خدا کے کلام سے محبت رکھنے کے فوائد
”[حکمت] سے محبت رکھنا۔ وہ تیری نگہبان ہوگی۔ . . . جب تُو اُسے گلے لگائیگا وہ تجھے عزت بخشیگی۔“—امثال ۴:۶، ۸۔
ایک مسیحی کیلئے بائبل پڑھنا لازمی ہے۔ تاہم، اسکی پڑھائی ہی بذاتِخود خدا کے کلام کیلئے محبت ظاہر نہیں کرتی۔ چنانچہ اگر ایک شخص بائبل پڑھنے کیساتھ ساتھ ایسے کام بھی کرتا ہے جنکی بائبل مذمت کرتی ہے تو کیا ہو؟ بدیہی طور پر، وہ خدا کے کلام سے ویسی محبت نہیں رکھتا جیسی زبور ۱۱۹ کا راقم رکھتا تھا۔ خدا کے کلام سے محبت، اُس کیلئے خدا کے کلام کے تقاضوں کی مطابقت میں زندگی بسر کرنے پر منتج ہوئی تھی۔—زبور ۱۱۹:۹۷، ۱۰۱، ۱۰۵۔
۲ خدا کے کلام کی مطابقت میں زندگی بسر کرنا اپنی سوچ اور طرزِزندگی میں مسلسل ردوبدل کا تقاضا کرتا ہے۔ ایسی روش خدائی حکمت کو منعکس کرتی ہے جس کا مطلب بائبل مطالعے سے حاصل ہونے والے علم اور فہم کا عملی اطلاق کرنا ہے۔ ”[حکمت] سے محبت رکھنا۔ وہ تیری نگہبان ہوگی۔ اُسکی تعظیم کر۔ وہ تجھے سرفراز کریگی۔ جب تُو اُسے گلے لگائیگا وہ تجھے عزت بخشے گی۔ وہ تیرے سر پر زینت کا سہرا باندھے گی اور تجھ کو جمال کا تاج عطا کریگی۔“ (امثال ۴:۶، ۸، ۹) خدا کے کلام کیلئے محبت پیدا کرنے اور اس سے راہنمائی حاصل کرنے کیلئے کیا ہی عمدہ حوصلہافزائی! کون حفاظت، عزت اور سرفرازی نہیں چاہتا؟
دائمی نقصان سے محفوظ
۳ ایک شخص کیسے خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے سے حکمت اور اسکا اطلاق کرنے سے تحفظ پا سکتا ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ شیطان ابلیس سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ یسوع نے اپنے پیروکاروں کو شریر، شیطان سے بچاؤ کیلئے دُعا کرنا سکھائی تھی۔ (متی ۶:۱۳) آجکل، اس درخواست کو اپنی دُعاؤں میں شامل کرنا واقعی اشد ضروری ہے۔ شیطان اور اُسکے شیاطین کو ۱۹۱۴ میں آسمان سے نیچے گِرا دیا گیا تھا چنانچہ شیطان ”بڑے قہر“ میں ہے ”اسلئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“ (مکاشفہ ۱۲:۹، ۱۰، ۱۲) ان آخری ایّام میں تو وہ واقعی بہت قہر میں ہے کیونکہ وہ اُن لوگوں کے خلاف لڑائی میں ناکام ہے ”جو خدا کے حکموں پر عمل [کرتے ہیں] اور یسوؔع کی گواہی دینے پر قائم [ہیں]۔“—مکاشفہ ۱۲:۱۷۔
۴ اپنے قہر میں شیطان ان مسیحی خادموں کے خلاف مشکلات اور پُرتشدد اذیت برپا کرنے کیساتھ ساتھ اور اُنکی کارگزاری کی راہ میں دیگر رکاوٹیں حائل کرتا رہتا ہے۔ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ بادشاہتی مُنادوں کی توجہ بادشاہت کی مُنادی کے کام کی بجائے دُنیاوی نمودونمائش جیسی چیزوں، آزادی، مادی چیزوں کے حصول، عیشوعشرت پر مرتکز رہے۔ کیا چیز خدا کے وفادار خادموں کو شیطان کے دباؤ میں نہ آنے یا اُس کے پھندوں میں پھنسنے سے بچاتی ہے؟ بِلاشُبہ، دُعا، یہوواہ کیساتھ ایک قریبی ذاتی رشتہ اور اُسکے وعدوں کے یقینی ہونے پر بھروسہ نہایت ضروری چیزیں ہیں۔ تاہم، ان سب کا تعلق خدا کے کلام میں درج یاددہانیوں کے علم اور اُن پر دھیان دینے کے عزمِمُصمم کیساتھ ہے۔ یہ یاددہانیاں بائبل اور بائبل مطالعے کی امدادی مطبوعات کو پڑھنے، مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونے، ساتھی ایماندار کی طرف سے دی جانے والی صحیفائی مشورت کو قبول کرنے یا پھر اُن بائبل اُصولوں پر دُعائیہ غوروفکر کرنے سے حاصل ہوتی ہیں جنہیں خدا کی رُوحاُلقدس ہمیں یاد دِلاتی ہے۔—یسعیاہ ۳۰:۲۱؛ یوحنا ۱۴:۲۶؛ ۱-یوحنا ۲:۱۵-۱۷۔
۵ جو لوگ خدا کے کلام سے محبت رکھتے ہیں وہ دیگر طریقوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ منشیات کے ناجائز استعمال، تمباکونوشی اور جنسی بداخلاقی جیسے کاموں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جذباتی دباؤ اور جسمانی بیماریوں سے بھی بچ جاتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۵:۱۱؛ ۲-کرنتھیوں ۷:۱) وہ فضولگوئی یا تلخ باتوں کے ذریعے تعلقات خراب نہیں کرتے۔ (افسیوں ۴:۳۱) وہ دُنیا کی حکمت کی پُرفریب فیلسوفیوں کے دام میں پھنس کر شکوک کا شکار بھی نہیں ہوتے۔ (۱-کرنتھیوں ۳:۱۹) خدا کے کلام سے محبت رکھنے کی وجہ سے، وہ ایسی چیزوں سے بھی بچ جاتے ہیں جو خدا کے ساتھ اُنکے رشتے کو ختم اور ہمیشہ کی زندگی کی اُمید کو چھین سکتی ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے وہ ’اپنی اور اپنے سننے والوں کی جان بچائینگے،‘ لہٰذا وہ اپنے پڑوسیوں کی بائبل میں مرقوم خدا کے شاندار وعدوں پر بھروسہ رکھنے میں مدد کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۶۔
۶ یہ سچ ہے کہ ”وقت اور حادثہ“ سب کیلئے—حتیٰکہ خدا کے کلام سے محبت رکھنے والے لوگوں کیلئے بھی ہے۔ (واعظ ۹:۱۱) یہ یقینی بات ہے کہ ہم میں سے بعض لوگ قدرتی آفات، سنگین بیماریوں، حادثات یا بےوقت موت کا سامنا کریں گے۔ پھربھی ہم محفوظ ہیں۔ خدا کے کلام سے سچی محبت رکھنے والے کسی بھی شخص کو کوئی بھی چیز دائمی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لہٰذا، ہمیں مستقبل کی بابت بہت زیادہ فکرمند نہیں ہونا چاہئے۔ تمام معقول احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بعد، معاملات کو یہوواہ پر چھوڑ دینا بہتر ہوگا نیز آجکل کی غیرمحفوظ زندگی کو اپنے اطمینان کو چھیننے کی اجازت نہ دیں۔ (متی ۶:۳۳، ۳۴؛ فلپیوں ۴:۶، ۷) قیامت کی اُمید کے یقینی ہونے اور جب خدا ’سب چیزوں کو نیا بناتا ہے‘ تو اُس وقت ایک بہتر زندگی کو یاد رکھیں۔—مکاشفہ ۲۱:۵؛ یوحنا ۱۱:۲۵۔
خود کو ”اچھی زمین“ ثابت کریں
۷ یسوع کی تمثیلوں میں سے ایک میں خدا کے کلام کی بابت صحیح رُجحان کو نمایاں کِیا گیا تھا۔ جب یسوع نے فلسطین کے سارے علاقے میں خوشخبری کی مُنادی کی تو لوگوں کی بھیڑ اُسکی باتیں سننے کیلئے جمع ہو گئی۔ (لوقا ۸:۱، ۴) تاہم، وہ سب خدا کے کلام سے حقیقی محبت نہیں رکھتے تھے۔ بِلاشُبہ اکثریت محض اسلئے اُس کی باتیں سننے کے لئے آتی تھی کیونکہ وہ معجزات دیکھنا چاہتے تھے یا پھر اسلئے کہ وہ اُس کے تعلیم دینے کے حیرتانگیز طریقے کو پسند کرتے تھے۔ لہٰذا، یسوع نے لوگوں کی بھیڑ کو ایک تمثیل سنائی: ”ایک بونے والا اپنا بیج بونے نکلا اور بوتے وقت کچھ راہ کے کنارے گِرا اور روندا گیا اور ہوا کے پرندوں نے اُسے چگ لیا۔ اور کچھ چٹان پر گِرا اور اُگ کر سوکھ گیا اسلئے کہ اُسکو تری نہ پہنچی۔ اور کچھ جھاڑیوں میں گِرا اور جھاڑیوں نے ساتھ ساتھ بڑھ کر اُسے دبا لیا۔ اور کچھ اچھی زمین پر گِرا اور اُگ کر سو گُنا پھل لایا۔“—لوقا ۸:۵-۸۔
۸ یسوع کی تمثیل نے ظاہر کِیا کہ سننے والے کے دل کی حالت کے مطابق، خوشخبری کی مُنادی کیلئے مختلف طرح کے ردِعمل دکھائے جائینگے۔ بیج جو بویا جاتا ہے وہ ”خدا کا کلام“ ہے۔ (لوقا ۸:۱۱) یا جیسےکہ تمثیل کا ایک اور ریکارڈ بیان کرتا ہے بیج، ”بادشاہی کا کلام“ ہے۔ (متی ۱۳:۱۹) یسوع ان دونوں میں سے کوئی بھی اصطلاح استعمال کر سکتا تھا چونکہ خدا کے کلام کا موضوع، یسوع مسیح کے تحت آسمانی بادشاہت ہی ہے جس کے ذریعے یہوواہ اپنی حاکمیت کو سربلند اور اپنے نام کی تقدیس کرائیگا۔ (متی ۶:۹، ۱۰) اس صورتحال میں، درحقیقت بیج خدا کے کلام، بائبل میں موجود خوشخبری کا پیغام ہے۔ یہوواہ کے گواہ جب اصلی بیج بونے والے یسوع مسیح کی نقل میں بیج بوتے ہیں تو وہ اسی بادشاہتی پیغام کا اعلان کرتے ہیں۔ وہ کیسا جوابیعمل پاتے ہیں؟
۹ یسوع نے کہا کہ کچھ بیج راہ کے کنارے گِرتا ہے اور پاؤں سے روندا جاتا ہے۔ یہ اُن لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اسقدر مصروف ہیں کہ بادشاہتی بیج اُنکے دلوں میں جڑ نہیں پکڑ سکتا۔ اس سے پیشتر کہ وہ خدا کے کلام کیلئے محبت پیدا کر سکیں، ”اِبلیسؔ آکر کلام کو اُنکے دل سے چھین لے جاتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ایمان لا کر نجات پائیں۔“ (لوقا ۸:۱۲) کچھ بیج چٹان پر گِرتا ہے۔ یہ ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو بادشاہتی پیغام پر توجہ تو دیتے ہیں لیکن اسے اپنے دلوں میں جڑ پکڑنے کی اجازت نہیں دیتے۔ جب مخالفت ہوتی ہے یا جب وہ بائبل مشورت کا اطلاق کرنا مشکل پاتے ہیں تو ”پھر جاتے ہیں“ کیونکہ وہ جڑ نہیں رکھتے۔ (لوقا ۸:۱۳) اسکے بعد ایسے لوگ ہیں جو کلام کو سنتے تو ہیں مگر ”زندگی کی فکروں اور دولت اور عیشوعشرت“ کے حصول میں مصروفِعمل ہیں۔ انجامکار، جھاڑیوں میں گِھرے ہوئے پودے کی طرح ”پھنس جاتے ہیں۔“—لوقا ۸:۱۴۔
۱۰ آخر میں وہ بیج ہے جو اچھی زمین پر گِرتا ہے۔ یہ اُن لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ”عمدہ اور نیکدل“ کیساتھ بادشاہتی پیغام کو قبول کرتے ہیں۔ فطری بات ہے کہ ہم سب یہی کہیں گے کہ ہمارا تعلق اسی زمین سے ہے۔ تاہم، حتمی تجزیے میں، یہ خدا کا نظریہ ہے جو زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ (امثال ۱۷:۳؛ ۱-کرنتھیوں ۴:۴، ۵) اُس کا کلام بیان کرتا ہے کہ ہمارا ”عمدہ اور نیکدل“ رکھنا ایک ایسی چیز ہے جس کا ثبوت ہم اب سے شروع کر کے جان دینے تک یا پھر اُس وقت تک جب خدا اس شریر نظاماُلعمل کو ختم نہیں کر دیتا، اپنے کاموں سے دے سکتے ہیں۔ اگر بادشاہتی پیغام کیلئے ہمارا ابتدائی ردِعمل مثبت ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ تاہم، وہ لوگ جو عمدہ اور نیکدل رکھتے ہیں وہ خدا کے کلام کو قبول اور ”سنبھالے رہتے اور صبر سے پھل لاتے ہیں۔“—لوقا ۸:۱۵۔
۱۱ خدا کے کلام کو اپنے دلوں میں محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ اُسے ذاتی اور اجتماعی طور پر ساتھی ایمانداروں کیساتھ ملکر پڑھنا اور اُسکا مطالعہ کرنا ہے۔ اس میں یسوع کے سچے پیروکاروں کے روحانی مفادات کی دیکھ بھال کیلئے مُتعیّنہ ذریعے کے توسط سے فراہمکردہ روحانی خوراک سے بھرپور استفادہ کرنا بھی شامل ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) اس طریقے سے جو لوگ خدا کے کلام کو اپنے دلوں میں محفوظ رکھتے ہیں وہ محبت سے تحریک پا کر ”صبر سے پھل لاتے ہیں۔“
۱۲ اچھی زمین کیسا پھل لاتی ہے؟ طبعی دُنیا میں، بیجوں سے پودے بنتے ہیں جو ایسا پھل لاتے ہیں جنکا بیج اُسی قسم کا ہوتا ہے جسے مزید پھل لانے کیلئے بویا جا سکتا ہے۔ اسی طرح، جہاں تک عمدہ اور نیکدل رکھنے والے لوگوں کا تعلق ہے، کلام کا بیج اُن میں بڑھتا ہے اور اُنکے اُس وقت تک روحانی ترقی کرنے کا باعث بنتا ہے جبتک کہ وہ دوسروں کے دلوں میں بیج بونے کے قابل نہیں ہو جاتے۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) نیز، اُنکے بونے میں صبر شامل ہوتا ہے۔ یسوع نے بیج بونے میں صبر کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا: ”جو آخر تک برداشت کریگا وہ نجات پائیگا۔ اور بادشاہی کی اس خوشخبری کی مُنادی تمام دُنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کیلئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“—متی ۲۴:۱۳، ۱۴۔
”ہر طرح کے نیک کام کا پھل لگے“
۱۳ پولس رسول نے بھی پھل پیدا کرنے کی ضرورت کا ذکر کِیا اور اُس نے پھل پیدا کرنے کو خدا کے کلام کیساتھ جوڑ دیا۔ اُس نے اپنے ساتھی ایمانداروں کے حق میں دُعا کی کہ ”تُم کمال روحانی حکمت اور سمجھ کے ساتھ [خدا کی] مرضی کے علم سے معمور ہو جاؤ۔ تاکہ تمہارا چالچلن [یہوواہ] کے لائق ہو اور اُسکو ہر طرح سے پسند آئے اور تُم میں ہر طرح کے نیک کام کا پھل لگے۔“—کلسیوں ۱:۹، ۱۰؛ فلپیوں ۱:۹-۱۱۔
۱۴ یوں پولس ظاہر کرتا ہے کہ بائبل کا علم حاصل کرنا ہی واحد مقصد نہیں ہے۔ اِسکے برعکس، خدا کے کلام کیلئے محبت ہمیں تحریک دیتی ہے کہ ”ہر طرح کے نیک کام کا پھل“ پیدا کرتے ہوئے ہمارا ”چالچلن [یہوواہ] کے لائق ہو۔“ کونسے نیک کام؟ ان آخری ایّام میں بادشاہت کی خوشخبری کی منادی ہی مسیحیوں کی نمایاں تفویض ہے۔ (مرقس ۱۳:۱۰) مزیدبرآں، جو لوگ خدا کے کلام سے محبت رکھتے ہیں وہ اس کام کی باقاعدہ مالی اعانت کرنے کی بھی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ ”خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے“ وہ اس شرف سے خوش ہوتے ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۹:۷) اُنکے عطیات ایک سو سے زائد بیتایل سہولیات کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں جہاں سے بادشاہت کی مُنادی کے کام کی راہنمائی ہوتی ہے اور اِس کے علاوہ ان سے بائبلیں اور بائبل پر مبنی لٹریچر بھی شائع ہوتا ہے۔ اُنکے عطیات بڑے بڑے مسیحی کنونشنوں کے انتظامات اور سفری نگہبانوں، مشنریوں اور دیگر کُلوقتی مبشروں کے سفری اخراجات کو پورا کرنے کیلئے معاون ثابت ہوتے ہیں۔
۱۵ دیگر نیک کاموں میں سچی پرستش کے مراکز کی تعمیر اور اِن کی دیکھبھال بھی شامل ہے۔ خدا کے کلام کیلئے محبت اُسکے پرستاروں کو اس بات کا یقین کرنے کی تحریک دیتی ہے کہ اسمبلی ہال اور کنگڈم ہال غفلت کا شکار نہ ہو جائیں۔ (مقابلہ کریں نحمیاہ ۱۰:۳۹۔) ایسی عمارتوں کے اُوپر خدا کے نام کے تحریر کئے جانے کی وجہ سے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ اندر اور باہر سے صاف اور دلکش نظر آئیں اور یہ کہ ان ہالز کے اندر پرستش کرنے والوں کا چالچلن بھی ملامت سے پاک ہو۔ (۲-کرنتھیوں ۶:۳) بعض مسیحی اِس سے زیادہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ خدا کے کلام کیلئے محبت اُنہیں دُنیا کے ایسے علاقوں میں جا کر پرستش کی نئی جگہیں تعمیر کرنے میں حصہ لینے کی تحریک دیتی ہے جہاں غربت یا مہارت کی کمی کی وجہ سے ضرورت ہوتی ہے۔—۲-کرنتھیوں ۸:۱۴۔
۱۶ ”ہر طرح کے نیک کام کا پھل“ پیدا کرنے میں خاندانی ذمہداریوں کو پورا کرنا اور ساتھی مسیحیوں کے لئے فکرمندی ظاہر کرنا بھی شامل ہے۔ خدا کے کلام سے محبت ہمیں اپنے ”اہلِایمان“ کی ضروریات سے باخبر رہنے اور ”اپنے گھرانے کی خبرگیری“ کرنے کی بھی تحریک دیتی ہے۔ (گلتیوں ۶:۱۰؛ ۱-تیمتھیس ۵:۴، ۸) اس سلسلے میں بیماروں کی عیادت اور غمزدہ کو تسلی دینے کیلئے جانا ایک نیک کام ہوگا۔ لہٰذا، جن لوگوں کو چیلنجخیز طبّی حالات کا سامنا ہے اُنکی مدد کرتے ہوئے کلیسیائی بزرگ اور ہسپتال رابطہ کمیٹی ایک شاندار کام سرانجام دیتے ہیں! (اعمال ۱۵:۲۹) اس کیساتھ ساتھ مختلف طرح کی آفات بھی ہیں—جن میں سے بعض قدرتی اور دیگر انسانی حماقت کا نتیجہ ہیں۔ خدا کی روح کی مدد سے، یہوواہ کے گواہوں نے ساتھی ایمانداروں اور آفات اور حادثات سے متاثر ہونے والوں کو فوری امداد پہنچانے کے سلسلے میں زمین کے بیشتر ممالک میں عمدہ ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔ یہ سب وہ اچھے پھل ہیں جو خدا کے کلام سے محبت رکھنے والے لوگ ظاہر کرتے ہیں۔
مستقبل میں شاندار فوائد
۱۷ بادشاہتی بیج کا بویا جانا نوعِانسان کیلئے بیشمار برکات کا باعث بن رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہر سال تقریباً ۳،۰۰،۰۰۰ سے زیادہ اشخاص نے بائبل پیغام کو اس حد تک اپنے دلوں میں جڑ پکڑنے کی اجازت دیکر اپنی زندگیاں یہوواہ کیلئے مخصوص کر دیں ہیں اور اس کے اظہار میں پانی کا بپتسمہ لیا ہے۔ کیا ہی شاندار مستقبل اُنکا منتظر ہے!
۱۸ خدا کے کلام سے محبت رکھنے والے جانتے ہیں کہ جلد ہی یہوواہ اپنے نام کو جلال دینے کے لئے اُٹھے گا۔ جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت، ”بڑا بابل،“ تباہوبرباد کر دیا جائیگا۔ (مکاشفہ ۱۸:۲، ۸) پس، خدا کے کلام کے مطابق زندگی بسر کرنے سے انکار کرنے والوں کو بادشاہ یسوع مسیح ہلاک کر دیگا۔ (زبور ۲:۹-۱۱؛ دانیایل ۲:۴۴) اس کے بعد، خدا کی بادشاہی جُرم، جنگ اور دیگر مصائب سے مستقل چھٹکارا دلائیگی۔ پھر لوگوں کو دُکھدرد، بیماری اور موت کے سلسلے میں تسلی دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔—مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
۱۹ اُس وقت خدا کے کلام سے محبت رکھنے والوں کی طرف سے کیا ہی عمدہ کام انجام دئے جائینگے! ہرمجدون سے بچنے والے اس زمین کو فردوس میں بدلنے کے مسرورکُن کام کو شروع کریں گے۔ اُن کے پاس مُردوں میں سے زندہ ہونے والے اُن لوگوں کی ضروریات کے لئے تیاری کرنے کا ہیجانخیز استحقاق ہوگا جو اس وقت قبروں میں آرام کر رہے ہیں مگر مُردوں کی قیامت میں شریک ہونے کے امکان کے ساتھ خدا کی یاد میں ہیں۔ (یوحنا ۵:۲۸، ۲۹) اُس وقت، حاکمِاعلیٰ، یہوواہ کی طرف سے اُس کے جلالی بیٹے یسوع کے ذریعے زمین کے باشندوں کے لئے کامل ہدایت فراہم کی جائے گی۔ نئی دُنیا کے رہنسہن کے متعلق یہوواہ کی ہدایات کو آشکارا کرنے کے لئے ’کتابیں کھولی جائینگی۔‘—مکاشفہ ۲۰:۱۲۔
۲۰ یہوواہ کے مقررہ وقت پر، وفادار ممسوح مسیحیوں کی ساری جماعت کو ”مسیح کے ہممیراث“ کے طور پر آسمانی اجر عطا کِیا جائے گا۔ (رومیوں ۸:۱۷) مسیح کی ہزار سالہ حکمرانی کے دوران، زمین پر خدا کے کلام سے محبت رکھنے والے تمام انسانوں کو ذہنی اور جسمانی کاملیت عطا کی جائے گی۔ آخری آزمائش کے تحت وفادار رہنے کے بعد، اُنہیں ہمیشہ کی زندگی کا اجر دیا جائے گا اور یوں وہ ”خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی“ سے استفادہ کریں گے۔ (رومیوں ۸:۲۱؛ مکاشفہ ۲۰:۱-۳، ۷-۱۰) وہ کیا ہی شاندار وقت ہوگا! سچ ہے کہ خواہ یہوواہ ہمیں آسمانی اُمید دیتا ہے یا زمینی، اُس کے کلام کے لئے لازوال محبت اور خدائی حکمت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا عزمِمُصمم اِس وقت ہماری حفاظت کرے گا۔ نیز مستقبل میں ’جب ہم اُسے گلے لگائیں گے تو وہ ہمیں عزت بخشے گی۔‘—امثال ۴:۶، ۸۔
کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟
◻خدا کے کلام سے محبت کیسے ہماری حفاظت کرے گی؟
◻یسوع کی تمثیل میں بیج کیا ہے اور یہ کیسے بویا جاتا ہے؟
◻ہم کیسے ”اچھی زمین“ ثابت ہو سکتے ہیں؟
◻خدا کے کلام سے محبت رکھنے والے لوگ کن بخششوں کی توقع کر سکتے ہیں؟
[مطالعے کے سوالات]
۱. خدا کے کلام سے حقیقی محبت رکھنے میں کیا کچھ شامل ہے؟
۲. خدا کے کلام پر مبنی حکمت سے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟
۳. سب سے بڑھ کر مسیحیوں کو کس سے حفاظت کی ضرورت ہے اور کیوں؟
۴. مسیحی شیطانی دباؤ اور پھندوں سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
۵. خدا کے کلام پر مبنی حکمت ہمیں کن طریقوں سے محفوظ رکھتی ہے؟
۶. خدا کے کلام پر مبنی حکمت مشکل حالات میں بھی ہماری حفاظت کیسے کرتی ہے؟
۷. جو بھیڑ یسوع کا کلام سننے کیلئے آئی تھی اُس نے اُنہیں کونسی تمثیل سنائی؟
۸. یسوع کی تمثیل میں، بیج کیا ہے؟
۹. اُس بیج سے کس چیز کی تصویرکشی کی گئی ہے جو (ا) راہ کے کنارے گِرا؟ (ب) چٹان پر گِرا؟ (پ) جھاڑیوں میں گِرا؟
۱۰، ۱۱. (ا) اچھی زمین سے کن کی تصویرکشی کی گئی ہے؟ (ب) خدا کے کلام کو اپنے دلوں میں ”سنبھال کر“ رکھنے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۱۲. ہمیں صبر کیساتھ کونسا پھل پیدا کرنا چاہئے؟
۱۳. پولس نے کونسی دُعا کی تھی جس نے پھل پیدا کرنے کو خدا کے کلام کے علم کیساتھ جوڑ دیا؟
۱۴-۱۶. پولس کی دُعا کی مطابقت میں، جو لوگ خدا کے کلام سے محبت رکھتے ہیں وہ کونسے پھل پیدا کرتے ہیں؟
۱۷، ۱۸. (ا) بادشاہتی بیج کے بوئے جانے سے کیا کام انجام پا رہا ہے؟ (ب) خدا کے کلام سے محبت رکھنے والے لوگ جلد ہی زمین کو ہلا دینے والے کن کاموں کا مشاہدہ کریں گے؟
۱۹، ۲۰. خدا کے کلام سے حقیقی محبت رکھنے والوں کیلئے کونسا پُرجلال مستقبل محفوظ ہے؟
[صفحہ 16 پر تصویر]
یسوع کی تمثیل کا بیج خدا کے کلام میں پائے جانے والے خوشخبری کے پیغام کی تصویرکشی کرتا ہے
[تصویر کا حوالہ]
Garo Nalbandian
[صفحہ 17 پر تصویر]
یہوواہ کے گواہ عظیم بیج بونے والے کی نقل کرتے ہیں
[صفحہ 18 پر تصویریں]
ہرمجدون سے بچنے والے زمین کی پیداوار سے لطفاندوز ہونگے