اَے اولاد والو!—اپنے بچوں کی بچپن سے تربیت کریں
۱ ”لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے۔ وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مڑیگا۔“ (امثا ۲۲:۶) اگر والدین اپنے بچوں کو سچائی کی راہ سے ’مڑتے‘ ہوئے دیکھنا نہیں چاہتے توپھر اُنہیں تربیت کا آغاز کب کرنا چاہئے؟ بچپن ہی سے تربیت شروع کر دینی چاہئے!
۲ جب پولس نے بیان کِیا کہ تیمتھیس کو ”بچپن“ ہی سے روحانی تعلیم دی گئی تھی تو واضح طور پر اس کا مطلب شیرخوارگی سے تھا۔ (۲-تیم ۳:۱۴، ۱۵) نتیجتاً، تیمتھیس ایک بہت ہی عمدہ روحانی شخص بنا۔ (فل ۲:۱۹-۲۲) والدین کو ”بچپن“ ہی سے اپنے بچوں کی ایسی تربیت کرنی چاہئے جسکی اُنہیں ’یہوواہ کے حضور بڑھنے‘ کیلئے ضرورت ہے۔—۱-سمو ۲:۲۱۔
۳ اُنہیں افزائش کے لئے ضروری پانی فراہم کریں: جس طرح نوخیز پودوں کو مضبوط اور تناور درخت بننے کیلئے پانی درکار ہوتا ہے اُسی طرح تمام عمر کے بچوں کو خدا کے پُختہ خادم بننے کیلئے بائبل سچائی کے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ باقاعدہ خاندانی بائبل مطالعہ بچوں کو سچائی سکھانے اور یہوواہ کیساتھ قربت پیدا کرنے میں اُنہیں مدد دینے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ لیکن والدین کو ہر بچے کی توجہ کے دورانیے کا خیال رکھنا چاہئے۔ چھوٹے بچوں کو لمبے دورانیے کی نسبت اکثروبیشتر تھوڑےتھوڑے وقت کیلئے تربیت کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔—است ۱۱:۱۸، ۱۹۔
۴ اپنے بچے کی سیکھنے کی لیاقت کو کبھی بھی معمولی نہ سمجھیں۔ اُنہیں بائبل کرداروں کی کہانیاں سنائیں۔ اُن سے بائبل مناظر کی تصاویر بنوائیں یا بائبل واقعات کی منظرکشی کرائیں۔ بائبل ڈراموں سمیت اپنی ویڈیوز اور آڈیوکیسٹس کا مؤثر استعمال کریں۔ خاندانی مطالعے کو اپنے بچوں کی عمر اور سیکھنے کی صلاحیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیں۔ تھوڑیتھوڑی ابتدائی تربیت بنیادی کردار ادا کرے گی لیکن عمر کیساتھساتھ اُسکی تربیت وسیع اور ترقیپسندانہ ہونی چاہئے۔ بائبل پر مبنی ہدایتوتعلیم کو دلچسپ اور پُرجوش بنائیں۔ اپنے بچے کو کلام کا ”مشتاق“ بنانے کیلئے مطالعے کو زیادہ سے زیادہ دلچسپ بنانے کی کوشش کریں۔—۱-پطر ۲:۲۔
۵ اُنہیں کلیسیا میں مشغول رکھیں: اپنے بچوں کیلئے نصبالعین مقرر کریں تاکہ وہ کلیسیا میں مشغول ہو جائیں۔ اُنکا پہلا نشانہ کیا ہو سکتا ہے؟ دو بچوں کے والدین نے کہا: ”دونوں کو پہلے کنگڈم ہال میں خاموشی سے بیٹھنے کی تربیت دی گئی۔“ اس کے بعد بچوں کی اجلاس پر اپنے الفاظ میں جواب دینے کے لئے مدد کرنی چاہئے اور اُن کے سامنے تھیوکریٹک منسٹری سکول میں نام درج کرانے کا نشانہ رکھنا چاہئے۔ میدانی خدمت میں، کسی گھر پر ایک اشتہار پیش کرنے، کوئی صحیفہ پڑھنے، رسالہ پیش کرنے اور صاحبِخانہ کے ساتھ پُرمعنی گفتگو کرنے کے اچھے نصبالعین حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
۶ پُرجوش نمونہ فراہم کریں: کیا آپکے بچے آپ کو ہر روز یہوواہ کی بابت گفتگو کرتے ہوئے سنتے ہیں؟ کیا وہ آپکو خدا کے کلام کا مطالعہ کرتے، اجلاسوں پر حاضر ہوتے، میدانی خدمت میں جاتے اور خدا کی مرضی پوری کرنے میں خوشی حاصل کرتے ہوئے دیکھتے ہیں؟ (زبور ۴۰:۸) آپ سب کا ملکر یہ سارے کام کرنا نہایت اہم ہے۔ اپنے چھ بچوں کو وفادار گواہ بنانے والی ایک ماں کی جوان بیٹی نے کہا: ”اپنی امی کے نمونے سے ہم زیادہ اثرپذیر ہوئے تھے۔ اُس نے اپنے اقوال سے زیادہ اپنے افعال سے ہمیں تحریک دی۔“ چار بچوں کے باپ نے کہا: ”ہم کلام کی بجائے اعمال سے بھی اپنی زندگیوں میں یہوواہ کو پہلا درجہ دیتے ہیں۔“
۷ والدین کو اپنے بچوں کی تربیت جلدی شروع کر دینی چاہئے اور اُنہیں خدا کے کلام کی سچائی سکھانے اور اُن کے سامنے ترقیپسندانہ نصبالعین رکھنے کے علاوہ اچھا نمونہ بھی فراہم کرنا چاہئے۔ ایسا کرنے سے آپ کو بڑی خوشی حاصل ہوگی!