سوالی بکس
▪ ہمیں اجلاسوں پر کونسی چیزیں لے کر جانی چاہئیں؟
ہر ہفتے کلیسیائی اجلاسوں سے ہم مفید ہدایت اور حوصلہافزائی حاصل کرتے ہیں۔ (یسعیاہ ۴۸:۱۷؛ عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵) تاہم، ہم کس قدر مستفید ہوتے ہیں اس کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ آیا ہم اچھی تیاری کیساتھ آتے ہیں یا نہیں۔
خاندان کے ہر فرد کے لئے یہ اچھا ہوگا کہ اجلاس کے لئے درکار مطالعہ کا اپنا ذاتی مواد اور دوسری چیزیں رکھے۔ اس میں بائبل، گیت کی کتاب، مطالعہ کی جانے والی اشاعات، ایک نوٹبک اور پین یا پنسل شامل ہونگی۔
تھیوکریٹک منسٹری سکول کیلئے، تھیوکریٹک منسٹری سکول جدوَل اور تھیوکریٹک منسٹری سکول گائیڈ بُک درکار ہیں۔ یہ چیزیں ہمیں طالبعلموں کی پیش کی جانے والی تقاریر کے موضوع کو ذہن میں رکھنے اور سکول اوورسیئر کیساتھ ساتھ دیکھنے میں مدد دینگی جب وہ مشورہ دیتا ہے۔ اپنی ذاتی تقاریر اور میدانی خدمت کی پیشکشوں کو بہتر بنانے کیلئے ہم مشورت اور تجاویز کا ذاتی اطلاق کر سکتے ہیں۔ جنوری سے، زیادہتر ہدایتی تقاریر واحد خدائے برحق کی پرستش میں متحد پر مبنی ہیں۔ شاید خاندان کے ہر فرد کیلئے اپنی ذاتی کاپی لیجانا عملی نہ ہو؛ شاید ایک لائی جا سکتی ہے اس طرح حوالہ کیلئے یہ خاندان کے پاس دستیاب ہوگی۔
خدمتی اجلاس کیلئے، ہمیں حالیہ ہماری بادشاہتی خدمتگزاری اور ریزننگ بُک درکار ہیں۔ اجلاس کے دوران جس اشاعت کا حوالہ دیا جائیگا وہ بھی لے کر جائیں، جیسے لٹریچر جو مظاہرہ کی جانے والی پیشکشوں میں استعمال ہوگا۔ بزرگوں کے پاس آرگنائزڈ ٹو آکمپلش آور منسٹری کی کاپی بھی ہونی چاہئے۔
والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو خاموشی سے بٹھانے اور انکی توجہ کلیسیائی اجلاسوں پر رکھنے کی کوشش کریں۔ اس سے پیشتر کہ وہ پڑھنے کے قابل ہوں، انہیں مینارِنگہبانی اور دیگر اشاعتوں کی ذاتی کاپیاں فراہم کرنا، انہیں دلچسپی لینے کی حوصلہافزائی دیتا ہے۔ جب بچوں کو تھیوکریٹک اشاعتوں کا احترام کرنے اور انہیں استعمال کرنے کی تربیت دی جاتی ہے تو دائمی، عمدہ روحانی عادات تشکیل پاتی ہیں۔
جب ہم پوری طرح لیس ہو کر آتے ہیں تو جو خوشی اور اطمینان ہم کلیسیائی اجلاسوں سے حاصل کرتے ہیں وہ اَور زیادہ بڑھ جاتا ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۷) یہ اس بات کا یقین کر لینے کا بہترین طریقہ ہے کہ ہم ”کمال روحانی حکمت اور سمجھ کیساتھ [خدا] کی مرضی کے علم سے معمور“ ہیں۔—کلسیوں ۱:۹۔