یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏4 ص.‏ 23-‏27
  • کالجیئنٹس بائبل مطالعے نے اُنہیں فرق بنا دیا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کالجیئنٹس بائبل مطالعے نے اُنہیں فرق بنا دیا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • تقدیر کا مسئلہ
  • کالجیئنٹس کا آغاز اور ترقی
  • کالجیئنٹس کے عقائد
  • ہفتہ‌وار اجلاس
  • نیشنل اسمبلیاں
  • وہ کیوں معدوم ہو گئے
  • کیا خدا نے پیشتر ہی سے ہمارے مُقدر کا تعیّن کر دیا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • مسیحی اجتماعات کی قدر کرنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ہم آپ کو پُرتپاک دعوت دیتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • مُقدس اجتماعات کے لئے احترام دکھائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏4 ص.‏ 23-‏27

کالجیئنٹس بائبل مطالعے نے اُنہیں فرق بنا دیا

کیا آپ نے کالجیئنٹس کی بابت سنا ہے؟‏

یہ ۱۷ویں صدی کا چھوٹا سا ولندیزی مذہبی گروہ اُس وقت کی تسلیم‌شُدہ کلیسیاؤں سے مختلف تھا۔ ایسا کیوں تھا اور ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ یہ جاننے کیلئے آئیے ماضی پر غور کرتے ہیں۔‏

یہ ۱۵۸۷ کی بات ہے کہ جیکوبس آرمینی‌ئیس (‏جیکب ہرمین‌سن)‏ ایمسٹرڈیم شہر میں پہنچا۔ اُسے ملازمت تلاش کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئی کیونکہ اُس کی اہلیت اثرآفرین تھی۔ وہ ۲۱ سال کی عمر میں لائیڈن یونیورسٹی، ہالینڈ سے فارغ‌التحصیل ہو چکا تھا۔ بعدازاں اُس نے پروٹسٹنٹ مصلح جان کیلون کے جانشین تھیوڈور ڈی بیزی کی زیرِنگرانی تھیالوجی [‏علمِ‌دین]‏ کا مطالعہ کرنے میں سوئٹزرلینڈ میں چھ سال لگائے۔ پس تعجب نہیں کہ ایمسٹرڈیم کے پروٹسٹنٹ ۲۷سالہ آرمینی‌ئیس کو اپنا پادری مقرر کر کے بہت خوش تھے!‏ تاہم کچھ سال بعد چرچ کے بہت سے اراکین اپنے انتخاب پر پشیمان ہو گئے تھے۔ کیوں؟‏

تقدیر کا مسئلہ

آرمینی‌ئیس کے پادری بننے کے کچھ ہی عرصے بعد ایمسٹرڈیم کے پروٹسٹنٹ ارکان میں تقدیر کے عقیدے کی بابت اختلاف پیدا ہو گیا۔ یہ عقیدہ کیلونیت کا جزوِ لازم تھا لیکن چرچ کے بعض اراکین یہ محسوس کرتے تھے کہ بعض کے لئے نجات اور بعض کے لئے ہلاکت کا پہلے ہی سے تعیّن کر دینے والا خدا سخت‌گیر اور ناانصاف تھا۔ کیلونیت‌پسندوں کو توقع تھی کہ بیزی کا شاگرد ہونے کے ناطے آرمینی‌ئیس اختلافِ‌رائے رکھنے والوں کی اصلاح کرے گا۔ تاہم کیلونیت‌پسندوں کو حیران کرتے ہوئے آرمینی‌ئیس نے اختلافِ‌رائے رکھنے والوں کا ساتھ دیا۔ یہ اختلاف ۱۵۹۳ میں اسقدر شدت اختیار کر گیا کہ اس نے شہر کے پروٹسٹنٹوں‌کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا—‏ایک اس کے حق میں اور دوسرا اس کے مخالف جو انتہاپسند نہ تھے۔‏

