ایک پُرحکمت کتاب جو موجودہ زمانے کیلئے پیغام رکھتی ہے
”حکمت سے بھری تھیلی کی قیمت موتیوں بھری تھیلی سے بڑھکر ہے،“ آبائی بزرگ ایوب نے مشاہدہ کِیا جو بِلاشُبہ اپنے وقت کا امیرترین شخص تھا۔ (ایوب ۱:۳؛ ۲۸:۱۸؛ اینڈبلیو، ۴۲:۱۲) جب زندگی کو کامیاب بنانے کی بات آتی ہے تو سچ ہے کہ حکمت کی قیمت مادی اثاثوں سے کہیں بڑھکر ہوتی ہے۔ ”حکمت ویسی ہی پناہگاہ ہے جیسے روپیہ،“ دانشمند بادشاہ سلیمان نے بیان کِیا، ”لیکن علم کی خاص خوبی یہ ہے کہ حکمت صاحبِحکمت کی جان کی محافظ ہے۔“—واعظ ۷:۱۲۔
تاہم، آجکل ایسی حکمت کہاں مل سکتی ہے؟ لوگ اپنے ذاتی مسائل کے سلسلے میں مشورے کیلئے کالمنویس مشیروں، ماہرینِنفسیات، ماہرینِتحلیلنفسی حتیٰکہ حجاموں اور ٹیکسی ڈرائیوروں سے بھی رجوع کرتے ہیں۔ بےشمار ماہرین—مناسب فیس کیساتھ—تقریباً ہر معاملے میں مشورہ دینے کیلئے تیار ہیں۔ تاہم اکثر ایسی ”حکمت“ والی باتیں مایوسی بلکہ تباہی کا موجب بنتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں، ہم سچی حکمت کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
انسانی معاملات کی بابت گہری بصیرت رکھنے والے، یسوع مسیح نے ایک مرتبہ بیان کِیا: ”حکمت اپنے کاموں سے راست ثابت“ ہوتی ہے۔ (متی ۱۱:۱۹) آئیے لوگوں کی زندگی کے چند عام مسائل کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ حکمت کی کن باتوں نے اُنکی واقعی مدد کی ہے اور ”موتیوں بھری تھیلی“ سے زیادہ قابلِقدر ثابت ہوئی ہیں۔ آپ بھی شاید اُس ”حکمت بھری تھیلی“ کو پانے اور اُس سے مستفید ہونے کے قابل ہو سکیں۔
کیا آپ افسردگی کا شکار ہیں؟
لندن کا انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹرائبیون بیان کرتا ہے کہ ”اگر بیسویں صدی کا آغاز پریشانیوں کے دَور سے ہوا تھا تو اِسکا اختتام افسردگی کے دَور کے طلوع ہونے کی شہادت دے رہا ہے۔“ یہ مزید بیان کرتا ہے کہ ”شدید افسردگی کی بابت ایک بینالاقوامی تحقیق، عالمگیر سطح پر اس بیماری کے مسلسل بڑھنے کی نشاندہی کرتی ہے۔ تائیوان، لبنان اور نیوزیلینڈ جیسی ایک دوسرے سے انتہائی مختلف اقوام میں بھی ہر آنے والی نسل کیلئے اس مرض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔“ ۱۹۵۵ کے بعد پیدا ہونے والے لوگوں کی بابت کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اسلاف کی نسبت تین گُنا زیادہ شدید افسردگی میں مبتلا ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔
ٹوموئی کے ساتھ کچھ ایسا ہی معاملہ تھا، جو شدید افسردگی کا شکار تھی اور اُس نے اپنی بیشتر زندگی بستر پر گزاری۔ اپنے دو سالہ بیٹے کی دیکھبھال کرنے کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے والدین کے گھر واپس چلی گئی۔ ایک پڑوسن اُسکی دوست بن گئی جس کی بیٹی ٹوموئی کے بیٹے کی ہمعمر تھی۔ جب ٹوموئی نے پڑوسن کو بتایا کہ وہ خود کو کسقدر غیراہم خیال کرتی ہے تو پڑوسن نے اُسے ایک کتاب سے ایک عبارت دکھائی۔ یوں لکھا تھا: ”آنکھ ہاتھ سے نہیں کہہ سکتی کہ مَیں تیری محتاج نہیں اور نہ سر پاؤں سے کہہ سکتا ہے کہ مَیں تمہارا محتاج نہیں۔ بلکہ بدن کے وہ اعضا جو اَوروں سے کمزور معلوم ہوتے ہیں بہت ہی ضروری ہیں۔“a یہ محسوس کر کے ٹوموئی کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے کہ دُنیا میں ہر شخص کی ایک جگہ ہے اور اُسکی ضرورت ہے۔
