یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏6 ص.‏ 18-‏23
  • یہوواہ خدا جو راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ خدا جو راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • قادرِمطلق مگر پُرمحبت
  • اُن نمائندوں کیلئے مناسب احترام جنہیں یہوواہ استعمال کرتا ہے
  • صاف‌گوئی یا رازداری؟‏
  • بتائیں یا نہ بتائیں؟‏
  • ایک ایسا بھید جسے مسیحیوں کو چھپانا نہیں چاہئے!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • خدا کے مقصد کی تکمیل کا ایک انتظام
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • یہوواہ بامقصد خدا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • یہوواہ آپکی فکر رکھتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏6 ص.‏ 18-‏23

یہوواہ خدا جو راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے

‏”‏آسمان پر ایک خدا ہے جو راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے۔“‏—‏دانی‌ایل ۲:‏۲۸‏۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ یہوواہ اپنے بڑے دُشمن سے کیسے فرق ہے؟ (‏ب)‏ انسانوں میں یہ فرق کیسے نظر آتا ہے؟‏

کائنات کا پُرمحبت خدا اور حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ، واحد خالق، حکمت اور انصاف کا خدا ہے۔ اُسے اپنی شخصیت، اپنے کام یا اپنے مقاصد چھپانے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے وقت اور اپنی مرضی سے خود کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے مخالف، شیطان ابلیس سے فرق ہے جو اپنی اصل شخصیت اور ارادوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔‏

۲ جیسے یہوواہ اور شیطان مختلف ہیں ویسے ہی اُن کے پرستار بھی مختلف ہیں۔ فریب‌کاری اور مکر اُن لوگوں کا شیوہ ہیں جو شیطان کی راہنمائی میں چلتے ہیں۔ وہ خود کو روشنی کے فرزند ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر کام تاریکی کے کرتے ہیں۔ کرنتھس کے مسیحیوں کو بتایا گیا تھا کہ اس حقیقت سے حیران نہ ہوں۔ ”‏کیونکہ ایسے لوگ جھوٹے رسول اور دغابازی سے کام کرنے والے ہیں اور اپنے‌آپ کو مسیح کے رسولوں کے ہمشکل بنا لیتے ہیں۔ اور کچھ عجب نہیں کیونکہ شیطان بھی اپنے‌آپ کو نورانی فرشتہ کا ہمشکل بنا لیتا ہے۔“‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۱۳، ۱۴‏)‏ اس کے برعکس، مسیحی لوگ مسیح کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں۔ زمین پر اُس نے اپنے باپ، یہوواہ خدا کی شخصیت کی مکمل عکاسی کی۔ (‏عبرانیوں ۱:‏۱-‏۳‏)‏ یوں، مسیح کی تقلید کرنے سے، مسیحی سچائی، صاف‌گوئی اور نور کے خدا یہوواہ کی نقل کر رہے ہیں۔ اُنہیں بھی اپنی شخصیت، اپنے کاموں یا اپنے مقاصد کو چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔—‏افسیوں ۴:‏۱۷-‏۱۹؛‏ ۵:‏۱، ۲‏۔‏

۳.‏ ہم اس الزام کی تردید کیسے کر سکتے ہیں کہ یہوواہ کے گواہ بننے والے لوگوں کو ”‏پاک بھید“‏ میں شامل ہونے کیلئے مجبور کِیا جاتا ہے؟‏

۳ جو وقت اُسکی دانست میں موزوں ہوتا ہے اُس پر یہوواہ اپنے مقاصد کی بابت اور مستقبل کی بابت ایسی تفصیلات فراہم کرتا ہے جو انسانوں کیلئے پہلے پوشیدہ رہی ہیں۔ اس مفہوم میں وہ راز کی باتیں آشکارا کرنے والا خدا ہے۔ لہٰذا، اُسکی خدمت کرنے کے خواہشمند لوگوں کو دعوت—‏جی ہاں، آشکاراکردہ معلومات کو سیکھنے کی تاکید کی جاتی ہے۔ ۱۹۹۴ میں ایک یورپی مُلک کے ۱،۴۵،۰۰۰ سے زائد گواہوں کے سروے نے ظاہر کِیا کہ اوسطاً اُن میں سے ہر ایک نے گواہ بننے کا انتخاب کرنے سے پہلے تین سال تک یہوواہ کے گواہوں کی تعلیمات کی ذاتی طور پر تحقیق کی تھی۔ اُنہوں نے کسی قسم کے دباؤ کے بغیر اپنی آزاد مرضی کے مطابق انتخاب کِیا۔ اور اُن کے پاس ہمیشہ مرضی اور عمل کی آزادی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر، چونکہ مسیحیوں کیلئے اخلاقیات کے اعلیٰ معیاروں سے بعض نااتفاقی کا اظہار کرنے لگے اسلئے بعد میں اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ اب گواہ نہیں رہنا چاہتے۔ تاہم، یہ دلچسپی کی بات ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ان سابقہ گواہوں کی بڑی تعداد نے گواہوں کے طور پر اپنی رفاقت اور کارگزاری کا آغاز کرنے کیلئے ضروری اقدام اُٹھائے۔‏

۴.‏ کونسی ضرورت ایماندار مسیحیوں کو پریشان نہیں کرتی اور کیوں نہیں؟‏

۴ بِلاشُبہ، تمام سابقہ گواہ تو واپس نہیں آئے اور اُن میں سے بعض ایسے ہیں جو مسیحی کلیسیا میں ذمہ‌دارانہ عہدوں پر فائز تھے۔ اسے حیرانی کی بات نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یسوع کے قریبی پیروکاروں میں سے ایک، یہوداہ رسول بھی گمراہ ہو گیا تھا۔ (‏متی ۲۶:‏۱۴-‏۱۶،‏ ۲۰-‏۲۵‏)‏ لیکن کیا یہ بذاتِ‌خود مسیحیت کی بابت ابتری میں پڑ جانے کی کوئی وجہ فراہم کرتا ہے؟ یہوواہ کے گواہ جس کامیابی سے اپنا تعلیمی کام جاری رکھے ہوئے ہیں کیا یہ اُسکی تردید کرتا ہے؟ بالکل نہیں جیسے‌کہ یہوداہ اسکریوتی کا غدارانہ عمل خدا کے مقاصد کی راہ میں حائل نہیں ہوا تھا۔‏

قادرِمطلق مگر پُرمحبت

۵.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ اور یسوع انسانوں سے محبت کرتے ہیں اور اُنہوں نے اس محبت کا مظاہرہ کیسے کِیا ہے؟‏

۵ یہوواہ محبت کا خدا ہے۔ وہ لوگوں کی فکر رکھتا ہے۔ (‏۱-‏یوحنا ۴:‏۷-‏۱۱‏)‏ اپنے بلند مرتبے کے باوجود، وہ انسانوں کو اپنے دوست بنانے سے خوش ہوتا ہے۔ اُسکے قدیم خادموں میں سے ایک کی بابت ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏ابرہام خدا پر ایمان لایا اور یہ اُس کیلئے راستبازی گنا گیا اور وہ خدا کا دوست کہلایا۔“‏ (‏یعقوب ۲:‏۲۳؛‏ ۲-‏تواریخ ۲۰:‏۷؛‏ یسعیاہ ۴۱:‏۸‏)‏ جیسے انسانی دوست آپس میں خفیہ معاملات یا راز کی باتوں پر گفتگو کرتے ہیں ویسے ہی یہوواہ اپنے دوستوں کیساتھ بات‌چیت کرتا ہے۔ اس سلسلے میں یسوع نے اپنے باپ کی نقل کی کیونکہ اُس نے اپنے شاگردوں کو اپنا دوست بنایا اور اُنہیں راز کی باتوں میں شریک کِیا۔ ”‏اب سے مَیں تمہیں نوکر نہ کہونگا،“‏ اُس نے اُن سے کہا، ”‏کیونکہ نوکر نہیں جانتا کہ اُسکا مالک کیا کرتا ہے بلکہ تمہیں مَیں نے دوست کہا ہے۔ اسلئے‌کہ جو باتیں مَیں نے اپنے باپ سے سنیں وہ سب تمکو بتا دیں۔“‏ (‏یوحنا ۱۵:‏۱۵‏)‏ یہوواہ، اُسکے بیٹے اور اُنکے دوستوں کا نجی معلومات یا ”‏راز کی باتوں“‏ سے واقف ہونا اُنہیں محبت اور عقیدت کے اٹوٹ بندھن میں باندھ دیتا ہے۔—‏کلسیوں ۳:‏۱۴‏۔‏

۶.‏ یہوواہ کو اپنے ارادے چھپانے کی کیوں ضرورت نہیں؟‏

۶ نام یہوواہ کا مطلب ہے، ”‏وہ وجود میں لانے کا سبب بنتا ہے،“‏ اُسکی اس صلاحیت کو اُجاگر کرتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کو پورا کرنے کیلئے جو چاہے کر سکتا ہے۔ انسانوں کے برعکس، یہوواہ کو اس ڈر سے اپنے ارادوں کو چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ دوسرے لوگ اُنکی انجام‌دہی میں رُکاوٹ ڈالینگے۔ وہ ناکام نہیں ہو سکتا اسلئے وہ اپنے کلام بائبل کو کُھلے‌عام آشکارا کرتا ہے جسکے بیشتر حصے کو پورا کرنے کا وہ قصد کئے ہوئے ہے۔ وہ وعدہ فرماتا ہے:‏ ”‏میرا کلام .‏ .‏ .‏ بے‌انجام میرے پاس واپس نہ آئیگا بلکہ جو کچھ میری خواہش ہوگی وہ اُسے پورا کریگا اور اُس کام میں جسکے لئے مَیں نے اُسے بھیجا مؤثر ہوگا۔“‏—‏یسعیاہ ۵۵:‏۱۱‏۔‏

۷.‏ (‏ا)‏ یہوواہ نے عدن میں کیا پیشینگوئی کی اور شیطان نے خدا کو کیسے سچا ثابت کِیا؟ (‏ب)‏ ۲-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۸ کا اصول کیسے ہمیشہ سچ ثابت ہوتا ہے؟‏

۷ عدن میں بغاوت کے بعد ہی، یہوواہ نے اپنے اور اپنے دُشمن شیطان کے مابین چلنے والے تنازعے کے حتمی انجام کو مختصراً آشکارا کِیا۔ خدا کی موعودہ نسل کو بُری طرح کچلا جائیگا مگر مستقل طور پر نہیں، جبکہ شیطان کو بالآخر کاری ضرب لگے گی۔ (‏پیدایش ۳:‏۱۵‏)‏ ۳۳ س.‏ع.‏ میں، ابلیس نے واقعی نسل، مسیح یسوع کی موت واقع کر کے اُسے کاٹا تھا۔ اِسطرح شیطان نے صحائف کو پورا کِیا اور اسکے ساتھ ہی ساتھ یہوواہ کو خدائے‌برحق ثابت کِیا اگرچہ شیطان کا یہ قطعاً مقصد نہیں تھا۔ حق اور راستبازی سے اُسکی نفرت اور اُسکے تکبّر، غیرتائب رجحان نے اُس سے وہی کچھ کرایا جسکی خدا نے پیشینگوئی کی تھی کہ وہ کرے گا۔ جی‌ہاں، سچائی کے تمام مخالفین پر، خود شیطان پر بھی، یہ اصول صادق آتا ہے:‏ ”‏ہم حق کے برخلاف کچھ نہیں کر سکتے مگر صرف حق کے لئے کر سکتے ہیں۔“‏—‏۲-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۸‏۔‏

۸، ۹.‏ (‏ا)‏ شیطان کیا جانتا ہے لیکن کیا یہ علم یہوواہ کے مقاصد کی تکمیل کو خطرے میں ڈالتا ہے؟ (‏ب)‏ یہوواہ کے مخالفین کونسی واضح آگاہی کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور کیوں؟‏

۸ چونکہ خدا کی بادشاہت ۱۹۱۴ میں نادیدہ طور پر قائم ہو گئی تھی اسلئے مکاشفہ ۱۲:‏۱۲ کا اطلاق ہوا ہے:‏ ”‏اَے آسمانو اور اُنکے رہنے والوں خوشی مناؤ!‏ اَے خشکی اور تری تم پر افسوس!‏ کیونکہ ابلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اُتر کر آیا ہے۔ اسلئے‌کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“‏ تاہم، کیا یہ علم کہ اُسکا وقت تھوڑا ہے شیطان کو اپنی روش بدلنے کی تحریک دیتا ہے؟ ایسا کرنا شیطان کی طرف سے اس بات کا اقرار ہوگا کہ یہوواہ خدائے‌برحق ہے اور یہ کہ اعلیٰ حکمران کی حیثیت سے وہی پرستش کے لائق ہے۔ تاہم، سب کچھ جانتے ہوئے بھی ابلیس ہار ماننے کو تیار نہیں۔‏

۹ یہوواہ واضح طور پر انکشاف کرتا ہے کہ جب مسیح شیطان کے عالمی نظام کی عدالت کرنے کیلئے آیگا تو اُس وقت کیا واقع ہوگا۔ (‏متی ۲۴:‏۲۹-‏۳۱؛‏ ۲۵:‏ ۳۱-‏۴۶‏)‏ اِس سلسلے میں، اُسکا کلام دُنیا کے حکمرانوں کی بابت اعلان کرتا ہے:‏ ”‏جس وقت لوگ کہتے ہونگے کہ سلامتی اور امن ہے اُس وقت اُن پر اس طرح ناگہاں ہلاکت آئیگی جس طرح حاملہ کو درد لگتے ہیں۔“‏ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۳‏)‏ شیطان کی راہنمائی میں چلنے والے اس واضح آگاہی کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے بدطینت دلوں کے باعث اندھے ہو گئے ہیں اور یہی چیز اُنہیں اپنی بُری‌روش سے توبہ کرنے اور اپنے منصوبوں اور حکمتِ‌عملی کو بدلنے سے روکتی ہے جو یہوواہ کے مقاصد کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔‏

۱۰.‏ (‏ا)‏ ۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۳ کی تکمیل کس حد تک ہو چکی ہے لیکن یہوواہ کے لوگوں کو کیسا جوابی‌عمل دکھانا چاہئے؟ (‏ب)‏ بے‌ایمان لوگ مستقبل میں خدا کے لوگوں کی مخالفت کرنے میں اَور زیادہ جارحیت‌پسند کیوں ہو جاتے ہیں؟‏

۱۰ خاص طور پر ۱۹۸۶ سے لیکر جب اقوامِ‌متحدہ کی طرف سے اَمن کے بین‌الاقوامی سال کا اعلان کِیا گیا تھا، دُنیا میں امن‌وسلامتی کا بڑا چرچا رہا ہے۔ عالمی امن کے تحفظ کے لئے بظاہر تھوڑی بہت کامیابی کے ساتھ قطعی اقدام اُٹھائے گئے ہیں۔ کیا یہی اس پیشینگوئی کی مکمل تکمیل ہے یا کیا ہم مستقبل میں کوئی حیران‌کُن اعلان کے سننے کی توقع کر سکتے ہیں؟ یہوواہ اپنے وقتِ‌مقررہ پر اس معاملے کو واضح کر دے گا۔ اس اثنا میں، آئیے روحانی طور پر بیدار رہیں اور ”‏خدا کے .‏ .‏ .‏ دن کے آنے [‏کے]‏ منتظر اور مشتاق“‏ رہیں۔ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۲‏)‏ جبکہ امن‌وسلامتی کے چرچے کیساتھ وقت گزرتا جاتا ہے، بعض اشخاص جو اس آگاہی سے واقف ہیں مگر اسے نظرانداز کر دیتے ہیں ممکن ہے کہ یہ خیال کرتے ہوئے اَور زیادہ سرکش ہو جائیں کہ یہوواہ اپنی بات کو پورا نہیں کرے گا یا یہ کہ وہ کر ہی نہیں سکتا ہے۔ (‏مقابلہ کریں واعظ ۸:‏۱۱-‏۱۳؛‏ ۲-‏پطرس ۳:‏۳، ۴‏۔)‏ لیکن سچے مسیحی جانتے ہیں کہ یہوواہ اپنا مقصد ضرور پورا کریگا!‏

اُن نمائندوں کیلئے مناسب احترام جنہیں یہوواہ استعمال کرتا ہے

۱۱.‏ دانی‌ایل اور یوسف نے یہوواہ کی بابت کیا جان لیا تھا؟‏

۱۱ جب نوبابلی سلطنت کے بادشاہ نبوکدنضر نے ایک پریشان‌کُن خواب دیکھا جسے وہ یاد نہیں رکھ سکا تھا تو اُس نے اس معاملے میں مدد کیلئے درخواست کی۔ اُسکے مذہبی علماء، جادوگر، افسوں‌گر نہ تو اُسے خواب بتا سکے اور نہ ہی اُسکی تعبیر کر سکے۔ تاہم، خدا کا خادم دانی‌ایل ایسا کرنے کے قابل تھا اگرچہ اُس نے صدقِ‌دلی سے قبول کِیا کہ خواب اور اُسکی تعبیر اُس کی اپنی حکمت پر موقوف نہیں تھے۔ دانی‌ایل نے کہا:‏ ”‏آسمان پر ایک خدا ہے جو راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے اور اُس نے نبوکدؔنضر بادشاہ پر ظاہر کِیا ہے کہ آخری ایّام میں کیا وقوع میں آئیگا۔“‏ (‏دانی‌ایل ۲:‏۱-‏۳۰‏)‏ کئی صدیاں پہلے، خدا کے ایک اَور نبی، یوسف نے بھی اس بات کا تجربہ کِیا تھا کہ یہوواہ رازوں کا آشکارا کرنے والا ہے۔—‏پیدایش ۴۰:‏۸-‏۲۲؛‏ عاموس ۳:‏۷، ۸۔‏

۱۲، ۱۳.‏ (‏ا)‏ خدا کا عظیم‌ترین نبی کون تھا اور آپ ایسا جواب کیوں دیتے ہیں؟ (‏ب)‏ آجکل ”‏خدا کے بھیدوں کا مختار“‏ بن کر کون خدمت انجام دیتے ہیں اور ہمیں اُنہیں کیسا خیال کرنا چاہئے؟‏

۱۲ زمین پر خدمت کرنے والا یہوواہ کا سب سے بڑا نبی یسوع تھا۔ (‏اعمال ۳:‏۱۹-‏۲۴‏)‏ پولس نے وضاحت کی:‏ ”‏اگلے زمانہ میں خدا نے باپ دادا سے حصہ‌بہ‌حصہ اور طرح‌بہ‌طرح نبیوں کی معرفت کلام کر کے اس زمانہ کے آخر میں ہم سے بیٹے کی معرفت کلام کِیا جسے اُس نے سب چیزوں کا وارث ٹھہرایا اور جس کے وسیلہ سے اُس نے عالم بھی پیدا کئے۔“‏—‏عبرانیوں ۱:‏۱، ۲‏۔‏

۱۳ یہوواہ نے ابتدائی مسیحیوں سے اپنے بیٹے، یسوع کے وسیلے سے کلام کِیا جس نے الہٰی بھیدوں کو اُن پر افشا کِیا۔ یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏تُم کو خدا کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے۔“‏ (‏لوقا ۸:‏۱۰‏)‏ بعدازاں پولس نے ممسوح مسیحیوں کو ”‏مسیح کا خادم اور خدا کے بھیدوں کا مختار“‏ کے طور پر بیان کِیا۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۴:‏۱‏)‏ آجکل، ممسوح مسیحی دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت کو تشکیل دیتے ہوئے جو اپنی گورننگ باڈی کے ذریعے وقت پر روحانی خوراک فراہم کرتی ہے، ایسی ہی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ اگر ہم خدا سے الہام پانے والے قدیمی نبیوں اور بالخصوص خدا کے بیٹے کی بہت زیادہ عزت کرتے ہیں تو کیا ہمیں اُن انسانی نمائندوں کی بھی عزت نہیں کرنی چاہئے جنہیں یہوواہ آجکل بائبل کی ایسی معلومات آشکارا کرنے کیلئے استعمال کر رہا ہے جو اِس نازک دَور میں اُسکے لوگوں کیلئے اشد ضروری ہیں؟—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۵،‏ ۱۳‏۔‏

صاف‌گوئی یا رازداری؟‏

۱۴.‏ مسیحی کب خفیہ طور پر کارگزاریوں کو جاری رکھتے ہیں اور یوں کس کے نمونے کی نقل کرتے ہیں؟‏

۱۴ کیا معاملات کو آشکارا کرنے میں یہوواہ کی صاف‌گوئی کا یہ مطلب ہے کہ مسیحیوں کو ہمیشہ اور تمام حالات کے تحت جوکچھ وہ جانتے ہیں اُسے ظاہر کر دینا چاہئے؟ دراصل، مسیحی یسوع کی اُس مشورت پر چلتے ہیں جو اُس نے اپنے رسولوں کو دی کہ ”‏سانپوں کی مانند ہوشیار اور کبوتروں کی مانند بے‌آزار بنو۔“‏ (‏متی ۱۰:‏۱۶‏)‏ اگر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ضمائر کے تقاضے کے مطابق خدا کی پرستش نہیں کر سکتے توبھی مسیحی ”‏خدا کا حکم ماننا“‏ جاری رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کسی بھی انسانی نمائندے کو یہوواہ کی پرستش کرنے پر پابندی عائد کرنے کا حق حاصل نہیں۔ (‏اعمال ۵:‏۲۹‏)‏ یسوع نے خود اسکی موزونیت کا مظاہرہ کِیا۔ ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏اِن باتوں کے بعد یسوؔع گلیلؔ میں پھرتا رہا کیونکہ یہوؔدیہ میں پھرنا نہ چاہتا تھا۔ اسلئے‌کہ یہودی اُس کے قتل کی کوشش میں تھے۔ اور یہودیوں کی عیدِخیام نزدیک تھی۔ پس یسوؔع نے اُن [‏اُسکے جسمانی بھائی جو ایمان نہیں لائے تھے]‏ سے کہا کہ .‏ .‏ .‏ تُم عید میں جاؤ۔ مَیں ابھی اس عید میں نہیں جاتا کیونکہ ابھی تک میرا وقت پورا نہیں ہوا۔ یہ باتیں اُن سے کہہ کر وہ گلیلؔ ہی میں رہا۔ لیکن جب اُسکے بھائی عید میں چلے گئے اُس وقت وہ بھی گیا۔ ظاہراً نہیں بلکہ گویا پوشیدہ۔“‏—‏یوحنا ۷:‏۱، ۲،‏ ۶،‏ ۸-‏۱۰‏۔‏

بتائیں یا نہ بتائیں؟‏

۱۵.‏ یوسف نے کیسے ظاہر کِیا کہ راز چھپائے رکھنا پُرمحبت کام ہے؟‏

۱۵ بعض مواقع پر، معاملے کو پوشیدہ رکھنا صرف دانشمندانہ ہی نہیں بلکہ پُرمحبت بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، یسوع کے سوتیلے باپ، یوسف نے کیسا ردِعمل دکھایا جب اُسے معلوم ہوا کہ اُس کی منسوبہ بیوی، مریم ”‏رُوح‌اُلقدس کی قدرت سے حاملہ“‏ تھی؟ ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏پس اُسکے شوہر یوؔسف نے جو راستباز تھا اور اُسے بدنام کرنا نہیں چاہتا تھا اُسے چپکے سے [‏پوشیدہ طور پر]‏ چھوڑ دینے کا ارادہ کِیا۔“‏ (‏متی ۱:‏۱۸، ۱۹‏)‏ اُسے دُنیا کی نظروں کا نشانہ بنا دینا کسقدر غیرمشفقانہ بات ہوتی!‏

۱۶.‏ خفیہ معاملات کے سلسلے میں، بزرگوں اور کلیسیا کے تمام ارکان کی کیا ذمہ‌داری ہے؟‏

۱۶ ایسے رازدارانہ معاملات جو پریشانی یا دُکھ کا باعث بن سکتے ہیں اُنہیں غیرمتعلقہ اشخاص پر آشکارا نہیں کرنا چاہئے۔ جب مسیحی بزرگوں کیلئے ذاتی مشورت پیش کرنا یا ساتھی مسیحیوں کو تسلی دینا یا پھر غالباً یہوواہ کے خلاف سنگین گناہ کرنے کے باعث اُنہیں تنبیہ کرنا ضروری ہوتا ہے تو وہ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں۔ ان معاملات کو صحیفائی طریقے سے حل کرنا ضروری ہے؛ خفیہ تفصیلات ایسے اشخاص کو بتانا جنکا معاملے سے کوئی تعلق نہیں غیرضروری اور غیرمشفقانہ ہے۔ یقیناً، مسیحی کلیسیا کے ارکان بزرگوں سے خفیہ معلومات اُگلوانے کی کوشش نہیں کرینگے بلکہ خفیہ باتوں کو راز رکھنے کیلئے بزرگوں کی ذمہ‌داری کا احترام کرینگے۔ امثال ۲۵:‏۹ بیان کرتی ہے:‏ ”‏تُو ہمسایہ کے ساتھ اپنے دعویٰ کا چرچا کر لیکن کسی دوسرے کا راز فاش نہ کر۔“‏

۱۷.‏ مسیحی زیادہ‌تر حالتوں میں خفیہ معاملات کو راز میں ہی کیوں رکھتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟‏

۱۷ یہ اصول خاندانی حلقے یا دوست‌واحباب کے درمیان بھی سچ ثابت ہوتا ہے۔ غلط‌فہمیوں اور کشیدہ تعلقات سے بچنے کیلئے بعض معاملات کو پوشیدہ رکھنا نہایت اہم ہے۔ ”‏شمالی ہوا مینہ کو لاتی ہے اور غیبت‌گو زبان تُرش رُوئی کو۔“‏ (‏امثال ۲۵:‏۲۳‏)‏ بِلاشُبہ، یہوواہ اور اُسکے راست اصولوں کیلئے وفاداری اور خطاکار افراد کیلئے محبت کبھی‌کبھار والدین، مسیحی بزرگوں یا دیگر بااختیار اشخاص کو خفیہ معاملات کی بابت بتانا ضروری بنا سکتی ہے۔‏a لیکن زیادہ‌تر معاملات میں، مسیحی دوسروں کے ذاتی رازوں کو راز ہی رکھتے ہیں اور اُنہیں ایسے ہی چھپاتے ہیں جیسے اپنوں کو چھپاتے ہیں۔‏

۱۸.‏ کونسی تین مسیحی خوبیاں ہمیں اس بات کا تعیّن کرنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ ہمیں کیا بتانا چاہئے اور کیا نہیں بتانا چاہئے؟‏

۱۸ مختصراً، ایک مسیحی بوقتِ‌ضرورت بعض مخصوص معاملات کو راز میں رکھنے سے اور جب موزوں ہو تو اُنہیں افشا کرنے سے یہوواہ کی تقلید کرتا ہے۔ فروتنی، ایمان اور محبت سے اُسکی یہ فیصلہ کرنے میں راہنمائی ہوتی ہے کہ اُسے کیا بتانا چاہئے اور کیا نہیں بتانا چاہئے۔ فروتنی اُسے جوکچھ وہ جانتا ہے اُس کی بابت دوسروں کو بتانے سے یا ایسے راز جو وہ بتا نہیں سکتا اُن کے سلسلے میں اُنہیں متجسس کرنے سے دوسروں کو متاثر کرنے کی کوشش کر کے اپنی اہمیت بڑھانے سے روکے گی۔ یہوواہ کے کلام پر ایمان اور مسیحی کلیسیا اُسے الہٰی طور پر فراہم‌کردہ معلومات کی منادی کرنے کی تحریک دیتے ہیں مگر اسکے ساتھ ہی ساتھ وہ ایسی باتیں کہنے سے محتاط رہتا ہے جو دوسروں کو شروع ہی میں ناراض کر سکتی ہیں۔ جی‌ہاں، محبت اُسے برملا ایسی باتیں کہنے کی تحریک دیتی ہے جن سے خدا کی تمجید ہوتی ہے اور جنکی بابت لوگوں کو ابدی زندگی حاصل کرنے کیلئے جاننے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب، خفیہ نجی معاملات کو وہ پوشیدہ ہی رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ زیادہ‌تر حالتوں میں انہیں آشکارا کرنا محبت کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔‏

۱۹.‏ کونسا طرزِعمل سچے مسیحیوں کی شناخت کرنے میں مدد کرتا ہے اور اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‏

۱۹ یہ متوازن سوچ سچے مسیحیوں کی شناخت کرنے میں مدد کرتی ہے۔ وہ خدا کی پہچان کو گم‌نامی کے نقاب میں یا پُراسرار، ناقابلِ‌بیان عقیدۂ‌تثلیث میں نہیں چھپاتے۔ نامعلوم معبود جھوٹے مذہب کا اہم عنصر ہیں مگر سچے مذہب کا نہیں ہیں۔ (‏دیکھیں اعمال ۱۷:‏۲۲، ۲۳‏۔)‏ یہوواہ کے ممسوح گواہ واقعی ”‏خدا کے بھیدوں کا مختار“‏ ہونے کے شرف کی قدر کرتے ہیں۔ دوسروں کے سامنے ان بھیدوں کو آشکارا کرنے سے وہ خلوصدل اشخاص کو یہوواہ کے دوست بننے میں مدد دیتے ہیں۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۴:‏۱؛‏ ۱۴:‏۲۲-‏۲۵؛‏ زکریاہ ۸:‏۲۳؛ ملاکی ۳:‏۱۸۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a نومبر ۱۵، ۱۹۸۵ کے دی واچ‌ٹاور میں ”‏دوسروں کے گناہوں میں شریک نہ ہوں“‏ کے مضمون کو دیکھیں۔‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ یہوواہ کو اپنے ارادے چھپانے کی کیوں ضرورت نہیں ہے؟‏

▫ یہوواہ اپنے بھیدوں کو کن پر آشکارا کرتا ہے؟‏

▫ خفیہ معاملات کے سلسلے میں مسیحی کونسی ذمہ‌داری رکھتے ہیں؟‏

▫ کونسی تین خوبیاں یہ جاننے میں مسیحیوں کی مدد کرینگی کہ کیا بتائیں اور کیا نہ بتائیں؟‏

‏[‏صفحہ 21 پر تصویر]‏

یہوواہ اپنے کلام کے ذریعے راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں