یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م09 1/‏5 ص.‏ 3-‏4
  • کیا نئے سرے سے پیدا ہونا واقعی نجات کی راہ ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا نئے سرے سے پیدا ہونا واقعی نجات کی راہ ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • خدا کا کلام کیا تعلیم دیتا ہے؟‏
  • نئے سرے سے پیدا ہونا کس قدر اہم ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • یسوع مسیح اور نیکُدیمس کی ملاقات
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • نئے سرے سے پیدا ہونے کا فیصلہ کون کرتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • نئے سرے سے پیدا ہونے کا کیا مقصد ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
م09 1/‏5 ص.‏ 3-‏4

کیا نئے سرے سے پیدا ہونا واقعی نجات کی راہ ہے؟‏

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ ”‏کیا آپ نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں“‏ تو آپ کیا جواب دیں گے؟ پوری دُنیا میں مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگ اِس سوال کا جواب ”‏ہاں“‏ میں دیں گے۔ اُن کا ماننا ہے کہ نئے سرے سے پیدا ہونا مسیحیوں کا نشان اور نجات کی واحد راہ ہے۔ وہ رابرٹ سپرول جیسے مذہبی راہنماؤں سے متفق ہیں، جس نے لکھا:‏ ”‏اگر ایک شخص نئے سرے سے پیدا نہ ہو تو وہ مسیحی نہیں ہے۔“‏

کیا آپ بھی یہ مانتے ہیں کہ نئے سرے سے پیدا ہونا نجات حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ یقیناً نجات کی اِس راہ کو تلاش کرنے اور اِس پر چلنے میں اپنے رشتے‌داروں اور دوستوں کی مدد کرنا چاہیں گے۔ لیکن آپ اُنہیں یہ کیسے بتا سکتے ہیں کہ نئے سرے سے پیدا ہونے کا کیا مطلب ہے؟‏

بہتیرے لوگوں کا خیال ہے کہ ”‏نئے سرے سے پیدا“‏ ہونے والے دراصل وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا اور یسوع مسیح کی خدمت کرنے کا پُختہ عزم کر رکھا ہے اور اِس کے نتیجے میں خدا کی قربت حاصل کر لی ہے۔ ایک کتاب نئے سرے سے پیدا ہونے کے متعلق یوں بیان کرتی ہے:‏ ”‏نئے سرے سے پیدا ہونا انسان کے دل میں خدا کی طرف سے لائی گئی روحانی تبدیلی ہے جس سے .‏ .‏ .‏ وہ ایمان کے ساتھ اپنے دل کو خدا کے لئے کھولنے کے قابل بن جاتا ہے۔“‏

شاید آپ یہ جان کر حیران ہوں کہ خدا کا کلام اِس بیان کی حمایت نہیں کرتا ہے۔ کیا آپ یہ جاننا چاہیں گے کہ خدا کا کلام نئے سرے سے پیدا ہونے کے متعلق کیا تعلیم دیتا ہے؟ اِس سوال کا جواب حاصل کرنا آپ کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ نئے سرے سے پیدا ہونے کے متعلق صحیح علم آپ کی اب اور آئندہ کی زندگی پر اثرانداز ہوگا۔‏

خدا کا کلام کیا تعلیم دیتا ہے؟‏

یوحنا ۳:‏۱-‏۱۲ میں ہم یروشلیم میں یسوع مسیح اور ایک مذہبی پیشوا کے مابین بات‌چیت کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ اصطلا‌ح ”‏نئے سرے سے پیدا ہونا“‏ پہلی مرتبہ اِسی بیان میں استعمال کی گئی ہے۔ یہ پورا بیان اگلے صفحہ پر دئے گئے بکس میں درج ہے۔ برائے‌مہربانی اِسے توجہ سے پڑھیں۔‏

اِس بیان میں یسوع مسیح ”‏نئے سرے سے پیدا“‏ ہونے کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے۔ درحقیقت، یہ بیان اِن پانچ اہم سوالوں کے جواب حاصل کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے:‏

◼ نئے سرے سے پیدا ہونا کس قدر اہم ہے؟‏

◼ نئے سرے سے پیدا ہونے کا فیصلہ کون کرتا ہے؟‏

◼ نئے سرے سے پیدا ہونے کا کیا مقصد ہے؟‏

◼ کوئی شخص نئے سرے سے کیسے پیدا ہوتا ہے؟‏

◼ نئے سرے سے پیدا ہونے سے خدا کے ساتھ کسی شخص کے رشتے پر کیا اثر ہوتا ہے؟‏

آئیں باری‌باری اِن سوالات پر غور کرتے ہیں۔‏

‏[‏صفحہ ۴ پر بکس/‏تصویر]‏

‏”‏تمہیں نئے سرے سے پیدا ہونا ضرور ہے“‏

”‏فریسیوں میں سے ایک شخص نیکدؔیمس نام یہودیوں کا ایک سردار تھا۔ اُس نے رات کو یسوؔع کے پاس آکر اُس سے کہا اَے ربی ہم جانتے ہیں کہ تُو خدا کی طرف سے استاد ہو کر آیا ہے کیونکہ جو معجزے تُو دکھاتا ہے کوئی شخص نہیں دکھا سکتا جب تک خدا اُس کے ساتھ نہ ہو۔ یسوؔع نے جواب میں اُس سے کہا مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوئی نئے سرے سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا۔ نیکدؔیمس نے اُس سے کہا آدمی جب بوڑھا ہو گیا تو کیونکر پیدا ہو سکتا ہے؟ کیا وہ دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہو کر پیدا ہو سکتا ہے؟ یسوؔع نے جواب دیا کہ مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں جب تک کوئی آدمی پانی اور رُوح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔ جو جسم سے پیدا ہوا ہے جسم ہے اور جو رُوح سے پیدا ہوا ہے رُوح ہے۔ تعجب نہ کر کہ مَیں نے تجھ سے کہا تمہیں نئے سرے سے پیدا ہونا ضرور ہے۔ ہوا جدھر چاہتی ہے چلتی ہے اور تُو اس کی آواز سنتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتی اور کہاں کو جاتی ہے۔ جو کوئی رُوح سے پیدا ہوا ایسا ہی ہے۔ نیکدؔیمس نے جواب میں اُس سے کہا یہ باتیں کیونکر ہو سکتی ہیں؟ یسوؔع نے جواب میں اُس سے کہا بنی‌اؔسرائیل کا استاد ہو کر کیا تُو اِن باتوں کو نہیں جانتا؟ مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جو ہم جانتے ہیں وہ کہتے ہیں اور جِسے ہم نے دیکھا ہے اُس کی گواہی دیتے ہیں اور تُم ہماری گواہی قبول نہیں کرتے۔ جب مَیں نے تُم سے زمین کی باتیں کہیں اور تُم نے یقین نہیں کِیا تو اگر مَیں تُم سے آسمان کی باتیں کہوں تو کیونکر یقین کرو گے؟“‏​—‏یوحنا ۳:‏۱-‏۱۲‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں