جس وجہ سے دُنیاوی مذہب ختم ہو جائے گا
”اَے میری اُمت کے لوگو! اُس میں سے نکل آؤ تاکہ تم اُسکے گناہوں میں شریک نہ ہو اور اُسکی آفتوں میں سے کوئی تم پر نہ آ جائے۔“—مکاشفہ ۱۸:۴۔
۱. (ا) کس طرح بڑا بابلؔ گِر پڑا ہے؟ (ب) یہ واقعہ یہوؔواہ کے گواہوں پر کیسے اثرانداز ہوا ہے؟
”بڑا . . . بابلؔ گِر پڑا۔“ جیہاں، یہوؔواہ کے نقطۂنظر سے جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت گِر پڑی ہے۔ یہ بات ۱۹۱۹ سے سچ ثابت ہوئی ہے، جب مسیح کے بھائیوں کا بقیہ مسیحی دُنیا، پُراسرار بابلؔ کے نمایاں حصے، کے اثر سے باہر نکل آیا۔ نتیجے کے طور پر، وہ جھوٹے مذہب کو مجرم ٹھہرانے اور مسیحائی بادشاہت کے ذریعے خدا کی راست حکمرانی کا اعلان کرنے کیلئے آزاد ہو گئے ہیں۔ اس صدی کے دوران یہوؔواہ کے گواہوں نے شیطان کے کٹھپتلی مذاہب کے گٹھجوڑ کو بےنقاب کِیا ہے، جنہیں اُس نے ”سارے جہان کو“ گمراہ کرنے کیلئے بڑی چالاکی سے استعمال کِیا ہے۔—مکاشفہ ۱۲:۹؛ ۱۴:۸؛ ۱۸:۲۔
بڑا بابلؔ کسطرح گِر پڑا ہے؟
۲. دُنیا کے مذاہب کی موجودہ حالت کیا ہے؟
۲ تاہم، بعض پوچھ سکتے ہیں، ’آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بابلؔ گِر پڑا ہے جبکہ مذہب اتنے سارے ممالک میں ترقی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے؟‘ کیتھولک مذہب اور اسلام ہر ایک، ایک بلین سے زیادہ معتقدین رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ پروٹسٹنٹ مذہب ابھی بھی شمالی اور جنوبی امریکہ میں پھلتاپھولتا ہے، جہاں گرجاگھر اور چھوٹے چھوٹے گرجے مسلسل قائم ہوتے ہیں۔ لاکھوں لوگ بدھمت اور ہندومت کے رسمورواج کی پیروی کرتے ہیں۔ تاہم، یہ تمام مذہب کس حد تک ان لاکھوں لوگوں کے چالچلن پر مثبت اثر ڈالتا ہے؟ کیا اس نے کیتھولکوں اور پروٹسٹنٹوں کو شمالی آئرلینڈؔ میں ایک دوسرے کو قتل کرنے سے روکا ہے؟ کیا یہ مشرقِوسطیٰ میں یہودیوں اور مسلمانوں کیلئے حقیقی امن لایا ہے؟ کیا یہ ہندؔوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین ہمآہنگی کا باعث بنا ہے؟ اور حال ہی میں، کیا اس نے سرؔبیا کے آرتھوڈکس، کرؔویشیا کے کیتھولکوں اور بوؔسنیا کے مسلمانوں کو ”نسلی صفائی،“ لوٹمار، عصمتدری اور باہمی قتلوغارت سے باز رکھا ہے؟ مذہب اکثر ایک لیبل، انڈے کے چھلکے جیسی باریک پرت ہے جو ہلکے سے دباؤ کے تحت بھی ٹوٹ جاتی ہے۔—گلتیوں ۵:۱۹-۲۱؛ مقابلہ کریں یعقوب ۲:۱۰، ۱۱۔
۳. مذہب خدا کے حضور عدالت میں کیوں کھڑا ہے؟
۳ خدا کے نقطۂنظر سے، انبوہِکثیر کی مذہبی حمایت ایک ناگزیر حقیقت کو بدل نہیں دیتی—سارا مذہب خدا کے حضور عدالت میں کھڑا ہے۔ بڑا بابلؔ، جیساکہ اُس کی تاریخ سے ظاہر ہے، سخت سزا پانے کا مستحق ہے کیونکہ ”اُس کے گناہ آسمان تک پہنچ گئے ہیں اور اُس کی بدکاریاں خدا کو یاد آ گئی ہیں۔“ (مکاشفہ ۱۸:۵) نبوّتی زبان میں ہوسیعؔ نے لکھا: ”اُنہوں نے ہوا بوئی۔ وہ گردباد کاٹیں گے۔“ پوری دُنیا میں شیطان کے تمام مذاہب خدا، اُسکی محبت، اُس کے نام اور اُس کے بیٹے کے لئے اپنی غداری کے باعث بھاری قیمت ادا کریں گے۔—ہوسیع ۸:۷؛ گلتیوں ۶:۷؛ ۱-یوحنا ۲:۲۲، ۲۳۔
آپکو ضرور انتخاب کرنا ہے
۴، ۵. (ا) آجکل ہم کن حالتوں میں رہ رہے ہیں؟ (ب) ہمیں کن سوالات کا جواب دینا چاہئے؟
۴ ہم ”اخیر زمانہ“ کے آخری حصے میں رہ رہے ہیں، اور سچے مسیحیوں کے طور پر ہم ان ”بُرے دنوں“ سے بچنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) سچے مسیحی شیطان کی دُنیا میں پردیسی ہیں جو واقعی ایک قاتل، ایک جھوٹے اور ایک تہمتی کے طور پر اسکی مکروہ شخصیت کی عکاسی کرتی ہے۔ (یوحنا ۸:۴۴؛ ۱-پطرس ۲:۱۱، ۱۲؛ مکاشفہ ۱۲:۱۰) ہم تشدد، فریبدہی، دھوکےبازی، بدعنوانی، اور شدید بداخلاقی سے گِھرے ہوئے ہیں۔ اصولوں کو پسِپُشت ڈال دیا گیا ہے۔ عیشونشاط اور عجلت حالت کی عکاسی کرنے والے الفاظ ہیں۔ اور بہت سے معاملات میں پادری طبقہ ہمجنسپسندی، حرامکاری اور زناکاری کی بابت بائبل کی واضح مذمت سے روگردانی کرنے سے اخلاقی آلودگی کو نظرانداز کرتا ہے۔ پس سوال یہ ہے، کیا آپ جھوٹی پرستش کی حمایت کرتے اور اُسے نظرانداز کرتے ہیں، یا کیا آپ سرگرمی سے سچی پرستش میں حصہ لیتے ہیں؟—احبار ۱۸:۲۲؛ ۲۰:۱۳؛ رومیوں ۱:۲۶، ۲۷؛ ۱-کرنتھیوں ۶:۹-۱۱۔
۵ اب علیٰحدہ ہونے کا وقت ہے۔ لہٰذا، جھوٹی اور سچی پرستش کے درمیان امتیاز کرنے کی کافی وجہ موجود ہے۔ مسیحی دُنیا کے مذاہب نے اَور کیا کِیا ہے جو اُنہیں اسقدر قابلِنفرت بنا دیتا ہے؟—ملاکی ۳:۱۸؛ یوحنا ۴:۲۳، ۲۴۔
جھوٹے مذہب پر الزام لگایا گیا
۶. مسیحی دُنیا نے خدا کی بادشاہت سے کسطرح غداری کی ہے؟
۶ اگرچہ مسیحی دُنیا میں لاکھوں اشخاص باقاعدگی سے خداوند کی دُعا استعمال کرتے ہیں، جس میں وہ خدا کی بادشاہت کے آنے کیلئے دُعا کرتے ہیں، لیکن اُنہوں نے اُس تھیوکریٹک حکمرانی کے بغیر بڑی مستعدی سے ہر قسم کے سیاسی اظہار کی حمایت کی ہے۔ صدیوں پہلے کیتھولک چرچ کے ”سرداروں،“ جیسےکہ کارڈینل رِچیلیوؔ، میزاؔرن، ولزؔے، نے دُنیاوی مُدبّران، حکومت کے وزراء کے طور پر کام کِیا۔
۷. ۵۰ سالوں سے زیادہ عرصہ پہلے یہوؔواہ کے گواہوں نے مسیحی دُنیا کے پادری طبقے کو کیسے بےنقاب کِیا؟
۷ ۵۰ سال سے زیادہ عرصہ پہلے کتابچے بعنوان ریلیجن ریپس دی وِرلونڈ میں یہوؔواہ کے گواہوں نے مسیحی دُنیا کی سیاست میں شمولیت کو بےنقاب کِیا۔a جوکچھ اُس وقت کہا گیا اُسکا آج بھی اُتنا ہی زوردار اطلاق ہوتا ہے: ”تمام فرقوں کے مذہبی پیشواؤں کے طرزِعمل کی دیانتدارانہ تفتیش آشکارا کریگی کہ تمام ’مسیحی دُنیا‘ کے مذہبی پیشوا ’اس موجودہ بدکار دُنیا‘ کی سیاست میں گہری دلچسپی کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں اور دل بہلانے کیلئے اسکے دُنیاوی معاملات میں شریک ہو رہے ہیں۔“ اُس وقت گواہوں نے پوپ پائس XII پر اُسکے نازی ہٹلرؔ (۱۹۳۳) اور فسطائی فرانکوؔ (۱۹۴۱)، کیساتھ معاہدوں کی وجہ سے، اور رسوائےعالم پرل ہاربر حملے کے چند ماہ بعد مارچ ۱۹۴۲ میں جارحیتپسند قوم جاپان کیساتھ پوپ کے سفارتی نمائندوں کے تبادلے کی وجہ سے سخت تنقید کی۔ پوپ یعقوؔب کی آگاہی پر دھیان دینے سے قاصر رہا: ”اَے زنا کرنے والیو! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ دُنیا سے دوستی رکھنا خدا سے دشمنی کرنا ہے؟ پس جو کوئی دُنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا کا دشمن بناتا ہے۔“—یعقوب ۴:۴۔
۸. آجکل رومن کیتھولک چرچ سیاست میں کیسے اُلجھا ہوا ہے؟
۸ آجکل صورتحال کیا ہے؟ پاپائیت آج تک اپنے پادری اور اپنے غیرپادری نمائندوں دونوں کے ذریعے سیاست میں اُلجھی ہوئی ہے۔ موجودہ پوپ صاحبان نے اسے عالمی امن کیلئے انسانساختہ نقل کا خطاب دیتے ہوئے اقوامِمتحدہ پر اپنی منظوری کی مہر صاد کر دی ہے۔ لا اوزرویٹور رومینو، سرکاری ویٹیکن اخبار، کے حالیہ شمارے نے بیان کِیا کہ سات نئے سفارتکاروں، ”پاپائیت کے سفیروں“ نے ”مُقدس باپ“ کے سامنے اپنے سرکاری تصدیقناموں کو پیش کِیا۔ کیا ہم ایسے سفارتی تبادلوں میں یسوؔع اور پطرؔس کے شامل ہونے کا تصور کر سکتے ہیں؟ یسوؔع نے یہودیوں کی طرف سے بادشاہ بنائے جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اُسکی بادشاہت اس دُنیا کی نہیں۔—یوحنا ۶:۱۵؛ ۱۸:۳۶۔
۹. ہم کیسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ پروٹسٹنٹ مذاہب اپنے کیتھولک ہمزادوں سے کسی بھی طرح بہتر نہیں ہیں؟
۹ کیا پروٹسٹنٹ پیشوا اپنے کیتھولک ہمزادوں سے کچھ بہتر ہیں؟ ریاستہائےمتحدہ میں، بہت سے قدامتپسند پروٹسٹنٹ مذاہب، اور مورمنز بھی، کسی سیاسی الحاق سے پہچانے جاتے ہیں۔ مسیحی اتحاد نام کی تنظیم امریکی سیاست میں بہت زیادہ اُلجھی ہوئی ہے۔ دیگر پروٹسٹنٹ پادری واضح طور پر مختلف سیاسی مرتبوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ بعضاوقات اس بات کو فراموش کر دیا جاتا ہے کہ ریاستہائےمتحدہ میں پیٹؔ اور جیسیؔ جیکسن کی طرح کے سیاسی نمائندے بھی ”ریورنڈز“ ہیں یا تھے، جیسےکہ شمالی آئرلینڈؔ کاایئنؔ پیزلے برطانوی پارلیمانی رُکن ہے۔ وہ اپنے مرتبوں کی توجیہ کیسے کرتے ہیں؟—اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵؛ گلتیوں ۲:۶۔
۱۰. ۱۹۴۴ میں کونسا واضح بیان دیا گیا تھا؟
۱۰ جیساکہ ریلیجن ریپس دی وِرلونڈ نے ۱۹۴۴ میں پوچھا، ویسے ہی اب ہم پوچھتے ہیں: ”کیا کوئی تنظیم جو اس دُنیا سے فائدہ اور تحفظ حاصل کرنے کی کوشش میں دُنیاوی طاقتوں کیساتھ معاہدے کرتی اور سرگرمی سے اس دُنیا کے سیاسی معاملات میں خود کو اُلجھاتی ہے، . . . خدا کی کلیسیا ہو سکتی ہے یا زمین پر مسیح یسوؔع کی نمائندگی کر سکتی ہے؟ . . . ظاہر ہے، تمام مذہبپرست جو اس دُنیا کی بادشاہتوں کیساتھ الحاق کر لیتے ہیں مسیح یسوؔع کے ذریعے خدا کی بادشاہت کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔“
جھوٹے مذہب کا قائنؔ جیسا رویہ
۱۱. جھوٹے مذہب نے کیسے قائنؔ کے نمونے کی پیروی کی ہے؟
۱۱ پوری تاریخ کے دوران، جھوٹے مذہب نے اپنے بھائی کے خون کے پیاسے قائنؔ جیسے رویے کو ظاہر کِیا ہے جس نے اپنے ہی بھائی ہابلؔ کو قتل کر دیا۔ ”اسی سے خدا کے فرزند اور ابلیس کے فرزند ظاہر ہوتے ہیں۔ جو کوئی راستبازی کے کام نہیں کرتا وہ خدا سے نہیں اور وہ بھی نہیں جو اپنے بھائی سے محبت نہیں رکھتا۔ کیونکہ جو پیغام تم نے شروع سے سنا وہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں۔ اور قائنؔ کی مانند نہ بنیں جو اُس شریر سے تھا اور جس نے اپنے بھائی کو قتل کِیا اور اُس نے کس واسطے اُسے قتل کِیا؟ اس واسطے کہ اُسکے کام بُرے تھے اور اُسکے بھائی کے کام راستی کے تھے۔“ خدا کیلئے اپنے بھائی کی خالص اور قابلِقبول پرستش سے متعصّب ہوکر، قائنؔ تشدد کی طرف مائل ہوا—منطقی حل کی کمی کے شکار لوگوں کا آخری حربہ۔—۱-یوحنا ۳:۱۰-۱۲۔
۱۲. جنگوں اور فساد میں مذہبی گٹھجوڑ کی کونسی شہادت موجود ہے؟
۱۲ کیا حقائق جھوٹے مذہب پر اس الزام کی تائید کرتے ہیں؟ کتاب پریچرز پریزنٹ آرمز میں، مصنف نے بیان کِیا: ”تہذیبوں کی تاریخ میں، . . . دو قوتیں ہمیشہ باہم متحد رہی ہیں۔ وہ جنگ اور مذہب ہیں۔ اور، دُنیا کے تمام بڑے مذاہب میں سے، [مسیحی دُنیا] سے زیادہ [جنگ] کیلئے کوئی بھی اتنا وقف نہیں رہا ہے۔“ کچھ سال پہلے، وینکوور، کینیڈؔا کے دی سن اخبار نے بیان کِیا: ”یہ شاید تمام منظم مذہب کی کمزوری ہے کہ کلیسیا جھنڈے کے سایے تلے چلتی ہے . . . کیا کبھی کوئی ایسی جنگ لڑی گئی ہے جس میں خدا کے ہر ایک کی طرف ہونے کا دعویٰ نہ کِیا گیا ہو؟“ آپ نے شاید کسی مقامی چرچ میں اسکا ثبوت دیکھا ہو۔ اکثراوقات، قومی جھنڈے جائےعبادت کی زینت بنتے ہیں۔ آپ کے خیال میں یسوؔع نے ایک فوجی کے طور پر کس جھنڈے کے تلے مارچ کِیا ہوتا؟ اُس کے الفاظ صدیوں کے دوران گونجتے رہے ہیں: ”میری بادشاہی اس دُنیا کی نہیں“!—یوحنا ۱۸:۳۶۔
۱۳. (ا) افرؔیقہ میں جھوٹا مذہب کیسے ناکام ہوا ہے؟ (ب) یسوؔع نے مسیحیت کا کونسا شناختی نشان دیا؟
۱۳ مسیحی دُنیا کے مذاہب نے اپنے گلّوں کو حقیقی برادرانہ محبت کی بابت سچائی کی تعلیم نہیں دی ہے۔ اسکی بجائے، قومی، قبائلی اور نسلی اختلافات کو اُنکے ارکان کو منتشر کر دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ کیتھولک اور اینگلیکن پادریوں نے رواؔنڈا میں قبائلی نسلکُشی پر منتج ہونے والے تفرقوں میں اہم کردار ادا کِیا ہے۔ دی نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ دی: ”رواؔنڈا میں ہونے والا قتلِعام وہاں کے بہتیرے رومن کیتھولک لوگوں کیلئے چرچ کے نظامِمراتب کیطرف سے فریبخوردہ محسوس کرنے کا باعث بنا ہے۔ چرچ اکثر، ہوتوؔ اور توتسیؔ کے درمیان، نسلی صفوں میں بٹا ہوا تھا۔“ اسی اخبار نے ایک میریکنل پادری کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا: ”۱۹۹۴ میں رواؔنڈا کے اندر چرچ بڑی بُری طرح ناکام ہوا۔ رواؔنڈا کے بہت سے لوگوں نے چرچ کو فراموش کر دیا۔ اسے اب کوئی اعتماد حاصل نہیں ہے۔“ یسوؔع کے الفاظ سے کتنا تضاد: ”اگر آپس میں محبت رکھو گے تو اس سے سب جانینگے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“—یوحنا ۱۳:۳۵۔
۱۴. بڑے بڑے غیرمسیحی مذاہب طرزِعمل کا کونسا ریکارڈ پیش کرتے ہیں؟
۱۴ بڑے بابلؔ کے دیگر مذاہب نے کوئی اچھی مثال قائم نہیں کی ہے۔ ۱۹۴۷ کا ہولناک قتلِعام، جب ہندوستان کا بٹوارہ ہوا، ظاہر کرتا ہے کہ وہاں کے بڑے مذاہب نے تحمل کا مظاہرہ نہیں کِیا ہے۔ ہندوستان میں مسلسل فرقہوارانہ تشدد اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بیشتر لوگ ابھی تک نہیں بدلے ہیں۔ کوئی عجب نہیں کہ رسالہ انڈیا ٹوڈے نے نتیجہ اخذ کِیا: ”مذہب ایک ایسا بینر رہا ہے جس کے تلے نہایت گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کِیا گیا ہے۔ . . . یہ شدید تشدد کو بےلگام چھوڑ دیتا ہے اور بہت زیادہ تباہکُن قوت ہے۔“
”غیرمعمولی تناقض“
۱۵. مغربی دُنیا میں مذہب کی حالت کیا ہے؟
۱۵ یہانتککہ دُنیاوی مبصرین نے قائل کرنے، حقیقی اقدار کو دلنشین کرنے، اور دُنیاداری کے حملوں کی مزاحمت کرنے میں مذہب کی ناکامی کو بھانپ لیا ہے۔ اپنی کتاب آؤٹ آف کنڑول میں، سابق یو.ایس. قومی سلامتی کے مشیر زؔوبیگنیف بریزہینسکی نے لکھا: ”یہ ایک غیرمعمولی تناقض ہے کہ ’خدا مُردہ ہے‘ کہ مسئلے پر عظیمترین فتح نہ صرف مارکسسٹ کی ماتحت ریاستوں میں ہی بلکہ مغربی آزاد جمہوری معاشروں میں بھی روپذیر ہوئی ہے، جس نے تمدنی لحاظ سے اخلاقی بےحسی کو فروغ دیا ہے۔ مؤخرالذکر میں، حقیقت یہ ہے کہ مذہب اب بنیادی معاشرتی قوت نہیں رہا۔“ وہ بیان کو جاری رکھتا ہے: ”یورپی ثقافت پر مذہب کی گرفت کمزور پڑ گئی ہے، اور آجکل یورپ—امریکہ سے بھی زیادہ—لازمی طور پر دُنیادار معاشرہ ہے۔“
۱۶، ۱۷. (ا) یسوؔع نے اپنے زمانے کے مذہبی پیشواؤں کے سلسلے میں کیا نصیحت کی؟ (ب) پھلوں کی بابت یسوؔع نے کونسا عمدہ اصول بیان کِیا؟
۱۶ یسوؔع نے اپنے زمانے کے یہودی پیشواؤں کی بابت کیا کہا تھا؟ ”فقیہ اور فریسی موسیٰؔ کی گدی پر [توریت، شریعت کی تعلیم دینے کیلئے] بیٹھے ہیں۔ پس جوکچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو لیکن اُنکے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔“ جیہاں، مذہبی ریاکاری کوئی نئی چیز نہیں ہے۔—متی ۲۳:۲، ۳۔
۱۷ جھوٹے مذہب کے پھل اسے رد کرتے ہیں۔ یسوؔع کی طرف سے دیا ہوا اصول بڑا قابلِاطلاق ہے: ”ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور بُرا درخت بُرا پھل لاتا ہے۔ اچھا درخت بُرا پھل نہیں لا سکتا نہ بُرا درخت اچھا پھل لا سکتا ہے۔ جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔ پس اُنکے پھلوں سے تم اُنکو پہچان لوگے۔“—متی ۷:۱۷-۲۰۔
۱۸. مسیحی دُنیا کو اپنی صفوں کو کسطرح پاکصاف رکھنا چاہئے تھا؟
۱۸ اگر مسیحی دُنیا کے مذاہب اسکے ارکان ہونے کا دعویٰ کرنے والے لوگوں کی طرف سے کئے گئے غیرقانونی کاموں کیلئے خارج کرنے، یا قطعتعلق کرنے کی مسیحی ہدایت کا اطلاق کرنے میں بااصول ہوتے تو کیا واقع ہوتا؟ تمام غیرتائب جھوٹوں، حرامکاروں، زناکاروں، ہمجنسپسندوں، دھوکےبازوں، مجرموں، منشیات فروشوں، اور نشہبازوں، اور منظم جُرم کے ارکان کا کیا ہوتا؟ یقینی طور پر، مسیحی دُنیا کے گلےسڑے پھل اسے خدا کی طرف سے صرف تباہی کے لائق ہی قرار دیتے ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۵:۹-۱۳؛ ۲-یوحنا ۱۰، ۱۱۔
۱۹. مذہبی پیشوائی کے سلسلے میں کونسا اعتراف کِیا گیا ہے؟
۱۹ ریاستہائےمتحدہ میں پریسبٹیرین چرچ کی جنرل اسمبلی نے تسلیم کِیا: ”اپنی وسیع حدود اور نتائج کے لحاظ سے ہم ایک ہولناک بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ . . . پوری قوم میں ۱۰ اور ۲۳ فیصد کے درمیان پادری جنسپرستی کے میلان یا کلیسیائی ارکان، متعلقین، ملازمین، وغیرہ کیساتھ جنسی تعلق میں ملوث ہو گئے ہیں۔“ ریاستہائےمتحدہ کا ایک کاروباری شخص اس نکتے کی خوب تلخیص کرتا ہے: ”مذہبی ادارے اپنی تاریخی اخلاقی اقدار کو منتقل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں، اور بہت سے معاملات میں تو مسئلے کا حصہ بن گئے ہیں۔“
۲۰، ۲۱. (ا) یسوؔع اور پولسؔ نے ریاکاری کی کیسے مذمت کی؟ (ب) کن سوالات کا جواب دیا جانا باقی ہے؟
۲۰ یسوؔع کا مذہبی ریاکاری کی مذمت کرنا آج بھی ویسے ہی سچ ہے جیسےکہ یہ اُس کے وقت میں تھا: ”اَے ریاکارو یسعیاؔہ نے تمہارے حق میں کیا خوب نبوّت کی کہ یہ اُمت زبان سے تو میری عزت کرتی ہے مگر انکا دل مجھ سے دُور ہے۔ اور یہ بےفائدہ میری پرستش کرتے ہیں کیونکہ انسانی احکام کی تعلیم دیتے ہیں۔“ (متی ۱۵:۷-۹) ططسؔ سے پولسؔ کے الفاظ بھی ہماری موجودہ حالت کو بیان کرتے ہیں: ”وہ خدا کی پہچان کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر اپنے کاموں سے اُسکا انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ مکروہ اور نافرمان ہیں اور کسی نیک کام کے قابل نہیں۔“—ططس ۱:۱۶۔
۲۱ یسوؔع نے کہا تھا کہ اگر ایک اندھا شخص دوسرے اندھے شخص کی راہنمائی کریگا تو دونوں گڑھے میں گرینگے۔ (متی ۱۵:۱۴) کیا آپ بڑے بابلؔ کیساتھ ختم ہو جانا چاہتے ہیں؟ یا کیا آپ اپنی کُھلی آنکھوں کے ساتھ سیدھی راہوں پر چلنا اور یہوؔواہ کی برکت سے لطفاندوز ہونا چاہتے ہیں؟ جن سوالات کا اب ہمیں سامنا ہے وہ یہ ہیں: اگر کوئی ہے بھی تو کونسا مذہب خدائی پھل پیدا کرتا ہے؟ ہم خدا کیلئے قابلِقبول سچی پرستش کی شناخت کیسے کر سکتے ہیں؟—زبور ۱۱۹:۱۰۵۔ (۱۱ ۰۴/۱۵ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a ۱۹۴۴ میں، واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ، اب خارجالطباعت۔
کیا آپ کو یاد ہے؟
▫ خدا کے حضور بڑے بابلؔ کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟
▫ کس بنیاد پر جھوٹے مذہب پر الزام لگایا گیا ہے؟
▫ جھوٹے مذہب نے قائنؔ جیسا رویہ کیسے ظاہر کِیا ہے؟
▫ کسی مذہب کو جانچنے کیلئے یسوؔع نے کونسا اصول بیان کِیا؟
[تصویر]
پوری تاریخ کے دوران مذہبی پیشواؤںنے سیاست میں مداخلت کی ہے
[تصویریں]
پادری حضرات بھی زبردست سیاستدان تھے
کارڈینل میزؔارن
کارڈینل رِچیؔلیو
کارڈینل ولزؔے
[تصویر کا حوالہ]
Cardinal Mazarin and Cardinal Richelieu: From the book
Ridpath’s History of the World )Vol. VI and Vol. V
respectively(.Cardinal Wolsey: From the book The History of
.(Vol. I) Protestantism