یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م05 15/‏1 ص.‏ 3-‏4
  • آپ کا مستقبل کس کے اختیار میں ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آپ کا مستقبل کس کے اختیار میں ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • ملتا جلتا مواد
  • کیا آپ کو اپنے مستقبل پر اختیار ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • ‏”‏ابھی میرا وقت نہیں آیا تھا“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • کیا ہمارا مستقبل پہلے ہی سے تحریر ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • حادثات تقدیر یا حالات؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
م05 15/‏1 ص.‏ 3-‏4

آپ کا مستقبل کس کے اختیار میں ہے؟‏

ارتقا کے عقیدے کی حمایت کرنے والا جان گرے لکھتا ہے، ”‏حیوانوں کی طرح انسانوں کو بھی اپنے مستقبل پر کوئی اختیار نہیں ہے۔“‏ لیکن ایک دوسرے شخص شملے بوٹیک کا خیال اس سے بالکل فرق ہے۔ وہ کہتا ہے:‏ ”‏انسان حیوان نہیں اسلئے اُسے اپنے مستقبل پر مکمل اختیار حاصل ہے۔“‏

بہتیرے لوگ گرے سے متفق ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ کائنات میں کارفرما قوتیں انسانوں کے مستقبل پر اختیار رکھتی ہیں۔ دیگر لوگوں کا خیال ہے کہ انسان خدا کی ایسی مخلوق ہے جسے اُس نے اپنے مستقبل پر اختیار رکھنے کی خاص صلاحیت سے نوازا ہے۔‏

بعض لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اُنکا مستقبل طاقتور انسانی قوتوں کے تابع ہے۔ مصنف رائے ویدرفورڈ کے مطابق، ”‏دُنیا میں بیشتر لوگوں، بالخصوص خواتین کو مردوں کی طرف سے کئے جانے والے ظلم‌وستم کی وجہ سے اپنی زندگیوں پر کوئی اختیار نہیں ہے۔“‏ بہتوں نے سیاسی یا فوجی طاقتوں کی بدولت خوشحال مستقبل کے اپنے سپنوں کو چکناچُور ہوتے دیکھا ہے۔‏

دیگر لوگ خود کو بے‌یارومددگار محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مافوق‌الفطرت قوتیں اُنکے مستقبل پر اختیار رکھتی ہیں۔ بوٹیک کے مطابق، ”‏قدیم یونانیوں کا یہ خیال تھا کہ سب کچھ باطل ہے کیونکہ انسان تقدیر کے لکھے کو بدل نہیں سکتا۔“‏ اُنکا خیال تھا کہ ہر شخص کے مستقبل کا فیصلہ دیوی دیوتاؤں کے ہاتھ میں ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ دیوی دیوتا نہ صرف اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کوئی شخص کب مریگا بلکہ یہ بھی کہ اُسے زندگی میں کتنے دُکھ سہنے ہونگے۔‏

آجکل یہ عقیدہ بہت عام ہے کہ مافوق‌الفطرت قوتیں ہر شخص کے مستقبل پر اختیار رکھتی ہیں۔ مثلاً، لوگوں کی اکثریت قسمت یا تقدیر پر یقین رکھتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا نے انسان کے ہر فعل کا انجام پہلے ہی لکھ دیا ہے حتیٰ‌کہ موت کا وقت بھی پہلے سے مقرر کر دیا ہے۔ اسکے علاوہ تقدیر کا عقیدہ بھی اس نظریے کی حمایت کرتا ہے کہ قادرِمطلق خدا نے ”‏پہلے ہی سے ہر شخص کو جزا اور سزا دینے کا فیصلہ کر دیا ہے۔“‏ بہتیرے نام‌نہاد مسیحی بھی تقدیر کی اس تعلیم سے متفق ہیں۔‏

آپکا کیا خیال ہے؟ کیا آپکے مستقبل کا فیصلہ ایسی قوتوں نے پہلے ہی سے کر دیا ہے جن پر آپکا کوئی اختیار نہیں؟ کیا پھر انگریزی ڈرامہ‌نگار ویلیم شیکسپیئر کے ان الفاظ میں کچھ صداقت پائی جاتی ہے:‏ ”‏زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر انسان خود اپنے مستقبل کا تعیّن کرتا ہے“‏ ؟ آئیے دیکھیں بائبل اس سلسلے میں کیا کہتی ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں