یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م16 جنوری ص.‏ 3-‏6
  • اُنہوں نے اپنے آپ کو خوشی سے پیش کِیا—‏اوقیانوسیہ میں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اُنہوں نے اپنے آپ کو خوشی سے پیش کِیا—‏اوقیانوسیہ میں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • خاندان کے طور پر منصوبہ بنائیں
  • خاندان کے طور پر تیاری کریں
  • مل کر مشکلات سے نمٹیں
  • ‏”‏مجھے بہت خوشی ہے کہ ہم یہاں آئے“‏
  • اُنہوں نے اپنے آپ کو خوشی سے پیش کِیا—‏مغربی افریقہ میں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • نئی کلیسیا کے مطابق خود کو کیسے ڈھالیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • ‏’‏اب مجھے مُنادی کرنے میں مزہ آنے لگا ہے‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2021ء
  • عمدہ مثالوں سے سیکھنے کی وجہ سے مجھے بہت برکتیں ملیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
م16 جنوری ص.‏ 3-‏6
برنیٹ، سیمون، اسٹن اور کالب

برنیٹ، سیمون، اسٹن اور کالب

اُنہوں نے اپنے آپ کو خوشی سے پیش کِیا—‏اوقیانوسیہ میں

رینی کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور اُن کی عمر تقریباً 35 سال ہے۔ بچپن سے اُنہوں نے دیکھا کہ اُن کے والدین بڑی لگن سے خدا کی خدمت کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏ہم کئی بار ایسے علاقوں میں منتقل ہوئے جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت تھی۔ امی ابو کے ساتھ مختلف علاقوں میں خدمت کرنے میں مجھے بڑا مزہ آتا تھا۔ اب مَیں دو بچوں کی ماں ہوں اور مَیں چاہتی ہوں کہ میرے بچے بھی ویسی زندگی گزاریں جیسی مَیں نے گزاری ہے۔“‏

رینی کے شوہر شین کی عمر تقریباً 40 سال ہے۔ اُن کی بھی یہ خواہش ہے کہ وہ کسی ایسے علاقے میں جا کر خدمت کریں جہاں مبشروں کی تعداد کم ہے۔ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏ہمارے دوسرے بچے کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد ہم نے مینارِنگہبانی میں ایک ایسے خاندان کے بارے میں پڑھا جو اپنی کشتی میں ملک ٹونگا کے جزیروں میں مُنادی کا کام کرنے گیا۔‏a اِس مضمون کو پڑھنے کے بعد ہم نے آسٹریلیا اور نیو زی‌لینڈ کی برانچ کو خط لکھا اور اُن سے ایسے علاقوں کے بارے میں پوچھا جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت ہے۔‏b اِتفاق کی بات تھی کہ اُنہوں نے ہمیں ٹونگا جانے کے لیے کہا جس کے بارے میں ہم نے پڑھا تھا۔“‏

جیکب، رینی، سکائے اور شین

جیکب، رینی، سکائے اور شین

شین، رینی اور اُن کے بچوں جیکب اور سکائے کو ٹونگا میں رہتے ہوئے ابھی ایک سال ہی ہوا تھا کہ وہاں دنگے فساد شروع ہو گئے۔ اِس وجہ سے اُنہیں آسٹریلیا واپس آنا پڑا۔ مگر کسی اَور علاقے میں جا کر خدا کی خدمت کرنے کی اُن کی خواہش ماند نہیں پڑی۔ 2011ء میں وہ جزیرہ نورفوک منتقل ہو گئے جو آسٹریلیا کے مشرق میں 1500 کلومیٹر (‏900 میل)‏ کے فاصلے پر ہے۔ اُنہیں وہاں جا کر کیسا لگا؟ 14 سالہ جیکب نے بتایا:‏ ”‏ہمیں مُنادی کا کام کرنے میں بہت مزہ آیا۔ ہم نے دیکھا کہ یہوواہ خدا نے ہمارا بڑا خیال رکھا۔“‏

خاندان کے طور پر منصوبہ بنائیں

شین، رینی اور اُن کے بچوں کی طرح اَور بھی بہت سے یہوواہ کے گواہ ایسے علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں جہاں مبشروں کی تعداد کم ہے۔ اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟‏

‏”‏بہت سے لوگ ہمارے پیغام میں دلچسپی لیتے تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ اُن سب کو بائبل کورس کرنے کا موقع ملے۔“‏—‏برنیٹ

برنیٹ اور اُن کی بیوی سیمون کی عمر تقریباً 35 سال ہے۔ اُن کا بڑا بیٹا اسٹن 12 سال کا اور چھوٹا بیٹا کالب 9 سال کا ہے۔ وہ سب آسٹریلیا کی ریاست کوئنزلینڈ کے ایک دُوردراز قصبے، برک‌ٹاؤن منتقل ہو گئے۔ برنیٹ نے بتایا:‏ ”‏یہوواہ کے گواہ اِس علاقے میں تقریباً ہر چار سال بعد مُنادی کرنے جاتے تھے۔ بہت سے لوگ ہمارے پیغام میں دلچسپی لیتے تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ اُن سب کو بائبل کورس کرنے کا موقع ملے۔“‏

جم، جیک، مارک اور کیرن

جم، جیک، مارک اور کیرن

مارک اور کیرن کی عمر 55 سال کے لگ بھگ ہے۔ وہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے قریب واقع بہت سی کلیسیاؤں میں خدمت کر چکے ہیں۔ حال ہی میں وہ اور اُن کے بچے جیسی، جم اور جیک شمالی آسٹریلیا کے دُوردراز قصبے نولمبی منتقل ہوئے۔ مارک نے کہا:‏ ”‏مجھے لوگوں کی مدد کرنا پسند ہے اِس لیے مَیں ایسے علاقے میں خدمت کرنا چاہتا تھا جہاں مجھے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خوش‌خبری سنانے کا موقع ملے اور جہاں مَیں کلیسیا کے بہن بھائیوں کے لیے زیادہ کام کر سکوں۔“‏ لیکن کیرن وہاں منتقل ہونے سے ہچکچا رہی تھیں۔ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏مارک اور دوسرے بہن بھائیوں نے میری بڑی حوصلہ‌افزائی کی اِس لیے مَیں نے سوچا کہ جا کر دیکھنے میں کیا حرج ہے؟ مَیں خوش ہوں کہ مَیں نے ایسا کِیا۔“‏

بینجمن، جید، برِیا اور کیرولین

بینجمن، جید، برِیا اور کیرولین

سن 2011ء میں بینجمن اور کیرولین اپنی دو چھوٹی بیٹیوں جید اور برِیا کے ساتھ آسٹریلیا سے مشرقی تیمور منتقل ہو گئے جو اِنڈونیشیا کے نزدیک واقع ہے۔ بینجمن نے کہا:‏ ”‏مَیں اور کیرولین پہلے مشرقی تیمور میں خصوصی پہل‌کار کے طور پر خدمت کر چکے تھے۔ ہمیں یہاں خوش‌خبری سنانے سے بڑی خوشی ملی اور یہاں کے بہن بھائیوں نے ہماری بہت مدد کی۔ جب ہم یہاں سے جا رہے تھے تو ہم بہت دُکھی تھے۔ مگر ہم نے فیصلہ کِیا کہ ہم یہاں دوبارہ ضرور آئیں گے۔ پھر ہمارے دو بچے ہو گئے اور ہمیں اپنے اِس فیصلے کو ملتوی کرنا پڑا لیکن ہم نے اِسے بدلا نہیں۔“‏ کیرولین نے کہا:‏ ”‏ہم چاہتے تھے کہ ہمارے بچے مشنریوں، خصوصی پہل‌کاروں اور بیت‌ایل میں خدمت کرنے والے بہن بھائیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں اور اُن کی مثال سے سیکھیں۔“‏

