟ اُسکا اخلاق اور رویہ کیسا ہے؟ کیا وہ گھر کے اندر ’خمیر‘ لے آئیگا؟—گل ۵:۹۔“
۱۲ یہوواہ کا وفادار رہنے کے فوائد: خارج ہونے اور غیرتائب خطاکاروں کی مذمت کرنے کی بابت صحیفائی بندوبست سے تعاون کرنا مفید ہے۔ یہ کلیسیا کی پاکیزگی کو محفوظ رکھتا اور ہمیں بائبل کے اعلیٰ اخلاقی معیاروں کے علمبرداروں کے طور پر پیش کرتا ہے۔ (۱-پطر ۱:۱۴-۱۶) یہ ہمیں تباہکُن اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ (گل ۵:۷-۹) یہ خطاکار کو حاصل ہونے والی تنبیہ سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے قابل بنائیگا جو کہ اُسے ”چین کیساتھ راستبازی کا پھل“ پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔—عبر ۱۲:۱۱۔
۱۳ ایک سرکٹ اسمبلی پر تقریر سننے کے بعد ایک بھائی اور اُسکی بہن نے محسوس کِیا کہ جس طرح وہ چھ سال سے اپنی خارجشُدہ والدہ سے جو کہ دوسری جگہ رہتی تھی اور خارجشُدہ تھی پیش آ رہے ہیں اُنہیں اس میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اسمبلی کے فوراً بعد، اس شخص نے اپنی والدہ کو فون کِیا اور اپنی محبت کا یقین دلانے کے بعد واضح کِیا کہ وہ رابطے کے حامل اہم خاندانی معاملات کے علاوہ اُس کے ساتھ بات نہیں کر سکتے۔ کچھ ہی عرصہ بعد، اُس کی والدہ نے اجلاسوں پر آنا شروع کر دیا اور انجامکار بحال ہو گئی۔ نیز اُسکے بےایمان شوہر نے بھی مطالعہ شروع کر دیا اور کچھ عرصہ بعد بپتسمہ لے لیا۔
۱۴ صحائف میں درج ہدایات کے مطابق خارج کرنے کے بندوبست کی وفاداری کیساتھ قدر کرنا یہوواہ کیلئے ہماری محبت کو ظاہر کرتا اور اُس پر ملامت کرنے والے کو جواب فراہم کرتا ہے۔ (امثا ۲۷:۱۱) اس کے عوض ہم یہوواہ کی برکات کا یقین رکھ سکتے ہیں۔ بادشاہ داؤد نے یہوواہ کی بابت لکھا: ”مَیں اُسکے آئین سے برگشتہ نہ ہوا۔ رحم دل کے ساتھ تو رحیم ہوگا۔“—۲-سمو ۲۲:۲۳، ۲۶۔
[Study Questions]
۱. کونسی صورتحال ایک مسیحی کی وفاداری کیلئے آزمائش بن سکتی ہے؟
۲. بائبل کے مطابق، مسیحیوں کو کلیسیا سے خارجشُدہ لوگوں کیساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟
۳، ۴. خارجشُدہ یا خود کو الگ کر لینے والے لوگوں کیساتھ کس قسم کی رفاقت منع ہے؟
۵. خارج ہونے کے بعد ایک شخص کیا کچھ کھو دیتا ہے؟
۶. کیا ایک مسیحی سے خاندان کیساتھ رہنے والے خارجشُدہ رشتہدار کیساتھ ہر طرح کا ناطہ توڑنے کا تقاضا کِیا جاتا ہے؟ واضح کریں۔
۷. جب خاندان کا کوئی فرد خارج ہو جاتا ہے تو روحانی رفاقت کیسے تبدیل ہو جاتی ہے؟
۸. گھر میں رہنے والے خارجشُدہ نابالغ بچے کی بابت مسیحی والدین کی کیا ذمہداری ہے؟
۹. ایک مسیحی کو خارجشُدہ رشتہدار کیساتھ جو اُنکے گھر میں نہیں رہتا کس حد تک رابطہ رکھنا چاہئے؟
۱۰، ۱۱. کسی خارجشُدہ شخص کو گھر واپس آنے کی اجازت دینے سے پہلے ایک مسیحی کس بات پر غور کریگا؟
۱۲. خارج کرنے کے بندوبست کے چند فوائد کیا ہیں؟
۱۳. ایک خاندان نے کونسی تبدیلی کی اور اسکا نتیجہ کیا نکلا؟
۱۴. ہمیں کیوں وفاداری کیساتھ خارج کرنے کے بندوبست کی حمایت کرنی چاہئے؟