سرِورق کا موضوع: اِنسان اور خدا کے بیچ دُوری—کیوں؟
اِنسان خدا سے دُوری کیوں محسوس کرتے ہیں؟
”تُو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے . . . خدا سے محبت رکھ۔“—موسیٰ نبی۔a
بعض لوگوں کو خدا سے محبت کرنا بہت مشکل لگتا ہے۔ اُن کے خیال میں خدا کو سمجھنا ناممکن ہے، وہ اِنسانوں سے بہت دُور ہے یہاں تک کہ وہ بہت ظالم ہے۔ ذرا نیچے دئے گئے بیانات پر غور کریں۔
”مَیں خدا سے مدد کے لیے دُعا کرتا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ مجھے لگتا تھا کہ خدا مجھ سے بہت دُور ہے اور مَیں کبھی اُس کی قربت حاصل نہیں کر سکتا۔ مجھے لگتا تھا کہ خدا ایک ایسی ہستی ہے جو جذبات سے عاری ہے۔“—اِٹلی میں رہنے والے مارکو۔
”حالانکہ مَیں سچے دل سے خدا کی عبادت کرنا چاہتی تھی لیکن وہ مجھے کوسوں دُور محسوس ہوتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ وہ ایک سنگدل خدا ہے جو صرف سزا دینا جانتا ہے۔ مجھے یقین ہی نہیں تھا کہ اُس میں پیار جیسے جذبات بھی موجود ہیں۔“—گواٹیمالا میں رہنے والی روزا۔
”بچپن میں مَیں مانتی تھی کہ خدا ہم میں بس غلطیاں ڈھونڈتا ہے تاکہ موقع ملتے ہی ہمیں سزا دے۔ بعد میں مجھے لگا کہ اُسے ہماری کوئی فکر نہیں ہے۔ مجھے لگتا تھا جیسے خدا ایک وزیرِاعظم کی طرح ہے جو اپنی عوام کے کام تو کرتا ہے لیکن اُن میں ذاتی طور پر کوئی دلچسپی نہیں لیتا۔“ —کینیڈا میں رہنے والی رےمونڈ۔
آپ کو کیا لگتا ہے، کیا خدا سے محبت کرنا ممکن ہے؟ صدیوں سے بہت سے مذہبی لوگوں کو لگتا آ رہا ہے کہ خدا سے محبت کرنا ممکن نہیں ہے۔ پانچویں سے پندرہویں صدی تک تو بہت سے مسیحیوں نے خدا سے دُعا کرنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟ کیونکہ وہ خدا سے بہت ڈرتے تھے۔ تاریخدان ول ڈیورانٹ نے اِس سلسلے میں لکھا: ”ایک گنہگار شخص میں اِتنی ہمت کہاں کہ وہ ایک ایسے خدا سے دُعا کرے جو اُس کی نظر میں بہت ظالم اور اِنسانوں سے بہت دُور ہے؟“
لیکن لوگوں کو کیوں لگتا ہے کہ خدا ظالم ہے اور اُن سے دُور ہے؟ پاک کلام میں خدا کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟ کیا خدا کے بارے میں سچائی جاننے سے کسی شخص کے دل میں اُس کے لئے محبت پیدا ہو سکتی ہے؟
a استثنا 6:5۔