خاندان کے طور پر تیاری کریں

یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں سے کہا:‏ ”‏تُم میں ایسا کون ہے کہ جب وہ ایک بُرج بنانا چاہے تو پہلے بیٹھ کر لاگت کا حساب نہ کر لے؟“‏ (‏لُو 14:‏28‏)‏ اِسی طرح ایک خاندان کو کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہونے سے پہلے اچھی طرح سوچ بچار کرنا چاہیے۔ اِس سلسلے میں کن باتوں کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے؟‏

روحانی طور پر اَور مضبوط بنیں۔‏ اِس حوالے سے بینجمن نے بتایا کہ ”‏ہم دوسروں کی خدمت کرنا چاہتے تھے اور اُن پر بوجھ نہیں بننا چاہتے تھے۔ اِس لیے مشرقی تیمور منتقل ہونے سے پہلے ہم نے خود کو روحانی طور پر اَور مضبوط بنایا۔ ہم مُنادی کے کام اور کلیسیا کی دیگر سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔“‏

جیکب جن کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے، اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جزیرہ نورفوک میں منتقل ہونے سے پہلے ہم نے مینارِنگہبانی اور جاگو!‏ میں بہت سے ایسے خاندانوں کی آپ‌بیتیاں پڑھیں جنہوں نے دوسرے علاقوں میں جا کر خدا کی خدمت کی۔ ہم نے اُن مسائل پر بھی بات‌چیت کی جن کا اُن خاندانوں کو سامنا ہوا اور اِس بات پر بھی غور کِیا کہ یہوواہ خدا نے اُن کی کیسے مدد کی۔“‏ 11 سالہ سکائے نے بتایا:‏ ”‏مَیں نے نورفوک جانے کے بارے میں بہت دُعا کی اور امی ابو نے بھی میرے ساتھ مل کر بہت دُعا کی۔“‏

مثبت سوچ اپنائیں۔‏ رینی نے کہا:‏ ”‏ہم اپنے رشتے‌داروں اور دوستوں کے قریب ایسے علاقے میں رہتے تھے جو مجھے بہت پسند تھا۔ ہم وہاں بہت خوش تھے۔ جب ہم نے وہاں سے منتقل ہونے کا فیصلہ کِیا تو مَیں نے اِس بات پر دھیان نہیں دیا کہ ہم کیا کچھ چھوڑ رہے ہیں بلکہ اِس بات پر دھیان دیا کہ ہمیں کتنے فائدے ہوں گے۔“‏

نئی ثقافت کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔‏ بہت سے بہن بھائی کسی نئے علاقے میں منتقل ہونے سے پہلے وہاں کی ثقافت اور ماحول کے بارے میں بہت تحقیق کرتے ہیں۔ اِس سلسلے میں مارک نے کہا:‏ ”‏ہم نے نولمبی کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کیں۔ وہاں کے بہن بھائیوں نے بھی ہمیں کچھ مقامی اخبار بھیجے جن سے ہمیں وہاں کی ثقافت اور رہن‌سہن کا اندازہ ہوا۔“‏

شین جو جزیرہ نورفوک منتقل ہو گئے تھے، اُنہوں نے بھی کہا:‏ ”‏مَیں نے مسیح جیسی خوبیاں ظاہر کرنے کی اَور زیادہ کوشش کی۔ مجھے معلوم تھا کہ اگر مَیں نرمی اور دیانت‌داری سے کام لوں گا اور محنت کروں گا تو مَیں ہر طرح کے ماحول میں ڈھل سکوں گا، پھر چاہے مَیں دُنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جاؤں۔“‏

مل کر مشکلات سے نمٹیں

جو بہن بھائی کامیابی سے کسی دوسرے علاقے میں خدمت کر رہے ہیں، وہ اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں مشکل صورتحال میں حالات کے مطابق ڈھلنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور اپنی سوچ کو مثبت رکھنا چاہیے۔ اِس سلسلے میں آئیں، کچھ مثالوں پر غور کریں۔‏

رینی نے کہا:‏ ”‏مَیں نے مسئلوں کے لیے فرق فرق حل نکالنا سیکھا۔ مثال کے طور پر جب جزیرہ نورفوک میں سمندری طوفان آتا ہے تو کھانے پینے کی اشیا لانے والے جہاز بندرگاہ پر پہنچ نہیں پاتے جس کی وجہ سے بازار میں چیزوں کی قلت ہو جاتی ہے اور اِن کے دام بڑھ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں میری کوشش ہوتی ہے کہ مَیں کھانا پکانے کے لیے ایسی چیزیں خریدوں جو زیادہ مہنگی نہ ہوں۔“‏ رینی کے شوہر شین نے کہا:‏ ”‏ہم اپنے ہفتہ‌وار بجٹ سے زیادہ پیسے خرچ نہیں کرتے ہیں۔“‏

اُن کے بیٹے جیکب کو ایک فرق مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس نے کہا:‏ ”‏ہماری نئی کلیسیا میں ہمارے علاوہ صرف سات بہن بھائی تھے۔ وہ سب مجھ سے بڑے تھے اِس لیے میرا ہم‌عمر دوست کوئی نہیں تھا۔ لیکن جب مَیں نے بہن بھائیوں کے ساتھ مُنادی کی تو میری اِن کے ساتھ دوستی ہو گئی۔“‏

جم جو اب 21 سال کے ہیں، اُن کو بھی اِسی طرح کے مسئلے کا سامنا ہوا۔ اُنہوں نے بتایا کہ ”‏نولمبی کی کلیسیا کی سب سے قریبی کلیسیا 725 کلومیٹر (‏تقریباً 450 میل)‏ کے فاصلے پر ہے۔ جب اِجتماع ہوتے ہیں تو ہم اِن پر جلدی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہم بہن بھائیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکیں۔ ایسے موقعے ہمیں پورا سال یاد رہتے ہیں۔“‏

‏”‏مجھے بہت خوشی ہے کہ ہم یہاں آئے“‏

بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ ہی کی برکت دولت بخشتی ہے۔“‏ (‏امثا 10:‏22‏)‏ ہمارے وہ بہن بھائی جو یہوواہ خدا کی خدمت کے لیے کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہو گئے ہیں، اُنہوں نے دیکھا ہے کہ بائبل کی یہ بات واقعی سچ ہے۔‏

مارک نے کہا:‏ ”‏ہمیں یہوواہ کی خدمت کے لیے کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہونے کی سب سے بڑی برکت یہ ملی ہے کہ ہمارے بچوں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔“‏ اُنہوں نے بتایا کہ ”‏ہمارے دو بڑے بچوں کو پورا یقین ہے کہ یہوواہ خدا اُن لوگوں کا خیال رکھتا ہے جو اُس کی خدمت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ایسا یقین پیسے سے نہیں خریدا جا سکتا!‏“‏

شین نے کہا:‏ ”‏مَیں اپنے بیوی بچوں کے اَور قریب آ گیا ہوں۔ جب مَیں اُنہیں یہ کہتے سنتا ہوں کہ یہوواہ خدا نے اُن کے لیے کیا کچھ کِیا ہے تو مجھے واقعی بڑی خوشی ہوتی ہے۔“‏ اُن کے بیٹے جیکب نے کہا:‏ ”‏ہمیں یہاں خدمت کرنا بڑا اچھا لگتا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ ہم یہاں آئے۔“‏

a اِس سلسلے میں مینارِنگہبانی،‏ 15 دسمبر 2004ء، صفحہ 8-‏11‏، مضمون ”‏ٹونگا کے جزیروں پر خدا کے دوست“‏ کو دیکھیں۔‏

b سن 2012ء میں نیو زی‌لینڈ برانچ کو بند کر دیا گیا اور اِس میں ہونے والا کام آسٹریلیا برانچ کو سونپ دیا گیا۔ اب یہ برانچ، آسٹریلیشیا برانچ کہلاتی ہے۔‏

ایک بیش‌قیمت تحفہ

بینجمن کنگڈم ہال میں ایک مقامی بھائی سے بات کر رہے ہیں۔‏

اگر آپ کسی دوسرے ملک میں خدمت کر رہے ہیں تو مقامی لوگوں اور اُن کی ثقافت کی قدر کرنا سیکھیں اور اپنے طورطریقوں میں تبدیلیاں لائیں تاکہ آپ اُن کے دل جیت سکیں۔ جو بزرگ کسی ایسے علاقے میں خدمت کر رہے ہیں جہاں مبشروں کی تعداد کم ہے، وہ مقامی کلیسیاؤں کو ایک بیش‌قیمت تحفہ دے سکتے ہیں یعنی وہ وہاں کے بھائیوں کو تربیت دے سکتے ہیں تاکہ وہ بزرگ بننے کے لائق ٹھہریں۔ اِس سے کلیسیاؤں کو بہت فائدہ ہوگا اور اگر کبھی یہ بزرگ کہیں اَور منتقل ہو جائیں تو مقامی بھائی کلیسیاؤں کو سنبھالنے کے لائق ہوں گے۔ اگر آپ بھی ایک ایسے علاقے میں خدمت کر رہے ہیں تو بھائیوں کو تربیت دینے کے سلسلے میں یہ تجاویز آپ کے کام آ سکتی ہیں:‏

یہ کریں:‏

شین کنگڈم ہال میں ایک مقامی بھائی سے بات کر رہے ہیں۔‏

‏”‏بھائیوں کی صلاحیتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اُنہیں ذمے‌داریاں سونپیں۔ اُنہیں دِکھائیں کہ وہ کوئی ذمے‌داری کیسے نبھا سکتے ہیں۔ یہ بھی ظاہر کریں کہ آپ اُنہیں اِس کام کے لائق سمجھتے ہیں۔“‏‏—‏مارک۔‏

‏”‏مَیں نے کچھ ایسی ہدایات کا مقامی زبان میں ترجمہ کِیا جو کلیسیائی ذمے‌داریوں کے سلسلے میں دی گئی ہیں۔ بھائی اِن ہدایات کو اپنی زبان میں پڑھنے سے اپنی اپنی ذمے‌داری اچھی طرح نبھانے کے لائق ہو گئے۔“‏‏—‏بینجمن۔‏

‏”‏اگر آپ بھائیوں کی خوبیوں پر دھیان دیں گے تو آپ بھی خوش رہیں گے اور وہ بھائی بھی جن کو تربیت دی جا رہی ہے۔“‏‏—‏برنیٹ۔‏

یہ نہ کریں:‏

‏”‏بھائیوں کے ہر کام پر کڑی نگاہ نہ رکھیں۔ اگر آپ ہر وقت بھائیوں کے سر پر کھڑے رہیں گے اور اُن کے کام میں نقص نکالتے رہیں گے تو وہ بے‌حوصلہ ہو جائیں گے۔ اِس کے علاوہ اپنی موجودہ کلیسیا کا اپنی پُرانی کلیسیا سے موازنہ نہ کریں۔ اگر آپ اپنی پُرانی کلیسیا کے ہی گُن گاتے رہیں گے تو بہن بھائی آپ سے بیزار ہو جائیں گے۔“‏‏—‏مارک۔‏

‏”‏بھائیوں کو یہ تاثر نہ دیں کہ آپ اُن سے زیادہ سمجھ‌دار ہیں اور اُن سے زیادہ بہتر طریقے سے کام کرنا جانتے ہیں۔ اِس کی بجائے اُن کی توجہ خدا کے کلام اور تنظیم کی ہدایات پر دِلائیں۔ اِس سے کلیسیا میں اِتحاد بڑھے گا اور یہ واضح ہوگا کہ ہم سب کو یہوواہ کی طرف سے تربیت مل رہی ہے۔“‏‏—‏شین۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں