دِن بدل گئے ہیں
قدیم اسرائیل میں وفادار بادشاہ سلیماؔن کی پُرجلال بادشاہی کے تحت رہنا یقینی طور پر کسقدر خوشی کی بات رہی ہوگی! یہ اَمن، ترقی اور خوشحالی کا دَور تھا۔ اُس وقت کے دوران جب تک سلیماؔن سچی پرستش کے لئے ثابتقدم رہا، یہوؔواہ نے قوم کو کثرت سے برکت دی۔ خدا نے، سلیماؔن بادشاہ کو نہ صرف بہت زیادہ دولت ہی دی بلکہ ”ایک عاقل اور سمجھنے والا دل“ بھی بخشا تاکہ سلیماؔن راستی اور محبت سے حکومت کر سکے۔ (۱-سلاطین ۳:۱۲) بائبل بیان کرتی ہے: ”رویِزمین کے سب بادشاہ سلیماؔن کے دیدار کے مشتاق تھے تاکہ وہ اس کی حکمت کو جو خدا نے اُس کے دل میں ڈالی تھی سنیں۔“—۲-تواریخ ۹:۲۳۔
یہوؔواہ نے لوگوں کو سلامتی، اَمن اور اچھی چیزیں بکثرت عطا کیں تھیں۔ خدا کا کلام کہتا ہے: ”یہوؔداہ اور اؔسرائیل کے لوگ کثرت میں سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند تھے اور کھاتے پیتے اور خوش رہتے تھے۔“ لفظی اور مجازی طور پر، دونوں طرح سے لوگ ”سلیماؔن کی عمربھر . . . اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے . . . اَمن سے رہتے تھے۔“—۱-سلاطین ۴:۲۰، ۲۵۔
دن بدل گئے ہیں۔ آجکل کی زندگی اُس پُرانے زمانے کے خوشحال ایّام سے کہیں مختلف ہے۔ سلیماؔن کے زمانے کے بالکل برعکس، آج کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے۔ متموّل اقوام میں بھی غربت ہے۔ مثال کے طور پر، اقوامِمتحدہ کا ترقیاتی پروگرام بیان کرتا ہے کہ ریاستہائے متحدہ اور یورپین یونین دونوں میں، تقریباً ۱۵ فیصد لوگ غربت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔
پوری دُنیا کی حالت کی بابت، یونیسیف (بچوں کی امداد کے لئے اقوامِمتحدہ کا اِدارہ) کی ایک رپورٹ دی سٹیٹ آف دی ورلڈز چلڈرن ۱۹۹۴، بیان کرتی ہے کہ دُنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ قطعی غربت کی زندگی بسر کرتا ہے، نیز یہ کہ دُنیا کے زیادہتر غریب لوگوں کے لئے زندگی ”اور زیادہ کٹھن اور قطعاً مایوسکُن ہوتی جا رہی ہے۔“
بعض ممالک میں، تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی غریبوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ ایک افریقیؔ ملک میں ایک خاتون نے کہا: ”آپ بازار میں کچھ دیکھتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ’ٹھیک ہے، مَیں گھر جاتا ہوں اور اسے خریدنے کیلئے پیسے لاتا ہوں۔‘ کوئی ایک گھنٹے بعد آپ واپس آتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ آپ اسے خرید نہیں سکتے کیونکہ ابھی ابھی اسکی قیمت بڑھ گئی ہے۔ کوئی شخص کیا کرے؟ یہ انتہائی مایوسکُن ہے۔“
وہاں پر موجود ایک دوسری خاتون نے کہا: ’زندہ رہنے کے لئے، ہم دوسری ضروریات کی بابت بھول جاتے ہیں۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی فکر یہی ہے کہ خوراک کیسے حاصل کریں۔‘
اقوامِمتحدہ کے مطابق، مستقبل مایوسکُن دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، یونیسیف تخمینہ لگاتا ہے کہ اگر آبادی کے موجودہ رجحانات برقرار رہتے ہیں تو پوری دُنیا میں ”ایک شخص کی عمر کے دوران ہی“ غریب لوگوں کی تعداد چارگنا بڑھ جائیگی۔
تاہم، بدترین ہوتی ہوئی معاشی اور معاشرتی حالتوں کے باوجود، خدا کے خادموں کے پاس پُراُمید محسوس کرنے کی وجہ ہے۔ اگرچہ وہ اُن کے درمیان رہتے ہیں جو مستقبل کو نااُمیدی کے ساتھ دیکھتے ہیں، خدا کے لوگ مستقبل کی طرف خوشی اور اعتماد کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ اگلا مضمون ان وجوہات کو ظاہر کریگا کہ کیوں۔ (۳ ۸/۰۱ w۹۵)
[صفحہ 3 پر تصویر کا حوالہ]
De Grunne/Sipa Press