ہرمجِدّون دراصل کیا ہے؟
’شیاطین ساری دُنیا کے بادشاہوں کے پاس نکل کر جاتے ہیں۔ اور اُنہوں نے اُن کو اُس جگہ جمع کِیا جس کا نام عبرانی میں ہرمجِدّون ہے۔‘—مکاشفہ ۱۶:۱۴، ۱۶۔
اِس آیت میں ہرمجِدّون کو ایک جگہ کہا گیا ہے حالانکہ زمین پر ایسی کوئی حقیقی جگہ نہیں ہے۔
تو پھر ہرمجِدّون دراصل کیا ہے؟ اِس لفظ کو اکثر جنگ یا کسی آفت سے منسلک کیوں کِیا جاتا ہے؟
’اُس جگہ جمع کِیا جس کا نام ہرمجِدّون ہے‘
عبرانی لفظ ہرمجِدّون کا مطلب ہے ”مجدو کا پہاڑ۔“ زمین پر ایسا کوئی پہاڑ نہیں ہے جس کا نام مجدو ہو۔ لیکن ایک شہر ضرور ہے جس کا نام مجدو تھا۔ یہ شہر اُس علاقے کے شمالمغرب میں واقع تھا جہاں بنیاسرائیل آباد تھے۔ یہ شہر ایک ایسے مقام پر تھا جہاں سے مختلف راستے گزرتے تھے۔ اِس شہر کے قریب بہت سی فیصلہکُن جنگیں لڑی گئیں۔ اِسی لئے مجدو کے علاقے کو جنگ سے منسلک کِیا جانے لگا۔a
لیکن مجدو کا علاقہ اِس لئے اہم نہیں کہ وہاں کونسی جنگیں لڑی گئی تھیں بلکہ اِس لئے اہم ہے کہ یہ جنگیں کیوں لڑی گئی تھیں۔ مجدو اُس ملک کا حصہ تھا جو یہوواہ خدا نے بنیاسرائیل کو دیا تھا۔ (خروج ۳۳:۱؛ یشوع ۱۲:۷، ۲۱) یہوواہ خدا نے اپنے لوگوں سے وعدہ کِیا تھا کہ وہ اُنہیں دُشمنوں سے بچائے گا اور اُس نے ایسا کِیا بھی۔ (استثنا ۶:۱۸، ۱۹) مثال کے طور پر ایک بار کنعان کے بادشاہ یابین اور اُس کے سپہسالار سیسرا نے ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ بنیاسرائیل پر حملہ کِیا۔ یہوواہ خدا نے مجدو کے علاقے میں ہونے والی اِس جنگ میں بنیاسرائیل کو فتح بخشی اور یوں اُنہیں دُشمنوں سے بچا لیا۔—قضاۃ ۴:۱۴-۱۶۔
لہٰذا لفظ ہرمجِدّون خاص معنی رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں دو طاقتور قوتیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔
بائبل میں مکاشفہ کی کتاب میں بتایا گیا ہے کہ شیطان اور شیاطین دُنیا کے حکمرانوں کو اُکسائیں گے کہ وہ اپنی فوجوں کو جمع کریں اور خدا کے لوگوں پر حملہ کرکے اُن کا نامونشان مٹا دیں۔ لیکن یہوواہ خدا اپنے لوگوں کو بچا لے گا۔ وہ اپنے دُشمنوں کے خلاف کارروائی کرے گا جس میں لاکھوں لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔—مکاشفہ ۱۹:۱۱-۱۸۔
پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ خدا ”رحیموکریم معاف کرنے کو تیار اور قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی ہے۔“ تو پھر وہ لاکھوں لوگوں کو ہلاک کیوں کرے گا؟ (نحمیاہ ۹:۱۷) اِس بات کو سمجھنے کے لئے آئیں تین سوالوں پر غور کریں۔ (۱) ہرمجِدّون کی جنگ کون شروع کرے گا؟ (۲) یہوواہ خدا یہ جنگ کیوں لڑے گا؟ (۳) ہرمجِدّون کی جنگ سے کیا فائدہ ہوگا؟
۱. ہرمجِدّون کی جنگ کون شروع کرے گا؟
ہرمجِدّون کی جنگ یہوواہ خدا شروع نہیں کرے گا بلکہ وہ اِس جنگ میں نیک لوگوں کا دفاع کرے گا۔ یہ جنگ ”ساری دُنیا کے بادشاہ“ شروع کریں گے۔ لیکن دُنیا کے بادشاہ یہ جنگ کیوں شروع کریں گے؟ جس طرح کٹھپُتلیوں کا تماشا کرنے والا پُتلیوں کو اپنی اُنگلیوں پر نچاتا ہے اُسی طرح شیطان سیاسی اور فوجی رہنماؤں کو اپنے اشاروں پر نچاتا ہے۔ بہت جلد وہ اُنہیں یہوواہ خدا کی عبادت کرنے والوں پر حملہ کرنے کے لئے استعمال کرے گا۔—مکاشفہ ۱۶:۱۳، ۱۴؛ ۱۹:۱۷، ۱۸۔
آجکل بعض ملکوں میں اِس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ ہر ایک کو اپنے خیالات کا اِظہار کرنے اور اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ ایسی صورت میں یہ بات شاید عجیب معلوم ہو کہ حکومتیں کسی مذہب پر پابندی لگانے یہاں تک کہ اُسے بالکل ختم کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن ۲۰ویں صدی میں مذہب پر حملے ہو چکے ہیں اور اب بھی ہو رہے ہیں۔b اِن حملوں میں اور ہرمجِدّون کے وقت خدا کے لوگوں پر ہونے والے حملے میں دو فرق ہیں۔ پہلا فرق یہ ہے کہ اُس وقت پوری دُنیا میں خدا کے لوگوں پر حملہ کِیا جائے گا۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ اُس وقت یہوواہ خدا اِتنے بڑے پیمانے پر کارروائی کرے گا جتنے بڑے پیمانے پر آج تک کبھی نہیں ہوئی۔ (یرمیاہ ۲۵:۳۳) پاک کلام میں یہوواہ خدا کی اِس کارروائی کو ”قادرِمطلق خدا کے روزِعظیم کی لڑائی“ کہا گیا ہے۔
۲. یہوواہ خدا یہ جنگ کیوں لڑے گا؟
یہوواہ خدا اپنے خادموں کو یہ ہدایت کرتا ہے کہ وہ امن اور صلح سے رہیں اور اپنے دُشمنوں سے بھی محبت رکھیں۔ (میکاہ ۴:۱-۳؛ متی ۵:۴۳، ۴۴؛ ۲۶:۵۲) اِس لئے جب دُنیا کے بادشاہ اُن پر حملہ کریں گے تو وہ اپنی حفاظت کرنے کے لئے ہتھیار نہیں اُٹھائیں گے۔ اگر یہوواہ خدا اُنہیں نہیں بچائے گا تو اُن کا نامونشان مٹ جائے گا۔ اِس سے یہوواہ خدا کی بدنامی ہوگی۔ اگر حملہ کرنے والے خدا کے لوگوں کو مٹا دیں گے تو اِس سے یہ ظاہر ہوگا کہ یہوواہ خدا بےانصاف ہے، اُس میں اپنے لوگوں کو بچانے کی طاقت نہیں اور وہ اُن سے محبت نہیں کرتا۔ یہوواہ خدا اپنے لوگوں کو دُنیا کے بادشاہوں کے ہاتھوں کبھی ہلاک نہیں ہونے دے گا۔—زبور ۳۷:۲۸، ۲۹۔
یہوواہ خدا کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا اِس لئے وہ کوئی بھی کارروائی کرنے سے پہلے آگاہی دیتا ہے۔ (۲-پطرس ۳:۹) پاک کلام میں ایسی مثالیں درج ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں جب یہوواہ خدا کے لوگوں پر حملہ کِیا گیا تو اُس نے اُنہیں بچانے کے لئے کارروائی کی۔ (۲-سلاطین ۱۹:۳۵) پاک کلام میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب شیطان اور اِس دُنیا کے سیاسی اور فوجی رہنما خدا کے لوگوں پر حملہ کریں گے تو یہوواہ خدا اُن سے لڑے گا۔ دراصل خدا کے کلام میں بہت پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ یہوواہ خدا بُرے لوگوں کو تباہ کر دے گا۔ (امثال ۲:۲۱، ۲۲؛ ۲-تھسلنیکیوں ۱:۶-۹) حملہ کرنے والے ہرمجِدّون پر یہ جان جائیں گے کہ وہ کائنات کے حاکم کے خلاف لڑ رہے ہیں۔—حزقیایل ۳۸:۲۱-۲۳۔
۳. ہرمجِدّون کی جنگ سے کیا فائدہ ہوگا؟
ہرمجِدّون کی جنگ کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو بچایا جائے گا۔ اِس جنگ کے بعد زمین پر امن ہی امن ہوگا۔—مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
مکاشفہ کی کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ایک ”بڑی بِھیڑ جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا“ اِس جنگ سے بچ جائے گی۔ (مکاشفہ ۷:۹، ۱۴) شروع ہی سے خدا کا ارادہ تھا کہ زمین فردوس بن جائے۔ ہرمجِدّون سے بچنے والے لوگ یہوواہ خدا کی رہنمائی میں ساری زمین کو فردوس بنا دیں گے۔
لیکن خدا کے لوگوں پر یہ حملہ کب ہوگا؟
[فٹنوٹ]
a کسی جگہ کو جنگ سے منسلک کرنا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ مثال کے طور پر جاپان کے شہر ہیروشیما کو ایٹم بم سے تباہ کر دیا گیا تھا۔ اِس لئے اب اِس شہر کو جوہری جنگ سے منسلک کِیا جاتا ہے۔
b دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی میں نازی حکومت نے بعض مذہبوں اور قوموں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اِس کے علاوہ ۱۹۱۷ء سے ۱۹۹۱ء تک روس میں بھی بعض مذہبوں پر پابندی لگائی گئی۔
[صفحہ ۶ پر تصویر]
ماضی میں یہوواہ خدا نے اپنے لوگوں کو دُشمنوں سے بچانے کے لئے کارروائی کی۔
[صفحہ ۷ پر تصویر]
ہرمجِدّون کے وقت یہوواہ خدا اپنے لوگوں کو بچانے کے لئے کارروائی کرے گا۔