یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م11 1/‏3 ص.‏ 18-‏22
  • اِس بُرے دَور میں یہوواہ خدا پر بھروسا رکھیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اِس بُرے دَور میں یہوواہ خدا پر بھروسا رکھیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • جب ہمیں بُرے کام کرنے پر اُکسایا جاتا ہے
  • جب ہماری مخالفت کی جاتی ہے
  • جب ہمیں پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے
  • ‏”‏خدا کا اطمینان“‏ دل کو محفوظ رکھتا ہے
  • یہوواہ پر اپنا بھروسا مضبوط کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • ایک پُرمسرت زندگی کیلئے بھروسا بہت ضروری ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • آپ اپنے بہن بھائیوں پر بھروسا کر سکتے ہیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • اپنے سارے دل سے یہوواہ پر توکل کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
م11 1/‏3 ص.‏ 18-‏22

اِس بُرے دَور میں یہوواہ خدا پر بھروسا رکھیں

‏”‏ابد تک [‏یہوواہ]‏ پر اعتماد رکھو۔“‏—‏یسع ۲۶:‏۴‏۔‏

۱.‏ دُنیا کے لوگوں اور یہوواہ خدا کے خادموں میں کیا فرق ہے؟‏

آج‌کل بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ کس پر بھروسا کِیا جائے اور کس پر نہیں۔ شاید اِس کی وجہ یہ ہو کہ ماضی میں اُنہوں نے جن لوگوں پر بھروسا کِیا، اُن میں سے زیادہ‌تر نے اُن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ لیکن یہوواہ خدا کے خادم جانتے ہیں کہ وہ کس پر بھروسا کر سکتے ہیں۔ چونکہ وہ خدا سے رہنمائی پاتے ہیں اِس لئے وہ جانتے ہیں کہ دُنیا کے حاکموں پر بھروسا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ (‏زبور ۱۴۶:‏۳‏)‏ وہ یہوواہ خدا پر بھروسا کرتے ہیں کیونکہ اُنہیں پتہ ہے کہ یہوواہ خدا اُن سے محبت کرتا ہے اور اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔—‏روم ۳:‏۴؛‏ ۸:‏۳۸، ۳۹‏۔‏

۲.‏ ہم یہ کیسے جانتے ہیں کہ یشوع کو یہوواہ خدا پر پورا بھروسا تھا؟‏

۲ خدا کے خادم یشوع کو اِس بات پر یقین تھا کہ یہوواہ خدا اپنے ہر وعدے کو پورا کرتا ہے۔ اُنہوں نے اسرائیلیوں سے کہا:‏ ”‏تُم خوب جانتے ہو کہ اُن سب اچھی باتوں میں سے جو [‏یہوواہ]‏ تمہارے خدا نے تمہارے حق میں کہیں ایک بات بھی نہ چُھوٹی۔ سب تمہارے حق میں پوری ہوئیں اور ایک بھی اُن میں سے رہ نہ گئی۔“‏—‏یشو ۲۳:‏۱۴۔‏

۳.‏ خدا کے نام سے اُس کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟‏

۳ یہوواہ خدا خاص طور پر اپنے نام کی خاطر اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔ (‏خر ۳:‏۱۴؛‏ ۱-‏سمو ۱۲:‏۲۲‏)‏ بائبل کے ایک ترجمے کے پیش‌لفظ میں عالم جے‌بی روتھرم نے خدا کے نام کے مطلب کی وضاحت کی۔ اِس میں اُنہوں نے بتایا کہ خدا اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے مختلف کردار ادا کر سکتا ہے۔ اُس کا نام ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ وہ جوکچھ کہتا ہے، اُسے پورا بھی کرتا ہے۔ خدا کے لئے کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ وہ اپنی مرضی پوری کرنے کے لئے کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ پر کارروائی کر سکتا ہے۔ خدا ہمیشہ اپنے نام کے مطابق عمل کرے گا۔‏‏—‏دی ایمفسائزڈ بائبل۔‏

۴.‏ (‏الف)‏ یسعیاہ ۲۶:‏۴ میں ہمیں کیا کرنے کے لئے کہا گیا ہے؟ (‏ب)‏ اِس مضمون میں ہم کن تین صورتحال پر غور کریں گے؟‏

۴ ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے:‏ ”‏کیا مَیں یہوواہ خدا کو اِتنی اچھی طرح جانتا ہوں کہ مَیں اُس پر پورا بھروسا رکھ سکوں؟ کیا مجھے پورا یقین ہے کہ یہوواہ خدا ہر بات پر اختیار رکھتا ہے اور وہ مشکلات کا سامنا کرتے وقت میری مدد کرے گا؟“‏ یسعیاہ ۲۶:‏۴ میں لکھا ہے:‏ ”‏ابد تک [‏یہوواہ]‏ پر اعتماد رکھو کیونکہ خداوند یہوؔواہ ابدی چٹان ہے۔“‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے اپنے خادموں کی مدد کے لئے کبھی‌کبھار معجزے بھی کئے۔ لیکن آج‌کل خدا اِس طریقے سے اپنے لوگوں کی مدد نہیں کرتا۔ پھر بھی ہم خدا پر بھروسا رکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ ”‏ابدی چٹان“‏ ہے۔ آج‌کل یہوواہ خدا تین طریقوں سے اپنے خادموں کی مدد کرتا ہے:‏ (‏۱)‏ جب ہمیں بُرے کام کرنے پر اُکسایا جاتا ہے اور ہم اُس کی مدد مانگتے ہیں تو وہ ہمیں راستی پر قائم رہنے کی طاقت بخشتا ہے۔ (‏۲)‏ جب لوگ ہمارے پیغام کو نہیں سنتے اور ہماری مخالفت کرتے ہیں تو یہوواہ خدا ہماری ہمت بڑھاتا ہے۔ (‏۳)‏ جب ہم بہت پریشان ہوتے ہیں تو یہوواہ خدا ہمیں سہارا دیتا ہے۔ آئیں، دیکھیں کہ جب ہم ایسی صورتحال میں ہوں تو ہم یہوواہ خدا پر اپنا بھروسا کیسے مضبوط کر سکتے ہیں۔‏

جب ہمیں بُرے کام کرنے پر اُکسایا جاتا ہے

۵.‏ یہوواہ خدا کے وعدوں پر بھروسا رکھنے کے ساتھ‌ساتھ ہمیں اَور کس بات پر بھروسا رکھنا چاہئے؟‏

۵ بِلاشُبہ ہم یہوواہ خدا کے اِس وعدے پر بھروسا رکھتے ہیں کہ زمین فردوس بن جائے گی اور مُردے زندہ ہوں گے۔ اور ہم بڑی شدت سے اُس وقت کے منتظر بھی ہیں۔ لیکن کیا ہم اِس بات پر بھی بھروسا رکھتے ہیں کہ یہوواہ خدا کے حکموں پر عمل کرنا ہمارے لئے فائدہ‌مند ہے؟ سلیمان بادشاہ نے لکھا:‏ ”‏سارے دل سے [‏یہوواہ]‏ پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ اپنی سب راہوں میں اُس کو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔“‏ (‏امثا ۳:‏۵، ۶‏)‏ غور کریں کہ سلیمان نے کہا کہ ہمیں اپنی سب راہوں میں خدا پر بھروسا کرنا چاہئے۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں یہوواہ خدا کے وعدوں پر بھروسا رکھنے کے ساتھ‌ساتھ اُس کی رہنمائی پر بھی بھروسا رکھنا چاہئے۔ جب ہمیں بُرے کام کرنے پر اُکسایا جائے تو ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم خدا پر بھروسا رکھتے ہیں؟‏

