غریب غریبتر ہوتے جاتے ہیں
”جس معاشرے کے بیشتر لوگ غریب اور مصیبتزدہ ہوں وہ کبھی خوشحال اور ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔“
یہ بات ماہرِمعاشیات ایڈم سمتھ نے ۱۸ ویں صدی میں کہی تھی۔ بیشتر اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اُس نے جوکچھ کہا تھا وہ آجکل بالکل سچ نظر آ رہا ہے۔ یہ فرق بھی بالکل واضح ہے کہ آپکے پاس کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ فلپائن میں، ایک تہائی آبادی یومیہ ایک امریکی ڈالر سے بھی کم پر گزارا کرتی ہے حالانکہ اتنی رقم متموّل ممالک میں اکثر منٹوں میں کمائی جاتی ہے۔ اقوامِمتحدہ کی ہیومن ڈیویلپمنٹ رپورٹ ۲۰۰۲ بیان کرتی ہے کہ ”دُنیا کی ۵ فیصد امیرترین آبادی کی آمدنی ۵ فیصد غریبترین آبادی کے مقابلے میں ۱۱۴ گُنا زیادہ ہے۔“
اگرچہ کچھ لوگ آراموآسائش کی زندگی گزار رہے ہیں توبھی لاکھوں خانہبدوش ہیں اور جہاں جگہ ملتی ہے وہیں جھونپڑیاں ڈال لیتے ہیں۔ دیگر کو یہ بھی دستیاب نہیں اور وہ راہ کے کنارے زمین پر ہی چادر یا پلاسٹک بچھا کر بسیرا کرتے ہیں۔ اِن میں سے بیشتر تنگیتُرشی سے گزارا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں خواہ اس کیلئے اُنہیں کچرا کنڈی میں ہاتھ مارنے پڑیں، وزنی سامان اُٹھانا پڑے یا کباڑی کا کام ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
امیر اور غریب کے مابین عدمِمساوات صرف ترقیپذیر ممالک میں ہی نہیں پائی جاتی۔ ورلڈ بینک کے مطابق، ”غربت ہر مُلک میں ہے۔“ بنگلہدیش سے لیکر ریاستہائےمتحدہ تک، بعض خواہ کتنے ہی امیر کیوں نہ دکھائی دیں، بعض ایسے بھی ہیں جنہیں پیٹ بھرنے اور سر چھپانے کیلئے سخت تگودَو کرنی پڑتی ہے۔ دی نیو یارک ٹائمز نے ۲۰۰۱ کی یو.ایس. سینسس بیورو کی رپورٹ کا حوالہ دیا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاستہائےمتحدہ میں امیر اور غریب کے درمیان خلا روزبروز بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اس نے بیان کِیا: ”گزشتہ سال پانچ فیصد امیرترین آبادی کو تمام آمدنی کا نصف ملا۔ . . . جبکہ پانچ فیصد غریبترین آبادی کو ۵.۳ فیصد ملا۔“ دیگر ممالک میں حالت ایسی ہی ہے یا پھر اس سے بھی بدتر ہے۔ ورلڈ بینک رپورٹ نے ظاہر کِیا کہ دُنیا کی تقریباً ۵۷ فیصد آبادی ۲ ڈالر یومیہ سے بھی کم پر گزارا کرتی ہے۔
سن ۲۰۰۲ میں، لاکھوں لوگ قابلِاعتراض طریقے سے امیر بن جانے والے افسران کی بابت رپورٹوں سے پریشان تھے جس سے حالات مزید خراب ہو گئے۔ اگرچہ بظاہر کوئی بھی غیرقانونی کام نہیں کِیا گیا تھا توبھی فارچون میگزین کے مطابق بیشتر نے محسوس کِیا کہ کمپنی کے یہ افسران ”بڑی تیزی کیساتھ، غیرمعمولی طور پر امیر ہوتے جا رہے تھے۔“ دُنیا کے ایسے واقعات کے پیشِنظر بہتیرے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیسے بعض کو تو لاکھوں ڈالر مِل جاتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ نہایت مفلس ہوتے ہیں۔
کیا غربت ہمیشہ رہیگی؟
اسکا یہ مطلب نہیں کہ کوئی بھی غریبوں کی بابت کچھ نہیں کر رہا۔ نیکنیت سرکاری افسران اور مختلف تنظیمیں ایسے مشورے دے رہی ہیں جنکا مقصد یقینی طور پر تبدیلی لانا ہے۔ تاہم، حقائق حوصلہافزا نہیں ہیں۔ ہیومن ڈیویلپمنٹ رپورٹ ۲۰۰۲ بیان کرتی ہے کہ بہتری لانے کی مخلصانہ کاوشوں کے باوجود، ”بیشتر ممالک ۱۰، ۲۰ یا ۳۰ سال پہلے کی نسبت زیادہ غربت کا شکار ہو رہے ہیں۔“
کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ غریبوں کے لئے کوئی اُمید نہیں ہے؟ آئیے عملی حکمت پر غور کرنے کیلئے جو اس وقت مفید ثابت ہو سکتی ہے اور پھر ایسے حل تلاش کرنے کے لئے جنکی بابت آپ نے شاید سوچا بھی نہ ہو اگلا مضمون پڑھیں۔