سوالات از قارئین
کیا ۲-تھسلنیکیوں ۳:۱۴ میں متذکرہ ’نگاہ میں رکھنا‘ ایک رسمی کلیسیائی طریقہکار ہے یا سرکش لوگوں سے کنارہکشی کرنے کیلئے مسیحی انفرادی طور پر یہ عمل اختیار کرتے ہیں؟
پولس رسول نے تھسلنیکیوں کو جو کچھ لکھا اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح سے ’نگاہ میں رکھنے‘ میں کلیسیائی بزرگوں کا ایک خاص کردار ہے۔ تاہم، اس کے بعد روحانی مقاصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے، مسیحی انفرادی طور پر اسے عمل میں لاتے ہیں۔ پولس کی اس مشورت کے حقیقی پسمنظر پر غور کرنے سے ہم اسے بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
پولس نے مردوزن کی ایماندار بننے کیلئے مدد کرتے ہوئے، تھسلنیکیوں کی کلیسیا قائم کرنے میں مدد کی تھی۔ (اعمال ۱۷:۱-۴) بعدازاں اُنکی تعریف اور حوصلہافزائی کرنے کیلئے اُس نے کرنتھس سے اُنہیں خط لکھا۔ پولس نے ضروری مشورت پیش کی۔ اُس نے اُنہیں ’چپچاپ رہنے، اپنا اپنا کاروبار کرنے اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے‘ کی تاکید کی۔ بعض اس روش پر نہیں چل رہے تھے، لہٰذا پولس نے مزید کہا: ”اَے بھائیو! ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ بےقاعدہ چلنے والوں کو سمجھاؤ۔ کمہمتوں کو دلاسا دو۔ کمزوروں کو سنبھالو۔“ بِلاشُبہ اُن کے درمیان ”بےقاعدہ“a چلنے والے تھے جنہیں مشورت کی ضرورت تھی۔—۱-تھسلنیکیوں ۱:۲-۱۰؛ ۴:۱۱؛ ۵:۱۴۔
چند مہینے بعد، پولس نے تھسلنیکیوں کے نام اپنا دوسرا خط لکھا جس میں یسوع کی آئندہ آمد کی بابت اضافی معلومات شامل تھیں۔ پولس نے بےقاعدہ چلنے والوں کیساتھ پیش آنے کی بابت بھی مزید راہنمائی فراہم کی جو ’کچھ کام نہیں کرتے تھے بلکہ اَوروں کے کام میں دخلاندازی کر رہے تھے۔‘ اُنکے افعال پولس کے سخت محنت کے ذاتی نمونے اور اپنی کفالت کیلئے کام کرنے کی واضح نصیحت کے بالکل برعکس تھے۔ (۲-تھسلنیکیوں ۳:۷-۱۲) پولس نے ہدایت کی کہ چند خصوصی اقدام اُٹھائے جانے چاہئیں۔ یہ اقدام بےقاعدہ چلنے والوں کیلئے بزرگوں کی فہمائش اور مشورت کے بعد کئے گئے تھے۔ پولس نے لکھا:
”اَے بھائیو! ہم . . . تمہیں حکم دیتے ہیں کہ ہر ایک ایسے بھائی سے کنارہ کرو جو بےقاعدہ چلتا ہے اور اس روایت پر عمل نہیں کرتا جو اسکو ہماری طرف سے پہنچی۔ اور تم اَے بھائیو! نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہارو۔ اور اگر کوئی ہمارے اس خط کی بات کو نہ مانے تو اسے نگاہ میں رکھو اور اس سے صحبت نہ رکھو تاکہ وہ شرمندہ ہو۔ لیکن اسے دشمن نہ جانو بلکہ بھائی سمجھ کر نصیحت کرو۔“—۲-تھسلنیکیوں ۳:۶، ۱۳-۱۵۔
لہٰذا، مزید اقدام میں بےقاعدہ چلنے والوں سے کنارہکشی کرنا، اُنہیں نگاہ میں رکھنا، اُن کے ساتھ کسی قسم کی رفاقت نہ رکھنا، تاہم اُنہیں بھائی خیال کرتے ہوئے فہمائش کرنا شامل تھا۔ کیا چیز کلیسیا کے اراکین کی ایسے اقدام اُٹھانے میں مدد کریگی؟ اسکی وضاحت کرنے کیلئے، آیئے ایسی تین حالتوں کی نشاندہی کریں جن پر پولس یہاں توجہ نہیں دے رہا تھا۔
۱. ہم جانتے ہیں کہ مسیحی ناکامل ہیں اور غلطیاں کرتے ہیں۔ تاہم، محبت سچی مسیحیت کا نشان ہے جو ہم سب سے فہم سے کام لینے اور دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک مسیحی شاید بعضاوقات بہت زیادہ غصے میں آ جاتا ہے جیسا کہ ایک مرتبہ برنباس اور پولس کیساتھ واقع ہوا تھا۔ (اعمال ۱۵:۳۶-۴۰) ایسا بھی ممکن ہے کہ ایک شخص تھکاوٹ کی وجہ سے سخت اور دل دُکھانے والی باتیں کرے۔ ایسی حالتوں میں، محبت ظاہر کرنے اور بائبل مشورت کا اطلاق کرنے سے ہم خطاکاری پر پردہ ڈال سکتے، ساتھی مسیحیوں کیساتھ گزربسر کر سکتے، رفاقت رکھ سکتے اور کام کر سکتے ہیں۔ (متی ۵:۲۳-۲۵؛ ۶:۱۴؛ ۷:۱-۵؛ ۱-پطرس ۴:۸) واضح طور پر، پولس ۲-تھسلنیکیوں میں اس قسم کی غلطیوں کی بات نہیں کر رہا تھا۔
۲. پولس کسی ایسی حالت کا بھی ذکر نہیں کر رہا تھا جس میں ایک مسیحی ذاتی طور پر، کسی ایسے شخص کیساتھ اپنی رفاقت کو محدود کرنے کا انتخاب کرتا ہے جس کے طورطریقے یا رجحانات اچھے نہیں ہیں—مثال کے طور پر، ایک ایسا شخص جو سیروتفریح یا مادی چیزوں میں بہت زیادہ مگن نظر آتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ والدین اپنے بچے کی ایسے نوجوانوں کیساتھ رفاقت کو محدود کر دیں جو اپنے والدین کے اختیار کیلئے احترام ظاہر نہیں کرتے، مثلاً وہ تشددآمیز یا خطرناک طریقے سے کھیلتے ہیں یا مسیحیت کو سنجیدہ خیال نہیں کرتے۔ یہ محض ذاتی نوعیت کے فیصلے ہیں جوکہ امثال ۱۳:۲۰ کی مطابقت میں ہیں جہاں ہم پڑھتے ہیں: ”وہ جو داناؤں کے ساتھ چلتا ہے دانا ہوگا پر احمقوں کا ساتھی ہلاک کِیا جائیگا۔“—مقابلہ کریں ا-کرنتھیوں ۱۵:۳۳۔
۳. پولس نے بڑی سنجیدگی سے کرنتھیوں کو ایک ایسے شخص کی بابت بھی لکھا تھا جو سنگین گُناہ کرتا اور تائب نہیں ہوتا۔ ایسے غیرتائب گنہگاروں کو کلیسیا سے خارج کِیا جانا تھا۔ گویا یوں کہہ لیں کہ ”شریر“ شخص کو شیطان کے حوالہ کرنا تھا۔ اسکے بعد، وفادار مسیحیوں کو ایسے شریروں کیساتھ میلجول نہیں رکھنا تھا؛ یوحنا رسول نے تو مسیحیوں کو یہ تاکید بھی کی تھی کہ اُنہیں سلام تک نہ کریں۔ (۱-کرنتھیوں ۵:۱-۱۳؛ ۲-یوحنا ۹-۱۱) تاہم، یہ ۲-تھسلنیکیوں ۳:۱۴ کی مشورت پر پورا نہیں اُترتا۔
۲-تھسلنیکیوں میں بیانکردہ ”بےقاعدہ“ اشخاص کی حالت مندرجہبالا تینوں حالتوں سے بالکل فرق ہے۔ پولس نے لکھا کہ یہ ابھی تک ’بھائی‘ ہیں اسلئے ان کے ساتھ بھائیوں جیسا ہی برتاؤ کِیا جانا چاہئے۔ لہٰذا، ”بےقاعدہ“ بھائیوں کا مسئلہ مسیحیوں کے درمیان پایا جانے والا ذاتی نوعیت کا مسئلہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ اتنا سنگین تھا کہ کلیسیا کے بزرگوں کو خارج کرنے کی کارروائی کے ساتھ مداخلت کرنے کی ضرورت پڑتی جیسےکہ پولس نے کرنتھس میں پائی جانے والی بداخلاقی کی صورت میں کِیا تھا۔ ”بےقاعدہ“ چلنے والے اشخاص سنگین گناہ کے مُرتکب نہیں تھے جیسےکہ کرنتھس میں خارج کِیا جانے والا شخص تھا۔
تھسلنیکے کے ”بےقاعدہ“ چلنے والے اشخاص خاطرخواہ حد تک مسیحیت سے منحرف ہو جانے کے قصوروار تھے۔ وہ کام نہیں کرتے تھے، شاید اس وجہ سے کہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ مسیح کی واپسی بہت قریب تھی یا شاید اسلئے کہ وہ سُست تھے۔ علاوہازیں، وہ ’دوسروں کے کام میں بیجا مداخلت کرنے سے‘ کافی زیادہ پریشانی کا باعث بن رہے تھے۔ اغلب ہے کہ کلیسیائی بزرگوں نے اُنہیں پولس کے پہلے خط میں پائی جانے والی مشورت اور دیگر الہٰی مشورت کی مطابقت میں بارہا نصیحت کی ہو۔ (امثال ۶:۶-۱۱؛ ۱۰:۴، ۵؛ ۱۲:۱۱، ۲۴؛ ۲۴:۳۰-۳۴) اسکے باوجود وہ ایسی روش پر قائم رہے جس سے کلیسیا کی بدنامی ہوئی اور جو دوسرے مسیحیوں میں بھی سرایت کر سکتی تھی۔ اسلئے، مسیحی بزرگ پولس نے لوگوں کا نام لینے کی بجائے، اُن کے غلط چالچلن کو بےنقاب کرتے ہوئے، اعلانیہ طور پر اُنکی بےقاعدہ روش پر توجہ دلائی۔
اُس نے کلیسیا کو یہ بھی تبایا کہ اُن کے لئے یہ مناسب ہوگا کہ وہ مسیحیوں کی حیثیت سے انفرادی طور پر بےقاعدہ چلنے والوں کو ’نگاہ میں رکھیں۔‘ اس کا مطلب تھا کہ کلیسیا کے لوگوں کو اُن اشخاص پر نگاہ رکھنی تھی جنکے طورطریقے اس روش کے مترادف تھے جسکی بابت علانیہ خبردار کِیا گیا تھا۔ پولس نے نصیحت کی کہ اُنہیں ”بےقاعدہ چلنے والے ہر بھائی سے کنارہ“ کرنا چاہئے۔ یقیناً اسکا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ ایسے شخص سے بالکل قطعتعلق کر لیا جائے کیونکہ اُنہیں اُسے ”بھائی جان کر نصیحت“ کرنی تھی۔ وہ اجلاسوں اور شاید خدمتگزاری میں مسیحی رابطہ قائم رکھیں گے۔ وہ توقع رکھ سکتے تھے کہ اُنکا بھائی فہمائش پر دھیان دیگا اور اپنی غلط روشوں کو ترک کر دیگا۔
وہ کس مفہوم میں اُس سے ”کنارہ“ کریں گے؟ بدیہی طور پر، اس سے مُراد معاشرتی میلجول تھا۔ (مقابلہ کریں گلتیوں ۲:۱۲۔) اُنکا اُسکے ساتھ معاشرتی میلجول اور سیروتفریح بند کر دینا اُس پر یہ آشکارا کریگا کہ بااُصول لوگ اُسکے طورطریقوں کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ اگر وہ شرمندہ نہیں ہوتا اور تبدیلی نہیں لاتا تو بھی دوسرے اُس کے طورطریقوں اور اُسکی مانند بننے کی طرف زیادہ مائل نہیں ہونگے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ، ان مسیحیوں کو ذاتی طور پر مثبت چیزوں کی بابت سوچنا چاہئے۔ پولس نے اُنہیں نصیحت کی: ”اور تم اَے بھائیو! نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہارو۔“—۲-تھسلنیکیوں ۳:۱۳۔
بِلاشُبہ، یہ رسولی مشورت اپنے بھائیوں کو جن سے کوئی چھوٹیموٹی غلطی یا خطا سرزد ہو جاتی ہے حقارت سے یا تنقیدی نظر سے دیکھنے کی بنیاد فراہم نہیں کرتی۔ بلکہ اسکا مقصد ایسے شخص کی مدد کرنا ہے جسکی قابلِاعتراض روش واضح طور پر مسیحیت کے برعکس ہے۔
پولس نے کوئی پیچیدہ طریقۂکار وضع کرنے کیلئے کسی طرح کے مفصل قوانین عائد نہیں کئے تھے۔ تاہم، یہ بات بالکل واضح ہے کہ بزرگوں کو ایک بےقاعدہ چلنے والے شخص کی مدد کرنے کیلئے سب سے پہلے مشورت دینی چاہئے۔ اگر وہ کامیاب نہیں ہوتے اور وہ شخص ایسی غلط روش پر چلتا رہتا ہے جس کے پھیلنے کا امکان ہے تو پھر، بزرگ کلیسیا کو خبردار کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ وہ اس سلسلے میں ایک تقریر کا بندوبست کر سکتے ہیں کہ اسطرح کی بےقاعدگی سے کیوں گریز کِیا جانا چاہئے۔ وہ نام نہیں لینگے، تاہم اُنکی انتباہی تقریر کلیسیا کو محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوگی کیونکہ اس سے اثرپذیر ہونے والے لوگ اُن اشخاص کیساتھ معاشرتی سرگرمیوں کو محدود رکھنے پر خاص توجہ دینگے جو واضح طور پر ایسی بےقاعدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
اُمید ہے کہ وقت آنے پر، بےقاعدہ شخص اپنی روش کی بابت شرمندہ ہوگا اور تبدیلی لانے کی تحریک پائیگا۔ جب بزرگ اور کلیسیا کے دیگر لوگ اس تبدیلی کو دیکھتے ہیں تو وہ انفرادی طور پر اُن پابندیوں کو ختم کرنے کی بابت فیصلہ کر سکتے ہیں جو اُنہوں نے اُسکے ساتھ رفاقت رکھنے کے سلسلے میں ذاتی طور پر عائد کر رکھی تھیں۔
مختصراً: اگر کوئی شخص بےقاعدہ چل رہا ہے تو کلیسیائی بزرگ مدد اور مشورت پیش کرنے میں پیشوائی کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنی روش میں غلطی کو نہیں پہچانتا بلکہ غیرصحتمندانہ اثر ڈالنا جاری رکھتا ہے تو بزرگ بائبل کے نظریے کو واضح کرنے والی ایک تقریر کے ذریعے کلیسیا کو آگاہ کر سکتے ہیں—یہ بےایمانوں کیساتھ معاشقے یا اسی طرح کی کوئی دوسری نامناسب روش کے سلسلے میں بھی ہو سکتی ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۷:۳۹؛ ۲-کرنتھیوں ۶:۱۴) کلیسیا کے وہ مسیحی جنہیں خبردار کِیا گیا ہے ذاتی طور پر ایسے اشخاص کیساتھ رفاقت کو محدود کر سکتے ہیں جو واضح طور پر بےقاعدہ روش پر چل رہے ہیں مگر ابھی تک بھائی ہیں۔
[فٹنوٹ]
a یونانی لفظ اُن سپاہیوں کے سلسلے میں استعمال کِیا جاتا تھا جو اپنے مقام پر قائم نہیں رہتے یا نظموضبط برقرار نہیں رکھتے تھے نیز یہ ایسے غیرذمہدار طالبعلموں کیلئے استعمال ہوتا تھا جو سکول سے غیرحاضر رہتے تھے۔
[صفحہ 31 پر تصویریں]
مسیحی بزرگ بےقاعدہ اشخاص کو فہمائش کرنے کے باوجود اُنہیں ساتھی ایماندار خیال کرتے ہیں