یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏8 ص.‏ 8-‏9
  • اپنے آپ کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے غصے کو قابو میں رکھیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اپنے آپ کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے غصے کو قابو میں رکھیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ملتا جلتا مواد
  • پاک کلام میں غصہ کرنے کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
  • غصہ کب مسئلہ بن جاتا ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2012ء
  • آپ اپنے غصے پر کیسے قابو پا سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
  • غصے کو قابو میں رکھنا ممکن ہے
    جاگو!‏—‏2012ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏8 ص.‏ 8-‏9

اپنے آپ کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے غصے کو قابو میں رکھیں

‏”‏گہرا سانس لیں!‏“‏ ”‏دس تک گنتی گنیں!‏“‏ ”‏زبان کو دانتوں کے نیچے دبائیں!‏“‏ کیا آپ ان جملوں سے واقف ہیں؟ شاید آپ اندرونی بے‌چینی سے آرام پانے کیلئے خود ایسے جملے دہراتے ہیں۔ بعض لوگ بے‌قابو غصے کو روکنے کی کوشش میں چہل‌قدمی کیلئے نکل جاتے ہیں۔ غصے پر قابو پانے اور دوسروں کیساتھ تعلقات بحال رکھنے کیلئے یہ چند سادہ طریقۂ‌کار ہیں۔‏

تاہم، حالیہ برسوں میں، غصے پر قابو پانے یا اسے دبا کر رکھنے کی بابت ماہرین کی طرف سے متضاد مشوروں نے بہتیروں کو اُلجھن میں ڈال دیا ہے۔ مثال کے طور پر، بعض ماہرِنفسیات اس نظریے کو فروغ دیتے ہیں کہ آپ غصے کو نکال دینے سے ”‏اگر بہتر محسوس کرتے ہیں“‏ تو ایسا ہی کریں۔ دیگر خبردار کرتے ہیں کہ غصے کے متواتر دورے ”‏تمباکونوشی کرنے، ہائی‌بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی زیادتی جیسے دیگر جان‌لیوا عناصر کی نسبت جوانی ہی میں مرنے کا سبب بنتے ہیں۔“‏ خدا کا کلام واضح طور پر بیان کرتا ہے:‏ ”‏قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے۔ بیزار نہ ہو۔ اس سے برائی ہی نکلتی ہے۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۸‏)‏ بائبل ایسی خاص مشورت کیوں دیتی ہے؟‏

بے‌قابو جذبات، بے‌قابو کاموں کا سبب بنتے ہیں۔ یہ بات انسانی تاریخ میں بہت پہلے ظاہر ہوگئی تھی۔ ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏قائنؔ نہایت غضبناک ہؤا اور اُسکا مُنہ بگڑا۔“‏ یہ اُسے کہاں تک لے گیا؟ اس کے غصہ نے اُسے اس حد تک قابو میں کر لیا اور اس پر غلبہ پا لیا کہ اس نے یہوواہ کی طرف سے نیکی کرنے کی نصیحت پر عمل کرنے کیلئے اس کے دل کو سخت کر دیا۔ قائن کا بے‌قابو غصہ سنگین گناہ—‏اپنے بھائی کو قتل—‏کرنے کا سبب بنا۔—‏پیدایش ۴:‏۳-‏۸‏۔‏

اسرائیل کے پہلے بادشاہ، ساؤل نے جب داؤد کی تعریف سنی تو وہ اسی طرح مغلوب ہؤا۔ ”‏وہ عورتیں ناچتی ہوئی آپس میں گاتی جاتی تھیں کہ ساؔؤل نے تو ہزاروں کو پر داؔؤد نے لاکھوں کو مارا۔ اور ساؔؤل نہایت خفا ہؤا کیونکہ وہ بات اُسے بُری لگی۔“‏ ساؤل کی سوچ پر غصہ اس قدر حاوی ہو گیا کہ اس نے داؤد پر کئی قاتلانہ حملے کرنے کی کوشش کی۔ داؤد کی طرف سے کئی بار دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے باوجود ساؤل صلح اور میل‌ملاپ کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔ انجام‌کار، اس نے مکمل طور پر یہوواہ کی مقبولیت کھو دی۔—‏۱-‏سموئیل ۱۸:‏۶-‏۱۱؛‏ ۱۹:‏۹، ۱۰؛‏ ۲۴:‏۱-‏۲۱؛‏ امثال ۶:‏۳۴، ۳۵‏۔‏

