یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م14 1/‏1 ص.‏ 5
  • جھوٹ:‏ خدا کی ذات کو سمجھنا ناممکن ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جھوٹ:‏ خدا کی ذات کو سمجھنا ناممکن ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • ملتا جلتا مواد
  • کیا خدا تثلیث ہے؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
م14 1/‏1 ص.‏ 5

سرِورق کا موضوع:‏ اِنسان اور خدا کے بیچ دُوری‏—‏کیوں؟‏

جھوٹ:‏ خدا کی ذات کو سمجھنا ناممکن ہے

بہت سے لوگوں کا نظریہ:‏

مسیحی مذہب کے ”‏تین بڑے فرقے رومن کیتھولک، مشرقی آرتھوڈکس اور پروٹسٹنٹ مانتے ہیں کہ خدا تین ہستیوں پر مشتمل ہے:‏ خدا باپ، خدا بیٹا اور خدا روحُ‌القدس۔ مسیحی تعلیم کے مطابق یہ تین ہستیاں تین الگ‌الگ خدا نہیں بلکہ ایک ہی خدا ہیں۔“‏‏—‏دی نیو اِنسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا۔‏

پاک کلام سے سچائی:‏

یسوع مسیح نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کِیا کہ وہ خدا کے برابر ہیں یا خدا کا ایک جُز ہیں۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں باپ کے پاس جاتا ہوں .‏ .‏ .‏ کیونکہ باپ مجھ سے بڑا ہے۔“‏ (‏یوحنا 14:‏28‏)‏ اُنہوں نے اپنی ایک پیروکار کو بھی بتایا کہ ”‏مَیں اپنے باپ اور تمہارے باپ اور اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس اُوپر جاتا ہوں۔“‏—‏یوحنا 20:‏17‏۔‏

روحُ‌القدس کوئی ہستی نہیں ہے۔ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ یسوع مسیح کے شاگرد ”‏روحُ‌القدس سے بھر گئے۔“‏ یہوواہ خدا نے یہ وعدہ کِیا تھا:‏ ”‏مَیں اپنے روح میں سے ہر بشر پر ڈالوں گا۔“‏ (‏اعمال 2:‏1-‏4،‏ 17‏)‏ روحُ‌القدس تثلیث کا حصہ نہیں ہے بلکہ یہ خدا کی قوت ہے۔‏

سچائی جاننا ضروری کیوں ہے؟‏

کیتھولک عالم کارل رانر اور ہربرٹ فورگرِملر نے تثلیث کے بارے میں کہا:‏ ”‏تثلیث کا عقیدہ اُس وقت تک نہیں سمجھا جا سکتا جب تک خدا کسی پر اِس کا اِنکشاف نہ کرے۔ اور اِنکشاف ہونے کے بعد بھی کوئی شخص اِسے پوری طرح نہیں سمجھ سکتا۔“‏ کیا آپ کسی ایسے شخص سے محبت کر سکتے ہیں جسے جاننا یا سمجھنا ناممکن ہے؟ تثلیث کا عقیدہ خدا کو جاننے اور اُس سے محبت کرنے میں ایک بڑی رُکاوٹ ہے۔‏

مارکو جن کا شروع کے مضمون میں ذکر ہوا ہے، اُنہوں نے دیکھا کہ تثلیث کا عقیدہ خدا کی قربت حاصل کرنے میں ایک بڑی رُکاوٹ ہے۔ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏مجھے لگتا تھا کہ خدا مجھ سے اپنی پہچان چھپا رہا ہے اور اِس وجہ سے وہ مجھے اَور بھی دُور محسوس ہونے لگا۔ وہ مجھے ایک ایسی ہستی معلوم ہونے لگا جسے سمجھا نہیں جا سکتا اور جس کی قربت کبھی حاصل نہیں کی جا سکتی۔“‏ لیکن غور کریں کہ پاک کلام میں لکھا ہے کہ خدا ”‏ہم میں سے کسی سے دُور نہیں۔“‏ (‏اعمال 17:‏27‏)‏ خدا ہم سے اپنی پہچان نہیں چھپاتا۔ وہ تو چاہتا ہے کہ ہم اُسے جانیں۔ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏ہم جسے جانتے ہیں اُس کی پرستش کرتے ہیں۔“‏—‏یوحنا 4:‏22‏۔‏

مارکو نے یہ بھی کہا:‏ ”‏جب مَیں نے سیکھ لیا کہ خدا تثلیث کا حصہ نہیں ہے تو آخرکار میرے لئے خدا کے قریب جانا ممکن ہو گیا۔“‏ جب ہم سیکھ لیتے ہیں کہ خدا تثلیث کا حصہ نہیں ہے اور اُس کی ذات کو سمجھنا ممکن ہے تو ہمارے لئے اُس سے محبت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ پاک کلام سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ایک شخص خدا کی ذات کو نہیں جانتا تو وہ اُس سے محبت نہیں کر سکتا۔—‏1-‏یوحنا 4:‏8‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں