یونانی فیلسوفی—کیا اس نے مسیحیت کو فائدہ پہنچایا ہے؟
”مسیحیت نے یونانی اور رومی بُتپرستانہ ثقافت کے مخالف ہونے کے باوجود، درحقیقت بڑی حد تک کلاسیکل فیلسوفی کو اپنے اندر شامل کر لیا ہے۔“—دی انسائیکلوپیڈیا امریکانا۔
”مسیحی“ سوچ پر قطعی طور پر اثرانداز ہونے والوں میں ”سینٹ“ آگسٹین بڑی مسلمہ حیثیت رکھتا ہے۔ دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق، آگسٹین کا ”ذہن ایک ایسی کھٹالی تھا جس میں نئے عہدنامے کا مذہب یونانی فیلسوفی کی افلاطونی روایت کیساتھ بالکل پگھل گیا؛ اس کے علاوہ یہ ایسا ذریعہ بھی تھا جس سے اس عمل سے حاصل ہونے والا قرونِوسطیٰ کا رومن کیتھولک مذہب اور نشاۃٔثانیہ کا پروٹسٹنٹ مذہب مسیحی دنیا میں شامل کر لیا گیا تھا۔“
آگسٹین کا ورثہ واقعی دوامی ہے۔ یونانی فیلسوفی جس حد تک دنیائے مسیحیت پر اثرانداز ہوئی ہے اس پر بات کرتے ہوئے ڈگلس ٹی. ہولڈن نے بیان کیا: ”مسیحی تھیالوجی کا یونانی فیلسوفی کے ساتھ ایسا امتزاج ہو گیا کہ اس نے ایسے اشخاص پیدا کئے جو نو حصے یونانی اور ایک حصہ مسیحی خیال کا آمیزہ ہیں۔“
بعض علماء کا پُختہ یقین ہے کہ ایسے فیلسوفیانہ اثر نے مسیحیت کو اس کے اوائل ہی سے پھلنے پھولنے دیا، اس کی تعلیم کو فروغ دیا اور اسے اور زیادہ قائل کرنے والا بنا دیا۔ کیا معاملہ ایسا ہی تھا؟ یونانی فیلسوفی کا کیسے اور کب اثر ہونے لگا؟ کیا اس نے درحقیقت مسیحیت کو مضبوط یا اسے آلودہ کِیا ہے؟
چار عجیب اصطلاحوں کے تجزیے سے تیسری صدی س.ع. سے لیکر پانچویں صدی س.ع. تک کئی ایک تبدیلیوں اور ترقیوں کی کھوج لگانا روشنخیالی عطا کرنے والی بات ہے: (۱) ”یونانی تہذیب سے متاثر یہودیت“ (۲) ”مسیحیت سے متاثر یونانی تہذیب“ (۳) ”یونانی تہذیب سے متاثر مسیحیت“ اور (۴) ”مسیحی فیلسوفی۔“
”یونانی تہذیب سے متاثر یہودیت“
سب سے اوّل، ”یونانی تہذیب سے متاثر یہودیت،“ واقعی ایک تضاد ہے۔ عبرانیوں کا ابتدائی مذہب جسے سچے خدا یہوواہ نے تشکیل دیا اُسے جھوٹے مذہبی نظریات کیساتھ آلودہ نہیں ہونا تھا۔ (استثنا ۱۲:۳۲؛ امثال ۳۰:۵، ۶) تاہم، ابتدا ہی سے پرستش کی پاکیزگی جھوٹے مذہبی کاموں اور سوچ کے ذریعے بگاڑ کی زد میں آ گئی جس نے اس کے گرد گھیرا ڈال لیا—جیسے کہ مصری، کنعانی اور بابلی ذرائع کا اثرورسوخ۔ افسوس کی بات ہے کہ اسرائیلیوں نے اپنی سچی پرستش کو بُری طرح خراب ہونے دیا۔—قضاۃ ۲:۱۱-۱۳۔
صدیوں بعد جب چوتھی صدی ق.س.ع. میں سکندرِاعظم کے تحت قدیم فلسطین یونانی سلطنت کا حصہ بنا تو یہ بگاڑ اَور بھی گہرا ہو گیا اور اپنے پیچھے یہ ایک دوامی اور تباہکُن ورثہ چھوڑ گیا۔ سکندر نے یہودیوں کو اپنی فوج میں بھرتی کر لیا۔ یہودیوں اور ان کے نئے فاتح کے درمیان رابطوں نے یہودی مذہبی سوچ کو بُری طرح متاثر کیا۔ اس طرح یہودی تعلیم میں یونانی تہذیب سرایت کر گئی تھی۔ سردار کاہن یاسن ۱۷۵ ق.س.ع. میں ہومر کی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے یروشلیم میں ایک یونانی اکادمی قائم کرنے کی وجہ سے مشہور ہے۔
دلچسپی کی بات ہے کہ ایک سامری نے دوسری صدی ق.س.ع. کے آخری نصف حصے میں اپنی تحریروں میں بائبل تاریخ کو یونانی تاریخنگاری میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ یہودیت اور طوبیاہ جیسی غیرالہامی یہودی کتابیں، درحقیقت یونانی شہوانی اساطیر کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ کئی ایک یہودی مفکر منظرِعام پر آئے جنہوں نے یونانی سوچ کو یہودی مذہب اور بائبل کے ساتھ ہمآہنگ کرنے کی کوشش کی۔
ایک شخص جو اس سلسلے میں زیادہ مستحسن ہے وہ پہلی صدی س.ع. کا ایک یہودی، فیلو ہے۔ اس نے افلاطون (چوتھی صدی ق.س.ع.)، فیثاغورس اور ستوئیک کے عقائد اپنا لئے۔ یہودی فیلو کے نظریات سے بڑی حد تک متاثر ہوئے تھے۔ یہودی ثقافت میں یونانی سوچ کے اس ذہنی نفوذ کی تلخیص کرتے ہوئے یہودی مصنف میکس ڈِمنٹ بیان کرتا ہے: ”افلاطونی سوچ، ارسطوئی منطق، اقلیدسی سائنس سے لیس یہودی مفکروں نے نئے ہتھیاروں کے ساتھ توریت پر دھاوا بول دیا۔ . . . انہوں نے یہودی مکاشفے میں یونانی منطق شامل کرنا شروع کر دی۔“
کچھ دیر بعد، رومیوں نے یروشلیم پر قبضہ کرتے ہوئے یونانی سلطنت کو ضم کر لیا۔ اس نے اور بھی زیادہ اہم تبدیلیوں کے لئے راستہ ہموار کر دیا۔ تیسری صدی س.ع. تک فیلسوفیانہ اور مذہبی عقائد کے اصحابِفکر نے افلاطون کے نظریات کو فروغ دینے اور تالیف کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے حتمی شکل اختیار کر لی جو مجموعی طور پر آجکل نوافلاطونی کہلاتے ہیں۔ اس مکتبفکر کا برگشتہ مسیحیت پر گہرا اثر پڑ کر ہی رہنا تھا۔
”مسیحیت سے متاثر یونانی تہذیب“
ہمارے سنِعام کی پہلی پانچ صدیوں کے دوران بعض دانشوروں نے یونانی فیلسوفی اور بائبل میں آشکارا سچائی کے درمیان ایک تعلق ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ کتاب اے ہسٹری آف کرسچینٹی بیان کرتی ہے: ”مسیحی ماہرینِالہٰیات مسیح سے دہوں پہلے کے یونانیوں کی خدا کے علم کی جانب جوانمردی سے مگر اندھادُھند کوشش کرتے ہوئے تصویرکشی کرنے لگے، گویا یسوع اور مسیحیت کو کھوکھلی یونانی سوچ کی اختراع ظاہر کرنے لگے۔“
ایسے اصحابِفکر کے ایک پیشرو، پلوٹینس (۲۰۵-۲۷۰ س.ع.) نے ایک ایسا نظام ترتیب دیا جو بنیادی طور پر افلاطونی نظریات پر مبنی تھا۔ پلوٹینس نے بدن سے علیٰحدہ جان کا تصور متعارف کرایا۔ پروفیسر ای. ڈبلیو. ہاپکنز نے پلوٹینس کی بابت کہا: ”اس کی تھیالوجی کا . . . مسیحی نظریات رکھنے والے پیشواؤں پر کچھ کم اثر نہیں تھا۔“
”یونانی تہذیب سے متاثر مسیحیت“ اور ”مسیحی فیلسوفی“
دوسری صدی س.ع. سے ”مسیحی“ اصحابِفکر نے بتپرست دانشوروں پر اثرانداز ہونے کیلئے پُرعزم کوشش کی۔ ”جس علم کو علم کہنا ہی غلط ہے“ اور ”بیہودہ بکواس“ کے خلاف پولس رسول کی واضح آگاہی کے باوجود ایسے استادوں نے گردوپیش کی یونانی ثقافت سے فلسفیانہ عناصر کو اپنی تعلیمات میں شامل کر لیا۔ (۱-تیمتھیس ۶:۲۰) فیلو کی مثال بظاہر تجویز کرتی ہے کہ یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ بائبل کے ساتھ افلاطونی نظریات ملا دئے گے ہوں۔—مقابلہ کریں ۲-پطرس ۱:۱۶۔
بِلاشُبہ، اصلی نشانہ تو بائبل سچائی تھی۔ ”مسیحی“ استادوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ مسیحیت یونانیورومی انسان دوستی کے ساتھ مطابقت رکھتی تھی۔ سکندریہ کے کلیمنٹ اور اوریگن (دوسری اور تیسری صدی س.ع.) نے نوافلاطونی کو ”مسیحی فیلسوفی“ کی بنیاد بنا دیا۔ میلان کے بشپ امبروز (۳۳۹-۳۹۷ س.ع.) نے ”نہایت تازہترین یونانی تعلیم، مسیحیت اور بتپرستی دونوں—بالخصوص بتپرستانہ نوافلاطونی پلوٹینس کے . . . کاموں کو ضم کر لیا تھا۔“ اس نے تعلیمیافتہ اطالویوں کو مسیحیت کا کلاسیکل ترجمہ فراہم کرنے کی کوشش کی۔ آگسٹین نے اس کی پیروی کی۔
ایک صدی بعد، غالباً ایک شامی راہب، اریوپگس کے دیونسییس (جو سودو دیونسییس بھی کہلایا) نے ”مسیحی“ تھیالوجی کو نوافلاطونی فیلسوفی کے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ ایک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق، اس کی ”تحریروں نے قرونِوسطیٰ کے مسیحی عقیدے اور روحانیت کے بڑے حصے میں ایک حتمی نوافلاطونی رجحان پیدا کیا . . . جو تاحال مذہبی اور عقائدی اثر رکھتا ہے۔“ ”فیلسوفی اور لاحاصل فریب“ کے خلاف پولس رسول کی آگاہی کا کیا ہی برملا تمسخر ”جو انسانوں کی روایت . . . کے موافق ہیں“!—کلسیوں ۲:۸۔
مخرب عناصر
یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ ”مسیحی افلاطونیوں نے مکاشفہ کو فوقیت دی اور افلاطونی فیلسوفی کو صحیفے کی تعلیمات اور چرچ روایت کو سمجھنے اور اس کا دفاع کرنے کیلئے دستیاب بہترین آلہ خیال کِیا۔“
افلاطون ایک غیرفانی جان کے وجود کا قائل ہو چکا تھا۔ ”مسیحی“ تھیالوجی میں معنیخیز طور پر سرایت کر جانے والی جھوٹی تعلیمات میں سب سے نمایاں تعلیم جان کی غیرفانیت ہے۔ اس تعلیم کو قبول کئے جانے کی توجیہ کسی بھی بنیاد پر نہیں ہو سکتی کہ ایسا کرنا مسیحیت کو اکثریت کیلئے زیادہ دلکش بنا دیگا۔ یونانی تمدن کے عین مرکز، اتھینے میں منادی کرتے وقت پولس رسول نے جان کے افلاطونی عقیدے کی تعلیم نہیں دی۔ اس کے برعکس، اس نے قیامت کے مسیحی عقیدے کی منادی کی اگرچہ اس کے یونانی سامعین میں سے بہتیروں کیلئے اُسکی تعلیم کو قبول کرنا مشکل تھا۔—اعمال ۱۷:۲۲-۳۲۔
یونانی فیلسوفی کے برعکس، صحائف واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ جان کوئی ایسی چیز نہیں جو کوئی شخص رکھتا ہے بلکہ وہ خود ہی ایک جان ہے۔ (پیدایش ۲:۷) موت کے وقت، جان کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ (حزقیایل ۱۸:۴) واعظ ۹:۵ ہمیں بتاتی ہے: ”زندہ جانتے ہیں کہ وہ مریں گے پر مُردے کچھ بھی نہیں جانتے اور اُن کے لئے اور کچھ اجر نہیں کیونکہ اُن کی یاد جاتی رہی ہے۔“ بائبل میں جان کی غیرفانیت کے عقیدے کی تعلیم نہیں دی گئی۔
ایک اور گمراہکُن تعلیم کا تعلق انسان بننے سے قبل یسوع کی حیثیت سے ہے۔ کتاب دی چرچ آف دی فسٹ تھری سنچریز واضح کرتی ہے: ”تثلیث کا عقیدہ اپنے ماخذ کے لحاظ سے . . . یہودی اور مسیحی صحائف دونوں کیلئے بالکل بیگانہ ہے۔“ اس کا ماخذ کیا تھا؟ عقیدہ افلاطونی فادروں کے ذریعے مسیحیت میں داخل ہو کر پروان چڑھا۔
واقعی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب چرچ فادر نوافلاطونیت سے اثرپذیر ہوتے گئے تو تثلیث پرستوں نے اپنے قدم جما لئے۔ تیسری صدی کی نوافلاطونی فیلسوفی نے بظاہر انہیں اس قابل بنا دیا کہ ناقابلِتطبیق کو ہمآہنگ نظر آنے والی چیز بنا دیں یعنی تہرے خدا کو ایک نظر آنے والا خدا بنا دیں۔ فلسفیانہ استدلال سے انہوں نے یہ دعویٰ کِیا کہ اپنی انفرادیت برقرار رکھنے کے باوجود تین اشخاص ایک خدا ہو سکتے ہیں!
تاہم، بائبل کی سچائی صاف ظاہر کرتی ہے کہ یہوواہ ہی قادرِمطلق خدا ہے، یسوع مسیح اس کا خلقکردہ بیٹا اُس سے چھوٹا ہے اور روحالقدس اس کی سرگرم قوت ہے۔ (استثنا ۶:۴ یسعیاہ ۴۵:۵؛ اعمال ۲:۴؛ کلسیوں ۱:۱۵؛ مکاشفہ ۳:۱۴) عقیدۂتثلیث واحد برحق خدا کی بےحُرمتی کرتا اور لوگوں کو اُلجھن میں ڈال دیتا ہے، انہیں ایسے خدا سے منحرف کر دیتا ہے جسے وہ سمجھ نہیں سکتے۔
مسیحی سوچ پر نوافلاطونی اثر کا ایک اور نشانہ صحائف پر مبنی عہدِہزارسالہ کی اُمید تھی۔ (مکاشفہ ۲۰:۴-۶) اوریگن عہدِہزارسالہ کے حامیوں کی مذمت کرنے کے لئے مشہور تھا۔ وہ ایک ہزار سال کے لئے مسیح کی حکمرانی کے اس ٹھوس بنیاد والے بائبلی عقیدے کے لئے اس قدر مخالف کیوں تھا؟ دی کیتھولک انسائیکلوپیڈیا جواب دیتا ہے: ”نوافلاطونی کے پیشِنظر جس پر اس کے عقائد کی بنیاد تھی . . .، [اوریگن] عہدِہزارسالہ کے حامیوں کے مؤقف کی حمایت نہیں کر سکتا تھا۔“
سچائی
مذکورہبالا سلسلہوار تبدیلیوں کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بائبل میں پائی جانے والی تمام مسیحی تعلیمات سچائی ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۲؛ ططس ۱:۱، ۱۴؛ ۲-یوحنا ۱-۴) صرف بائبل ہی سچائی کا واحد ماخذ ہے۔—یوحنا ۱۷:۱۷؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱۶۔
تاہم، یہوواہ، سچائی، نسلِانسانی اور ہمیشہ کی زندگی کے دشمن—شیطان ابلیس ”خونی“ اور ”جھوٹ کے باپ“—نے سچائی میں آمیزش کرنے کیلئے مختلف عیارانہ طریقے استعمال کئے ہیں۔ (یوحنا ۸:۴۴؛ مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۱۱:۳۔) زبردست ہتھیار جو اس نے استعمال کئے ہیں ان میں اس نے مسیحی تعلیمات میں پائی جانے والی باتوں اور نوعیت کو تبدیل کرنے کی کوشش میں بتپرست یونانی فیلسوفوں کی تعلیمات استعمال کی ہیں—جو کہ درحقیقت اس کی اپنی سوچ کا عکس ہیں۔
یونانی فیلسوفی کیساتھ مسیحی تعلیم کی یہ غیرفطری آمیزش بائبل سچائی میں ملاوٹ کرنے کی کوشش تھی جس نے اسکی طاقت اور حلیم، مخلص اور قابلِآموز سچائی کے متلاشیوں کیلئے اس کی دلکشی گھٹا دی۔ (۱-کرنتھیوں ۳:۱، ۲، ۱۹، ۲۰) یہ صاف شفاف بائبل عقیدے کی پاکیزگی کو سچائی اور جھوٹ کے درمیان فرق کو دھندلا کرتے ہوئے آلودہ کرنے کی طرف بھی مائل ہوئی ہے۔
آجکل، کلیسیا کے سردار، یسوع مسیح کی زیرِہدایت سچی مسیحی تعلیم بحال کر دی گئی ہے۔ نیز، سچائی کے مخلص متلاشی سچی مسیحی کلیسیا کی شناخت اس کے پھلوں کے ذریعے بآسانی کر سکتے ہیں۔ (متی ۷:۱۶، ۲۰) یہوواہ کے گواہ ایسے اشخاص کی سچائی کے شفاف پانیوں کی تلاش کرنے میں مدد کرنے اور ہمارے باپ، یہوواہ کے ذریعے پیشکردہ ہمیشہ کی زندگی کی وراثت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں معاونت کرنے کیلئے رضامند اور مشتاق ہیں۔—یوحنا ۴:۱۴؛ ۱-تیمتھیس ۶:۱۹۔
[صفحہ 11 پر تصویر]
آگسٹین
[صفحہ 10 پر تصویر کا حوالہ]
:Greek text: From the book Ancient Greek Writers
;Plato’s Phaedo, 1957, Ioannis N. Zacharopoulos, Athens
Plato: Musei Capitolini, Roma