ہرمجِدّون کی جنگ کب ہوگی؟
’مَیں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِزبان کی ایک ایسی بڑی بِھیڑ جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئی ہے۔‘—مکاشفہ ۷:۹، ۱۴۔
ہرمجِدّون کی جنگ جلد ہونے والی ہے۔ لیکن ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں؟
اُوپر دی گئی آیت میں ایسے لوگوں کا ذکر کِیا گیا ہے جو ہرمجِدّون سے بچ جائیں گے۔ آجکل زمین پر ایسے لوگ موجود ہیں جو یہوواہ خدا کی خدمت کر رہے ہیں اور اُس کے معیاروں کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ تمام قوموں اور قبیلوں سے نکل کر آ رہے ہیں اور ایک عالمگیر برادری کا حصہ بن رہے ہیں۔ یہ لوگ یہوواہ کے گواہ ہیں جو محبت اور بھائیچارے کی زندہ مثال ہیں۔—یوحنا ۱۳:۳۵۔
بہت جلد شیطان اپنی فوجوں کو جمع کرے گا اور اِن امنپسند لوگوں پر حملہ کرے گا۔ یہ شیطان کی طرف سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہوگا۔ (حزقیایل ۳۸:۸-۱۲؛ مکاشفہ ۱۶:۱۳، ۱۴، ۱۶) لیکن اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ واقعی ایسا ہوگا؟ پاک کلام میں ایسی پیشینگوئیاں پائی جاتی ہیں جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہرمجِدّون کی جنگ کب ہوگی۔ اِن پیشینگوئیوں میں سے بہت سی آجکل پوری ہو رہی ہیں۔
وہ پیشینگوئیاں جو آجکل پوری ہو رہی ہیں
یسوع مسیح کے شاگردوں نے اُن سے پوچھا کہ اِس ’دُنیا کے آخر ہونے کا نشان‘ کیا ہوگا۔ (متی ۲۴:۳) یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو ایک ایسے وقت کے بارے میں بتایا جب ”قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہجگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آئیں گے۔“ لیکن یسوع مسیح نے کہا کہ ”یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہی ہوں گی۔“ (متی ۲۴:۷، ۸) پولس رسول نے اِس وقت کا حوالہ ’اخیر زمانے‘ کے طور پر دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اخیر زمانے میں ”بُرے دن آئیں گے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱) آپ کے خیال میں کیا یہ پیشینگوئیاں آجکل پوری ہو رہی ہیں؟
یسوع مسیح اور پولس رسول نے جس وقت کا ذکر کِیا، اُس میں حالات اِتنے بُرے کیوں ہوں گے؟ یوحنا رسول نے بتایا کہ شیطان کو زمین پر گِرا دیا جائے گا جہاں وہ تھوڑے سے وقت کے لئے رہے گا۔ اِس وقت کے دوران وہ ”بڑے قہر“ میں ہوگا۔ (مکاشفہ ۱۲:۷-۱۲) آپ کے خیال میں کیا آجکل پوری دُنیا میں لوگ غصہ کرنے اور تشدد کرنے کی طرف مائل نہیں ہیں؟
یسوع مسیح نے یہ پیشینگوئی بھی کی تھی کہ ایسے مشکل وقت میں ایک بہت اہم کام کِیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا: ”[خدا کی] بادشاہی کی اِس خوشخبری کی مُنادی تمام دُنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“ (متی ۲۴:۱۴) آجکل یہوواہ کے گواہ ۲۳۵ سے زیادہ ملکوں میں اور ۵۰۰ سے زیادہ زبانوں میں بادشاہت کی خوشخبری کی مُنادی کر رہے ہیں۔ وہ بائبل کی تعلیمات کی وضاحت کرنے کے لئے دو رسالے شائع کر رہے ہیں جن کا نام مینارِنگہبانی اور جاگو! ہے۔ یہ رسالے دُنیا میں سب سے زیادہ تقسیم ہونے والے رسالے ہیں۔ یہوواہ کے گواہوں نے تقریباً ۱۰۰ زبانوں میں بائبل کا ترجمہ بھی کِیا ہے۔ وہ رضاکاروں کے طور پر دوسروں کو خدا کے کلام کی تعلیم دیتے ہیں اور اُن کا یہ کام عطیات سے چلتا ہے۔ اِتنے بڑے پیمانے پر بادشاہت کی مُنادی کے کام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح کی پیشینگوئی پوری ہو رہی ہے۔
پاک کلام کی بعض پیشینگوئیاں ابھی پوری ہونا باقی ہیں۔ جب یہ پیشینگوئیاں پوری ہوں گی تو ہم سمجھ جائیں گے کہ ہرمجِدّون کی جنگ کا وقت آ پہنچا ہے۔ آئیں، تین پیشینگوئیوں پر غور کریں جو جلد ہی پوری ہونے والی ہیں۔
وہ پیشینگوئیاں جو جلد پوری ہوں گی
پہلی پیشینگوئی۔ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ قومیں یہ اعلان کریں گی کہ دُنیا میں ”سلامتی اور امن“ قائم ہو گیا ہے۔ اُس وقت وہ شاید یہ سوچیں گی کہ وہ دُنیا کے سنگین مسئلوں کو اب حل کرنے ہی والی ہیں۔ لیکن اِس اعلان کے بعد امن بالکل نہیں رہے گا۔—۱-تھسلنیکیوں ۵:۱-۳۔
دوسری پیشینگوئی۔ سلامتی اور امن کے اعلان کے بعد حکومتیں دُنیابھر میں مذہب کو ختم کرنے کا فیصلہ کریں گی۔ پاک کلام میں دُنیا کی حکومتوں کو حیوان سے تشبیہ دی گئی اور جھوٹے مذاہب کو ایک عورت سے تشبیہ دی گئی ہے جو اِس حیوان پر سوار ہے۔ (مکاشفہ ۱۷:۳، ۱۵-۱۸) یہ علامتی حیوان جھوٹے مذاہب کو ختم کر دے گا اور یوں انجانے میں وہ کام کرے گا جو خدا چاہتا ہے۔
یوحنا رسو ل نے اِس سارے واقعے کو یوں بیان کِیا: ”جو دس سینگ تُو نے دیکھے وہ اور حیوان اُس کسبی سے عداوت رکھیں گے اور اُسے بےکس اور ننگا کر دیں گے اور اُس کا گوشت کھا جائیں گے اور اُس کو آگ میں جلا ڈالیں گے۔ کیونکہ خدا اُن کے دلوں میں یہ ڈالے گا کہ وہ اُسی کی رائ پر چلیں۔“—مکاشفہ ۱۷:۱۶، ۱۷۔
تیسری پیشینگوئی۔ جھوٹے مذہب پر حملہ کرنے کے بعد شیطان قوموں کو اُکسائے گا کہ وہ یہوواہ خدا کے لوگوں پر حملہ کریں۔—مکاشفہ ۷:۱۴؛ متی ۲۴:۲۱۔
آپ کیا کریں گے؟
اگر آپ نے بائبل کا مطالعہ نہیں کِیا تو شاید آپ کے لئے اِس بات پر یقین کرنا مشکل ہو کہ یہ پیشینگوئیاں پوری ہوں گی۔ لیکن بائبل میں درج بہت سی پیشینگوئیاں پہلے ہی پوری ہو چکی ہیں۔a اِس لئے ہم یہ یقین رکھ سکتے ہیں کہ جن تین پیشینگوئیوں کا اُوپر ذکر کِیا گیا ہے، وہ بھی جلد پوری ہوں گی۔
تو پھر آئیں، یہ جاننے کے لئے کچھ وقت نکالیں کہ یہوواہ کے گواہ یہ کیوں مانتے ہیں کہ ”قادرِمطلق خدا کے روزِعظیم کی لڑائی“ بہت جلد ہونے والی ہے؟ ایسا کرنے سے آپ یہ بھی سیکھیں گے کہ آپ کو اِس لڑائی سے خوفزدہ کیوں نہیں ہونا چاہئے۔ یہوواہ کے گواہ یہ جاننے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں کہ ہرمجِدّون سے بچنے کے لئے آپ کو کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ (مکاشفہ ۱۶:۱۴) ہرمجِدّون کے سلسلے میں آپ جو کچھ سیکھیں گے، اُس سے آپ مستقبل کے بارے میں پُراُمید ہو جائیں گے۔
[فٹنوٹ]
a اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بائبل کی بعض پیشینگوئیاں واقعی پوری ہو چکی ہیں تو کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے باب ۲ اور باب ۹ کو پڑھیں۔ یہ کتاب یہوواہ کے گواہوں نے شائع کی ہے۔
[صفحہ ۸ پر عبارت]
کیا یہوواہ کے گواہوں کے کام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح کی پیشینگوئی پوری ہو رہی ہے؟