۶.‏ ہم بُرے خیالات کو کیسے قابو میں رکھ سکتے ہیں؟‏

۶ بُرے کاموں سے باز رہنے کے لئے ہمیں اپنے خیالات پر قابو رکھنے کی ضرورت ہے۔ ‏(‏رومیوں ۸:‏۵؛‏ افسیوں ۲:‏۳ کو پڑھیں۔)‏ ہم بُرے خیالات کو کیسے قابو میں رکھ سکتے ہیں؟ اِس سلسلے میں اِن پانچ طریقوں پر عمل کریں:‏ (‏۱)‏ یہوواہ خدا سے مدد مانگیں۔ (‏متی ۶:‏۹،‏ ۱۳‏)‏ (‏۲)‏ بائبل میں دی گئی مثالوں پر غور کریں۔ اِس میں ایسے لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جنہیں یہوواہ خدا کے حکموں پر عمل کرنے سے فائدہ ہوا اور ایسے لوگوں کے بارے میں بھی جنہیں خدا کے حکموں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے نقصان اُٹھانا پڑا۔‏a (‏۱-‏کر ۱۰:‏۸-‏۱۱‏)‏ (‏۳)‏ غلط کام کرنے کے نتائج پر غور کریں۔ اِس بات کے بارے میں سوچیں کہ اگر آپ کوئی غلط کام کریں گے تو اِس کا آپ پر اور آپ کے گھر والوں پر کیا اثر پڑے گا۔ (‏۴)‏ اِس بات پر غور کریں کہ جب خدا کا ایک خادم گُناہ کرتا ہے تو خدا کیسا محسوس کرتا ہے۔ ‏(‏زبور ۷۸:‏۴۰،‏ ۴۱ کو پڑھیں۔)‏ (‏۵)‏ یہ بھی سوچیں کہ جب خدا کا ایک خادم بدی کو ترک کرتا ہے اور راستی سے چلتا ہے تو یہوواہ خدا کتنا خوش ہوتا ہے۔ (‏زبور ۱۵:‏۱، ۲؛‏ امثا ۲۷:‏۱۱‏)‏ جب ہم بُرے خیالات پر قابو پانے کی پوری کوشش کرتے ہیں تو ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں یہوواہ خدا کی رہنمائی پر بھروسا ہے۔‏

جب ہماری مخالفت کی جاتی ہے

۷.‏ (‏الف)‏ یرمیاہ نے کن حالات میں خدا کی خدمت کی؟ (‏ب)‏ کیا یرمیاہ بے‌حوصلہ ہو گئے؟‏

۷ ہمارے بہت سے بہن‌بھائی ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں زیادہ‌تر لوگ بائبل کے پیغام کو نہیں سنتے اور کئی لوگ تو اُن کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ یرمیاہ نبی بھی ایسے ہی لوگوں کے درمیان رہتے تھے۔ خدا کا پیغام سنانے کے لئے اُنہیں ہر روز مختلف آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ایک دفعہ اُن کے مُنشی باروک اِس صورتحال کا سامنا کرتے‌کرتے ہمت ہار بیٹھے۔ (‏یرم ۴۵:‏۲، ۳‏)‏ کیا یرمیاہ بھی بے‌حوصلہ ہو گئے؟ جی‌ہاں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏لعنت اُس دن پر جس دن مَیں پیدا ہوا۔ .‏ .‏ .‏ مَیں پیدا ہی کیوں ہوا کہ مشقت اور رنج دیکھوں اور میرے دن رسوائی میں کٹیں؟“‏—‏یرم ۲۰:‏۱۴، ۱۵،‏ ۱۸‏۔‏

۸، ۹.‏ یرمیاہ ۱۷:‏۷، ۸ اور زبور ۱:‏۱-‏۳ کے مطابق ہمیں کیا کرنا چاہئے تاکہ ہم پھل لاتے رہیں؟‏

۸ یرمیاہ بے‌حوصلہ ضرور ہو گئے لیکن اُنہوں نے خدا کی خدمت کرنا نہیں چھوڑا۔ وہ یہوواہ خدا پر بھروسا کرتے رہے۔ خدا کے یہ الفاظ اُن کے معاملے میں سچ تھے:‏ ”‏مبارک ہے وہ آدمی جو [‏یہوواہ]‏ پر توکل کرتا ہے اور جس کی اُمیدگاہ [‏یہوواہ]‏ ہے۔ کیونکہ وہ اُس درخت کی مانند ہوگا جو پانی کے پاس لگایا جائے اور اپنی جڑ دریا کی طرف پھیلائے اور جب گرمی آئے تو اُسے کچھ خطرہ نہ ہو بلکہ اُس کے پتے ہرے رہیں اور خشک‌سالی کا اُسے کچھ خوف نہ ہو اور پھل لانے سے باز نہ رہے۔“‏—‏یرم ۱۷:‏۷، ۸‏۔‏

۹ جیسے پانی کے پاس لگایا گیا درخت بہت زیادہ پھل لاتا ہے ایسے ہی یرمیاہ ہمیشہ پھل لاتے رہے۔ وہ اپنے اِردگِرد رہنے والے لوگوں کی سوچ سے متاثر نہ ہوئے بلکہ وہ یہوواہ خدا کے قریب رہے جو زندگی کے پانی کا سرچشمہ ہے۔ اُنہوں نے ہمیشہ یہوواہ خدا کا کہنا مانا۔ ‏(‏زبور ۱:‏۱-‏۳ کو پڑھیں؛‏ یرم ۲۰:‏۹‏)‏ یرمیاہ نے اُن مسیحیوں کے لئے ایک بہت اچھی مثال قائم کی جو ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں زیادہ‌تر لوگ بائبل کے پیغام کو نہیں سنتے یا پھر اُن کی مخالفت کرتے ہیں۔ اگر آپ کسی ایسے علاقے میں رہتے ہیں تو یہوواہ خدا پر بھروسا رکھیں۔ وہ آپ کی مدد کرے گا تاکہ آپ ”‏اُس کے نام کا اقرار“‏ کرتے رہیں۔—‏عبر ۱۳:‏۱۵‏۔‏

۱۰.‏ (‏الف)‏ یہوواہ خدا نے ہمیں کونسی نعمتیں دی ہیں؟ (‏ب)‏ ہمیں خود سے کونسا سوال پوچھنا چاہئے؟‏

۱۰ ہم آخری دنوں میں رہ رہے ہیں۔ اِس لئے ہمیں ہر روز مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اِن مشکلات سے نپٹنے کے لئے یہوواہ خدا نے ہمیں کچھ نعمتیں دی ہیں۔ اُس نے ہمیں اپنا پاک کلام بخشا ہے جو بہت سی زبانوں میں دستیاب ہے۔ وہ ہمیں دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت کے ذریعے وقت پر روحانی خوراک فراہم کرتا ہے۔ اُس نے ہمارے لئے اجلاسوں اور اجتماعات کا بندوبست کِیا ہے تاکہ ہم اپنے مسیحی بہن‌بھائیوں کی رفاقت سے لطف‌اندوز ہو سکیں۔ کیا آپ اِن نعمتوں سے پورا فائدہ حاصل کرتے ہیں؟ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم ”‏دل کی خوشی سے گائیں گے۔“‏ لیکن وہ لوگ جو یہوواہ خدا کا پیغام نہیں سنتے وہ ’‏دلگیری کے سبب سے نالان ہوں گے اور جانکاہی سے واویلا کریں گے۔‘‏—‏یسع ۶۵:‏۱۳، ۱۴‏۔‏

جب ہمیں پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے

۱۱، ۱۲.‏ اِس دَور میں جبکہ مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں، ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏

۱۱ بائبل میں بتایا گیا تھا کہ آخری زمانے میں لوگوں کو بہت سی مصیبتوں کا سامنا ہوگا۔ اور آج‌کل ہم دیکھتے ہیں کہ واقعی لوگ مشکلات کے سمندر میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔ (‏متی ۲۴:‏۶-‏۸؛‏ مکا ۱۲:‏۱۲‏)‏ جب کسی علاقے میں سیلاب آتا ہے اور پانی چڑھنے لگتا ہے تو لوگ پناہ حاصل کرنے کے لئے گھر کی چھت یا کسی اُونچی جگہ پر چڑھ جاتے ہیں۔ اِسی طرح آج جب لوگوں کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں تو وہ پناہ حاصل کرنے کے لئے مالی، سیاسی، مذہبی اور سائنسی اداروں کا رُخ کرتے ہیں۔ مگر اِن اداروں سے وہ تحفظ نہیں پا سکتے۔ (‏یرم ۱۷:‏۵، ۶‏)‏ لیکن یہوواہ کے خادم پناہ حاصل کرنے کے لئے ”‏ابدی چٹان“‏ یعنی یہوواہ خدا پر بھروسا کرتے ہیں۔ (‏یسع ۲۶:‏۴‏)‏ زبورنویس نے کہا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ میری چٹان اور میری نجات ہے۔ وہی میرا اُونچا بُرج ہے۔“‏ ‏(‏زبور ۶۲:‏۶-‏۹ کو پڑھیں۔)‏ ہم اِس چٹان میں پناہ کیسے حاصل کرتے ہیں؟‏

۱۲ ہم دُنیا کی سوچ کو نہیں اپناتے بلکہ خدا کے کلام پر دھیان دیتے ہیں کیونکہ دُنیا کی سوچ خدا کی سوچ سے فرق ہے۔ (‏زبور ۷۳:‏۲۳، ۲۴‏)‏ دُنیا کی سوچ یہ ہے کہ ”‏زندگی صرف ایک بار ملتی ہے، اِسے بھرپور طریقے سے جیو۔“‏ ”‏اچھی سے اچھی ملازمت حاصل کرو۔“‏ ”‏زیادہ سے زیادہ پیسہ کماؤ۔“‏ ”‏یہ بھی خرید لو، وہ بھی خرید لو۔“‏ ”‏خوب گھومو پھرو اور عیش کرو۔“‏ لیکن خدا کے کلام میں ہمیں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ ہم ”‏دُنیا ہی کے نہ ہو جائیں کیونکہ دُنیا کی شکل بدلتی جاتی ہے۔“‏ (‏۱-‏کر ۷:‏۳۱‏)‏ یسوع مسیح نے کہا کہ ہمیں اپنی زندگی میں خدا کی خدمت کو پہلا درجہ دینا چاہئے۔ ایسا کرنے سے ہم ”‏اپنے لئے آسمان پر مال جمع“‏ کر رہے ہوں گے جسے کوئی چھین نہیں سکتا۔—‏متی ۶:‏۱۹، ۲۰‏۔‏

۱۳.‏ پہلا یوحنا ۲:‏۱۵-‏۱۷ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں خود سے کونسے سوال پوچھنے چاہئیں؟‏

۱۳ ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے کہ ”‏کیا’‏دُنیا اور اُس کی چیزوں‘‏ کے بارے میں میرے نظریے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مَیں خدا پر پورا بھروسا رکھتا ہوں؟ (‏۱-‏یوح ۲:‏۱۵-‏۱۷‏)‏ کیا مَیں خدا کی خدمت میں ترقی کرنے کو دُنیا میں ترقی کرنے سے زیادہ اہمیت دیتا ہوں؟ (‏فل ۳:‏۸‏)‏ کیا مَیں اپنی زندگی کو سادہ رکھنے کی کوشش کرتا ہوں؟“‏ (‏متی ۶:‏۲۲‏)‏ خدا چاہتا ہے کہ ہم سوچ‌سمجھ کر فیصلے کریں، خاص طور پر اُس صورت میں جب ہمیں خاندان کی ضروریات پوری کرنی پڑتی ہیں۔ (‏۱-‏تیم ۵:‏۸‏)‏ لیکن وہ ہم سے یہ بھی توقع کرتا ہے کہ ہم اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے اُس پر بھروسا رکھیں، نہ کہ شیطان کی دُنیا پر۔—‏عبر ۱۳:‏۵‏۔‏

۱۴-‏۱۶.‏ کچھ ایسے لوگوں کی مثالیں دیں جنہوں نے اپنی زندگی کو سادہ بنایا ہے اور خدا کی خدمت کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دیا ہے۔‏

۱۴ آئیں، کچھ مثالوں پر غور کریں۔ پہلی مثال رچرڈ اور روتھ کی ہے جن کے تین بچے ہیں۔ رچرڈ کہتے ہیں:‏ ”‏مجھے لگتا تھا کہ مَیں خدا کی خدمت میں زیادہ وقت صرف کر سکتا ہوں۔ مجھے اِس بات کا احساس تھا کہ خدا کی خدمت میری زندگی میں دوسرے درجے پر ہے۔ مَیں نے اور روتھ نے مل کر یہوواہ خدا سے دُعا کی اور اپنے حالات کا جائزہ لیا۔ حالانکہ اُس وقت ملک کی معاشی حالت بہت خراب تھی پھر بھی ہم نے فیصلہ کِیا کہ مَیں اپنے سپروائزر سے بات کروں گا کہ وہ مجھے ہفتے میں صرف چار دن کام کرنے دیں۔ سپروائزر نے میری درخواست قبول کر لی۔ اور مَیں نے ایک مہینے کے اندراندر اِس نئے شیڈول کے مطابق کام کرنا شروع کر دیا۔“‏

۱۵ اُنہوں نے مزید کہا:‏ ”‏اب مجھے پہلے کی نسبت ۲۰ فیصد کم تنخواہ ملتی ہے لیکن مجھے سال میں ۵۰ دن اَور مل گئے ہیں۔ اب مَیں اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہوں۔ مَیں بادشاہت کی مُنادی میں بھی پہلے کی نسبت دُگنا وقت صرف کرتا ہوں اور تین گُنا زیادہ لوگوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے کے قابل ہوا ہوں۔ مَیں کلیسیا میں اپنی ذمہ‌داریوں کو بھی اَور اچھی طرح پورا کر سکتا ہوں۔ چونکہ اب مَیں بچوں کو سنبھالنے میں روتھ کی زیادہ مدد کر سکتا ہوں اِس لئے وہ بھی وقتاًفوقتاً پائنیر کے طور پر خدمت کر سکتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ جب تک ممکن ہے، مَیں اپنے اِس شیڈول پر قائم رہوں۔“‏

۱۶ دوسری مثال رائے اور پیٹرینا کی ہے جن کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ اُن کی بیٹی ابھی بھی اُن کے ساتھ رہتی ہے۔ رائے اور پیٹرینا نے بھی یہ فیصلہ کِیا کہ وہ پہلے کی نسبت کم دن کام کریں گے تاکہ وہ کُل‌وقتی طور پر خدا کی خدمت کر سکیں۔ رائے کہتے ہیں:‏ ”‏مَیں ہفتے میں تین دن کام کرتا ہوں اور پیٹرینا دو دن۔ ہم نے اپنا گھر بھی بدل لیا ہے۔ اب ہم ایک چھوٹے گھر میں رہتے ہیں جس کی دیکھ‌بھال کرنا آسان ہے۔ ہم اپنے بچوں کی پیدائش سے پہلے کُل‌وقتی طور پر خدا کی خدمت کرتے تھے۔ بچوں کی پیدائش کے بعد ہمیں اِس خدمت کو چھوڑنا پڑا۔ لیکن ہماری خواہش تھی کہ جب کبھی ممکن ہوگا، ہم دوبارہ سے کُل‌وقتی خدمت کریں گے۔ جب ہمارے بچے بڑے ہو گئے تو ہم نے دوبارہ یہ خدمت شروع کر دی۔ اِس کے بدلے میں ہمیں ایسی برکات ملی ہیں جو پیسوں سے نہیں مل سکتیں۔“‏

‏”‏خدا کا اطمینان“‏ دل کو محفوظ رکھتا ہے

۱۷.‏ پریشانیوں سے بچنے کے لئے آپ کو پاک صحیفوں سے کیا تسلی ملی ہے؟‏

۱۷ ہم یہ نہیں جانتے کہ کل کیا ہوگا کیونکہ ”‏سب کے لئے وقت اور حادثہ ہے۔“‏ (‏واعظ ۹:‏۱۱‏)‏ آج‌کل بہت سے لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان رہتے ہیں۔ لیکن خدا کی قُربت میں رہنے والے لوگ مستقبل کے بارے میں فکرمند نہیں ہوتے۔ (‏متی ۶:‏۳۴‏)‏ پولس رسول نے مسیحیوں کو ہدایت دی:‏ ”‏کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دُعا اور مِنت کے وسیلہ سے شکرگذاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دِلوں اور خیالوں کو مسیح یسوؔع میں محفوظ رکھے گا۔“‏—‏فل ۴:‏۶، ۷‏۔‏

۱۸، ۱۹.‏ یہوواہ خدا کن طریقوں سے ہماری مدد کرتا ہے؟ مثال دیں۔‏

۱۸ بہت سے بہن‌بھائیوں نے محسوس کِیا ہے کہ ’‏خدا کے اطمینان‘‏ نے اُن کے دل کو محفوظ رکھا ہے۔ ایک مسیحی بہن نے کہا:‏ ”‏جب میرا آپریشن ہونے والا تھا تو ڈاکٹر نے مجھ پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا کہ مَیں خون لگواؤں۔ اُس نے آتے ہی مجھ سے کہا:‏ ”‏آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے؟ آپ خون کیوں نہیں لگوانا چاہتیں؟“‏ وہ جب بھی مجھے دیکھنے آتا، مجھ پر خون لگوانے کے لئے دباؤ ڈالتا۔ ہر دفعہ مَیں نے دل میں یہوواہ خدا سے دُعا کی اور مجھے محسوس ہوا کہ مجھے خدا کا اطمینان حاصل ہوا ہے۔ مَیں خدا کی مدد سے اپنے فیصلے پر قائم رہنے کے قابل ہوئی۔ اگرچہ میرے جسم میں خون کی کمی تھی اور مَیں بہت کمزور ہو گئی تھی پھر بھی مَیں بائبل سے یہ وضاحت کرنے کے قابل تھی کہ مَیں خون کیوں نہیں لگواؤں گی۔“‏

۱۹ خدا ہمیں اَور طریقوں سے بھی اطمینان دیتا ہے۔ شاید وہ ہمارے مسیحی بہن‌بھائیوں کو ہماری مدد کے لئے استعمال کرے یا پھر شاید وہ دیانتدار اور عقلمند نوکر کے ذریعے کوئی ایسا مضمون فراہم کرے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ آپ نے بھی ضرور کسی بہن یا بھائی کو یہ کہتے سنا ہوگا:‏ ”‏ایسا لگتا ہے جیسے یہ مضمون میرے لئے ہی لکھا گیا ہے۔“‏ ہم یہوواہ خدا کی بھیڑیں ہیں اور اُس کے نام سے کہلاتے ہیں۔ (‏زبور ۱۰۰:‏۳؛‏ یوح ۱۰:‏۱۶؛‏ اعما ۱۵:‏۱۴،‏ ۱۷‏)‏ اِس لئے اگر ہم یہوواہ خدا پر بھروسا رکھتے ہیں تو چاہے ہمیں کسی بھی مشکل کا سامنا ہو، وہ ضرور ہماری مدد کرے گا۔‏

۲۰.‏ جب شیطان کی دُنیا تباہ ہو جائے گی تو یہوواہ کے خادم کیوں محفوظ رہیں گے؟‏

۲۰ ’‏یہوواہ کے قہر کا دن‘‏ جلد آنے والا ہے۔ اُس دن وہ سب کچھ تباہ ہو جائے گا جس پر دُنیا کے لوگ بھروسا کرتے ہیں۔ سونا، چاندی اور دوسری قیمتی چیزیں بھی لوگوں کو بچا نہیں سکیں گی۔ (‏صفن ۱:‏۱۸؛‏ امثا ۱۱:‏۴‏)‏ صرف یہوواہ خدا ہی اپنے لوگوں کو پناہ دے گا کیونکہ وہ ”‏ابدی چٹان“‏ ہے۔ (‏یسع ۲۶:‏۴‏)‏ لہٰذا ہمیں ابھی سے یہوواہ خدا پر بھروسا رکھنا چاہئے۔ اِس کے لئے ہمیں یہوواہ خدا کے حکموں پر عمل کرنا چاہئے، مخالفت کے باوجود بادشاہت کی مُنادی کرنی چاہئے اور اپنی ساری فکریں یہوواہ خدا پر ڈال دینی چاہئیں۔ اِس طرح ہم ’‏محفوظ ہوں گے اور آفت سے نڈر ہو کر اطمینان سے رہیں گے۔‘‏—‏امثا ۱:‏۳۳‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a کتاب خدا کی محبت میں قائم رہیں کے صفحہ ۱۰۲-‏۱۰۶ کو دیکھیں۔‏

آپ کیا جواب دیں گے؟‏

‏• جب ہمیں غلط کام کرنے پر اُکسایا جاتا ہے تو ہم یہوواہ خدا پر بھروسا کیسے رکھ سکتے ہیں؟‏

‏• جب زیادہ‌تر لوگ ہمارے پیغام کو نہیں سنتے یا ہماری مخالفت کرتے ہیں تو ہم یہوواہ خدا پر بھروسا کیسے رکھ سکتے ہیں؟‏

‏• جب ہمیں پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے تو ہم یہوواہ خدا پر بھروسا کیسے رکھ سکتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ ۱۹ پر تصویر]‏

بُرے کاموں سے باز رہنے سے ہمیں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔‏

‏[‏صفحہ ۲۱ پر تصویر]‏

‏”‏یہوؔواہ ابدی چٹان ہے۔“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں