اچھے دِن قریب ہیں
”ہم ایک-صفر-ایک (1-0-1) کھاتے ہیں،“ ایک خاتون کہتی ہے۔
”میرے لئے تو حالات اور بھی خراب ہیں،“ اُس کی سہیلی جواب دیتی ہے۔ ”مَیں تو صفر-صفر-ایک (1-0-0) پر ہوں۔“
مغربی افرؔیقہ کے بعض حصوں میں، ایسی گفتگو وضاحت کی محتاج نہیں۔ دن میں تین بار کھانا کھانے کی بجائے (ایک-ایک-ایک)، ایک-صفر-ایک (1-0-1) والا شخص ایک دن میں صرف دو بار کھانا کھانے کی استطاعت رکھ سکتا ہے—ایک مرتبہ صبح کو اور ایک مرتبہ شام کو۔ صفر-صفر-ایک (1-0-0) والا ایک جوان شخص اپنی حالت کی وضاحت کرتا ہے: ”مَیں دن میں ایک مرتبہ کھاتا ہوں۔ مَیں اپنے فریج میں کافی مقدار میں پانی رکھ لیتا ہوں۔ مَیں رات کو سونے سے پہلے گاری [کساوا] کھاتا ہوں۔ اس طرح مَیں گزارہ کر رہا ہوں۔“
آجکل لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی خستہ حالت ایسی ہی ہے۔ قیمتیں بڑھتی ہیں اور پیسے کی قوتِخرید گھٹ جاتی ہے۔
خوراک کی قلّت کی پیشگوئی کی گئی
یوؔحنا رسول کو دی جانے والی سلسلہوار رویتوں میں، خدا نے اُن مشکل حالتوں کی بابت پہلے سے ہی بتا دیا تھا جنکا آجکل بہتیروں کو سامنا ہے۔ اُن میں خوراک کی قلّت بھی شامل ہوگی۔ یوؔحنا بیان کرتا ہے: ”مَیں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کالا گھوڑا ہے اور اُس کے سوار کے ہاتھ میں ایک ترازو ہے۔“(مکاشفہ ۶:۵) یہ منحوس گھوڑا اور سوار قحط کی تصویرکشی کرتے ہیں—خوراک کی اسقدر قلّت ہوگی کہ اسے ترازو سے تول کر دیا جائیگا۔
اس کے بعد یوؔحنا رسول کہتا ہے: ”اور مَیں نے گویا . . . یہ آواز آتی سنی کہ گیہوں دینار کے سیر بھر اور جَو دینار کے تین سیر۔“ یوؔحنا کے دِنوں میں ایک سیر گیہوں ایک فوجی کی روزانہ کی خوراک تھی اور ایک دینار وہ رقم تھی جو ایک دِن کی مزدوری ادا کی جاتی تھی۔ پس، رؔچرڈ ویموتھ کا ترجمہ اس آیت کو یوں پیش کرتا ہے: ”پورے دِن کی اُجرت ایک روٹی کے لئے، پورے دِن کی اُجرت جَو کی تین روٹیوں کے لئے۔“—مکاشفہ ۶:۶۔
آجکل پورے دِن کی اُجرت کیا ہے؟ سٹیٹ آف ورلڈ پاپولیشن، ۱۹۹۴ کی رپورٹ بیان کرتی ہے: ”کوئی ۱.۱ بلین لوگ، ترقیپذیر دُنیا کی آبادی کا تقریباً ۳۰ فیصد ۱ ڈالر یومیہ پر گزارہ کر رہا ہے۔“ لہٰذا، دُنیا کے غریب لوگوں کے لئے، ایک دن کی اُجرت واقعی کموبیش ایک روٹی ہی خریدتی ہے۔
بےشک، جو بہت غریب ہیں اُن کے لئے یہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے۔ ”روٹی“ ایک آدمی چلایا۔ ”کون روٹی کھاتا ہے؟ آجکل تو روٹی ایک پُرتکلف غذا ہے!“
ستمظریفی تو یہ ہے کہ خوراک کی قلّت نہیں ہے۔ یواین ذرائع کے مطابق، گزشتہ دس سال کے دوران، دُنیا میں خوراک کی پیداوار میں ۲۴ فیصد اضافہ ہوا ہے جو دُنیا کی آبادی کی افزائش سے زیادہ تھا۔ تاہم، خوراک میں اس اضافے سے ہرگز بھی استفادہ نہیں کِیا گیا۔ مثال کے طور پر، افرؔیقہ میں، خوراک کی پیداوار میں درحقیقت ۵ فیصد کمی ہوئی، جبکہ آبادی میں ۳۴ فیصد اضافہ ہوا۔ پس عالمی پیمانے پر خوراک میں مجموعی طور پر کثرت کے باوجود، بہت سے ممالک میں خوراک کی قلّت برقرار ہے۔
خوراک کی کمی کا مطلب گرانی ہے۔ روزگار کی کمی، کم اُجرتیں، اور بڑھتی ہوئی مہنگائی جو کچھ دستیاب ہے اُسے خریدنے کے لئے پیسہ حاصل کرنے کو اَور زیادہ دشوار بنا دیتے ہیں۔ ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ ۱۹۹۴ بیان کرتی ہے: ”لوگ اس لئے بھوکے نہیں سوتے کہ خوراک دستیاب نہیں ہے—بلکہ اس لئے کہ وہ اسے خرید نہیں سکتے۔“
نااُمیدی، محرومی اور مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ”لوگ ایسا محسوس کرتے ہیں کہ آج بُرا ہے، لیکن کل بدتر ہوگا،“ مغربی افرؔیقہ میں رہنے والی گلوؔری نے کہا۔ ایک دوسری خاتون نے کہا: ”لوگ ایسا محسوس کرتے ہیں کہ گویا وہ تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ایک دِن آئیگا جب بازار میں کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔“
یہوؔواہ نے ماضی میں اپنے خادموں کا خیال رکھا
خدا کے خادم جانتے ہیں کہ یہوؔواہ اپنے وفادار بندوں کو اُن کی ضروریات پوری کرنے سے اور مشکل حالات سے نپٹنے کے لئے طاقت بخشتے ہوئے اُنہیں برکات سے نوازتا ہے۔ فراہم کرنے کی خدا کی قدرت پر ایسا بھروسہ، درحقیقت، اُن کے ایمان کا ایک لازمی جُزو ہے۔ پولسؔ رسول نے لکھا: ”اس لئے کہ خدا کے پاس آنے والے کو ایمان لانا چاہئے کہ وہ موجود ہے اور اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“—عبرانیوں ۱۱:۶۔
یہوؔواہ نے ہمیشہ اپنے وفادار خادموں کا خیال رکھا ہے۔ ساڑھے تین سال کے قحط کے دوران، یہوؔواہ نے ایلیاؔہ نبی کے لئے خوراک فراہم کی۔ شروع شروع میں، خدا نے کوّوں کو حکم دیا کہ ایلیاؔہ کے لئے روٹی اور گوشت لائیں۔ (۱-سلاطین ۱۷:۲-۶) بعدازاں، یہوؔواہ نے معجزانہ طور پر اُس بیوہ کے آٹے اور تیل کے ذخیرے کو ختم نہ ہونے دیا جو ایلیاؔہ کو کھانا فراہم کِیا کرتی تھی۔ (۱-سلاطین ۱۷:۸-۱۶) اُسی کال کے دوران، بدکار ملکہ اؔیزبل کے ذریعے اُن پر لائی گئی شدید مذہبی مخالفت کے باوجود، یہوؔواہ نے اس بات کا خیال رکھا کہ اُس کے نبیوں کے لئے روٹی اور پانی مہیا ہوتا رہے۔—۱-سلاطین ۱۸:۱۳۔
بعدازاں، جب بابلؔ کے بادشاہ نے برگشتہ یرؔوشلیم کا محاصرہ کر لیا تو لوگوں کو ”روٹی تول کر فکرمندی سے“ کھانی پڑی۔ (حزقیایل ۴:۱۶) حالت اسقدر مایوسکُن ہو گئی کہ بعض عورتوں نے خود اپنے بچوں کا گوشت کھایا۔ (نوحہ ۲:۲۰) تاہم، اگرچہ یرؔمیاہ نبی اپنے منادی کرنے کی وجہ سے قیدخانہ میں تھا، یہوؔواہ نے اس بات کا خیال رکھا کہ ”ہر روز [یرؔمیاہ کو] نانبائیوں کے محلّہ سے ایک روٹی لیکر دیتے رہے جب تک کہ شہر میں روٹی مل سکتی تھی۔“—یرمیاہ ۳۷:۲۱۔
جب شہر میں روٹی ملنا بند ہو گئی تو کیا یہوؔواہ یرؔمیاہ کو بھول گیا؟ صاف ظاہر ہے کہ نہیں، کیونکہ جب شہر بابلیوں کے قبضہ میں چلا گیا تو یرؔمیاہ کو ’خوراک کا وظیفہ اور انعام دے کر رخصت کِیا‘ گیا تھا۔—یرمیاہ ۴۰:۵، ۶؛ نیز دیکھیں زبور ۳۷:۲۵۔
خدا آج بھی اپنے خادموں کی کفالت کرتا ہے
جیسے یہوؔواہ نے ماضی کی نسلوں کے اپنے خادموں کو سنبھالے رکھا بالکل اُسی طرح وہ آج بھی مادی اور روحانی دونوں طرح سے اُن کی نگہداشت کرتے ہوئے، ویسے ہی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، لیمیؔٹیونڈ کے تجربے پر غور کریں جو مغربی افرؔیقہ میں رہتا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے: ”مَیں ایک کافی بڑے پولٹری فارم کا مالک تھا۔ ایک دن، مسلح ڈاکو فارم پر آئے اور زیادہتر مرغیاں، مشکل اوقات میں کام میں لانے کے لئے رکھا ہوا جنریٹر اور جو روپیہپیسہ ہمارے پاس تھا لوٹ کر لے گئے۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد جو چند مرغیاں باقی بچی تھیں وہ بیماری سے مر گئیں۔ اس چیز نے میرے پولٹری کے کاروبار کو بالکل برباد کر دیا۔ دو سال تک مَیں نے ملازمت تلاش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ حالات واقعی انتہائی مشکل تھے لیکن یہوؔواہ نے ہمیں سنبھالے رکھا۔
”جس چیز نے مجھے مشکل اوقات کے ساتھ نپٹنے میں مدد دی وہ میرا یہ تسلیم کرنا تھا کہ یہوؔواہ ہمیں کندن بنانے کے لئے ہمارے سلسلے میں حالات کو واقع ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ میری بیوی اور مَیں نے خاندانی بائبل مطالعہ کے اپنے معمول کو جاری رکھا اور اس چیز نے واقعی ہماری مدد کی۔ دُعا بھی تقویت کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھی۔ بعضاوقات میرا دُعا کرنے کو دل نہیں چاہتا تھا لیکن جب مَیں دُعا کرتا تو مَیں بہتر محسوس کرتا تھا۔
”اس کٹھن وقت کے دوران، مَیں نے صحائف پر غوروخوض کرنے کی قدروقیمت کو پہچانا۔ مَیں زبور ۲۳ کی بابت بہت زیادہ سوچتا تھا جو یہوؔواہ کو بطور ہمارے چوپان کے بیان کرتا ہے۔ ایک اور صحیفہ جس نے میری حوصلہافزائی کی وہ فلپیوں ۴:۶، ۷ تھا جو ’خدا کے اطمینان کا جو سمجھ سے بالکل باہر ہے‘ حوالہ دیتا ہے۔ ایک اور اقتباس جس نے مجھے تقویت بخشی وہ ۱-پطرس ۵:۶، ۷ ہے جو کہتی ہیں: ’پس خدا کے قوی ہاتھ کے نیچے فروتنی سے رہو تاکہ وہ تمہیں وقت پر سربلند کرے۔ اور اپنی ساری فکر اُسی پر ڈال دو کیونکہ اُس کو تمہاری فکر ہے۔‘ ان تمام آیات نے اُن مشکل ایّام کے دوران میری مدد کی۔ جب آپ غوروخوض کرتے ہیں تو آپ اپنے ذہن سے ان چیزوں کی جگہ جو افسردگی کا باعث بنتی ہیں دوسری چیزیں ڈالنے کے قابل ہوتے ہیں۔
”اب مجھے دوبارہ نوکری مل گئی ہے لیکن سچ پوچھیں تو حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ جیسےکہ بائبل نے ۲-تیمتھیس ۳:۱-۵ میں پیشگوئی کی تھی، ہم ’آخری دنوں‘ میں رہ رہے ہیں جنکی نشاندہی ’تشویشناک ایّام‘ کے طور پر کی گئی ہے ’جن سے نپٹنا مشکل ہے۔‘ صحیفہ جو کچھ کہتا ہے ہم اُسے بدل نہیں سکتے۔ اس لئے مَیں یہ توقع نہیں کرتا کہ زندگی آسان ہو جائیگی۔ تاہم، مَیں محسوس کرتا ہوں کہ یہوؔواہ کی روح مجھے نپٹنے میں مدد دے رہی ہے۔“
ان تشویشناک ایّام کے باوجود جن میں ہم رہ رہے ہیں، وہ جو یہوؔواہ اور اُس کے بادشاہ بیٹے، یسوؔع مسیح پر بھروسہ کرتے ہیں، مایوس نہیں ہونگے۔ (رومیوں ۱۰:۱۱) یسوؔع خود ہمیں یقیندہانی کراتا ہے: ”اس لئے مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائینگے یا کیا پئیں گے؟ اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنینگے؟ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟ ہوا کے پرندوں کو دیکھو نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے۔ نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمہارا آسمانی باپ اُنکو کھلاتا ہے۔ کیا تم اُن سے زیادہ قدر نہیں رکھتے؟ تم میں ایسا کون ہے جو فکر کرکے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟ اور پوشاک کے لئے کیوں فکر کرتے ہو؟“—متی ۶:۲۵-۲۸۔
ان تشویشناک ایّام میں یہ یقینی طور پر اندرونی محرکات کی جانچ کرنے والے سوالات ہیں۔ لیکن یسوؔع نے ان ہمتافزا الفاظ کے ساتھ بیان کو جاری رکھا: ”جنگلی سوسن کے درختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے نہ کاتتے ہیں۔ تو بھی مَیں تم سے کہتا ہوں کہ سلیماؔن بھی باوجود اپنی ساری شانوشوکت کے اُن میں سے کسی کی مانند مُلبّس نہ تھا۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنور میں جھونکی جائیگی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اے کماعتقادو تمکو کیوں نہ پہنائیگا؟ اس لئے فکرمند ہو کر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائینگے یا کیا پئیں گے یا کیا پہنینگے؟ کیونکہ ان سب چیزوں کی تلاش میں غیر قومیں رہتی ہیں اور تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تم ان سب چیزوں کے محتاج ہو۔ بلکہ تم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائینگی۔“—متی ۶:۲۸-۳۳۔
اچھے دِن قریب ہیں
اس بات کا ہر ثبوت موجود ہے کہ دُنیا کے بہت سے حصوں میں، بگڑتی ہوئی معاشی اور معاشرتی حالتیں بد سے بدتر ہوتی جائیں گی۔ تاہم، خدا کے لوگ جانتے ہیں کہ یہ حالتیں عارضی ہیں۔ سلیماؔن بادشاہ کی پُرجلال حکومت نے سلیماؔن سے بھی بڑے بادشاہ کی راست حکمرانی کا عکس پیش کِیا جو پوری زمین پر راج کرے گا۔ (متی ۱۲:۴۲) وہ بادشاہ ”بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند“ مسیح یسوؔع ہے۔—مکاشفہ ۱۹:۱۶۔
زبور ۷۲، جس کی پہلی تکمیل سلیماؔن بادشاہ کے سلسلے میں ہوئی تھی، یسوؔع مسیح کی پُرشکوہ حکمرانی کو بیان کرتا ہے۔ اُن چند شاندار چیزوں پر غور کریں جو یہ بطور بادشاہ مسیح کے تحت زمین کے مستقبل کی بابت پہلے سے بیان کرتا ہے۔
پوری دُنیا میں پُراَمن حالتیں: ”اُسکے ایّام میں صادق برومند ہونگے اور جب تک چاند قائم ہے خوب اَمن رہیگا۔ اُسکی سلطنت سمندر سے سمندر تک اور دریایِفرات سے زمین کی انتہا تک ہوگی۔“—زبور ۷۲:۷، ۸۔
محتاجوں کیلئے فکرمندی: ”کیونکہ وہ محتاج کو جب وہ فریاد کرے۔ اور غریب کو جسکا کوئی مددگار نہیں چھڑائیگا۔ وہ غریب اور محتاج پر ترس کھائیگا۔ اور محتاجوں کی جان کو بچائیگا۔ وہ فدیہ دیکر اُن کی جان کو ظلم اور جبر سے چھڑائیگا اور اُن کا خون اُس کی نظر میں بیشقیمت ہوگا۔“—زبور ۷۲:۱۲-۱۴۔
خوراک کی فراوانی: ”زمین پر اناج کی افراط ہوگی؛ پہاڑوں کی چوٹیوں پر فراوانی ہوگی۔“—زبور ۷۲:۱۶، نیو ورلڈ ٹرانسلیشن۔
زمین یہوؔواہ کے جلال سے معمور ہوگی: ”یہوؔواہ خدا اسرائیل کا خدا مبارک ہو۔ وہی عجیبوغریب کام کرتا ہے۔ اُسکا جلیل نام ہمیشہ کیلئے مبارک ہو اور ساری زمین اُسکے جلال سے معمور ہو۔“—زبور ۷۲:۱۸، ۱۹۔
پس واقعی اچھے دِن قریب ہیں۔ (۴ ۸/۰۱ w۹۵)