چند ہی سالوں میں یہ مقامی اختلاف پروٹسٹنٹ کے قومی اختلاف میں تبدیل ہو گیا۔ بالآخر نومبر ۱۶۱۸ میں اس کے تصفیے کیلئے ایک صورتحال پیدا ہو گئی۔ کیلونیت‌پسندوں نے فوج اور عوام کی حمایت کیساتھ مخالفوں کو (‏جو اُس وقت ریمونس‌ٹرنٹس کہلاتے تھےa‏)‏ ایک قومی کونسل، پروٹسٹنٹ سائنوڈ آف ڈورڈریچ کے سامنے حاضر ہونے کا حکم جاری کر دیا۔ اجلاس کے اختتام پر تمام ریمونس‌ٹرنٹ پادریوں کے سامنے ایک انتخاب رکھا گیا:‏ پھر کبھی منادی نہ کرنے کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کریں یا ملک چھوڑ دیں۔ بیشتر نے ملک چھوڑ دینے کو ترجیح دی۔ ریمونس‌ٹرنٹ خادموں کے جانے کے بعد کٹر قسم کے کیلونیت‌پسندوں نے پادریوں کے منصب سنبھال لئے۔ کیلونیت کی جیت ہوئی—‏یا جیسے کہ کلیسیائی‌مجلس نے اُمید کی تھی۔‏

کالجیئنٹس کا آغاز اور ترقی

دیگر جگہوں کی طرح، لائیڈن کے قریب وارمونڈ کی ریمونس‌ٹرنٹ کلیسیا بھی اپنے پادری سے محروم ہو گئی۔ تاہم دیگر جگہوں کے برعکس یہاں کی کلیسیا نے کلیسیائی‌مجلس کے مقررکردہ متبادل کو قبول نہ کِیا۔ مزیدبرآں جب ۱۶۲۰ میں کلیسیا کی دیکھ‌بھال کیلئے ایک ریمونس‌ٹرنٹ خادم اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہوئے وارمونڈ واپس آیا تو کلیسیا کے بعض ارکان نے اُسے بھی مسترد کر دیا۔ ان اراکین نے کسی بھی پادری کی مدد کے بغیر خفیتہً اپنے مذہبی اجلاس منعقد کرنا شروع کر دئے۔ بعدازاں ان اجلاسوں کو کالج اور حاضرین کو کالجیئنٹس کہا جانے لگا۔‏

اگرچہ کالجیئنٹس کا قیام کسی اصول کی بجائے حالات کے پیشِ‌نظر وقوع میں آیا تھا تو بھی صورتحال جلد ہی بدل گئی۔ کلیسیا کے رکن‌کسبرٹ وین ڈر کوڈ نے دلیل پیش کی کہ پادریوں کے بغیر اجلاس منعقد کرنے کی وجہ سے یہ گروہ تسلیم‌شُدہ کلیسیاؤں کی نسبت بائبل اور ابتدائی مسیحیوں کے زیادہ قریب تھا۔ اُس نے بیان کِیا کہ پادری طبقہ رسولوں کی موت کے بعد ایسے لوگوں کو ملازمت فراہم کرنے کی غرض سے وجود میں آیا جو کوئی ہنر نہیں سیکھنا چاہتے تھے۔‏

۱۶۲۱ میں وین ڈر کوڈ اور اُس کے ہم‌خیال ارکان اپنے اجلاسوں کو قریبی گاؤں رنس‌برگ میں لے گئے۔‏b کچھ سالوں بعد جب مذہبی ایذارسانی نے رواداری کو جگہ دی تو کالجیئنٹس کے اجلاسوں کی شہرت تمام ملک میں پھیل گئی اور بقول مؤرخ زیک‌فرڈ زیلوربرک، اس نے ”‏مختلف نظریات کے لوگوں“‏ کو راغب کِیا۔ اُن میں ریمونس‌ٹرنٹس، مینونائٹس، سوسینی اور مذہبی عالم بھی شامل تھے۔ بعض کسان تھے۔ دیگر شاعر، ناشرین، طبیب اور کاروباری لوگ تھے۔ فلسفی سپنزہ (‏بینی‌ڈیکٹس ڈی سپنزہ)‏ ربی جوہانا عاموس کومینس (‏یا جان کومینس‌کائے)‏ کے علاوہ معروف مُصوّر ریم‌برانڈٹ وین رین نے تحریک کی حمایت کی۔ ان خداپرست اشخاص کے ساتھ آنے والے نظریات کالجیئنٹس عقائد کی تشکیل پر اثرانداز ہوئے۔‏

اس سرگرم گروہ نے ۱۶۴۰ کے بعد تیزی سے ترقی کی۔ روٹرڈیم، ایمسٹرڈیم، لیووارڈن اور دیگر شہروں میں بھی کالج قائم ہو گئے۔ تاریخ کا پروفیسر اینڈریو سی.‏ فکس بیان کرتا ہے کہ ۱۶۵۰ اور ۱۷۰۰ کے دوران ”‏۱۷ویں صدی کے ہالینڈ میں، کالجیئنٹس .‏ .‏ .‏ سب سے اہم اور بااثر مذہبی قوت بن گئے۔“‏

کالجیئنٹس کے عقائد

منطق، رواداری اور اظہارِخیال کی آزادی کالجیئنٹ کی تحریک کی نمایاں خصوصیات تھیں جسکی وجہ سے کالجیئنٹس انفرادی طور پر مختلف عقائد اپنانے کیلئے آزاد تھے۔ تو بھی وہ چند مشترکہ نظریات کی وجہ سے متحد تھے۔ مثال کے طور پر تمام کالجیئنٹس ذاتی بائبل مطالعہ کی اہمیت سے واقف تھے۔ ایک کالجیئنٹ کے مطابق، ہر رکن کو ”‏خدا کی بابت سیکھنے کیلئے دوسرے پر انحصار کرنے کی بجائے خود تحقیق کرنی چاہئے۔“‏ وہ ایسا ہی کرتے تھے۔ ۱۹ویں صدی کے چرچ مؤرخ جیکوبس سی.‏ وین سلی کے مطابق، اُس وقت کے بائبل گروہوں کی نسبت کالجیئنٹس بائبل کا کہیں زیادہ علم رکھتے تھے۔ مخالفین بھی کالجیئنٹس کی مہارت کیساتھ بائبل کے استعمال کرنے کی لیاقت کے معتقد تھے۔‏

تاہم کالجیئنٹس جتنا زیادہ بائبل کا مطالعہ کرتے، وہ اتنا ہی زیادہ ایسے نظریات کے قائل ہو جاتے جو اُس وقت کی تسلیم‌شُدہ کلیسیاؤں سے مختلف تھے۔ ۱۷ویں تا ۲۰ویں صدی کی بعض دستاویزات اُنکے بعض عقائد کو بیان کرتی ہیں:‏

ابتدائی کلیسیا۔ کالجیئنٹ اور عالمِ‌دین ایڈم بوریل نے ۱۶۴۴ میں لکھا کہ جب شہنشاہ قسطنطین کے وقت میں ابتدائی کلیسیا سیاست میں ملوث ہو گئی تو اُس نے مسیح کیساتھ اپنے عہد کو توڑ دیا اور پاک روح کی الہامی قوت کھو بیٹھی۔ اُس نے مزید کہا کہ اسی سبب سے جھوٹی تعلیمات فروغ پاتی گئیں اور آج تک یہی ہو رہا ہے۔‏

اصلاحِ‌کلیسیا کی تحریک۔ ۱۶ویں صدی کی اصلاحِ‌کلیسیا کی تحریک چلانے والے لوتھر، کیلون اور دیگر مصلحین نے کلیسیا کی کوئی خاص اصلاح نہیں کی تھی۔ اسکے برعکس ممتاز کالجیئنٹ اور طبیب کیلانس ابراہامز (‏۱۶۲۲-‏۱۷۰۶)‏ کے مطابق اصلاحِ‌کلیسیا کی تحریک نے فساد اور منافرت کو ہوا دیکر مذہبی حالات کو اور زیادہ خراب کر دیا تھا۔ حقیقی اصلاح کو دلوں کو بدلنا چاہئے جس میں اصلاحِ‌کلیسیا کی تحریک ناکام رہی۔‏

کلیسیا اور پادری‌طبقہ۔ تسلیم‌شُدہ کلیسیائیں بدعنوان، دُنیاوی، اور الہٰی اختیار سے عاری ہیں۔ مذہب کی بابت سنجیدہ اشخاص کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنی کلیسیا سے الگ ہو جائیں تاکہ اُس کے گناہوں میں شریک نہ ہو۔ کالجیئنٹس نے بیان کِیا کہ پادری کا منصب صحائف کے برعکس اور ”‏مسیحی کلیسیا کی روحانی فلاح کے لئے نقصاندہ ہے۔“‏

بادشاہت اور فردوس۔ ایمسٹرڈیم میں کالج کے بانیوں میں سے ایک ڈئینل ڈی برین (‏۱۵۹۴-‏۱۶۶۴)‏ نے لکھا کہ مسیح کی بادشاہت کسی شخص کے دل میں موجود روحانی بادشاہت نہیں تھی۔ روٹرڈیم کے ایک کالجیئنٹ، ربی جیکب اوس‌ٹنس نے بیان کِیا کہ ”‏قدیمی آبائی لوگ زمینی وعدے کی اُمید رکھتے تھے۔“‏ اسی طرح کالجیئنٹس اُس وقت کے منتظر تھے جب زمین ایک فردوس میں تبدیل ہو جائیگی۔‏

تثلیث۔ سوسینی عقائد سے متاثر بعض ممتاز کالجیئنٹس نے تثلیث کو رد کر دیا۔‏c مثال کے طور پر ڈئینل یوذکر (‏۱۶۲۱-‏۱۶۷۸)‏ نے لکھا کہ کوئی بھی عقیدہ جو منطق کے خلاف ہو جیسے کہ تثلیث، وہ ”‏ناممکن اور جھوٹا“‏ تھا۔ ۱۶۹۴ میں ایک کالجیئنٹ رینر رولیو کا بائبل ترجمہ شائع ہوا۔ اس میں آرتھوڈکس ترجمہ کے مطابق یوحنا ۱:‏۱ کے آخری حصے ”‏اور کلام خدا تھا،“‏ کا ترجمہ یوں کِیا گیا:‏ ”‏اور کلام ایک خدا تھا۔“‏d

ہفتہ‌وار اجلاس

تمام کالجیئنٹس کے مشترکہ عقائد نہیں تھے تو بھی مختلف شہروں میں موجود اُنکے کالج ایک ہی طریقے سے کام کرتے تھے۔ مؤرخ وین سلی رپورٹ دیتا ہے کہ کالجیئنٹ کی تحریک کے ابتدائی دنوں میں اجلاسوں کی تیاری پہلے نہیں کی جاتی تھی۔ پولس کے ”‏نبوّت“‏ کرنے کی ضرورت جیسے الفاظ کے پیشِ‌نظر کالجیئنٹس کا خیال تھا کہ تمام مرد ارکان آزادانہ طور پر کالج سے خطاب کر سکتے ہیں۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۴:‏۱،‏ ۳،‏ ۲۶‏)‏ نتیجتاً اجلاس رات گئے تک جاری رہتا اور حاضرین میں سے بعض ”‏گہری نیند“‏ سو جاتے تھے۔‏

بعدازاں اجلاس زیادہ منظم ہو گئے۔ کالجیئنٹس نہ صرف اتوار کو بلکہ ہفتے کے دیگر دنوں میں بھی شام کو جمع ہوتے تھے۔ مقرر اور کلیسیا کو اس سال کے تمام اجلاسوں کی پہلے سے تیاری کرنے میں مدد دینے کیلئے بائبل آیات اور مقرر کے دستخط پر مبنی ایک پروگرام شائع کِیا جاتا تھا۔ گیت اور دُعا کیساتھ اجلاس شروع ہونے کے بعد مقرر بائبل کی آیات کی وضاحت کرتا تھا۔ جب وہ بات ختم کرتا تو وہ دیگر آدمیوں کو اس موضوع پر اظہارِخیال کی دعوت دیتا۔ پھر ایک اور مقرر بائبل کی اُنہی آیات کا اطلاق کرتا۔ اجلاس گیت اور دُعا کیساتھ اختتام‌پذیر ہوتا تھا۔‏

فرائزلینڈ کے صوبے کے آرلیگن نامی قصبے میں اجلاسوں کے شیڈول کو برقرار رکھنے کیلئے کالجیئنٹس نے ایک انوکھا طریقہ اپنا رکھا تھا۔ مقررہ وقت سے زیادہ وقت لینے والے مقرر کو چھوٹا سا جرمانہ ادا کرنا پڑتا تھا۔‏

نیشنل اسمبلیاں

کالجیئنٹس نے بڑے اجتماعات کی ضرورت کو بھی محسوس کِیا۔ پس ۱۶۴۰ سے کالجیئنٹس سال میں دو مرتبہ (‏موسمِ‌بہار اور موسمِ‌گرما میں)‏ رنس‌برگ جاتے تھے۔ مؤرخ فکس لکھتا ہے کہ یہ اجتماعات اُنہیں ”‏دُوردراز رہنے والے اپنے بھائیوں کے خیالات، احساسات، عقائد اور کارگزاریوں سے واقف کراتے تھے۔“‏

باہر سے آنے والے بعض کالجیئنٹس دیہاتیوں سے کرائے پر کمرے لیتے جبکہ دیگر کروٹے حوس یا بگ ہاؤس یعنی ۳۰ کمروں والی بڑی حویلی میں ٹھہرتے جو کالجیئنٹس کی ملکیت تھی۔ وہاں ۶۰ سے ۷۰ لوگوں کیلئے مشترکہ طعام کا انتظام کِیا جاتا تھا۔ کھانے کے بعد وہ لوگ ’‏خدا کے تخلیقی کاموں سے لطف‌اندوز ہونے، پُرسکون گفتگو یا ذاتی غوروفکر کیلئے حویلی کے وسیع باغ میں چہل‌قدمی کر سکتے تھے۔‘‏

اگرچہ تمام کالجیئنٹس کے خیال میں بپتسمہ ضروری نہیں تھا تو بھی بہتیرے اسے لازمی سمجھتے تھے۔ پس بپتسمہ بڑے اجتماعات کا نمایاں حصہ بن گیا۔ مؤرخ وین سلی بیان کرتا ہے کہ تقریب عموماً ہفتے کی صبح کو منعقد کی جاتی تھی۔ بپتسمے کی ضرورت پر تقریر پیش کرنے کے بعد گیت گایا جاتا اور دُعا کی جاتی تھی۔ پھر مقرر بپتسمہ کے خواہشمند لوگوں کو اپنے ایمان کا اقرار کرنے کی دعوت دیتا جیسے کہ ”‏مَیں ایمان رکھتا ہوں کہ یسوع مسیح زندہ خدا کا بیٹا ہے۔“‏ دُعا کے ساتھ تقریر کے اختتام کے بعد، تمام حاضرین بپتسمے کے حوض کی طرف جاتے اور مردوزن کو حوض میں گھٹنوں کے بل جھکتے ہوئے دیکھتے اور پانی اُن کے کندھوں تک ہوتا تھا۔ بپتسمہ دینے والا نئے ایماندار کا سر آگے کی طرف آرام سے پانی میں ڈبوتا تھا۔ تقریب کے بعد سب کے سب ایک اور تقریر کے لئے اپنی نشستوں پر آ جاتے تھے۔‏

ہفتے کو شام ۵ بجے معمول کے اجلاس کا آغاز مختصر سی بائبل پڑھائی، گیت اور دُعا سے ہوتا۔ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ مقرر ہمیشہ دستیاب رہے روٹرڈیم، لائیڈن، ایمسٹرڈیم اور شمالی ہالینڈ ہر اسمبلی کیلئے باری باری مقرر فراہم کرتے تھے۔ اتوار کی صبح خداوند کے عشائیے کی یاد منانے کیلئے مخصوص تھی۔ تقریر، دُعا اور گیت کے بعد پہلے مرد اور پھر عورتیں روٹی اور مے میں سے لیکر کھاتے پیتے تھے۔ اتوار کی شام کو مزید تقاریر پیش کی جاتی تھیں اور سوموار کی صبح سب لوگ اختتامی تقریر کیلئے جمع ہوتے تھے۔ وین سلی بیان کرتا ہے کہ ایسے کنونشنوں پر پیش کی جانے والی بیشتر تقاریر عملی نوعیت کی ہوتی تھیں جو تفسیروتشریح کی بجائے اطلاق پر زور دیتی تھیں۔‏

رنس‌برگ کا گاؤں ایسے اجتماعات کی میزبانی کرنے سے محظوظ ہوتا تھا۔ ۱۸ویں صدی کے ایک مشاہد نے بیان کِیا کہ گاؤں میں اجنبیوں کا آنا اچھی آمدنی کا سبب خیال کِیا جاتا تھا کیونکہ وہ خوراک اور مشروبات کے لئے پیسہ خرچ کرتے تھے۔ علاوہ‌ازیں ہر کنونشن کے بعد کالجیئنٹس رنس‌برگ کے غریبوں کے لئے کچھ رقم بھی دیتے تھے۔ بِلاشُبہ ۱۷۸۷ میں ان اجلاسوں کے رک جانے کے باعث گاؤں نے خسارہ محسوس کِیا۔ اس کے بعد کالجیئنٹ تحریک معدوم ہو گئی۔ کیوں؟‏

وہ کیوں معدوم ہو گئے

۱۷ویں صدی کے اختتام تک مذہب میں دلیل کے کردار کی بابت اختلافِ‌رائے پیدا ہو گیا۔ بعض کالجیئنٹس محسوس کرتے تھے کہ انسانی دلائل کو الہٰی مکاشفوں پر فوقیت ہونی چاہئے جبکہ دیگر اس سے متفق نہیں تھے۔ بالآخر اس اختلاف کے سبب کالجیئنٹ تحریک تفرقے کا شکار ہو گئی۔ دونوں دھڑوں کے کٹر حمایتیوں کی موت کے بعد ہی کالجیئنٹس دوبارہ متحد ہوئے۔ تاہم مؤرخ فکس بیان کرتا ہے کہ اس اختلاف کے بعد تحریک ”‏کے حالات پہلے جیسے نہ رہے۔“‏

۱۸ویں صدی میں پروٹسٹنٹ کلیسیا کی بڑھتی ہوئی رواداری نے بھی کالجیئنٹس کے زوال میں کردار ادا کِیا۔ جیسے جیسے کالجیئنٹ کے منطق اور رواداری کے اصول معاشرے میں زیادہ مقبول ہوئے تو ”‏کبھی تنہا ٹمٹمانے والی کالجیئنٹ‌ازم کی روشنی، روشن‌خیالی کے چمکدار آغاز میں شامل ہو گئی۔“‏ ۱۸ویں صدی کے آخر تک کالجیئنٹس کی اکثریت مینونائٹس اور دیگر مذہبی گروہوں میں شامل ہو گئی۔‏

کالجیئنٹس کی تحریک کا مقصد چونکہ سوچ کی یکسانیت نہیں تھا لہٰذا جتنے کالجیئنٹس تھے اتنے ہی مختلف نظریات موجود تھے۔ کالجیئنٹس اسے تسلیم کرتے تھے اور اُس طرح ”‏یک‌رای“‏ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے تھے جسکی تاکید پولس نے کی تھی۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۱۰‏)‏ تاہم اسکے ساتھ ہی ساتھ کالجیئنٹس اُس وقت کے منتظر تھے جب یک‌رائے ہونے والے بنیادی مسیحی عقائد ایک حقیقت بن جائینگے۔‏

اس حقیقت کے پیشِ‌نظر کہ کالجیئنٹس کے دنوں میں روحانی خوراک باافراط نہ تھی، انہوں نے ایسی مثال قائم کی جس کی پیروی آج بہتیرے مذاہب کر سکتے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں دانی‌ایل ۱۲:‏۴‏)‏ اُنکا بائبل مطالعہ پر زور دینا پولس کی اس مشورت سے ہم‌آہنگ تھا:‏ ”‏سب باتوں کو آزماؤ۔“‏ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۲۱‏)‏ ذاتی بائبل مطالعے نے جیکوبس آرمینی‌ئیس اور دیگر کو یہ سکھایا کہ مدت سے رائج مذہبی عقائد اور رسومات بائبل پر مبنی نہیں تھیں۔ جب انہیں یہ احساس ہوا تو وہ تسلیم‌شُدہ مذاہب سے اختلاف کرنے کی جرأت رکھتے تھے۔ کیا آپ نے بھی ایسا ہی کِیا ہوتا؟‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ان مخالفین نے ۱۶۱۰ میں ولندیزی حکمرانوں کو ایک رسمی عذرنامہ (‏مخالفت کی وجوہات بیان کرنے والی دستاویز)‏ بھیجا۔ اس فعل کے بعد وہ ریمونس‌ٹرنٹس کہلانے لگے۔‏

b اس محل‌وقوع کی وجہ سے کالجیئنٹس کو رنس‌برگرز بھی کہا جاتا تھا۔‏

c نومبر ۲۲، ۱۹۸۸ کے اویک!‏ صفحہ ۱۹ پر ”‏دی سوسینی‌نز—‏وائے ڈیڈ دے ریجیکٹ دی ٹرینٹی؟“‏

d ہٹ نیویو ٹسٹامنٹ وین اونزے ہیر جیزس کرائسٹس، یوٹ ہٹ گریکش ورٹالڈ ڈور رینرنیا رولیو، ایم۔ڈی۔ (‏دی نیو ٹسٹامنٹ آف آور لارڈ جیزز کرائسٹ، یونانی سے ترجمہ‌شُدہ از رینرنیا رولیو ایم.‏ڈی.‏)‏

‏[‏صفحہ 24 پر تصویر]‏

ریم‌برانڈٹ وین رین

‏[‏صفحہ 26 پر تصویر]‏

وارمونڈ گاؤں جہاں سے کالجیئنٹس کا آغاز ہوا اور ڈی ولیٹ دریا جہاں بپتسمہ ہوا کرتا تھا

‏[‏صفحہ 23 پر تصویر کا حوالہ]‏

‏,Background: Courtesy of the American Bible Society Library

New York

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں