عنقریب، کوئی غریب نہیں ہوگا!
”ڈرو مت کیونکہ دیکھو مَیں تمہیں بڑی خوشی کی بشارت دیتا ہوں جو ساری اُمت کے واسطے ہوگی۔“ (لوقا ۲:۱۰) یہ تقویتبخش الفاظ حیرتزدہ چرواہوں نے بیتؔلحم کے قریب اُس رات سنے جب یسوؔع پیدا ہوا تھا۔ اُس اعلان کی مطابقت میں، یسوؔع نے اپنی زمینی خدمتگزاری کے دوران ”بشارت“ پر بہت زیادہ زور دیا۔ آجکل، جب ہم اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے پیسے پر حد سے زیادہ انحصار کرتے ہیں تو یسوؔع کی بابت خوشخبری کسطرح ہماری مدد کر سکتی ہے؟
یسوؔع مسیح نے ”غریبوں کو خوشخبری“ سنائی۔ (لوقا ۴:۱۸) متی ۹:۳۵ کے مطابق، ”یسوؔع سب شہروں اور گاؤں میں پھرتا رہا اور اُنکے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا . . . رہا۔“ اُسکا پیغام خاص طور پر افلاسزدہ اشخاص کیلئے حوصلہافزا تھا۔ ”جب اُس نے بِھیڑ کو دیکھا تو اُسکو لوگوں پر ترس آیا کیونکہ وہ اُن بھیڑوں کی مانند جنکا چرواہا نہ ہو خستہحال اور پراگندہ تھے۔“ (متی ۹:۳۶) سچ ہے کہ یسوؔع نے کہا: ”غریب غربا تو ہمیشہ تمہارے پاس ہیں،“ لیکن ہمیں ان الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہئے کہ محتاجوں کیلئے کوئی اُمید نہیں ہے۔ (یوحنا ۱۲:۸) جب تک یہ شریر نظام قائم رہتا ہے، غریب لوگ بھی ہونگے، اس سے قطعنظر کہ کونسی چیز اُنکی خستہحالی کا باعث بنتی ہے۔ خدا کا کلام غربت کی حقیقت کو نظرانداز نہیں کرتا، لیکن یہ منفی پہلوؤں پر ہی توجہ مرکوز نہیں رکھتا۔ بلکہ، یہ زندگی کی فکروں کا مقابلہ کرنے کیلئے غریبوں کو مدد پیش کرتا ہے۔
غریبوں کیلئے مدد
غیرمعمولی طور پر، یہ کہا گیا ہے: ”ایک شخص کیلئے اِس سے بڑا بوجھ اَور کوئی نہیں کہ اُسے معلوم ہو کہ نہ تو کسی کو پرواہ ہے نہ ہی کوئی سمجھتا ہے۔“ لیکن، اکثریت کی طرف سے رحم کی کمی کے باوجود، غریبوں کیلئے پھر بھی خوشخبری موجود ہے—حال اور مستقبل دونوں کیلئے۔
افسوس کی بات ہے کہ زیادہتر لوگ غریبوں کی مدد کرنے میں بہت کم دلچسپی لیتے ہیں۔ دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق، بعض یہ یقین رکھتے ہیں کہ ”معاشرے کے اندر لوگ بقا کیلئے نبردآزما ہوتے ہیں اور . . . ممتاز اشخاص طاقتور اور دولتمند ہو جاتے ہیں۔“ جو لوگ اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں جو سوشل ڈاروِنزم کہلاتا ہے وہ شاید غریبوں کو کاہل لوگ یا فضولخرچ خیال کریں۔ پھر بھی، دیہی مزدور، نقلمکانی کرنے والے کارکُن، اور دیگر لوگ کم اُجرت دئے جانے کے باوجود بھی اپنے خاندانوں کا پیٹ بھرنے کیلئے اکثر بہت محنت سے کام کرتے ہیں۔
متعدد ممالک میں غربت یکسر عام ہے۔ لہٰذا، غریبوں—اکثریت—کو یہ احساس نہیں دلایا جاتا کہ وہ نامُراد ہیں۔ تاہم، ایسے ممالک میں غربت کے درمیان ہی بڑی عیشوعشرت کی زندگی بسر کرنے والے لوگ بھی ہیں۔ لوگوں سے بھری، صحت کیلئے مُضر جھونپڑیوں کے ساتھ ہی آرامدہ، پُرتکلف گھر واقع ہوتے ہیں۔ اچھی تنخواہ پانے والے حضرات قلاش اور بیروزگار لوگوں سے بھری گلیوں میں اپنی کاریں دوڑاتے پھرتے ہیں۔ ایسے ممالک میں غریب لوگ اپنی بدحالی سے پُرالم طور پر واقف ہیں۔ ”غریب لوگ صرف ناقص غذا، گھٹیا رہائش، اور ناکافی طبّی نگہداشت ہی سے دُکھ نہیں اُٹھاتے بلکہ اپنی حالت کی بابت مستقل پریشانی سے بھی،“ دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے۔ ”اچھی ملازمتیں حاصل کرنے اور اُن پر فائز رہنے کے ناقابل ہونے کے باعث، وہ وقار اور عزتِنفس کا تمام احساس کھو بیٹھتے ہیں۔“ تو پھر، نہایت غریب لوگوں میں سے بعض اپنی حالت کے ساتھ کیسے نپٹتے ہیں؟ نپٹنے کے اس عمل کے ساتھ یسوؔع کی بابت خوشخبری کا کیا تعلق ہے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ یاد رکھیں کہ غیردانشمندانہ عادات سے غربت کو بدتر بنایا جا سکتا ہے۔ چند مثالوں پر غور کریں۔ واؔلڈیسر تسلیم کرتا ہے کہ باوجودیکہ اُسکی بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے پاس کھانے کو بہت کم تھا، اُس نے ایک اوباش طرزِزندگی کو برقرار رکھتے ہوئے پیسے کو اُجاڑ دیا۔ وہ کہتا ہے: ”ملازمت ہونے کے باوجود، میرے پاس کوئی پیسہ نہیں ہوتا تھا لیکن میری جیب میں مختلف لاٹری کے ٹکٹ ہمیشہ ہوا کرتے تھے۔“ ملٹنؔ، بِلانوشی اور تمباکونوشی کے باعث ۲۳ اَجیروں پر مشتمل کاروبار سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ وہ کہتا ہے: ”مَیں گلیکوچوں میں راتیں گزارتا تھا، گھر واپس جانے کے قابل نہیں رہتا تھا، اور میرے خاندان نے میری وجہ سے بہت مصیبت اُٹھائی۔“
ژؔاؤ نے بھی بُری عادات پر اپنی تنخواہ اُڑا دی۔ ”مَیں گھر سے باہر راتیں بسر کرتا تھا۔ مَیں جو کچھ بھی کماتا وہ میری بُری عادات اور معاشقوں کیلئے کافی نہیں ہوتا تھا۔ صورتحال ناقابلِبرداشت ہوگئی اور میری بیوی نے علیٰحدگی کا مطالبہ کر دیا۔“ اُسکی مالی اور ازدواجی مشکلات کے علاوہ اَور مشکلات بھی تھیں۔ وہ کہتا ہے: ”مَیں نے رشتہداروں اور پڑوسیوں کیساتھ مشکلات پیدا کر لیں، اور بالخصوص مجھے کام پر مشکلات کا سامنا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مَیں مستقل طور پر بیروزگار ہو گیا۔“ ژُولیوؔ منشیات کا عادی تھا۔ تاہم، وہ وضاحت کرتا ہے: ”چونکہ میری تنخواہ میری نشے کی عادت کو قائم رکھنے کیلئے ناکافی تھی اسلئے مَیں نشہآوَر دواؤں کے بیوپاری کے طور پر کام کرنے لگا تاکہ منشیات خریدنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔“
آٹھ بچوں کے ایک غریب خاندان میں پرورش پانے والا ہوؔسے کچھ اپنے لئے بھی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ اُس کے پاس کھونے کیلئے رکھا ہی کیا ہے، وہ دوسرے نوجوانوں کے ساتھ ملکر لوگوں کو لوٹنے لگا۔ نااُمیدی کی حالت میں، ایک اَور نوجوان ایک گروہ کا رکن بن گیا جس کا نام ہیڈبینگرز تھا۔ وہ وضاحت کرتا ہے: ”چونکہ ہم میں سے زیادہتر نہایت غریب تھے، ہمیں چیزوں کو توڑنے اور لوگوں پر حملہآور ہونے سے کچھ تسکین ملتی تھی۔“
تاہم، آجکل یہ آدمی اور اِنکے خاندان اب مفلوکاُلحالی یا تلخی اور آزردگی کے احساسات میں مبتلا نہیں ہوتے۔ اب سے وہ بےسہارا یا بےآس نہیں ہیں۔ کیوں نہیں؟ کیونکہ اُنہوں نے اُس خوشخبری کا مطالعہ کِیا ہے جس کی یسوؔع نے منادی کی تھی۔ اُنہوں نے بائبل کی مشورت کا اطلاق کِیا اور یہوؔواہ کے گواہوں کی کلیسیاؤں میں ہمخیال اشخاص کیساتھ رفاقت کی۔ اور اُنہوں دولت اور غربت کی بابت کچھ نہایت اہم باتیں سیکھیں۔
غربت کا مقابلہ کرنے کیلئے مدد
اوّل، اُنہوں نے یہ سیکھا کہ اگر بائبل اصولوں کا اطلاق کِیا جائے تو غربت کے بُرے اثرات کو کم کِیا جا سکتا ہے۔ بائبل بداخلاقی، بِلانوشی، قماربازی، اور منشیات کے ناجائز استعمال کی مذمت کرتی ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۹، ۱۰) ایسی چیزیں بہت مہنگی ہوتی ہیں۔ یہ ایک امیر آدمی کو غریب اور ایک غریب آدمی کو غریبتر بنا سکتی ہیں۔ اِن بُری عادات اور اِن جیسی دیگر عادات کو ترک کر دینا خاندان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کیلئے بہت کچھ کر سکتا ہے۔
دوئم، اُنہیں معلوم ہوا کہ زندگی میں دولت سے بھی بڑھکر اہم چیزیں ہیں۔ اِن الہامی الفاظ میں ایک متوازن نظریہ بیان کِیا گیا ہے: ”حکمت ویسی ہی پناہگاہ ہے جیسے روپیہ لیکن علم کی خاص خوبی یہ ہے کہ حکمت صاحبِحکمت کی جان کی محافظ ہے۔“ (واعظ ۷:۱۲) جیہاں، پیسہ ضروری تو ہے۔ مگر بائبل پر مبنی حکمت اور خدا کے مقاصد کا علم کہیں زیادہ مفید ہے۔ یقیناً، ایک احمق آدمی کیلئے پیسے کی بہتات اُتنی ہی دباؤ کا باعث ہو سکتی ہے جتنی کہ پیسے کی قلّت۔ بائبلنویس نے دانشمندی سے دُعا کی: ”مجھ کو نہ کنگال کر نہ دولتمند۔ میری ضرورت کے مطابق مجھے روزی دے۔ اَیسا نہ ہو کہ مَیں سیر ہوکر اِنکار کروں اور کہوں خداوند کون ہے؟ یا مبادا محتاج ہوکر چوری کروں اور اپنے خدا کے نام کی تکفیر کروں۔“—امثال ۳۰:۸، ۹۔
سوئم، اُنہوں نے دریافت کر لیا کہ اگر ایک شخص اُس خوشخبری کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے جسکی یسوؔع نے منادی کی تو اُسے خود کو متروک خیال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خوشخبری کا تعلق خدا کی بادشاہت کیساتھ ہے۔ پیغام کو ”بادشاہی کی . . . خوشخبری“ کا نام دیا گیا ہے اور ہمارے زمانے میں تمام آبادشُدہ زمین پر اِسکی منادی کی جا رہی ہے۔ (متی ۲۴:۱۴) یسوؔع نے بتایا تھا کہ اگر ہم اُس بادشاہت پر آس لگائینگے تو ہماری مدد کی جائیگی۔ اُنہوں نے فرمایا: ”بلکہ تم پہلے [خدا کی] بادشاہی اور اُسکی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تمکو مِل جائینگی۔“ (متی ۶:۳۳) خدا رنگبرنگی گاڑیوں یا پُرتکلف گھروں کا وعدہ نہیں کرتا۔ یسوؔع ضروریاتِزندگی یعنی خوراک اور لباس جیسی چیزوں کی بابت کلام کر رہا تھا۔ (متی ۶:۳۱) لیکن لاکھوں آج اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ یسوؔع کا وعدہ قابلِاعتماد ہے۔ ایک شخص، ایک نہایت غریب شخص بھی، اگر بادشاہت کو مُقدم رکھتا ہے تو اُسے بالکل تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔
چہارم، اُنہوں نے دریافت کِیا کہ وہ جو خدا کی بادشاہت کو مُقدم رکھتا ہے معاشی مشکلات سے تلخمزاج نہیں ہوتا۔ جیہاں، ایک غریب آدمی کو محنت کرنی ہے۔ لیکن اگر وہ خدا کی خدمت کرتا ہے تو اُسکا اپنے خالق کے ساتھ ایک متشرف رشتہ ہے جسکی بابت بائبل کہتی ہے: ”اُس نے نہ تو مصیبتزدہ کی مصیبت کو حقیر جانا نہ اُس سے نفرت کی۔ نہ اُس سے اپنا مُنہ چھپایا بلکہ جب اُس نے خدا سے فریاد کی تو اُس نے سن لی۔“ (زبور ۲۲:۲۴) علاوہازیں، غریب آدمی کو زندگی کے مسائل پر قابو پانے کیلئے مدد حاصل ہے۔ وہ ساتھی مسیحیوں کی مستقل پُرتپاک رفاقت سے استفادہ کرتا ہے اور یہوؔواہ کی منکشف مرضی کا علم رکھتا اور اُس پر توکل رکھتا ہے۔ ایسی چیزیں ”سونے سے بلکہ بہت کُندن سے زیادہ پسندیدہ ہیں۔“—زبور ۱۹:۱۰۔
بالآخر، کوئی غربت نہیں!
آخر میں، خوشخبری پر دھیان دینے والے اشخاص سیکھتے ہیں کہ یہوؔواہ نے اپنی بادشاہت کے ذریعے غربت کے مسئلے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کر دینے کا قصد کِیا ہوا ہے۔ بائبل وعدہ کرتی ہے: ”مسکین سدا بھولےبسرے نہ رہیں گے۔ نہ غریبوں کی اُمید ہمیشہ کیلئے ٹوٹے گی۔“ (زبور ۹:۱۸) یسوؔع مسیح کے بطور حکمران ہونے کے ساتھ آسمان میں قائم یہ بادشاہت ایک حقیقی حکومت ہے۔ عنقریب، وہ بادشاہت انسانی اَمور کے نظمونسق کے سلسلے میں انسانی حکومتوں کی جگہ لے لیگی۔ (دانیایل ۲:۴۴) پھر، تختنشین بادشاہ کے طور پر، یسوؔع ”غریب اور محتاج پر ترس کھائیگا۔ اور محتاجوں کی جان کو بچائے گا۔ وہ فدیہ دیکر اُنکی جان کو ظلم اور جبر سے چھڑائیگا اور اُنکا خون اُس کی نظر میں بیشقیمت ہوگا۔“—زبور ۷۲:۱۳، ۱۴۔
اُس وقت کی آس میں، میکاہ ۴:۳، ۴ کہتی ہیں: ”تب ہر ایک آدمی اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے بیٹھیگا اور اُنکو کوئی نہ ڈرائے گا کیونکہ ربّالافواج نے اپنے مُنہ سے یہ فرمایا ہے۔“ یہاں کس کا ذکر کِیا گیا ہے؟ ہاں، اُن سب کا جو خدا کی بادشاہت کی اطاعت کرتے ہیں۔ وہ بادشاہت نوعِانسان کو دُکھ پہنچانے والے تمام مسائل کو حل کر دیگی—بیماری اور موت کے مسئلے کو بھی۔ ”وہ موت کو ہمیشہ کے لئے نابود کریگا اور خداوند خدا سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالیگا۔“ (یسعیاہ ۲۵:۸؛ ۳۳:۲۴) وہ کتنی فرق دُنیا ہوگی! اور یاد رکھیں، ہم اِن وعدوں پر یقین رکھ سکتے ہیں کیونکہ خدا نے خود اِنکا الہام دیا ہے۔ وہ کہتا ہے: ”میرے لوگ سلامتی کے مکانوں میں اور بےخطر گھروں میں اور آسُودگی اور آسایش کے کاشانوں میں رہینگے۔“—یسعیاہ ۳۲:۱۸۔
خدا کی بادشاہت پر توکل اکثر غربت کے باعث پیدا ہونے والی عزتِنفس کے فقدان پر غالب آتا ہے۔ ایک غریب مسیحی جانتا ہے کہ خدا کی نظروں میں وہ اُتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ایک دولتمند مسیحی۔ خدا دونوں سے یکساں محبت کرتا ہے اور دونوں ایک ہی اُمید رکھتے ہیں۔ دونوں اشتیاق کیساتھ اُس وقت کے منتظر ہیں جب، خدا کی بادشاہت کے تحت، غربت گئی گزری بات ہوگی۔ وہ کتنا پُرشکوہ وقت ہوگا! بالآخر، کوئی بھی غریب نہ ہوگا! (۴ ۵/۰۱ w۹۵)