یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏5 ص.‏ 4-‏7
  • بائبل میں دُعائیں بغور جائزے کی مستحق ہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بائبل میں دُعائیں بغور جائزے کی مستحق ہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏اپنی لونڈی کی مصیبت پر نظر کر“‏
  • ‏”‏مَیں چھوٹا لڑکا ہی ہوں“‏
  • ‏”‏تاکہ وہ سب ایک ہوں“‏
  • ‏’‏تمہاری درخواستیں خدا کے سامنے پیش کی جائیں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • بائبل کا مطالعہ کرنے سے اپنی دُعاؤں کو پُرمعنی بنائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • ہماری دُعائیں اور یہوواہ کے ساتھ ہماری قُربت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • دُعا کے ذریعے خدا کے نزدیک جائیں
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏5 ص.‏ 4-‏7

بائبل میں دُعائیں بغور جائزے کی مستحق ہیں

ایک پریشان خاتون، ایک بادشاہ، اور خدا کے اپنے بیٹے نے دُعائیں کیں جنکا اب ہم بغور جائزہ لیں گے۔ ہر دُعا کو حالات کے مختلف سلسلے سے ترغیب ملی تھی۔ تاہم، ایسی حالتیں آجکل ہم پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ ہم ان مثالوں سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

‏”‏اپنی لونڈی کی مصیبت پر نظر کر“‏

کیا آپ کسی مستقل مسئلے کے خلاف نبردآزما ہیں؟ یا کیا آپ پریشانی سے مغلوب ہو گئے ہیں؟ پھر تو آپکی حالت اپنے پہلے بیٹے، سموئیلؔ کو جنم دینے سے پہلے حنّہؔ جیسی ہی ہے۔ وہ بے‌اولاد تھی اور ایک دوسری عورت سے طعنے سنتی تھی۔ درحقیقت، حنّہؔ کی حالت نے اسے اتنا تنگ اور پریشان کِیا کہ وہ کھانا تک نہ کھاتی تھی۔ (‏۱-‏سموئیل ۱:‏۲-‏۸،‏ ۱۵، ۱۶‏)‏ اس نے یہوؔواہ سے التجا کی اور درج‌ذیل مناجات کی:‏

‏”‏اَے رب‌الافواج!‏ اگر تو اپنی لونڈی کی مصیبت پر نظر کرے اور مجھے یاد فرمائے اور اپنی لونڈی کو فراموش نہ کرے اور اپنی لونڈی کو فرزندِنرینہ بخشے تو میں اسے زندگی بھر کے لئے خداوند کو نذر کر دُونگی اور اُسترہ اسکے سر پر کبھی نہ پھریگا۔“‏—‏۱-‏سموئیل ۱:‏۱۱‏۔‏

غور کریں کہ حنّہؔ نے عمومی بات‌چیت نہ کی۔ وہ یہوؔواہ سے ایک خاص درخواست (‏ایک فرزندِنرینہ)‏ کیساتھ مخاطب ہوئی اور اسکے ساتھ ایک پُختہ ارادے کو شامل کیا (‏یعنی اسے خدا کی خدمت کیلئے وقف کیا)‏۔ یہ ہمیں کیا سیکھاتا ہے؟‏

جب مصیبت میں ہوں تو دُعا میں واضح بات کریں۔ اس سے قطع‌نظر کہ آپکا مسئلہ کچھ بھی ہے—‏خواہ یہ آپکی گھریلو صورتحال، تنہائی، یا خراب صحت ہے—‏اسکی بابت یہوؔواہ سے دُعا کریں۔ اس سے اپنی مشکل کی صحیح نوعیت اور جس طرح آپ محسوس کرتے ہیں بیان کریں۔ ”‏میں ہر شام اپنی تمام مصیبتیں یہوؔواہ کے حوالے کر دیتی ہوں،“‏ لوئیزؔ نامی ایک بیوہ کہتی ہے۔ ”‏بعض اوقات تو چند ایک ہوتی ہیں لیکن میں ہر ایک کا واضح طور پر ذکر کرتی ہوں۔“‏

یہوؔواہ سے واضح الفاظ میں بات‌چیت کرنا فائدے لاتا ہے۔ ایسا کرنا اپنے مسئلے کو بیان کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے جو شاید اس وقت قدرے ناقابلِ‌تسخیر دکھائی دے۔ واضح دُعائیں کرنا ہمیں پریشانی سے نجات دلاتا ہے۔ حنّہؔ کی دُعا کا جواب ملنے سے بھی پیشتر، اس کا اعتماد بحال ہوا تھا اور ”‏پھر اسکا چہرہ اداس نہ رہا۔“‏ (‏۱-‏سموئیل ۱:‏۱۸‏)‏ علاوہ‌ازیں، واضح بات کرنا ہمیں اپنی دُعا کے جواب پر توجہ دینے کیلئے چوکس کرتا ہے۔ ”‏میں جس قدر زیادہ واضح الفاظ میں اپنی دُعائیں کرتا ہوں،“‏ جرمنی میں ایک مسیحی برن‌ہاؔرٹ کہتا ہے، ”‏جواب اُسی قدر زیادہ واضح ہوتے ہیں۔“‏

‏”‏مَیں چھوٹا لڑکا ہی ہوں“‏

تاہم، کسی شخص کو مختلف نوعیت کا اندیشہ لاحق ہو سکتا ہے اگر وہ کوئی ایسی تفویض حاصل کرتا ہے جس کے لئے وہ اہل محسوس نہیں کرتا۔ کیا آپ بعض اوقات یہوؔواہ کی طرف سے دی گئی ذمہ‌داری کی وجہ سے مغلوب ہوتے ہیں؟ یا کیا کچھ لوگ آپ کو آپکی تفویض کے لئے ناموزوں خیال کرتے ہیں؟ جوان سلیماؔن ایسی ہی حالت میں تھا جب اسے اسرائیل کے بادشاہ کے طور پر مسح کیا گیا تھا۔ بعض ممتاز آدمیوں نے زیادہ پسند کیا کہ کوئی اور تخت پر بیٹھے۔ (‏۱-‏سلاطین ۱:‏۵-‏۷،‏ ۴۱-‏۴۶؛‏ ۲:‏۱۳-‏۲۲‏)‏ اپنی حکمرانی کے شروع میں، سلیماؔن نے دُعا میں درخواست کی:‏

‏”‏اَے خداوند میرے خدا تُو نے اپنے خادم کو میرے باپ داؔؤد کی جگہ بادشاہ بنایا ہے اور میں چھوٹا لڑکا ہی ہوں اور مجھے باہر جانے اور بِھیتر آنے کا شعور نہیں۔ .‏ .‏ .‏ سو تُو اپنے خادم کو اپنی قوم کا انصاف کرنے کیلئے سمجھنے والا دل عنایت کر تاکہ میں بُرے اور بھلے میں امتیاز کر سکوں۔“‏—‏۱-‏سلاطین ۳:‏۷-‏۹‏۔‏

سلیماؔن نے اپنی دُعا کو یہوؔواہ کے ساتھ اپنے رشتے پر، اس استحقاق پر جو اسے دیا گیا تھا اور تفویض کو پورا کرنے کیلئے اپنی استعداد پر مرکوز رکھا۔ اسی طرح، جب ہمیں ذمہ‌داری دی جاتی ہے جسے ہم اپنی استعداد سے بڑھ کر محسوس کرتے ہیں تو ہمیں خدا سے درخواست کرنی چاہئے کہ ہمیں کام کرنے کیلئے لیس کرے۔ درج‌ذیل تجربات پر غور کریں:‏

‏”‏جب واچ ٹاور سوسائٹی کے برانچ آفس میں بڑی ذمہ‌داری اٹھانے کے لئے کہا گیا،“‏ یوجینؔ وضاحت کرتا ہے ”‏تو میں نے مکمل طور پر ناموزوں خیال کیا۔ دوسرے لوگ موجود تھے جو نسبتاً زیادہ لائق تھے اور کہیں زیادہ تجربہ رکھتے تھے۔ اگلی دو راتوں کے لئے زیادہ وقت دُعا میں صرف کرتے ہوئے، میں بہت ہی کم سویا، جس نے مجھے قوت اور ضروری اعتماد عطا کِیا۔“‏

راؔئے سے ایک جوان دوست کی اچانک اور المناک موت کے بعد جنازے کی تقریر پیش کرنے کیلئے کہا گیا تھا جو بہت ہی ہر دلعزیز تھا۔ یقیناً سینکڑوں لوگوں کو حاضر ہونا تھا۔ راؔئے نے کیا کِیا؟ ”‏میں نے شاذونادر ہی قوت کیلئے اور تسلی دینے اور حوصلہ‌افزائی دینے والے خیالات کا اظہار کرنے والے صحیح الفاظ تلاش کرنے کیلئے بہت زیادہ دُعا کی تھی۔“‏

جب خالق ’‏ترقی بخشتا‘‏ ہے اور جب اسکی تنظیم پھلتی پھولتی ہے تو ایک قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ اسکے زیادہ خادموں کو ذمہ‌داری سونپی جا رہی ہے۔ (‏یسعیاہ ۶۰:‏۲۲‏)‏ اگر آپ سے زیادہ حصہ ادا کرنے کیلئے کہا جاتا ہے تو یقین رکھیں کہ یہوؔواہ آپ کی طرف سے تجربے، تربیت، یا صلاحیت میں کسی بھی کمی کو پورا کر سکتا ہے۔ ویسے ہی خدا سے دُعا کریں جیسے سلیماؔن نے کی، اور وہ آپکو تفویض انجام دینے کیلئے لیس کریگا۔‏

‏”‏تاکہ وہ سب ایک ہوں“‏

ایک تیسری حالت جو آجکل پیدا ہوتی ہے وہ ہے دُعا میں ایک گروپ کی نمائندگی کرنے کا تقاضا کیا جانا۔ جب دوسروں کی خاطر دُعا کرنے کیلئے کہا جاتا ہے تو ہمیں کس چیز کیلئے دُعا کرنی چاہئے؟ یوحنا ۱۷ باب میں یسوؔع کی مرقوم دُعا پر غور کریں۔ یہ دُعا اس نے انسان کے طور پر اپنی آخری شام اپنے شاگردوں کی موجودگی میں کی تھی۔ اُس نے اپنے آسمانی باپ سے کس قسم کی التجائیں کیں؟‏

یسوؔع نے عام منازل اور موجود لوگوں کی مشترک اُمید پر زور دیا۔ اس نے یہوؔواہ خدا کے نام کے جلال اور اسکی بادشاہت کو مشہور کرنے کا ذکر کیا۔ یسوؔع نے صحائف کے علم پر مبنی، باپ اور بیٹے کیساتھ ذاتی رشتے کی قدروقیمت پر زور دیا۔ اس نے دنیا سے علیٰحدگی کا ذکر کیا، جو اسکے پیروکاروں کو مخالفت کیلئے تیار کریگی۔ مسیح نے اپنے باپ سے اپنے شاگردوں کی حفاظت کرنے اور انہیں سچی پرستش میں متحد کرنے کیلئے بھی درخواست کی۔‏

جی‌ہاں، یسوؔع نے اتحاد پر زور دیا۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۲۰، ۲۱‏)‏ اسی شام تھوڑا پہلے، شاگرد ناپُختہ معمولی باتوں میں الجھے ہوئے تھے۔ (‏لوقا ۲۲:‏۲۴-‏۲۷‏)‏ تاہم، دُعا میں، مسیح مذمت کرنے کا نہیں بلکہ اتحاد کا خواہاں ہوا۔ اسی طرح سے، خاندانی اور کلیسیائی دُعاؤں کو محبت کو فروغ دینا چاہئے اور افراد کے درمیان اختلاف پر قابو پانے کا متلاشی ہونا چاہئے۔ جنکی نمائندگی کی جاتی ہے انہیں اتحاد میں ایک دوسرے کی طرف راغب ہونا چاہئے۔—‏زبور ۱۳۳:‏۱-‏۳‏۔‏

یہ اتحاد اُس وقت ظاہر ہو جاتا ہے جب سننے والے آخر میں ”‏آمین،“‏ یا ”‏ایسا ہی ہو،“‏ کہتے ہیں۔ اسکو ممکن بنانے کے لئے، انہیں سمجھنا اور جو کچھ کہا گیا ہے اس سے متفق ہونا ہوگا۔ اس لئے، دُعا میں کسی ایسی بات کا ذکر کرنا موزوں نہ ہوگا جس سے بعض موجود افراد ناواقف ہیں۔ مثال کے طور پر، کوئی بزرگ جو دُعا میں کلیسیا کی نمائندگی کر رہا ہے شاید کسی روحانی بہن یا بھائی کے لئے یہوؔواہ کی برکت چاہے جو شدید بیمار ہے۔ لیکن عام طور پر یہ بہتر ہوگا اگر وہ صرف اس وقت ایسا کرتا ہے جب ان کی بھاری تعداد اس شخص کو جانتی ہے اور بیماری کی بابت سن لیا ہے جن کی وہ نمائندگی کر رہا ہے۔‏

اس بات پر بھی غور کریں کہ یسوؔع نے گروپ کے ہر رکن کی ذاتی ضروریات کو ایک ایک کر کے بیان نہیں کیا۔ ایسا کرنا ایسے ذاتی معاملات کو شامل کرنا ہوگا جن سے صرف کچھ اشخاص ہی واقف ہیں۔ ذاتی معاملات نجی دُعا کیلئے موزوں مضمون ہیں، جو جتنا چاہیں اتنے وسیع اور اتنے ذاتی ہو سکتے ہیں۔‏

ایک شخص کو دُعا میں پرستاروں کے ایک بڑے ہجوم کی نمائندگی کرنے کیلئے خود کو کیسے تیار کرنا چاہئے؟ ایک تجربہ‌کار مسیحی وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏میں قبل‌ازوقت سوچ‌بچار کر لیتا ہوں کہ کس چیز کے لئے شکرگزاری پیش کروں، بھائیوں کی کیا درخواستیں ہو سکتی ہیں، اور میں انکی خاطر کن گزارشات کا ذکر کر سکتا ہوں۔ میں اپنے خیالات کو، بشمول ستائش کے اظہارات کے، اپنے ذہن میں صحیح ترتیب دیتا ہوں۔ عوامی دُعا کرنے سے پہلے میں بھائیوں کی ایک باوقار انداز میں نمائندگی کرنے کی خاطر مدد کیلئے درخواست کرتے ہوئے، خاموش دُعا کرتا ہوں۔“‏

آپکے حالات خواہ کیسے ہی ہوں، غالباً آپ بائبل میں ایسی دُعا تلاش کر لینگے جو آپ ہی کی طرح کی حالت میں کسی نے پیش کی تھی۔ صحائف میں دُعاؤں کا وسیع سلسلہ خدا کی شفقت کا ثبوت ہے۔ ان دُعاؤں کو پڑھنا اور ان پر غوروخوض کرنا اپنی دُعاؤں کو بہتر بنانے میں آپکی مدد کریگا۔ (‏۴ ۳/۱۵ w۹۵)‏

‏[‏بکس]‏

بائبل میں قابلِ‌ذکر دُعائیں

یہوؔواہ کے خادموں نے بہت سے حالات کے تحت دُعائیں کیں۔ کیا آپ خود کو درجِ‌ذیل صورتِ‌حالات میں سے کسی ایک یا زیادہ میں پا سکتے ہیں؟‏

کیا آپکو خدا سے راہنمائی کی ضرورت ہے، جیسے الیعزؔر کو تھی؟—‏پیدایش ۲۴:‏۱۲-‏۱۴‏۔‏

کیا آپ سر پر منڈلاتے خطرے میں ہیں، جیسے کہ یعقوؔب تھا؟—‏پیدایش ۳۲:‏۹-‏۱۲‏۔‏

کیا آپ خدا کو بہتر طور پر جاننا چاہتے ہیں، جیسے کہ موسیٰؔ نے‌چاہا؟—‏خروج ۳۳:‏۱۲-‏۱۷۔‏

کیا آپ کو اپنے مخالفین کا سامنا ہے، جیسے کہ ایلیاؔہ کو تھا؟—‏۱-‏سلاطین ۱۸:‏۳۶، ۳۷‏۔‏

کیا آپ کیلئے منادی کرنا مشکل ہے، جیسے کہ یہ یرؔمیاہ کیلئے تھا؟—‏یرمیاہ ۲۰:‏۷-‏۱۲‏۔‏

کیا آپ کو گناہوں کا اعتراف کرنے اور معافی چاہنے کی ضرورت ہے، جیسے کہ دانیؔ‌ایل کو تھی؟—‏دانی‌ایل ۹:‏۳-‏۱۹‏۔‏

کیا آپ کو اذیت کا سامنا ہے، جیسے کہ یسوؔع کے شاگردوں کو تھا؟—‏اعمال ۴:‏۲۴-‏۳۱‏۔‏

نیز دیکھیں متی ۶:‏۹-‏۱۳؛‏ یوحنا ۱۷:‏۱-‏۲۶؛‏ فلپیوں ۴:‏۶، ۷؛‏ یعقوب ۵:‏۱۶‏۔‏

‏[‏بکس]‏

جب کسی علت کا سامنا ہو تو جس چیز کیلئے دُعا کریں

کیا آپ بار بار ظاہر ہونے والی کسی کمزوری کے خلاف نبردآزما ہیں؟ بائبل میں مرقوم دُعائیں کیسے فائدہ‌مند ہو سکتی ہیں؟ یہ بات داؔؤد سے سیکھیں، جس نے اپنی ذاتی کمزوریوں کے سلسلے میں مختلف اوقات میں دُعا کی۔‏

داؔؤد نے گیت گایا:‏ ”‏اَے خدا!‏ تُو مجھے جانچ اور میرے دل کو پہچان۔ مجھے آزما اور میرے خیالوں کو جان لے۔“‏ (‏زبور ۱۳۹:‏۲۳‏)‏ یہ داؔؤد کی خواہش تھی کہ یہوؔواہ خدا نامناسب خواہشات، جذبات، یا محرکات کی جانچ کرے۔ باالفاظِ‌دیگر، داؔؤد نے گناہ سے بچنے کیلئے یہوؔواہ کی مدد حاصل کی۔‏

لیکن داؔؤد کی کمزوریاں اس پر حاوی ہو گئیں، اور اس نے بڑا گناہ کیا۔ اب بھی، دُعا نے اس کی مدد کی—‏اس مرتبہ خدا کے ساتھ اسکے رشتے کو بحال کرنے کیلئے۔ زبور ۵۱:‏۲ کے مطابق، داؔؤد نے التجا کی:‏ ”‏میری بدی کو مجھ سے دھو ڈال اور میرے گناہ سے مجھے پاک کر۔“‏

ہم بھی غلط رغبتوں کو قابو میں رکھنے کی خاطر یہوؔواہ کی مدد کیلئے فروتنی کے ساتھ دُعا کر سکتے ہیں۔ یہ کسی پُرانی کمزوری پر قابو پانے کے لئے ہمیں تقویت دیگی اور گناہ سے بچنے کیلئے ہماری مدد کر سکتی ہے۔ اگر چُھوٹی ہوئی عادت پھر زور پکڑ لیتی ہے تو پھر ہمیں التجاؤں کیساتھ یہوؔواہ سے درخواست کرنی چاہئے تاکہ وہ جدوجہد کو جاری رکھنے میں ہماری مدد کرے۔‏

‏[‏تصویریں]‏

کسی گروپ کی خاطر پیش کی جانے والی دُعاؤں کو صحیفائی اُمیدوں اور مشترک روحانی منازل پر زور دینا چاہئے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں