بیدار ہونے کا وقت آ پہنچا ہے!
”وقت کو پہچان کر ایسا ہی کرو۔ اسلئے کہ اب وہ گھڑی آ پہنچی کہ تم نیند سے جاگو۔“ (رومیوں ۱۳:۱۱) یہ الفاظ پولس رسول نے ۷۰ س.ع. میں یہودی نظام کے تباہکُن خاتمے سے کوئی ۱۴ سال قبل روم کے مسیحیوں کو لکھے تھے۔ روحانی طور پر بیدار ہونے کی وجہ سے یہودی مسیحی اُس خطرناک وقت پر یروشلیم میں نہیں تھے جسکی بدولت وہ موت یا غلامی سے بچ نکلے۔ تاہم وہ کیسے جانتے تھے کہ اُنہیں شہر سے دُور رہنے کی ضرورت ہے؟
یسوع مسیح آگاہ کر چکا تھا کہ دشمن یروشلیم کو گھیر لینگے اور اُسکے باشندوں کو خاک میں ملا دینگے۔ (لوقا ۱۹:۴۳، ۴۴) اسکے بعد یسوع نے اپنے وفادار پیروکاروں کو ایک مرکب نشان دیا جسے پہچاننا مشکل نہیں تھا۔ (لوقا ۲۱:۷-۲۴) یروشلیم میں رہنے والے مسیحیوں کیلئے شہر کو چھوڑنے کا مطلب گھر اور کاروبار کو چھوڑنا تھا۔ تاہم، اُنہوں نے ہوشیاری دکھانے اور بھاگ نکلنے سے اپنی زندگیاں بچا لیں۔
جب یسوع نے یروشلیم کی تباہی کی پیشینگوئی کی تو اُس کے شاگردوں نے پوچھا: ”یہ باتیں کب ہونگی؟ اور تیرے آنے [”موجودگی،“ اینڈبلیو] اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“ (متی ۲۴:۳) جواب میں، یسوع نے اپنی آئندہ موجودگی کا نوح کے زمانہ کے عالمگیر طوفان پر منتج ہونے والے وقت کیساتھ موازنہ کِیا۔ یسوع نے واضح کِیا کہ طوفان نے سب بدکاروں کا صفایا کر دیا تھا۔ (متی ۲۴:۲۱، ۳۷-۳۹) یوں اُس نے ظاہر کِیا کہ خدا ایک بار پھر انسانی معاملات میں مداخلت کرے گا۔ کس حد تک؟ ایک نہایت بدکار دُنیا یا نظامالعمل کو مٹا دینے کی حد تک! (مقابلہ کریں ۲-پطرس ۳:۵، ۶۔) کیا ہمارے زمانے میں ایسا ہو سکتا ہے؟
کیا سب کچھ ویسا ہی ہے؟
پہلی صدی کے یہودیوں میں سے شاید ہی کسی نے کبھی سوچا ہوگا کہ اُن کا مُقدس شہر، یروشلیم تباہ کر دیا جائے گا۔ ایسی ہی بےیقینی اکثر اُن لوگوں میں پائی جاتی ہے جنہیں آتشفشاں پہاڑ کے قربوجوار میں رہنے کے باوجود کبھی اس کے پھٹنے کا تجربہ نہیں ہوا ہوتا۔ جب آگاہیاں دی جاتی ہیں تو یہ جواب عام ہوتا ہے کہ ”میری زندگی میں تو ایسا نہیں ہوگا۔“ ”آتشفشاں پہاڑ عموماً دو یا تین صدیوں کے بعد پھٹتے ہیں،“ ماہرِبرکانیات لائنل ولسن وضاحت کرتا ہے۔ ”اگر آپ کے والدین کو آتشفشاں پھٹنے کی وجہ سے نقلمکانی کرنی پڑتی ہے تو آپ کو پریشانی ہوتی ہے۔ تاہم اگر یہ سانحہ آپ کے دادا پردادا کے زمانے میں پیش آیا ہو تو آپ کیلئے یہ محض ایک قصہ ہوتا ہے۔“
تاہم، درست معلومات ہمیں خطرے کے اشاروں کو پہچاننے اور اُنہیں سنجیدہ خیال کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ ماؤنٹ پیلے سے فرار ہونے والوں میں سے ایک آتشفشاں پہاڑوں سے واقف تھا اور خطرے کے اشاروں کو سمجھتا تھا۔ ماؤنٹ پیناٹوبو کے پھٹنے سے ذرا پہلے بھی ایسے ہی آثار کو درست طور پر واضح کِیا گیا تھا۔ پہاڑ کے اندر پیدا ہونے والی نادیدہ قوتوں کا جائزہ لینے والے ماہرینِبرکانیات نے مقامی لوگوں کو علاقہ خالی کر دینے پر قائل کر لیا۔
بِلاشُبہ، بعض خطرے کے اشاروں کو ہمیشہ نظرانداز کرتے ہیں اور یہی زور دیتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا۔ وہ شاید حتمی قدم اُٹھانے والے لوگوں کا تمسخر بھی اُڑائیں۔ پطرس رسول نے پیشینگوئی کی کہ ہمارے زمانے میں ایسا رُجحان عام ہوگا۔ ”یہ پہلے جان لو،“ اُس نے کہا، ”کہ اخیر دنوں میں ہنسی ٹھٹھا کرنے والے آئینگے جو اپنی خواہشوں کے موافق چلینگے۔ اور کہینگے کہ اُسکے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟ کیونکہ جب سے باپدادا سوئے ہیں اُس وقت سے اب تک سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا خلقت کے شروع سے تھا۔“—۲-پطرس ۳:۳، ۴۔
کیا آپ یقین رکھتے ہیں کہ ہم ”اخیر دنوں“ میں رہ رہے ہیں؟ دی کولمبیا ہسٹری آف دی ورلڈ میں جان اے. گاریٹی اور پیٹر غے پوچھتے ہیں: ”کیا ہم اپنی تہذیب کو رُوبہتنزل دیکھ رہے ہیں؟“ اسکے بعد یہ مؤرخ حکومتی مسائل، جُرم اور سول نافرمانی میں عالمگیر اضافے، خاندانی زندگی کی شکستگی، معاشرے کے مسائل کو حل کرنے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ناکامی، اختیار کے بحران اور عالمگیر اخلاقی اور مذہبی زوال کا تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں: ”اگر یہ قطعی خاتمے کے آثار نہیں تو اَور کیا ہے۔“
ہمارے پاس یہ یقین کرنے کی ٹھوس وجہ موجود ہے کہ ”خاتمہ“ قریب ہے۔ تاہم ہمیں اس کُرۂارض کے خاتمے سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ بائبل بیان کرتی ہے کہ خدا نے ”زمین کو اُسکی بنیاد پر قائم کِیا تاکہ وہ کبھی جنبش نہ کھائے۔“ (زبور ۱۰۴:۵) تاہم، ہمیں جلد ہی اس بدکار نظامالعمل کے خاتمے کی توقع رکھنی چاہئے جو نوعِانسان پر اسقدر مصیبت لایا ہے۔ کیوں؟ اسلئے کہ ہم اس نظام کے آخری ایّام کی نشاندہی کرنے والی بہتیری نمایاں خصوصیات کو دیکھ سکتے ہیں جنکا یسوع مسیح نے ذکر کِیا تھا۔ (دیکھیں بکس ”آخری ایّام کی بعض خصوصیات۔“) کیوں نہ یسوع کے الفاظ کا دُنیاوی واقعات کیساتھ موازنہ کریں؟ ایسا کرنے سے آپکی اپنے اور اپنے خاندان کی بابت دانشمندانہ فیصلے کرنے میں مدد ہو سکتی ہے۔ تاہم، ابھی کارروائی کیوں کریں؟
بیدار رہنے کی حقیقی ضرورت
سائنسدان یہ تو معلوم کر سکتے ہیں کہ آتشفشاں پہاڑ پھٹنے کے قریب ہے مگر وہ کسی بھی طرح یہ نہیں بتا سکتے کہ ایسا کب واقع ہوگا۔ اسی طرح، اس نظامالعمل کے خاتمے کی بابت یسوع نے کہا: ”اُس دن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ۔“ (متی ۲۴:۳۶) چونکہ ہم صحیح طور پر یہ نہیں جانتے کہ موجودہ نظامالعمل کا خاتمہ کب ہوگا اسلئے یسوع نے ہمیں یہ آگاہی دی: ”یہ جان رکھو کہ اگر گھر کے مالک کو معلوم ہوتا کہ چور رات کے کون سے پہر آئیگا تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب نہ لگانے دیتا۔ اسلئے تم بھی تیار رہو کیونکہ جس گھڑی تمکو گمان بھی نہ ہوگا ابنِآدؔم [یسوع] آ جائیگا۔“—متی ۲۴:۴۳، ۴۴۔
یسوع کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نظام کا ہلاکتخیز خاتمہ اس دُنیا پر ناگہاں آ پڑیگا۔ اگرچہ ہم اُسکے پیروکار ہیں توبھی ’ہمیں تیار رہنے‘ کی ضرورت ہے۔ ہماری حالت اُس مالک جیسی ہے جسے شاید بےخبری میں لوٹ لیا جاتا ہے کیونکہ یہ نہیں جانتا کہ چور کب اُسکے گھر گھس آئیگا۔
اسی طرح، پولس رسول نے تھسلنیکے کے مسیحیوں کو بتایا: ”تُم آپ خوب جانتے ہو کہ خداوند کا دِن اِس طرح آنے والا ہے جس طرح رات کو چور آتا ہے۔ . . . تُم اَے بھائیو! تاریکی میں نہیں ہو کہ وہ دن چور کی طرح تُم پر آ پڑے۔“ پولس نے یہ تاکید بھی کی: ”پس اَوروں کی طرح سو نہ رہیں بلکہ جاگتے اور ہوشیار رہیں۔“ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۲، ۴، ۶) ”جاگتے اور ہوشیار رہنے“ سے کیا مُراد ہے؟
یروشلیم سے پہلی صدی کے مسیحیوں کے نکل جانے کے برعکس، سلامتی کیلئے ہمارا بھاگنا کسی شہر کو چھوڑ دینے پر منحصر نہیں ہے۔ روم میں ساتھی ایمانداروں کو نیند سے جاگنے کی نصیحت کرنے کے بعد پولس نے اُنہیں تاکید کی کہ ”تاریکی کے کاموں کو ترک کرکے . . . خداوند یسوع مسیح کو پہن لو۔“ (رومیوں ۱۳:۱۲، ۱۴) یسوع مسیح کے نقشِقدم پر چلنے سے ہم یہ ظاہر کرینگے کہ ہم زمانے سے باخبر ہیں اور یہی روحانی بیداری ہمیں اس بدکار نظامالعمل کے خاتمے کے وقت الہٰی تحفظ کے لائق بنائیگی۔—۱-پطرس ۲:۲۱۔
یسوع مسیح کی پیروی کرنے والے بامقصد اور مطمئن زندگیوں سے لطفاندوز ہوتے ہیں۔ لاکھوں یہوواہ کے گواہوں نے یہ جان لیا ہے کہ مسیحی شاگردی کا جؤا ملائم اور تازگیبخش ہے۔ (متی ۱۱:۲۹، ۳۰) شاگرد بننے کیلئے ’خدا اور یسوع مسیح کا علم حاصل کرنا‘ پہلا قدم ہے۔ (یوحنا ۱۷:۳) گواہ ”سچائی کی پہچان“ تک پہنچنے میں لوگوں کی مدد کرنے کیلئے ہر ہفتے لاکھوں گھروں میں جاتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۲:۴) وہ آپ کے گھر میں بھی آپ کیساتھ مُفت بائبل مطالعہ کرکے خوش ہونگے۔ لہٰذا جب آپ خدا کے کلام کے علم میں ترقی کرینگے تو آپ یقیناً قائل ہو جائینگے کہ ہمارے ایّام واقعی مختلف ہیں۔ بیشک، نیند سے بیدار ہونے کا وقت آ پہنچا ہے!
[صفحہ 7 پر بکس]
آخری ایّام کی بعض خصوصیات
”قوم پر قوم . . . چڑھائی کریگی؛“ ’زمین پر سے صلح اُٹھا لی جائیگی۔‘ (متی ۲۴:۷، مکاشفہ ۶:۴)
اس صدی کی دو عالمی جنگوں سمیت دیگر کئی آویزشوں نے زمین پر سے صلح اُٹھا لی ہے۔ مؤرخ جان کےگان لکھتا ہے کہ ”پہلی—اور اسی طرح دوسری—عالمی جنگ تناسب، شدت، وسعت اور جانیومالی نقصان کے لحاظ سے گزشتہ تمام جنگوں سے فرق تھی۔ . . . عالمی جنگوں نے زیادہ لوگوں کو ہلاک کِیا، زیادہ دولت ضائع کر دی اور کُرۂارض کے وسیع خطے کو تکلیف میں مبتلا کر دیا۔“ اب جنگیں فوجیوں کی نسبت عورتوں اور بچوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ اقوامِمتحدہ کے ادارۂامدادِبچگان کے اندازے کے مطابق گزشتہ دس سالوں کے دوران جنگوں میں دو ملین بچے ہلاک ہوئے ہیں۔
”کال پڑینگے“ (متی ۲۴:۷، مکاشفہ ۶:۵، ۶، ۸)
۱۹۹۶ میں گندم اور مکئی کی قیمتوں میں حیرتانگیز اضافہ ہو گیا۔ وجہ؟ اس اناج کے عالمی ذخیروں میں صرف ۵۰ دن کی رسد باقی رہ گئی تھی جو کہ ریکارڈ کمی ہے۔ بنیادی اشیائےخوردنی کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ دُنیا کے لاکھوں غریب لوگ—زیادہتر بچے—بھوکے سوتے ہیں۔
”جگہ جگہ . . . بھونچال آئینگے“ (متی ۲۴:۷)
گزشتہ ۲،۵۰۰ سالوں کے دوران صرف نو بھونچالوں میں سے ہر ایک نے ۱،۰۰،۰۰۰ سے زائد لوگوں کو ہلاک کِیا ہے۔ ان میں سے چار بھونچال تو ۱۹۱۴ کے بعد ہی آئے ہیں۔
”لاقانونیت میں اضافہ“ (متی ۲۴:۱۲ اینڈبلیو)
بیسویں صدی کے ختم ہونے کیساتھ ساتھ لاقانونیت یا قانونشکنی عام ہو گئی ہے۔ شہریوں پر دہشتگردوں کے حملے، بےرحم قاتل اور خونریزیاں ان تشددآمیز آخری ایّام کی ہولناک خصوصیات کا حصہ ہیں۔
”جا بجا . . . مری پڑیگی“ (لوقا ۱۲:۱۱)
۱۹۹۰ کے عشرے کے دوران غالباً ۳۰ ملین لوگ تپدق سے مرینگے۔ بیماری پھیلانے والے بیشتر بیکٹیریا دواؤں کا اثر قبول نہیں کرتے۔ ملیریا، ایک اَور مُہلک بیماری ہے جو ہر سال ۳۰۰ سے ۵۰۰ ملین تک لوگوں کو متاثر کرتی ہے اور اندازاً ۲ ملین کو موت کے گھاٹ اُتار دیتی ہے۔ اس عشرے کے آخر تک، ایڈز کے ہر سال ۸.۱ ملین اموات کا سبب بننے کی توقع کی جاتی ہے۔ ”آجکل انسانیت وباؤں کی وبا کا تجربہ کر رہی ہے،“ سٹیٹ آف دی ورلڈ ۱۹۹۶ بیان کرتی ہے۔
”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہو گی۔“ (متی ۲۴:۱۴)
۱۹۹۷ میں، یہوواہ کے گواہوں نے بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرنے میں ایک بلین سے زائد گھنٹے صرف کئے۔ پانچ ملین سے زائد گواہ ۲۳۲ ممالک میں باقاعدگی سے یہ پیغام لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔
[تصویروں کے حوالہجات]
FAO photo/B. Imevbore
U.S. Coast Guard photo
[صفحہ 4 پر تصویر]
مسیحی روحانی طور پر بیدار ہونے کی وجہ سے یروشلیم سے بھاگ گئے