بائیوایتھکس اینڈ بلڈلس سرجری
حالیہ برسوں کے دوران طب کے میدان میں بیمثال ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم، طبّی مسائل حل کرنے کیساتھ ساتھ بعض ترقیوں نے اخلاقی مسائل پیدا کر دئے ہیں۔
ڈاکٹروں کو ایسی مشکلات پر سوچنا پڑا ہے جیسےکہ: کیا بعضاوقات جارحانہ طبّی طریقۂعلاج سے گریز کِیا جانا چاہئے تاکہ مریض قدرومنزلت کے احساس کیساتھ مر سکے؟ کیا ایک ڈاکٹر کو کسی مریض کے فیصلے کو مسترد کر دینا چاہئے اگر وہ سمجھتا ہے کہ ایسا کرنا مریض کیلئے فائدہمند ہوگا؟ ہر ایک کیلئے مہنگا طریقۂعلاج دستیاب نہ ہونے کی صورت میں صحت کی نگہداشت کو سب کیلئے کیسے یکساں کِیا جا سکتا ہے؟
ایسے پیچیدہ مسائل نے ایک طبّی موضوع پر توجہ مبذول کرائی جو بائیوایتھکس [علاج کے سلسلے میں اخلاقی ضابطے] کہلاتا ہے۔ اس خاص موضوع کا مقصد حیاتیاتی تحقیق اور طبّی ترقیوں کے اخلاقی نتائج سے نپٹنے کیلئے ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی مدد کرنا ہے۔ چونکہ ہسپتالوں میں بہت سے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں اسلئے بہتیرے ہسپتالوں نے بائیوایتھیکل کمیٹیاں [علاج کے سلسلے میں اخلاقی ضابطوں کی دیکھبھال کرنے والی کمیٹیاں] تشکیل دی ہیں۔ عموماً کمیٹی کے ارکان—بشمول ڈاکٹر اور وکیل—بائیوایتھکس کے سیمیناروں پر حاضر ہوتے ہیں جہاں طب میں اخلاقی مسائل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
ان سیمیناروں میں اکثروبیشتر اُٹھائے جانے والے چند سوالات یہ ہیں: ڈاکٹر صاحبان کو کس حد تک یہوواہ کے گواہوں کے اعتقادات کیلئے احترام دکھانا چاہئے جو بنیادی طور پر مذہبی وجوہات کی بِنا پر انتقالِخون قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں؟ اگر ایسا کرنا طبّی لحاظ سے ”قرینِمصلحت“ دکھائی دیتا ہے تو کیا کسی ڈاکٹر کو مریض کی مرضی کیخلاف اُسے خون دینا چاہئے؟ کیا مریض کے علم میں لائے بغیر ایسا کرنا اخلاقی طور پر مناسب ہوگا، اس جواز کیساتھ کہ ’مریض اسکی بابت کچھ نہیں جانتا اسلئے اُسے کوئی نقصان نہیں ہوگا‘؟
ایسے مسائل کو موزوں طور پر نپٹانے کیلئے، ڈاکٹروں کو گواہوں کے نقطۂنظر کے متعلق حقیقتپسندانہ علم رکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک یہوواہ کے گواہوں کا تعلق ہے تو اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ باہمی سمجھوتہ دُوبدو الزامتراشیوں سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے وہ ڈاکٹروں کے سامنے اپنے مؤقف کی وضاحت کرنے کے خواہاں ہیں۔
تبادلۂخیالات
بائیوایتھکس کا ایک ممتاز ہسپانوی ماہر، پروفیسر ڈیگو گریشے اپنی کلاس سے کچھ اسطرح کی باہمی گفتگو کرانا چاہتا تھا۔ ”یہ ٹھیک ہے کہ انتقالِخون کے سلسلے میں آپکو درپیش مسائل کے پیشِنظر . . . آپ [یہوواہ کے گواہوں] کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے،“ پروفیسر نے بیان کِیا۔
لہٰذا، جون ۵، ۱۹۹۶ کو یہوواہ کے گواہوں کے تین نمائندوں کو اپنے مؤقف کی وضاحت کرنے کیلئے میڈرڈ، سپین میں کمپلوٹنس یونیورسٹی آنے کی دعوت دی گئی۔ تقریباً ۴۰ ڈاکٹر اور دیگر پیشہور حضرات حاضر تھے۔
گواہوں کے مختصراً وضاحت کرنے کے بعد، اجلاس میں سوالات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تمام حاضرین نے اس سے اتفاق کِیا کہ ایک بالغ مریض کو کسی خاص قسم کے طبّی طریقۂعلاج سے انکار کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ حاضرین نے یہ بھی تسلیم کِیا کہ مریض کو بتائے بغیر اور اُسکی مرضی کے بغیر کبھی بھی خون نہیں دینا چاہئے۔ تاہم، گواہوں کے مؤقف کے بعض پہلو اُن کیلئے باعثِتشویش تھے۔
ایک سوال تو پیسے کی بابت تھا۔ بعضاوقات بِلاخون سرجری میں خاص قسم کا سازوسامان استعمال کرنا پڑتا ہے، جیسےکہ لیزر سرجری اور خون کے سرخ خلیوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے استعمال کی جانے والی اِرتھروپوئیٹن جیسی مہنگی ادویات۔ ایک ڈاکٹر نے اظہارِخیال کِیا کہ سستے علاج (ہومولوگوس خون) سے انکار کرکے گواہ شاید پبلک ہیلتھ سروسز سے خصوصی مراعات حاصل کرنے کی توقع کرتے ہیں۔
اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ پیسہ واقعی ایک لازمی عنصر ہے جسکی بابت ڈاکٹروں کو سوچبچار کرنا پڑتا ہے، ایک گواہ نمائندے نے ایسے شائعکردہ مطالعوں کا حوالہ دیا جو ہومولوگوس انتقالِخون کے ضمنی اخراجات کا جائزے لیتے ہیں۔ ان میں انتقالِخون سے متعلق پیچیدگیوں کا علاج کرانے کی لاگت اور ایسی پیچیدگیوں کے نتیجے میں خسارۂآمدنی شامل ہے۔ اُس نے ریاستہائےمتحدہ کے ایک جامع مطالعہ کا حوالہ دیا جس نے ظاہر کِیا کہ خون کے تقریباً ایک یونٹ پر، جسکی قیمت شروع میں اگرچہ ۲۵۰ ڈالر تھی، دراصل ۱۳۰۰ ڈالر سے زیادہ خرچہ ہوا—اصل رقم سے پانچ گُنا زیادہ۔ لہٰذا، اُس نے واضح کِیا کہ جب تمام عناصر کو مدِنظر رکھا جائے تو بِلاخون سرجری زیادہ مہنگی نہیں ہے۔ مزیدبرآں، بِلاخون سرجری میں اضافی خرچہ زیادہتر ایسے سامان پر ہوتا ہے جسے دوبارہ استعمال کِیا جا سکتا ہے۔
ایک اَور سوال جو کئی ڈاکٹروں کے ذہن میں تھا وہ کلیسیا کی طرف سے دباؤ کی بابت تھا۔ اُنہوں نے سوال کیا کہ اگر ایک گواہ قائم نہیں رہتا اور انتقالِخون قبول کر لیتا ہے تو ایسی صورت میں کیا واقع ہوگا؟ کیا اُسے گواہوں کی جماعت سے نکال دیا جائے گا؟
ردِعمل کا دارومدار حقیقی صورتحال پر ہے کیونکہ خدا کے قانون کی خلافورزی یقیناً سنجیدہ معاملہ ہے ایسی بات جسکی کلیسیا کے بزرگ جانچپڑتال کرتے ہیں۔گواہ کسی بھی ایسے شخص کی مدد کرنا چاہینگے جو زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی سرجری کے صدمہخیز تجربے سے گزرا ہے اور جس نے انتقالِخون قبول کر لیا ہے۔ بِلاشُبہ ایسا گواہ بہت بُرا محسوس کریگا اور خدا کیساتھ اپنے رشتے کی بابت فکرمند ہوگا۔ ایسے شخص کو شاید مدد دینے اور اس کیلئے پاسولحاظ دکھانے کی ضرورت ہو۔ چونکہ مسیحیت کی بنیاد محبت ہے اسلئے بزرگ دیگر تمام عدالتی معاملات کی طرح، پختگی کو رحم کیساتھ متوازن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔—متی ۹:۱۲، ۱۳؛ یوحنا ۷:۲۴۔
”کیا آپ جلد ہی اپنے اخلاقی مؤقف میں ردوبدل کرنے کا کوئی خیال نہیں رکھتے؟“ ریاستہائےمتحدہ سے آنے والے بائیوایتھکس کے ایک پروفیسر نے پوچھا۔ ”حالیہ برسوں میں دیگر مذاہب نے ایسا کِیا ہے۔“
اُسے بتایا گیا کہ خون کے تقدس کے سلسلے میں گواہوں کا مؤقف کوئی اخلاقی نقطۂنظر نہیں جس پر وقتاًفوقتاً نظرثانی کی جائے بلکہ یہ عقائد سے متعلق ایمان ہے۔ بائبل کا واضح حکم مصالحت کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ (اعمال ۱۵:۲۸، ۲۹) ایسے الہٰی قانون کی خلافورزی ایک گواہ کیلئے بالکل ویسے ہی ناقابلِقبول ہوگی جیسےکہ بُتپرستی یا حرامکاری سے غفلت برتنا۔
یہوواہ کے گواہ بائبل پر مبنی اپنے اعتقادات کے مطابق متبادل طریقۂعلاج تلاش کرنے کے اپنے فیصلے کا احترام کرنے کیلئے ڈاکٹروں—جیسےکہ وہ جو میڈرڈ میں بائیوایتھکس سیمینار پر حاضر تھے—کی آمادگی کی بہت زیادہ قدر کرتے ہیں۔ یقیناً، بائیوایتھکس ڈاکٹر اور مریض کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں اور مریض کی خواہشات کیلئے احترام کو بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کریگا۔
جیسےکہ ایک مشہور ہسپانوی فزیشن نے بیان کِیا کہ ڈاکٹروں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ”ناکامل آلات اور خطاپذیر ذرائع سے کام کرتے ہیں۔“ اسلئے اُنہیں اس ”یقینِکامل کی“ ضرورت ہے کہ ”جہاں علم نہ پہنچ سکے وہاں ہمیشہ محبت کو پہنچنا چاہئے۔“