کیا آپ کو یاد ہے؟
کیا آپ نے ”مینارِنگہبانی“ کے حالیہ شماروں کو پڑھنے سے لطف اُٹھایا ہے؟ پس، آئیے پھر دیکھیں کہ آپ مندرجہذیل سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں:
• ”تمیز“ کیسے ہمارے لئے تحفظ ثابت ہو سکتی ہے؟ (امثال ۱:۴)
یہ ہمیں روحانی خطرات سے باخبر رکھ سکتی اور جائےملازمت پر جنسی آزمائشوں سے بچنے کیلئے مناسب روش اختیار کرنے کی منصوبہسازی کرنے کی تحریک دے سکتی ہے۔ یہ ہمیں اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ساتھی مسیحی ناکامل ہیں اور یوں ہم غصے کی حالت میں جلدبازی سے گریز کرنے کی تحریک پاتے ہیں۔ یہ ہمیں مادہپرستانہ دباؤ سے بچنے کے قابل بناتی ہے جو ہمیں روحانی طور پر گمراہ کر سکتا ہے۔—۱۵/۸، صفحہ ۲۱-۲۴۔
• کوئی شخص پڑوسی کے طور پر کیسے ایک اثاثہ ثابت ہو سکتا ہے؟
اچھا پڑوسی بننے کے دو طریقے ہیں یعنی ایک شخص کو فراخدلی سے دینے والا اور شکرگزاری سے لینے والا ہونا چاہئے۔ مصیبت کے وقت اچھا پڑوسی ثابت ہونا گراںبہا ہے۔ یہوواہ کے گواہ دوسروں کو آنے والے واقعات، خدا کے بدکاری کو ختم کرنے کی کارروائی کی بابت پہلے سے آگاہ کرنے سے بھی اچھے پڑوسی بننے کی کوشش کرتے ہیں۔—۱/۹، صفحہ ۴-۷۔
• بائبل کے مطابق، سچے مُقدسین کون ہیں اور وہ انسانوں کی مدد کیسے کرینگے؟
تمام ابتدائی مسیحی انسانوں یا تنظیموں کے ذریعے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے سچے مُقدسین یا مُقدس لوگ قرار پاتے تھے۔ (رومیوں ۱:۷) آسمانی زندگی کیلئے قیامت پانے کے بعد مُقدس لوگ زمین پر وفادار اشخاص کو برکت دینے میں مسیح کیساتھ شریک ہونگے۔ (افسیوں ۱:۱۸-۲۱)—۱۵/۹، صفحہ ۵-۷۔
• قدیم یونان میں کھیلوں کی بابت معلومات رکھنا مسیحیوں کے لئے کس اہمیت کا حامل ہو سکتا تھا؟
پطرس اور پولس کی تحریروں میں قدیم کھیلوں پر مبنی تمثیلیں پائی جاتی ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۹:۲۶؛ ۱-تیمتھیس ۴:۷؛ ۲-تیمتھیس ۲:۵؛ ۱-پطرس ۵:۱۰) ایک قدیم کھلاڑی کیلئے اپنے ضبطِنفس کو عمل میں لانے اور اپنی کوششوں کو درست سمت میں ڈالنے کیلئے ایک اچھا تربیتکار دستیاب ہونا ضروری تھا۔ آجکل مسیحیوں کی روحانی کوششوں پر بھی یہی بات صادق آتی ہے۔—۱/۱۰، صفحہ ۲۸-۳۱۔
• پردیس میں بچوں کی پرورش کے اَجر اور چیلنج کیا ہیں؟
بہتیرے بچے اپنے والدین کی نسبت نئی زبان جلدی سیکھ لیتے ہیں، اسی بِنا پر وہ اپنے بچے کی سوچ اور ردِعمل کو سمجھنا مشکل پاتے ہیں۔ نیز بچے شاید اپنے والدین کی زبان میں بائبل تعلیمات کو سمجھنا مشکل پاتے ہوں۔ تاہم جب والدین بچوں کو اپنی زبان سکھاتے ہیں تو نہ صرف خاندانی بندھن مضبوط ہوتا ہے بلکہ دو زبانیں جاننے والے بچے خود کو دو تہذیبوں کا حصہ محسوس کرتے ہیں۔—۱۵/۱۰، صفحہ ۲۲-۲۶۔
• معافی مانگنا سیکھنے کی ضرورت کیوں ہے؟
خلوصدل معافی اکثر ٹوٹے رشتے کو جوڑنے کا ایک طریقہ ہوتی ہے۔ بائبل معافی کی قوت کی مثالیں فراہم کرتی ہے۔ (۱-سموئیل ۲۵:۲-۳۵؛ اعمال ۲۳:۱-۵) اکثر جب دو انسان آپس میں خفا ہوتے ہیں تو دونوں پر کچھ نہ کچھ الزام ہوتا ہے۔ اسلئے ایک دوسرے سے معافی مانگنے اور رعایت برتنے کا تقاضا کِیا جاتا ہے۔—۱/۱۱، صفحہ ۴-۷۔
• معمولی رقم پر جوأ کھیلنا بھی کیوں مناسب نہیں ہے؟
جوئےبازی اناپرستی، مقابلہبازی اور لالچ کو تحریک دے سکتی ہے جسکی بائبل مذمت کرتی ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۹، ۱۰) بیشتر جوئےباز اوائل عمری ہی سے چھوٹی چھوٹی شرطیں لگانا سیکھتے ہیں۔—۱/۱۱، صفحہ ۳۱۔
• اگرچہ بائبل کی بہتیری کتابیں یونانی زبان میں لکھی گئی تھیں اس کے باوجود بائبل کا یونانی میں ترجمہ کرنے کی کیا ضرورت تھی اور اسکے کیا نتائج رہے ہیں؟
جدید یونانی زبان عبرانی صحائف کے سپتواُجنتا یونانی ترجمے اور مسیحی یونانی صحائف سے بالکل مختلف تھی۔ حالیہ برسوں میں پوری بائبل یا اسکے کچھ حصوں کو عامفہم یونانی زبان میں ترجمہ کرنے کی بیشمار کوششیں کی گئی ہیں۔ آجکل، بائبل کے مکمل یا جزوی طور پر تقریباً ۳۰ ترجمے موجود ہیں جسے عام یونانی بولنے والا شخص پڑھ سکتا ہے جن میں سب سے مشہور ۱۹۹۷ میں شائع ہونے والا نیو ورلڈ ٹرانسلیشن آف دی ہولی سکرپچرز ہے۔—۱۵/۱۱، صفحہ ۲۶-۲۹۔
• مسیحیوں سے دہیکی کا تقاضا کیوں نہیں کِیا جاتا؟
قدیم اسرائیل کو دی جانے والی شریعت کے تحت، دہیکی دراصل لاوی کے قبیلہ کی کفالت کرنے اور حاجتمندوں کی مدد کرنے کا ذریعہ تھی۔ (احبار ۲۷:۳۰؛ استثنا ۱۴:۲۸، ۲۹) یسوع کی قربانی نے شریعت اور اسکے دہیکی کے تقاضے کو ختم کر دیا تھا۔ (افسیوں ۲:۱۳-۱۵) ابتدائی کلیسیا میں، ہر مسیحی سے کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے دل کی خوشی اور اپنے وسائل کے مطابق ہدیہ دے۔ (۲-کرنتھیوں ۹:۵، ۷)—۱/۱۲، صفحہ ۴-۶۔
• کیا مکاشفہ ۲۰:۸ کا مطلب یہ ہے کہ آخری امتحان میں شیطان لوگوں کی بڑی تعداد کو گمراہ کر لیگا؟
آیت بیان کرتی ہے کہ گمراہ ہونے والوں کا ”شمار سمندر کی ریت کے برابر“ ہوگا۔ بائبل میں اس اظہار سے مُراد اکثر نامعلوم تعداد ہوتی ہے۔ ابرہام کی نسل جس نے ”سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند“ ہونا تھا وہ یسوع مسیح کے علاوہ ۱،۴۴،۰۰۰ اشخاص پر مشتمل ہے۔ (پیدایش ۲۲:۱۷؛ مکاشفہ ۱۴:۱-۴)—۱/۱۲، صفحہ ۲۹۔