پڑوسن نے یہ تجویز پیش کی کہ وہ اس کتاب کا جائزہ لے جس میں یہ الفاظ درج تھے۔ ٹوموئی نے اثبات میں سر ہلایا اگرچہ وہ ابھی تک کچھ بھی کرنے کے لائق نہیں تھی حتیٰکہ ایک سادہ سا وعدہ بھی نہیں۔ پڑوسن خریداری میں اُسکی مدد کرتی اور ٹوموئی کیساتھ روزانہ کھانا بھی تیار کرتی تھی۔ ایک ماہ بعد، ٹوموئی بالکل ایک خاتونِخانہ کی طرح روزانہ صبح اٹھتی، کپڑے دھوتی، گھر صاف کرتی، خریداری کرتی اور کھانا تیار کرتی تھی۔ اُسے بہت سی مشکلات پر قابو پانا تھا لیکن اُس نے کہا: ”مجھے اعتماد تھا کہ اگر مَیں اُن پُرحکمت باتوں کی پیروی کروں جنہیں مَیں نے دیکھا ہے تو مَیں کامیاب رہونگی۔“
اُس حکمت کا اطلاق کرنے سے جو اُس نے پائی تھی، ٹوموئی اپنے افسردگی کے تاریک دنوں پر غالب آئی۔ آجکل ٹوموئی کُلوقتی طور پر انہی الفاظ کا اطلاق کرنے کیلئے دوسروں کی مدد کرتی ہے جنہوں نے اُسے اپنے مسائل پر قابو پانے میں مدد دی تھی۔ وہ پُرحکمت باتیں ایک ایسی قدیم کتاب میں درج ہیں جس میں اِس زمانے کے تمام لوگوں کے لئے ایک پیغام موجود ہے۔
کیا آپ کو گھریلو مسائل کا سامنا ہے؟
پوری دُنیا میں طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ گھریلو مسائل اُن مشرقی ممالک میں بھی بڑھ رہے ہیں جنہیں کبھی اپنے خاندانوں کے قریبی رشتے پر ناز تھا۔ ہم شادی کی بابت کارآمد دانشمندانہ راہنمائی کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں؟
شوگو اور مائیہوکو نامی جوڑے کے معاملے پر غور کریں جو لاتعداد ازدواجی مسائل کا شکار تھا۔ وہ ہر معمولی سی بات پر بھی جھگڑتے تھے۔ شوگو گرممزاج تھا اور جب بھی وہ مائیہوکو کی خامیوں کو نشانہ بناتا تو وہ بھی جواباً چیخنے چلانے لگتی۔ مائیہوکو نے سوچا کہ ’ہمارا کسی بھی بات پر متفق ہونا ناممکن ہے۔‘
ایک دن مائیہوکو کے پاس ایک خاتون آئی جس نے اُسے ایک کتاب سے یہ الفاظ پڑھ کر سنائے: ”جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تم بھی انکے ساتھ کرو۔“b اگرچہ وہ مذہب میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی تو بھی وہ اُس کتاب کو پڑھنے کیلئے متفق ہو گئی جس میں یہ الفاظ درج تھے۔ وہ اپنی خاندانی زندگی کو بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتی تھی۔ پس جب اُسے ایک ایسے اجلاس کیلئے دعوت دی گئی جہاں اپنی خاندانی زندگی کو خوشحال بنانا نام کی اشاعت پر باتچیت کی جاتی تھی تو مائیہوکو—اور اُسکے شوہر—نے فوراً دعوت قبول کر لی۔c
اجلاس پر شوگو نے مشاہدہ کِیا کہ حاضر ہونے والے لوگ درحقیقت سیکھی ہوئی باتوں کا اطلاق بھی کر رہے تھے اور وہ بڑے خوش نظر آتے تھے۔ اُس نے بھی اُس کتاب کا جائزہ لینے کا فیصلہ کِیا جو اُسکی بیوی پڑھ رہی تھی۔ ایک بیان جلد ہی اُسکی توجہ کا مرکز بنا: ”جو قہر کرنے میں دھیما ہے بڑا عقلمند ہے پر وہ جو جھکی ہے حماقت کو بڑھاتا ہے۔“d اگرچہ اپنی زندگی میں اس اصول کا اطلاق کرنے میں اُسے کچھ وقت لگا تو بھی اُس میں بتدریج پیدا ہونے والی تبدیلی اُس کی بیوی سمیت سب لوگوں کو نظر آنے لگی تھی۔
اپنے شوہر میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھکر مائیہوکو نے بھی اُن باتوں کا اطلاق کرنا شروع کر دیا جو وہ سیکھ رہی تھی۔ ایک اصول جو بالخصوص مددگار ثابت ہوا، یہ تھا: ”عیبجوئی نہ کرو کہ تمہاری بھی عیبجوئی نہ کی جائے۔ کیونکہ جس طرح تم عیبجوئی کرتے ہو اسی طرح تمہاری بھی عیبجوئی کی جائیگی۔“e پس مائیہوکو اور اُسکے شوہر نے فیصلہ کِیا کہ وہ ایک دوسرے کی خامیاں تلاش کرنے کی بجائے مثبت خوبیوں اور بہتری لانے کی بابت باتچیت کِیا کریں گے۔ اِسکا نتیجہ کیا نکلا تھا؟ مائیہوکو یاد کرتی ہے: ”مَیں اس سے واقعی بہت خوش ہوئی۔ ہم روزانہ رات کے کھانے کے وقت ایسا کرتے ہیں۔ ہمارا تین سالہ بیٹا بھی باتچیت میں حصہ لیتا ہے۔ یہ ہمارے لئے واقعی تازگیبخش ثابت ہوا ہے!“
جب اس خاندان نے حاصل ہونے والی پُرمعنی مشورت کا اطلاق کِیا تو وہ اُن تمام مسائل پر قابو پانے کے لائق بن گئے جن کی وجہ سے اُن کا رشتہ ٹوٹنے کو تھا۔ کیا یہ اُن کیلئے موتیوں بھری تھیلی سے زیادہ قابلِقدر نہیں ہے؟
کیا آپ اپنی زندگی کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں؟
آج بہتیروں کیلئے دولت جمع کرنا ہی زندگی کا واحد مقصد ہے۔ تاہم کئی ملین ڈالر خیرات کرنے والے ریاستہائے متحدہ کے ایک امیر بزنسمین نے ایک مرتبہ کہا: ”آجکل بعض لوگوں کیلئے پیسہ بڑی کشش رکھتا ہے مگر کوئی بھی شخص ایک وقت میں جوتوں کے دو جوڑے نہیں پہن سکتا۔“ اس حقیقت کو چند لوگ ہی تسلیم کرتے ہیں اور دولت کی جستجو کو چھوڑ دینے والے اس سے بھی تھوڑے ہیں۔
ہیٹوشی نے غربت میں پرورش پائی تھی اس لئے وہ امیر بننے کی شدید خواہش رکھتا تھا۔ یہ دیکھنے کے بعد کہ ساہوکار کس طرح لوگوں کو اپنی انگلیوں پر نچاتے ہیں، وہ اِس فیصلے پر پہنچا: ”پیسے والا ہی کامیاب ہوتا ہے۔“ ہیٹوشی دولت کی طاقت پر اس قدر یقین رکھتا تھا کہ اُس کے خیال میں انسانوں کی زندگیاں بھی اس سے خریدی جا سکتی ہیں۔ دولت جمع کرنے کے لئے اُس نے خود کو اپنے پلمبرنگ [نلسازی] کے کاروبار کے لئے وقف کر دیا اور ایک بھی چھٹی کئے بغیر سارا سال کام کِیا۔ سخت محنت کرنے کے باوجود ہیٹوشی کو جلد احساس ہو گیا کہ سبکنٹریکٹر کی حیثیت سے وہ کبھی بھی کنٹریکٹر جتنا بااختیار نہیں ہو سکے گا جو اُسے کام دیتا ہے۔ مایوسی اور دیوالیہ ہونے کا خوف اُس کی روزانہ کی فکر تھے۔
پھر ایک دن ایک آدمی ہیٹوشی کے دروازے پر آیا اور پوچھا کہ آیا وہ جانتا ہے کہ یسوع مسیح اُسکی خاطر مرا تھا۔ ہیٹوشی سوچتا تھا کہ اُس جیسے شخص کے لئے کون مرنا چاہے گا لہٰذا وہ بڑے اشتیاق سے مزید باتچیت کے لئے آمادہ ہو گیا۔ اگلے ہفتے اُس نے ایک لیکچر سنا اور ’اپنی آنکھ سادہ رکھو،‘ کی نصیحت کو سن کر حیران رہ گیا۔ مقرر نے وضاحت کی کہ ”سادہ“ آنکھ وہ ہے جو دُوراندیش ہو اور روحانی چیزوں پر مرتکز ہو؛ اس کے برعکس ”شریر“ اور ”حاسد“ آنکھ صرف فوری جسمانی خواہشات پر مرتکز اور کوتاہنظر ہوتی ہے۔ اس مشورت نے بھی اُس پر گہرا اثر کِیا کہ ”جہاں تیرا مال ہے وہیں تیرا دل بھی لگا رہیگا۔“f دولت حاصل کرنے سے بھی زیادہ اہم کام کوئی ہے! اُس نے ایسی بات کبھی نہیں سنی تھی۔
اس سے متاثر ہو کر اُس نے سیکھی ہوئی باتوں کا اطلاق کرنا شروع کر دیا۔ دولت کیلئے مشقت کرنے کی بجائے اُس نے اپنی زندگی میں روحانی چیزوں کو پہلا درجہ دینا شروع کر دیا۔ اُس نے اپنے خاندان کی روحانی فلاحوبہبود کیلئے بھی وقت صرف کرنا شروع کر دیا۔ ظاہری بات ہے کہ اسکا مطلب کام کیلئے کم وقت صرف کرنا تھا تو بھی اُس کے کاروبار میں بھی موافق تبدیلی آئی۔ کیوں؟
جب اُس نے حاصل ہونے والی مشورت کا اطلاق کِیا تو اُس کی جارحانہ شخصیت نرم اور امنپسند بن گئی۔ وہ خاص طور پر اس نصیحت سے بہت متاثر ہوا: ”اب تم بھی ان سب کو یعنی غصہ اور قہر اور بدخواہی اور بدگوئی اور مُنہ سے گالی بکنا چھوڑ دو۔ ایک دوسرے سے جھوٹ نہ بولو کیونکہ تم نے پرانی انسانیت کو اُس کے کاموں سمیت اتار ڈالا۔ اور نئی انسانیت کو پہن لیا ہے جو معرفت حاصل کرنے کے لئے اپنے خالق کی صورت پر نئی بنتی جاتی ہے۔“g اس مشورت کے اطلاق نے اُسے امیر تو نہ بنایا مگر اُس کی ”نئی انسانیت“ نے اُس کے گاہکوں پر اچھا تاثر چھوڑا جس نے انکا اعتماد اور بھروسہ جیت لیا۔ جیہاں، اپنی زندگی کو کامیاب بنانے میں اُن پُرحکمت باتوں نے اُس کی مدد کی جو اُسے مل گئی تھیں۔ اُس کے معاملے میں وہ حقیقی مفہوم میں موتیوں یا پیسوں سے بھری تھیلی سے کہیں زیادہ قابلِقدر تھیں۔
کیا آپ تھیلی کو کھولیں گے؟
کیا آپ اس حکمت بھری تھیلی کو پہچان سکتے ہیں جو مندرجہبالا مثالوں کے افراد کے لئے اتنی قابلِقدر ثابت ہوئی ہے؟ یہ بائبل میں پائی جانے والی حکمت ہے جو زمین پر سب سے زیادہ تقسیم ہونے والی اور بآسانی دستیاب ہونے والی کتاب ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کے پاس ایک کاپی موجود ہو یا آپ اسے آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم، جس طرح قیمتی موتیوں سے بھری تھیلی کے مالک کو تب تک فائدہ حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اُنہیں نکال کر استعمال نہیں کرتا، اسی طرح صرف بائبل کا پاس ہونا ہی کافی نہیں۔ علامتی مفہوم میں کیوں نہ تھیلی کو کھولیں اور بائبل کی دانشمندانہ اور بروقت مشورت کا اطلاق کریں اور دیکھیں کہ یہ زندگی کے مسائل کے ساتھ کامیابی سے نپٹنے کے لئے آپ کی مدد کس طرح کر سکتی ہے۔
اگر کبھی آپ کو موتیوں سے بھری تھیلی دی جائے تو کیا آپ شکرگزار نہیں ہونگے اور یہ جاننے کی کوشش نہیں کرینگے کہ آپ کا محسن کون ہے تاکہ آپ اُس کا شکریہ ادا کر سکیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ بائبل عطا کرنے والا کون ہے؟
بائبل اپنے اندر موجود حکمت کے ماخذ کی بابت آشکارا کرتی ہے جب وہ بیان کرتی ہے: ”ہر ایک صحیفہ . . . خدا کے الہام سے ہے . . . اور فائدہمند بھی ہے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶) نیز یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ”خدا کا کلام زندہ اور مؤثر“ ہے۔ (عبرانیوں ۴:۱۲) اسی وجہ سے بائبل میں پائے جانے والے پُرحکمت الفاظ ہمارے لئے آجکل بروقت اور مؤثر ہیں۔ یہوواہ کے گواہ اس فیاض محسن، یہوواہ خدا کی بابت سیکھنے میں آپکی مدد کر کے بہت خوش ہونگے تاکہ آپ بھی اُس ”حکمت سے بھری تھیلی“ سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہو سکیں جو بائبل—موجودہ زمانے کیلئے ایک پیغام پر مبنی پُرحکمت کتاب—میں موجود ہے۔
[فٹنوٹ]
a اقتباس ۱-کرنتھیوں ۱۲:۲۱، ۲۲ سے لیا گیا ہے۔
c واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹیڈ کی شائعکردہ۔
d امثال ۱۴:۲۹۔
e متی ۷:۱، ۲۔
f متی ۶:۲۱-۲۳۔
g کلسیوں ۳:۸-۱۰۔
[صفحہ 4 پر بکس/تصویر]
جذباتی توازن قائم رکھنے کیلئے پُرحکمت باتیں
”اَے خداوند! [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اگر تُو بدکاری کو حساب میں لائے تو اَے خداوند! [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کون قائم رہ سکے گا؟ پر مغفرت تیرے ہاتھ میں ہے تاکہ لوگ تجھ سے ڈریں۔“—زبور ۱۳۰:۳، ۴۔
”خوشدلی خندہروئی پیدا کرتی ہے پر دل کی غمگینی سے انسان شکستہخاطر ہوتا ہے۔“—امثال ۱۵:۱۳۔
”حد سے زیادہ نیکوکار نہ ہو اور حکمت میں اعتدال سے باہر نہ جا اِسکی کیا ضرورت ہے کہ تُو اپنے آپ کو برباد کرے؟“—واعظ ۷:۱۶۔
”دینا لینے سے مبارک ہے۔“—اعمال ۲۰:۳۵۔
”غصہ تو کرو مگر گناہ نہ کرو۔ سورج کے ڈوبنے تک تمہاری خفگی نہ رہے۔“—افسیوں ۴:۲۶۔
[صفحہ 5 پر بکس/تصویر]
خوشحال خاندانی زندگی کیلئے پُرحکمت باتیں
”صلاح کے بغیر ارادے پورے نہیں ہوتے پر صلاحکاروں کی کثرت سے قیام پاتے ہیں۔“—امثال ۱۵:۲۲۔
”ہوشیار کا دل علم حاصل کرتا ہے اور دانا کے کان علم کے طالب ہیں۔“—امثال ۱۸:۱۵۔
”باموقع باتیں روپہلی ٹوکریوں میں سونے کے سیب ہیں۔“—امثال ۲۵:۱۱۔
”اگر کسی کو دوسرے کی شکایت ہو تو ایک دوسرے کی برداشت کرے اور ایک دوسرے کے قصور معاف کرے۔ جیسے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] نے تمہارے قصور معاف کئے ویسے ہی تم بھی کرو۔ اور ان سب کے اُوپر محبت کو جو کمال کا پٹکا ہے باندھ لو۔“—کلسیوں ۳:۱۳، ۱۴۔
”اَے میرے پیارے بھائیو! یہ بات تم جانتے ہو۔ پس ہر آدمی سننے میں تیز اور بولنے میں دھیرا اور قہر کرنے میں دھیما ہو۔“—یعقوب ۱:۱۹۔
[صفحہ 6 پر بکس/تصویر]
زندگی کو کامیاب بنانے کیلئے پُرحکمت باتیں
”دغا کے ترازو سے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کو نفرت ہے لیکن پورا باٹ اُسکی خوشی ہے۔“—امثال ۱۱:۱۔
”ہلاکت سے پہلے تکبّر اور زوال سے پہلے خودبینی ہے۔“—امثال ۱۶:۱۸۔
”جو اپنے نفس پر ضابط نہیں وہ بےفصیل اور مسمارشُدہ شہر کی مانند ہے۔“—امثال ۲۵:۲۸۔
”تُو اپنے جی میں خفا ہونے میں جلدی نہ کر کیونکہ خفگی احمقوں کے سینوں میں رہتی ہے۔“—واعظ ۷:۹۔
”اپنی روٹی پانی میں ڈالدے کیونکہ تُو بہت دنوں کے بعد اُسے پائیگا۔“—واعظ ۱۱:۱۔
”کوئی گندی بات تمہارے مُنہ سے نہ نکلے بلکہ وہی جو ضرورت کے موافق ترقی کے لئے اچھی ہو تاکہ اس سے سننے والوں پر فضل ہو۔“—افسیوں ۴:۲۹۔
[صفحہ 7 پر تصویر]
”حکمت سے بھری تھیلی“ سے استفادہ کرنے کیلئے بائبل کا مطالعہ کرنا پہلا قدم ہے