سوالات از قارئین
اب جبکہ یہ کہا جاتا ہے کہ [sterilization] آپریشن کے ذریعے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے بعد اسے دوبارہ بحال کِیا جا سکتا ہے تو کیا ایک مسیحی انہیں ضبطِتولید کے طریقے کے طور پر خیال کر سکتا ہے؟
آپریشن کے ذریعے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا خاندانی منصوبہبندی کا ایک مقبول طریقہ بن گیا ہے۔ بہتیرے لوگوں کے نزدیک اسے تسلیم کرنے کا انحصار اُنکے معاشرتی اور تعلیمی پسمنظر اور مذہبی نظریات پر ہے۔ یہوواہ کے گواہوں کے سلسلے میں مذہبی اعتقاد ایک اہم عنصر ہے جو کہ زبورنویس جیسی خواہش رکھتے ہیں: ”اَے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] مجھے اپنی راہ بتا اور . . . مجھے ہموار راستہ پر چلا۔“ (زبور ۲۷:۱۱) آپریشن کے ذریعے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے طریقۂکار میں کیا کچھ شامل ہے؟
ضبطِتولید کیلئے بچے پیدا کرنے کی مردانہ صلاحیت کو ختم کرنے کے جراحی عمل کو حبلالمنیتراشی [vasectomy] کہا جاتا ہے۔ فوطوں کی چھوٹی حبلالمنویہ یا نالیوں کو کاٹ کر بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ متعدد طبّی طریقوں سے کِیا جا سکتا ہے تاہم کوشش کی جاتی ہے کہ فوطوں سے منی کے اخراج کو ناممکن بنا دیا جائے۔ عورتوں میں آپریشن کے ذریعے بارآوری کی صلاحیت کو ختم کرنے کے عمل کو بیضقناتی [tubal ligation] کہا جاتا ہے۔ عام طور پر اُن نالیوں کو کاٹنے اور باندھنے (یا جلانے) سے کیا جاتا ہے جو بیض نالیاں کہلاتی ہیں جو بیضوں کو بیضہدانیوں سے رحم تک لے جاتی ہیں۔
کافی عرصہ تک خیال کِیا جاتا تھا کہ یہ اقدام مستقل نوعیت کے ہیں—مطلب یہ کہ اُس کے بعد بچے پیدا کرنے کی صلاحیت بحال نہیں ہو سکتی۔ تاہم بدلتے ہوئے حالات کے پیشِنظر یا اپنے اس قدم پر پچھتاوے کی وجہ سے لوگ حبلالمنیتراشی یا بیضقناتی کے اثرات کو ختم کرنے کیلئے طبّی امداد کے طالب ہوئے ہیں۔ مائیکرو سرجری اور خاص آلات کی ایجاد کی بدولت افزائشِنسل کی صلاحیت کو بحال کرنے کی کوششیں زیادہ کامیاب ہوئی ہیں۔ یہ پڑھنا ایک عام سی بات ہے کہ منتخب اُمیدواروں میں حبلالمنیتراشی کو چھوٹی نالیوں کو جوڑنے کے ذریعے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو بحال کرنے میں ۵۰ سے ۷۰ فیصد کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ عورتوں میں بیضقناتی کے اثرات کو ختم کر کے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو بحال کرنے کی شرح کیلئے ۶۰ سے ۸۰ فیصد کامیابی کا دعویٰ کِیا جاتا ہے۔ بعض جنہیں یہ معلوم ہوا ہے وہ محسوس کرتے ہیں کہ آپریشن کے ذریعے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے عمل کو دائمی خیال نہیں کِیا جا سکتا۔ وہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ حبلالمنیتراشی اور بیضقناتی کو مانعِحمل ادویات کھانے، کنڈومز یا ڈایافرامز کے طور پر شمار کِیا جا سکتا ہے—ایسے طریقے جنہیں یچے پیدا کرنے کی خواہش کی صورت میں منقطع کِیا جا سکتا ہے۔ تاہم، بعض سنجیدہ پہلوؤں کو نظرانداز نہیں کِیا جانا چاہئے۔
اُن میں سے ایک یہ ہے کہ بحالی کے امکانات ایسے عناصر سے بہت زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جیسےکہ آپریشن کے ذریعے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے عمل کے دوران نالیوں کو پہنچنے والے نقصان کی حد، کتنی نالی کاٹی یا جلائی گئی ہے، آپریشن کو کتنے سال گزر چکے ہیں اور حبلالمنیتراشی کے معاملے میں کیا مرد کے نطفے کے مدِمقابل اینٹی باڈیز پیدا ہو گئے ہیں۔ لہٰذا اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کِیا جا سکتا کہ بہتیرے علاقوں میں شاید مائیکرو سرجری کی سہولیات میسر نہ ہوں یا اخراجات بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔ پس، بہتیرے جو آپریشن کے ذریعے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے بعد دوبارہ بحال کرانا چاہتے ہیں وہ شاید ایسا نہ کر سکیں۔ اُن کیلئے یہ دائمی ہے۔a لہٰذا بحالی سے متعلق مندرجہبالا شرح محض نظریاتی ہے جس پر اعتماد نہیں کِیا جا سکتا۔
بعض حقائق حقیقت کے بہت قریب ہیں۔ ریاستہائےمتحدہ میں حبلالمنیتراشی کے اثرات کو زائل کرنے کی بابت شائع ہونے والے ایک مضمون نے تبصرہ کِیا کہ ۱۲،۰۰۰ ڈالر کے آپریشن کے بعد ”محض ۶۳ فیصد مریض ہی اپنی بیویوں کو حاملہ کر سکتے تھے۔“ مزیدبرآں، ”حبلالمنیتراشی کرانے والے چھ فیصد اشخاص ہی اس عمل کے اثرات کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔“ وسطی یورپ سے متعلق ایک جرمن مطالعے میں آپریشن کے ذریعے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کا انتخاب کرنے والے مردوں میں سے ۳ فیصد نے بحالی چاہی۔ ان میں سے اگر نصف کوششیں بھی کامیاب ہو جاتی ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوگا کہ ۵.۹۸ فیصد کیلئے حبلالمنیتراشی کرانا مستقل طور پر اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے۔ پس جن علاقوں میں مائیکرو سرجری نہیں ہے یا بہت کم ہے وہاں یہ شرح زیادہ ہوگی۔
اسکے پیشِنظر، نر یا مادہ کی افزائشِنسل کی صلاحیت کو ختم کرنے کو عارضی ضبطِتولید کے طور پر کم اہم خیال کرنا غیرحقیقتپسندانہ ہے۔ نیز خلوصدل مسیحیوں کو دیگر پہلوؤں پر بھی غور کرنا چاہئے۔
بنیادی نقطہ یہ ہے کہ افزائشِنسل کی صلاحیتیں ہمارے خالق کی طرف سے ایک تحفہ ہیں۔ اس کے اصلی مقصد میں کامل انسانوں کے ذریعے افزائشِنسل کرنا شامل تھا جو ”زمین کو معمورومحکوم“ کریں گے۔ (پیدایش ۱:۲۸) جب طوفان کے بعد زمین کی آبادی کُل آٹھ اشخاص تک محدود ہو گئی تو خدا نے اُن بنیادی ہدایات کو دہرایا تھا۔ (پیدایش ۹:۱) خدا نے اسرائیلی قوم کے لئے اس حکم کو دہرایا تو نہیں تھا تاہم اسرائیلیوں کے نزدیک بچے پیدا کرنا ایک نہایت مناسب عمل تھا۔—۱-سموئیل ۱:۱-۱۱؛ زبور ۱۲۸:۳۔
خدا کے قانون میں انسانی افزائشِنسل کی بابت احترام کی علامات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک شادیشُدہ شخص اپنی نسل برقرار رکھنے کیلئے ایک لڑکا پیدا کئے بغیر مر جاتا تو اُسکا بھائی شادی کے ذریعے دیور کا حق ادا کرتے ہوئے لڑکا پیدا کرتا تھا۔ (استثنا ۲۵:۵) لڑائی کے دوران اپنے شوہر کی مدد کرنے کی کوشش کرنے والی بیوی کی بابت بھی شریعت میں اس کے متعلق ایک اہم قانون موجود تھا۔ اگر وہ اپنے خاوند کے مدِمقابل کی شرمگاہ کو پکڑ لے تو اُسکا ہاتھ کاٹ ڈالا جانا تھا؛ یقیناً خدا نے اُسکے یا اُسکے شوہر کے اعضائے تولید کے نقصان کیلئے آنکھ کے بدلے آنکھ کا تقاضا نہیں کِیا تھا۔ (استثنا ۲۵:۱۱، ۱۲) اس قانون نے واضح طور پر اعضائے تولید کیلئے احترام پر زور دیا؛ انہیں بِلاضرورت تباہ نہیں کِیا جانا تھا۔b
ہم جانتے ہیں کہ مسیحی اسرائیلی شریعت کے تحت نہیں ہیں لہٰذا استثنا ۲۵:۱۱، ۱۲ کے قانون کا اطلاق اُن پر نہیں ہوتا۔ یسوع نے یہ حکم بھی نہیں دیا اور نہ ہی یہ تقاضا کِیا کہ اُسکے شاگردوں کو شادی کرنی چاہئے اور زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے چاہیں جس پر بہتیرے جوڑوں نے ضبطِتولید کا انتخاب کرتے وقت غور کِیا ہے۔ (متی ۱۹:۱۰-۱۲) پولس رسول نے ’جوان بیواؤں کی شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے‘ کی حوصلہافزائی کی تھی۔ (۱-تیمتھیس ۵:۱۱-۱۴) اُس نے مسیحیوں کے لئے آپریشن کے ذریعے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو دائمی طور پر ختم کرانے—اپنی مرضی سے افزائشِنسل کے امکانات کو قربان کر دینے—کا ذکر نہیں کِیا۔
مسیحی ایسے اظہارات پر غور کر کے اچھا کرتے ہیں کہ خدا کے نزدیک اُنکی افزائشِنسل کی قوت نہایت اہم ہے۔ ہر جوڑے کو اپنے لئے ضبطِتولید کے موزوں طریقۂکار کا انتخاب کرنا اور اسے استعمال کرنے کے وقت کا تعیّن کرنا چاہئے۔ اگر طبّی اعتبار سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ مستقبل میں حمل کی صورت میں ماں اور بچے کی جان کو خطرہ ہے یہانتککہ موت واقع ہو سکتی ہے تو اُنکا فیصلہ زیادہ اہم ہوگا۔ ایسی صورتحال میں بعض آپریشن کے ذریعے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے طریقۂکار کو قبول کرتے ہیں تاکہ اس بات کا یقین کر لیا جائے کہ آئندہ حمل سے ماں (جس کے اَور بچے بھی ہیں) کی جان کو کوئی خطرہ نہیں یا بعد میں پیدا ہونے والے بچے کو کوئی جانلیوا بیماری لاحق نہیں ہو گی۔
تاہم مسیحی جنہیں ایسے غیرمعمولی یا منفرد خطرات کا سامنا نہیں وہ یقیناً ’سنجیدگی سے‘ خدا کے نزدیک تولیدی قوت کی اہمیت کو اپنی سوچنے کی صلاحیت اور افعال کو ڈھالنے کی اجازت دینگے۔ (۱-تیمتھیس ۳:۲؛ ططس ۱:۸؛ ۲:۲، ۵-۸) یہ صحیفائی ہدایات کیلئے پُختہ حساسیت کی عکاسی کریگا۔ تاہم اُس وقت کیا ہو جب سب کو یہ پتہ چل جاتا ہے کہ ایک مسیحی نے بغیر سوچےسمجھے خدا کے نزدیک اہمیت کی حامل چیز کا احترام ظاہر نہیں کِیا؟ کیا دوسرے شک نہیں کرینگے کہ آیا وہ ایک اچھا نمونہ تھا جو بائبل کی مطابقت میں فیصلے کرنے کی شہرت رکھتا ہے؟ کسی کی شہرت پر ایسا داغ، بِلاشُبہ ایک خادم کے خدمت کے خاص استحقاقات کے لائق رہنے پر اثرانداز ہو سکتا ہے تاہم اگر کسی نے انجانے میں اس طریقہکار کو اختیار کِیا ہے تو شاید ایسا نہ ہو۔—۱-تیمتھیس ۳:۷۔
[فٹنوٹ]
a ”جراحی کے ذریعے واس دیفرنز [vas deferens] کو دوبارہ ملانے کی کوششوں کی کامیابی کی شرح کمازکم ۴۰ فیصد ہے اور اس بات کی شہادت موجود ہے کہ مائیکرو سرجری کی بہتر تکنیک سے زیادہ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ تاہم، حبلالمنیتراشی کے ذریعے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے عمل کو دائمی خیال کِیا جانا چاہئے۔“ (انسائکلوپیڈیا بریٹینیکا) ”آپریشن کے ذریعے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے عمل کو ایک دائمی طریقۂکار خیال کِیا جانا چاہئے۔ اس سے قطعنظر کہ مریض نے بحالی کی بابت کیا کچھ سن رکھا ہے، جراحی کے ذریعے علیٰحدہ کی گئی نالیوں کو جوڑنا مہنگا ہے اور کامیابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ خواتین جو بارآوری کی صلاحیت کو ختم کرنے کیلئے جراحی کرواتی ہیں اُن میں آپریشن کے بعد نالیوں میں حمل ٹھہرنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔“—کنٹمپرری اوبی/گائنی، جون ۱۹۹۸۔
b اس سے متعلق ایک اور قانون کے مطابق ایسا شخص جسکے جنسی اعضا کچلے ہوئے ہوں خدا کی جماعت میں نہیں آ سکتا تھا۔ (استثنا ۲۳:۱) تاہم، انسائٹ آن دی سکرپچرز بیان کرتی ہے کہ واضح طور پر ”اسکا تعلق ہمجنسپسندی جیسے بداخلاق مقاصد کیلئے قصداً خوجہ بننے سے ہے۔“ پس، اُس قانون میں آختہکاری یا ضبطِتولید کے مترادف کوئی چیز شامل نہیں تھی۔ انسائٹ یہ بھی کہتی ہے: ”یہوواہ نے تسلیبخش طریقے سے پیشگوئی کی کہ ایسا وقت آئیگا کہ وہ خوجوں کو بھی اپنے دوسرے خادموں کے ساتھ قبول کریگا اور اگر وہ فرمانبردار رہیں گے تو اُنکی حیثیت بیٹوں اور بیٹیوں سے بڑھ کر ہو گی۔ یسوع مسیح کے ذریعے شریعت کے منسوخ کئے جانے کیساتھ اپنی سابقہ حیثیت یا حالت سے قطعنظر، ایمان کا مظاہرہ کرنے والے تمام اشخاص خدا کے روحانی بیٹے بن سکتے تھے۔ جسمانی فرق مٹا دیا گیا تھا۔—یسعیاہ ۵۶:۴، ۵؛ یوحنا ۱:۱۲۔“