ناگزیر طور پر جب کوئی شخص غصے سے مغلوب ہو جاتا ہے تو وہ شخص ایسی باتیں کہے گا جو اس کا نشانہ بننے والے ہر شخص کو ٹھیس پہنچائینگی۔ (‏امثال ۲۹:‏۲۲‏)‏ قائن اور ساؤل اسلئے غصے سے بھر گئے کیونکہ وہ دونوں اپنے اپنے طور سے حسد اور رشک کرتے تھے۔ تاہم، مختلف وجوہات کی بنا پر غصہ آ سکتا ہے۔ بِلاوجہ تنقید، توہین، کوئی غلط‌فہمی یا امتیازی سلوک غصے کو بھڑکانے والی چنگاری ثابت ہو سکتا ہے۔‏

قائن اور ساؤل کی مثالیں ایک مشترک سنگین کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔ قائن کے نذرانے میں بظاہر ایمان میں تحریک کی کمی تھی۔ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۴‏)‏ یہوواہ کے دئے گئے احکام کی بجاآوری میں ساؤل کی ناکامی اور بعدازاں خود کو راست ثابت کرنے کی اس کی کوششیں اس کے خدا کی مقبولیت اور روح کو کھو دینے کا باعث بنیں۔ واضح طور پر، دونوں آدمیوں نے یہوواہ کیساتھ اپنا ناطہ توڑ لیا۔‏

ایسے رُجحانات کا موازنہ داؤد کے رُجحان سے کریں جس کے پاس ساؤل کی طرف سے ایسا سلوک کئے جانے کے باعث غصہ میں آ جانے کی وجہ تھی۔ داؤد نے اپنے جذبات پر قابو رکھا۔ کیوں؟ اس نے کہا:‏ ‏”‏[‏یہوواہ]‏ نہ کرے کہ مَیں اپنے مالک سے جو [‏یہوواہ]‏ کا ممسوح ہے۔ اَیسا کام کروں۔“‏ داؤد کے ذہن میں یہوواہ کیساتھ اس کا رشتہ بالکل واضح تھا اور یہ بات ساؤل کے ساتھ اس کے تعلقات پر اثرانداز ہوئی۔ اس نے فروتنی سے تمام معاملات یہوواہ کے ہاتھ میں چھوڑ دئے۔—‏۱-‏سموئیل ۲۴:‏۶،‏ ۱۵‏۔‏

یقیناً، بے‌قابو غصے کے نتائج سنگین ہوتے ہیں۔ پولس رسول نے خبردار کِیا:‏ ”‏غصہ تو کرو مگر گناہ نہ کرو۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۲۶‏)‏ اگرچہ جائز غصے کا اپنا ایک مقام ہے توبھی ہمیشہ سے یہ خطرہ موجود رہا ہے کہ غصہ ہمارے راستے کا پتھر بن سکتا ہے۔ تاہم، حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ ہمیں اپنے غصے کو قابو میں رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟‏

بنیادی طریقہ یہوواہ کے ساتھ مضبوط رشتہ اُستوار کرنا ہے۔ وہ آپ کی حوصلہ‌افزائی کرتا ہے کہ اپنا دل اور دماغ اس کے سامنے کھول کر رکھ دیں۔ اسے اپنی تمام فکریں اور پریشانیاں بتائیں اور غصے پر غالب آنے کیلئے ایک پُرسکون دل کیلئے درخواست کریں۔ (‏امثال ۱۴:‏۳۰‏)‏ یقین رکھیں کہ ”‏[‏یہوواہ]‏ کی نظر راستبازوں کی طرف ہے اور اُسکے کان اُنکی دُعا پر لگے ہیں۔“‏—‏۱-‏پطرس ۳:‏۱۲‏۔‏

دُعا آپ میں تبدیلی پیدا کر سکتی اور آپ کی راہنمائی کر سکتی ہے۔ کس طریقے سے؟ یہ دوسروں کیساتھ آپ کے تعلقات پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ آپ کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے۔ جیسا کہ صحائف بیان کرتے ہیں یہوواہ نے ”‏ہمارے گناہوں کے موافق ہم سے سلوک نہیں کِیا۔“‏ (‏زبور ۱۰۳:‏۱۰‏)‏ ایک معاف کرنے والا جذبہ نہایت اہم ہے تاکہ آپ پر ”‏شیطان کا .‏ .‏ .‏ داؤ نہ چلے۔“‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۰، ۱۱‏)‏ مزیدبرآں، دُعا آپ کے دل کو روح‌القدس کی راہنمائی کیلئے کھولتی ہے جو کہ زندگی میں گہرے نقوش کو بھی مٹا سکتی ہے۔ یہوواہ خوشی سے ’‏اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے‘‏ عطا کرتا ہے جو کہ آپ کو حاوی ہو جانے والی غصے کی قوت سے رہائی دِلا سکتا ہے۔—‏فلپیوں ۴:‏۷‏۔‏

تاہم، دُعا کو صحائف کی باقاعدہ تحقیق کے ساتھ مربوط ہونا چاہئے تاکہ ہم ”‏[‏یہوواہ]‏ کی مرضی کو سمجھیں کہ کیا ہے۔“‏ (‏افسیوں ۵:‏۱۷؛‏ یعقوب ۳:‏۱۷‏)‏ اگر آپ کو ذاتی طور پر غصے کو کنٹرول کرنے میں مشکل پیش آتی ہے تو اس سلسلے میں یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یہوواہ اس کی بابت کیسا سوچتا ہے۔ ایسے صحائف پر نظرثانی کریں جو غصے پر قابو پانے کی بابت بتاتے ہیں۔‏

پولس رسول یہ اہم یاددہانی پیش کرتا ہے:‏ ”‏پس جہاں تک موقع ملے سب کے ساتھ نیکی کریں خاصکر اہل ایمان کے ساتھ۔“‏ (‏گلتیوں ۶:‏۱۰‏)‏ اپنے خیالات اور افعال دوسروں کیساتھ نیکی کرنے پر مرکوز رکھیں۔ ایسی خوشگوار اور مثبت کارگزاری ہمدردی اور اعتماد پیدا کریگی اور ان غلط‌فہمیوں کو دُور کریگی جو آسانی سے غصے کو بھڑکا سکتی ہیں۔‏

زبورنویس نے کہا:‏ ”‏اپنے کلام میں میری راہنمائی کر۔ کوئی بدکاری مجھ پر تسلط نہ پائے۔ تیری شریعت سے محبت رکھنے والے مطمئن ہیں۔ اُنکے لئے ٹھوکر کھانے کا کوئی موقع نہیں۔“‏ (‏زبور ۱۱۹:‏۱۳۳،‏ ۱۶۵‏)‏ یہ بات آپ کے معاملے میں بھی سچ ہو سکتی ہے۔‏

‏[‏صفحہ 9 پر بکس/‏تصویر]‏

غصے پر قابو پانے کیلئے اقدام

◻یہوواہ سے دُعا کریں۔—‏زبور ۱۴۵:‏۱۸‏۔‏

◻روزانہ صحائف کی تحقیق کریں۔—‏زبور ۱۱۹:‏۱۳۳،‏ ۱۶۵‏۔‏

◻سُودمند سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔—‏گلتیوں ۶:‏۱۰،۹‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں